anwarulnajaf.com

مسئلہ تقلید کی وضاحت

یہ  ایک عقلی مسلمہ ہے کہ نہ جاننے والا نا دانستہ
مسائل ہیں جاننے والے کی طرف رجوع کر ے خواہ اس کا تعلق کسی شعبہ سے ہی کیوں نہ ہو
پس دین کو صحیح طور پر نہ جاننے والے پر فریضہ عائد ہوتا ہے کہ وہ دینی مسائل میں
دین کے علما کی طرف رجوع کرے اور اسی بنا ءپر کہا جاتا ہے کہ اعمال کی صحت تقلید
کے بغیر مشکل ہے اور مرتبہ اجتہاد پر پہنچنے والے پر تقلید واجب نہیں ہے باقی رہا
یہ سوال کہ آیا تقلید اصول میں بھی ہے یا نہیں تواس کا جواب یہی دیا جاتاہے کہ اصول
میں تقلید واجب تو بجائے خود جائز بھی نہیں یعنی حرام ہے لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز
نہیں کہ عوام اپنے عقائد اپنی مرضی و خواہش سے خود گھڑلیں اور جس کی جو مرضی ہو
عقیدہ رکھ لے کیونکہ اگر عقیدہ میں ہر شخص خود مختار اور مطلق العنان ہوتو پھر کسی
پر کفر و شرک یا ارتداد و ضلالت کا فتوی عائد کر نا مشکل ہو جائے گا بلکہ مذاہب کی
تفریق سرے سے ختم ہو جائے گی مقصد یہ ہے کہ جہاں تک عقل کی رہبری کا تعلق ہے اور
جن جن  مسائل کو عقل خود حل کر سکتی ہے
وہاں عقل کا فیصلہ ہی آخری اور حتمی فیصلہ ہے کیونکہ عقل خود اپنے مقام پر رسول
باطنی کی حیثیت رکھتی ہے لیکن عقل سے مراد وہ عقل ہے جو خود کسی تقلید میں اندھی
نہ ہو چکی ہو او ر اسی بنا ہر کورانہ تقلید والوں کو قرآن مجید میں کئی مقامات پر
سرزنش کی گئی اور قابل قبول سہل ترین اولہ عقلیہ پیش کرنے کے بعد بطور تنبیہ
فرمایا کہ یہ بیا ن صاحبان عقل و دانش کے لئے ہے کسی مقام پر استفہام انکاری کے
لہجہ میں فرمایا کیا تم عقل نہیں رکھتے یعنی یہ دانش کے لئے کسی مقام پر استفہام
انکاری کے لہجہ میں فرمایا کیا تم عقل نہیں رکھتے یعنی یہ دلائل اس طرح واضح ہیں
کہ اگر تمہاری عقلیں کورانہ تقلید سے آزاد ہوتیں تو فورا بات سمجھ میں آجاتی کرہ
زمین پر بسنے والوں کو بنظر تعمق جائزہ لینے کے بعد آپ اچھی طرح محسوس کریں گے کہ
اکثر لوگ صرف انسانی نمونے اور چلتی پھرتی تصویریں ہیں میں صرف مسلمان کہلانے
والوں کے متعلق نہیں کہہ رہا بلکہ ربع مسکون کی اکثر انسانی آبادی کا یہی عالم ہے
ان کا قالب بدن روح انسانیت سے فارغ ان کا ظاہر ی ڈھانچہ حیات واقعیہ سے بالکل
کھوکھلا ان کا خوشنما چمڑا روح حقیقت سے بالکل نا آشنا اور ان کے وحشی نفوس واکھڑا
بائع دین ایمان کے روابط سے اور اصول و عقائد کے علائق اور ہادیان دین کی اطاعت سے
کوسوں دور ہیں اکثریت تو دھریت و لامذہبیت کے پھندے میں آچکی ہے اور جو لوگ برائے
نام مذہب سے ظاہری انس و محبت رکھتے ہیں ان کے ایمان بھی تسلیم و رضا کی منزلوں سے
بہت پیچھے ہیں اور ان کے قدم ایسی نازک شاخ پر ہیں کہ شکوک و شہاب کا معمولی
ساجھونکا بھی اسے توڑ دینے یا اپنی جگہ سے موڑ دینے کے لئے کافی ہے اوردل گھٹتا ہے
کہ کہوں بہت تھوڑے اللہ کے بندے ایسے خوش نصیب بھی موجود ہیں جو معرفت وایقان کی
دولت اپنے دامن میں رکھتے ہوئے عقائد کی پختگی کے حامل ہیں شاید ہماری قوم میں
عقائد اسلام اور اصول ایمان میں متعدی روحانی امراض کے سیلاب کی تیزی اور شکوک و
شبہات کے اثرات کا رسوخ یا دین حق اور ملت بیضا کی روشنی سے کنارہ کش ہر کر مغربیت
لا دینیت اور ذہنی آوارگی کی تاریکیوں کی طرف بڑھتے ہوئے میلان کا سب سے بڑا سبب
یہ ہو کہ رہنما یان ملت نے دعوت حق کے لئے کوئی ایسا آسان و سہل طریقہ اختیار
نہیں فرمایا جو واضح اور عام فہم طور پر اصول و عقائد حقہ کو والوں کی گہرائیوں
میں بٹھا دے تاکہ نئی پودا سی ماحول میں پروان چڑھے اور بوڑھے انہیں نظریات کی
روشنی میں بڑھاپے کی منازل کو کامیابی سے ملے کریں۔


by

Tags:

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *