دابة ُالارض: (ج۰۱ص۲۶۲)
دانیال ؑ: دانیال پیغمبر کو بخت نصر نے
کنوئیں میں ڈال دیا یہ کنواںبابل کے قریب تھا بیت المقدس کے نبی کو وحی ہوئی کہ
بابل کے کنوئیں میں دانیال کو غذا پہنچاﺅ چنانچہ وہ نبی اسے غذا پہچاتا رہا آخر
بخت نصر نے خواب میں دیکھا کہ اس کا سر لوہے کا پاﺅں پیتل کے اور سینہ سونے کا ہے
تعبیر دریافت کی لیکن نجومی نہ بتا سکے تو سب کو قتل کر دیا حضرت دانیال ؑ نے خواب
اور تعبیر دونوں بتا دئیے اور فر مایا تو تین دن تک قتل ہو جائے گا پس حضرت دانیال
ؑ کو اس نے کنوئیں سے باہر نکالا اورکہا کہ اگر تیسرے دن میں قتل نہ ہوا تو تجھے
قتل کر دونگا چنانچہ تیسرے دن عالم پریشانی میں گھر سے باہر نکلا اور غلام کو حکم
دیا کہ تلوار لے لو اور جو بھی تیرے سامنے آئے اسے قتل کر دو خواہ میں خود ہی کیوں
نہ ہوں پس غلام نے اس کو قتل کر دیا اور یہ غلام ایرانی نسل کا تھا جس کا بخت نصر
کو پتہ نہ تھاور حضرت دانیال ؑ نے کہا تھا کہ تجھے ایرانی نسل کا غلام قتل کرے گا
(ج ۳ص ۸۴۱)
٭ بخت نصر کے بعد خدا نے بہمن بن اسفند یار کو
بھیجا اس نے بنی اسرائیل کے قیدیوں کو آزاد کیا اور حکومت حضرت دانیال ؑ کے حوالہ
کر دی (ج ۹ص ۰۱)
داﺅد ؑ : وارد ہے کہ گھوڑے پر زِین رکھی
جاتی تھی توزِین رکھنے کی مدت میں زبور ختم کرلیا کرتے تھے (ج۱ ص ۰۵)
٭ طالوت و جالوت کی لڑائی میں حضرت داﺅد نے
جالوت کو قتل کیا پس طالوت نے حسب و عدہ اپنی لڑی داﺅد سے بیاہ دی اور بعد میں
طالوت کے بعد تخت حکومت پر فائز ہوئے (ج ۳۱ص ۳۲۱)
٭ حضرت داﺅد ؑ کی شجاعت (ج۳۱ ص ۴۲۱، ۵۲۱)
٭ کفر کرنے والے بنی اسرائیل پر حضرت داﺅد ؑ اور
حضرت عیسیٰؑ کی لعنت ہے (ج ۵ص ۲۵۱)
٭ حضرت داﺅد ؑ پر وحی ہوئی کہ جو شخص میرے
اوپر اعتماد کرے تو میں اس کی حفاظت کے اسباب خود پیدا کرتا ہوں اور جو مجھے چھوڑ
کر غیر پر بھروسہ کرے تومیں زمین و آسمان کے اندر اس کی کامیابی کے وسائل قطع کر
دیتا ہوں (ج ۶، س۲۶۱)
٭ حضرت داﺅد ؑ کے گھر میں سو (۰۰۱) بیویاں
تھیں (ج۸ ص ۰۴۲)
٭ حضرت داﺅد ؑ کو دی گئی کتاب کا نام زبور ہے
(ج ۹ص ۷۲)
٭ حضرت داﺅد ؑ کا فیصلہ (ج۹ ص ۱۴۲)
٭ حضرت داﺅد ؑ کے وصی کا تعین (ج۹ ۱۴۲)
٭ حضرت داﺅد ؑزرّہ کے موجد ہیں (ج۹ص ۲۴۲)
٭ حضرت داﺅد ؑ کو وحی ہوئی کہ تمام اہل سما و
ارض مجھ سے مانگیں اورہر مانگے والے کو پوری دنیا کا ستر گنا دیتا جاﺅں تب بھی
میرے خزانہ میںکمی واقع نہ ہو گی جس طرح نوک سوزن کو سمندر میں ڈبو کر نکالنے سے
سمندر کے پانی میںکمی نہیں آتی (ج ۰۱، س۹۴۱)
٭ حضرت سلیمان ؑ حضرت داﺅد ؑ کے وارث تھے (ج
۰۱ص۸۲۲ تا ۰۳۲)
٭ حضرت داﺅد ؑ کے زمانہ میں اللہ نے حضرت
سلیمان ؑ کو فیصلہ کی فہم عطا کی تاکہ داﺅد کے بعد ان کی جانشینی میں شک نہ ہو
(ج۰۱ ص۷۴۲)
٭ حضرت داﺅد ؑ اور حضرت لقمان ؑ کا زمانہ ایک
تھا لیکن حضرت لقمان ؑ ان سے بڑے تھے جس دن حضرت داﺅد ؑ نے جالوت کو قتل کیا تھا
اس دن حضرت لقمان ؑ بھی ساتھ تھے ایک دن حضرت لقمان ؑ ملنے آئے تو حضرت داﺅد ؑ
زرّہ بنا رہے تھے پوچھنا چاہا کہ کیا کر رہے ہو لیکن خاموش رہے جب زرّہ تیار ہو
گئی اور حضرت داﺅد ؑ نے زیب تن فرما کر فرمایا کہ یہ لڑائی کا بہترین لباس ہے حضرت
لقمان ؑ نے فرمایا خاموشی بہت بڑی دانشمندی ہے لیکن اپنانے والے کم ہیں (ج ۱۱ص
۱۳۱)
٭ حضرت داﺅد ؑ کا ذکر ان کی حکومت کا لحن اور
ان کی کاریگری (ج ۱۱ص ۶۲۲ تا ۸ ۲۲)
٭ حضرت داﺅد ؑ کا واقعہ ان کی قوت و طاقت اور
حشمت و جاہ جلال و عصمت داﺅد ؑ (ج ۲۱ص ۲۸ تا ۸۸)
٭ حضرت داﺅد ؑ پر غلط الزام (ج ۲۱ص ۰۹)
٭ حضرت داﺅد ؑ و حضرت سلیمان ؑ حکمران نبی
تھے (ج ۲۱ص۳۳۲) لیکن حضرت داﺅد ؑ نے زندگی بھر کما کر روٹی کھائی اور شاہی خزانہ
رفاہِ عامہ کےلئے وقف رہا اسی طرح حضرت سلیمان ؑ شہنشاہ ہونے کے باوجود محنت
مزدوری کر کے گزارا کرتے تھے اور بیت المال کو مستحقین پر تقسیم فرماتے تھے (ج
۲۱ص۵۳۲)
داڑھ کے درد کا عمل : جس داڑ ھ میں درد ہو
اسی جا نب رخسا ر کے اوپر انگلی سے لکھا جائے (فرعون غرق شدہ)وہ تھو ک دے پھر دو
بارہ لکھے اور تھو کے تیسری دفعہ درد ختم ہو جا ئے گا الگ الگ حرف بھی لکھے جا
سکتے ہیں (ف ر ع و ن غ ر ق ش د)
داڑھی: اللہ کے نزدیک تین آدم مکرم ہیں:
مسلم سفید ریش (جس کے داڑھی کے بال سفید
ہوں)، امام عادل، حامل قرآن (ج ۱ص۹۲)
٭ داڑھی رکھنا ملت ابراہیمی ہے (ج ۲ص ۱۷۱)
٭ داڑھی منڈوانا حرام ہے (ج ۶ص۶۱)
٭ داڑھی میں کنگھی کرنا مستحب ہے (ج۶ ص ۴۲)
٭ حضرت پیغمبر داڑھی پر اوپر سے نیچے اور
نیچے سے اوپر کی طرف چالیس دفعہ کنگھی پھیرتے تھے، حضرت امام جعفر صادقؑ ہر نماز
کے بعد کنگھی کیا کرتے تھے (ج ۶ص ۵۲)
٭ رسول اللہ کی داڑھی گھنی تھی (ج۲۱ص۵۰۲)
٭ حضرت موسیٰؑ کا حضرت ہارون ؑ کی داڑھی
پکڑنے کا مطلب (ج ۶ص ۹۹)
٭ فرعون کی داڑھی میں حضرت موسیٰؑ کا ہاتھ
(ج۹ص ۸۷۱-ج۱۱ص۲۲)
٭ حضرت ابراہیم ؑ نے اپنی داڑھی میں سفید بال
دیکھا پس حمد پرودرگار بجا لائے (ج۱۱ ص ۹۳۲)
٭ نماز کی حالت میں داڑھی کھجلانا منافی خشوع
ہے (ج۰۱ ص۴۵)
٭ اس امت کا بد بخت وہ ہے جو یا علی ؑ تیری
داڑھی کو رنگین کرے گا (ج ۶ص ۳۵)
٭ معاویہ کی داڑھی خبیث زمین کی پیداوار کی
طرح (ج ۶ص ۲۴)
دخان : سورہ دخان کے فضائل و خواص (ج ۲۱ص
۵۵۲)
٭ دخان کی تفسیر (ج ۲۱ص ۱۶۲)
درود شریف : حضرت موسیٰؑ نے بحکم پروردگار
اپنی قوم کو محمد و آل محمد پر درود پڑھنا تعلیم فرمایا تو اس کی برکت سے ان کے
مصائب دور ہو گئے اور عورتوں نے درود کو ورد زبان بنایا تو فرعونیوں کو ان کی
آبروریزی پر قدرت نہ ہوسکی اور فرعون کے تشدد کے با وجود بنی اسرائیل کی تعداد میں
کمی نہ ہوئی (ج۲ص ۵۰۱،۶۰۱)
٭ بنی اسرائیل کو جس گائے کے ذبح کرنے کا حکم
ہوا وہ ایسے نوجوان کی ملکیت میں تھی جو محمد و آل محمد پر درود پڑھتا تھا (ج
۲ص۴۲۱)
٭ محمد و آل محمد پر درود کا ثبوت (ج ۲ص ۲۰۲)
٭ دعا سے قبل و بعد درود پڑھنے سے دعا مقبول
ہوتی ہے (ج ۶ص۸۳۱)
٭ درود پڑھنا آل محمد کی تعظیم ہے (ج۸ ص۰۲۱)
٭ منقول
ہے کہ نماز جماعت کی پہلی صف پر فرشتے درود بھیجتے ہیں (ج ۸ص ۶۷۱)
٭ حدیث میں ہے جمعہ کی شب و روز میں درود و
سلام زیادہ پڑھا کرو (ج۴۱ص ۱۲)
٭ درود کی برکت سے زندگی میں اضافہ (ج۲ص ۵۲۱)
٭ حدیث ہے کہ جمعہ کے دن یا رات میں ایک دفعہ
درود پڑھنا ایک ہزار نیکی کے برابر ہے (ج۴۱ص ۲۲)
درس معرفت : سورہ فاتحہ کی آیات میں غور و
فکر معرفت توحید کا درس ہے (ج۲ص ۴۱)
٭ عبادت کے تین مرتبے ہیں:
عبادت عرفان، عبادت خوف اور عبادت طمع سب سے
بلند درجہ عبادت عرفان کا ہے اس لئے دعوت عبادت سے دعوت معرفت کا مقام مقدم ہے
(ج۲ص ۰۷،۳۷۱)
٭ مراتب معرفت (ج۴ص ۲۲)
٭ معرفت کے موضوع پر نتیجہ خیز عقلی بحث (ج
۵ص۰۱)
٭ درس معرفت (ج۶ص ۴۲۱-ج۸ص ۰۰۲،۰۳۲)
٭ تفکر برائے معرفت (ج۶ ص ۱۴۱)
٭ درس آموز مثال (ج۹ص ۷۹)
٭ عبادت معرفت (ج۹ص ۱۵۲)
٭ حضرت امام جعفر صادقؑ کا بیان حق تر جمان
اگر ہو سکے تو ایسی زندگی گزارو جس میں تمہیں کوئی نہ پہچانے اور اسی موضوع پر
حضرت علی ؑ کی تقریر جس میں آپ نے فر مایا ہماری معرفت رکھنے والوں کےلئے نجات کی
امید ہے سوائے تین قسم کے لوگوںکے:
(۱)
ظالم حکمران کا دوست (۲) ناجائز خواہش رکھنے والا (۳) اعلانیہ فاسق (ج۰۱ص ۷۷)
٭ حضرت سلیمان ؑ کے سامنے ہد ہد کے بیان پر علامہ
طبرسی کا تبصرہ (ج۰۱ص ۸۳۲،۹۳۲)
٭ امام حسین ؑ نے سائل کو فرمایا
اَلْمَعْرُوْفُ بِقَدْرِ الْمَعْرِفَہ یعنی کسی پر احسان اتنا کرنا چاہیے جس قدر
اس کی معرفت ہو (ج۱۱ص ۷۹-ج ۶ص ۳۴۱)
دربار: دربار شام میں سجاد ؑ (ج۳۱ص ۴۲۲)
٭ دربار ہشام میں حضرت امام محمد باقرؑ کا
داخلہ (ج۶ص ۸۵)
درجات : درجات یقین و معرفت و تقویٰ (ج۴ص ۲۲
تا ۴۲، ۷۷،۸۷-ج ۴ص ۵۶۱- ج۳۱ ص ۴۲۲)
درخت : شجرہ کی تحقیق جس سے حضرت آدم ؑ کو
روکا گیا تھا (ج۲ص ۵۹)
٭ مروی ہے سخاوت جنت کا درخت ہے جس کی شاخین
دنیا میں پھیلی ہوئی ہیں پس جو شخص اس کی کسی شاخ سے وابستہ ہوا وہ اس کو جنت میں
لے جائیگی، بخل بھی جہنم کا ایک درخت ہے جس کی شاخیں دنیا میںپھیلی ہوئیں ہیں پس
جس نے اس کی کسی شاخ سے تمسک کیا وہ اس کو جہنم میں لے جائے گی (ج۴ ص۹۴)
٭ وہ درخت کھجور کے تھے جن پر اُن جادوگروں کو
پھانسی دی گئی جو ربّ موسیٰؑ و ہارون ؑ پر ایمان لائے تھے (ج۶ص ۲۷)
٭ شجرہ طیبہ اور شجرہ خبیثہ (ج۸ص ۳۵۱)
٭ جس غار میں اصحاب کہف داخل ہوئے اس کے
دروازہ پر پھلدار درخت تھے انہوں نے پہلے پھل کھائے اور پھر اندر داخل ہو کر سوگئے
(ج۹ص ۷۸)
٭ شجرہ ملعونہ سے بنی امیہ مراد ہیں (ج ۸ص
۲۶۱، ج ۹ص ۸۳،۹۳)
٭ حضرت موسیٰؑ نے جس درخت سے آگ کے شعلے
دیکھے اور پھر آگ لینے کےلئے وہاں پہنچے وہ عناب کا درخت تھا جس سے اللہ نے کلام
کیا (ج ۹، ص۳۷۱ -ج۱۱ص ۴۳)
٭ حضرت ذکریا ؑ ایک درخت کے خول میں چھپے ہوئے
تھے کہ یہودیوں نے اس کو اَرّہ سے کاٹ دیا پس حضرت ذکریا ؑ شہید ہوگئے اور یہ
مشورہ ان کو شیطان نے دیا تھا (ج۹ ص ۰۵۲)
٭ بادشاہ عادل ہو تو درختوں کے پھلوں میں برکت
ہوتی ہے اور ظلم سے برکت چلی جاتی ہے (ج۸ص ۲۵)
٭ بعضوں نے کہا ہے کہ ایکہ کا معنی درختوں کا
جھنڈ ہے اور وہ حضرت شعیب کی قوم کا مسکن تھا (ج۸ ص ۹۸۱-ج ۰۱ص۰۱۲)
٭ درختوں سے سر سبز مقام کو سینا ء کہتے ہیں
اور طور سینا اسی سے ہے (ج۰۱ص ۳۶)
٭ مروی ہے کہ عرش کے نیچے ایک درخت ے جس کے ہر
مرتبہ پر ایک ذی روح کانام درج ہے پس جس کی موت آتی ہے اس کے نام کا پتہ درخت سے
ٹوٹ کر ملک الموت کے سامنے آ گرتا ہے پس وہ اس کی روح قبض کر لیتاہے (ج۱۱ ص
۶۴۱،۷۴۱)
٭ سر سبز درخت سے آگ پیدا کرنے پر اللہ قادر
ہے (ج۲۱ص ۱۳)
٭ جنت میں ایک درخت ہے جس کا نام طوبیٰ ہے اس
کی شاخ ہر مومن گھر میں ہوگی (ج۶ص ۷۶۱-ج۸ص ۳۳۱)
٭ ایک روایت میں ہے کہ طوبیٰ کی درخت حضرت علی
ؑ کے گھر میں ہو گا (ج ۸ص۰۷۲)
٭ جنت میں ایک درخت ہے جس کا ایک پتہ ایک لاکھ
آدمی پر سایہ فگن ہو گا اس کے دائیں طرف شراب طہور کا چشمہ ہے اور بائیں طرف آب
حیات کا چشمہ ہے (ج۹ص ۵۶۱)
٭ جنت میں ایک درخت ہے جو تسبیح پروردگار کرتے
ہوئے جھومتا ہے (ج ۱۱ص ۹۴۱)
٭ پیغمبر اکرم کے حکم سے درخت کا چل کرا ٓنا (ج۲۱ص
۱۸-ج۳۱ص ۴۱)
٭ جس درخت کے نیچے بیعت رضوان واقع ہوئی وہ
کیکر کا درخت تھا (ج۳۱ص ۲۷)
٭ جنگ احد میں حضرت علی ؑ کی تلوار ٹوٹ گئی تو
پیغمبر نے درخت خرما کی شاخ توڑ کر دی جو تلوار بن گئی (ج۴ص ۰۴)
در گذر کرنا : غصہ کو ضبط کرنا اور احسان
کرنا متقین کا شیوہ ہے (ج۴ص ۰۵)
٭ اما م زین العابدین ؑ اور امام حسن ؑ کے
واقعات (ج ۴ص ۰۵،۱۵)
٭ در گذر کرنا اخلاق پیغمبر میں سے ہے (ج۴ص
۳۷ تا ۵۷)
٭ درگزر کرنا اہل جنت کی نشانیوں میں سے ہے
(ج۲۱ص ۴۱۲)
دستر خواں : جو حضرت عیسیٰؑ کی دعا سے نازل
ہوا (ج ۵ص ۲۸۱، ۳۸۱)
دشمن علی : دشمن علی ؑ منافق ہوتا ہے (ج۱ص
۶۲۱، ۷۲۱-ج۴۱ص۴۳)
٭ دشمن علی ؑ رسوا ہوتے رہے (ج ۴۱ص ۴۸)
٭ جھوٹے پیرو مرید بروز قیامت ایک دوسرے سے
بیزار ہونگے (ج۲ص ۷۰۲)
٭ حضرت علی ؑ کی ولایت سے بر گشتہ کرنا بھی
قتل کے برابر گنا ہے (ج ۲ص ۲۱۲،۳۱۲)
٭ بہترین عمل اللہ کے دوستوں سے تولا کرنا اور
دشمنوں سے تبرا کرنا (ج ۵ص ۹۱۱)
٭ دشمنان حضرت علی ؑ کی نشاندہی از کتاب بخاری
(ج۵ص ۳۲۱) مفصل بیان تا (۹۲۱)
٭ دشمن حضرت علی ؑ آل نبی کا دشمن ہے (ج۵ص
۸۴۲-ج۲۱ص ۷۸۱)(ج۶ص ۵۳۱)
٭ حضرت علی ؑ کے فضائل سن کر دشمن علی ؑ کا
جلنا اورعذاب خدا میں گرفتار ہونا (ج۶ص ۲۹۱)
٭ دشمنان آل محمد کا طریقہ دشمنی (ج۷ص ۵۱-ج۰۱ص
۶۴۱)
دعا : دعا برائے ظہور حجت:
اَللّٰھُمَّ
کُنْ لِوَلِیِّکَ الْحُجَّةِ بْنِ الْحَسَنْ صَلَوَاتُکَ عَلَیْہِ وَ عَلٰی
آبَائِہ فِیْ ھٰذِہ السَّاعَةِ وَفِیْ کُلِّ سَاعَةٍ وَلِیّاً وَّ حَافِظًا وَّ
قَائِداً وَّ نَاصِراً وَّ دَلِیْلاً وَّ عَیْنًا حَتّٰی تُسْکِنَہ¾ اَرْضَکَ
طَوْعاً وَّ تُمَتِّعَہُ فِیْھَا طَوِیْلا اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّ
آلِ مُحَمَّدٍ وَ عَجِّلْ فَرَجَھُمْ وَ سَھِّلْ مَخْرَجَھُمْ وَ اَھْلِکْ
اَعْدَائَھُمْ اَجْمَعِیْن (ج۱ ص ۴۰۱-ج۲ص ۴۹۱)
٭ حضرت علی ؑ کی دعا اور بد دعا (ج۲ص ۶۴۱)
٭ حضرت ابراہیم ؑ کی دعا اور حضرت پیغمبر کا
فرمان کہ امیں اپنے با پ ابراہیم ؑ کی دعا کا نتیجہ ہوں (ج۲ص ۲۷۱)
٭ حضرت ابراہیم ؑ کی رزق و اولاد کے لئے دعا
(ج۲ص ۷۷۱)
٭ ماہ رمضان میں دعا (ج۲ص ۱۲۲)
٭ قبولیت دعا میں تاخیر (ج۲ص ۴۳۲)
٭ فاسق کو اپنے مال کا امین نہیں بنانا چاہیے
ورنہ بصورت دیگر اگر نقصان ہو جائے تو ایسے شخص پر بد دعا کرنا بے سود ہے (ج۴ص
۹۱۱، ۰۲۱)
٭ افعال وضو کی دعائیں (ج۵ص ۶۶)
٭ محمد وآل محمد کے وسیلہ سے دعا مانگی جائے
تو مقبول ہوتی ہے (ج ۵ص ۷۱۲)
٭ بہترین دعا وہ ہے جو یکسوئی اور چپکے سے
مانگی جائے (ج ۵ص ۷۲۲)
٭ بلعم بن باعور کی بد دعا (ج ۶ص ۱۳۱)
٭ خدا کسی کی دعا یا بد دعا کے قبول کرنے کا
پابند نہیں ہے (ج ۶ص ۳۳۱،۴۳۱)
٭ تَخَلَّقُوْا بِاَخْلاقِ اللّٰہِ (ج۶ص ۶۳۱)
٭ دعا کی تاکید و طریقہ (ج ۶ص ۹۳۱)
٭ دل میں خوف خدا رکھنے والے کی دعا مستجاب
ہوتی ہے (ج ۶ص ۰۶۱)
٭ منافق کےلئے دعا کرنے کا کوئی فائدہ نہیں
(ج۷ص ۰۰۱)
٭ مشرک کےلئے دعا کرنا بے سود ہے (ج۷ص ۲۳۱)
٭ حضرت موسیٰؑ کی فرعون کےلئے بد دعا (ج ۷ص
۸۷۱)
٭ حضرت یوسف ؑ کی کنوئیں میں دعا(ج۸ ص ۷۱)
٭ حضرت یوسف ؑ کی قید میں دعا (ج۸ ص۸۳، ۰۴)
٭ حضرت یوسف ؑ کی قیدیوں کےلئے دعا (ج ۸ص ۶۴)
٭ حضرت یعقوب ؑ کی دعا (ج۸ص ۰۸)
٭ دعائے فرج (ج ۸ص ۴۹)
٭ جناب رسالتمآب کی دعا (ج۸ ص ۷۱۱)
٭ دعا کرنا، پکارنا (ج ۸ص ۸۱۱)
٭ حضرت ابراہیم ؑ کی دعا، دعوت حج (ج۸ ص۰۶۱)
٭ انسان کا دعا مانگنا (ج۹ ص ۶۱)
٭ نماز وتر میں دعا ئے قنوت (ج۹ ص ۲۵)
٭ اصحاب کہف کی دعا (ج۹ ص۳۹) اصحاب رقیم کی
دعا (ج۹ ص ۲۸)
٭ حضرت ذکریا ؑ کی دعا (ج۹ ص ۷۳۱، ۹۳۱)
٭ حضرت ابراہیم ؑ کی آذر کےلئے دعا (ج ۹ص ۳۵۱،
۴۵۱)
٭ حضرت ابراہیم ؑ نے سفید بال دیکھا تو پوچھا
پروردگار! یہ کیا ہے؟ تو جواب ملا یہ وقار ہے پس آپ ؑ نے دعا کی اے اللہ میرے وقار
کو زیادہ کر (ج۹ ص ۷۳۱)
٭ دعا کے وقت ہاتھوں کو بلند کرنے کا مقصد (ج
۹ص ۲۰۱-ج۳۱ص۸۷)
٭ حضرت موسیٰؑ کی دعا (ج۹ ص ۷۷۱،۹۷۱)
٭ آیات قرآنیہ حضرت علی ؑ کی وزارت کےلئے
پیغمبر اکرم کی دعا (ج۹ ص ۸۷۱)
٭ آتش نمرودی میں جانے سے پہلے حضرت ابراہیم ؑ
کی دعا (ج۹ ص ۵۳۲)
٭ مقام عرفات میں دعا قبول ہے (ج۰۱ ص ۵۲)
٭ لوگ غیر اللہ سے مانگتے ہیں لیکن اللہ ان کو
دے دیتا ہے پس وہ سمجھتے ہیں کہ غیر اللہ نے ہماری دعاﺅں کو منظور کیا ہے پس وہ
زیادہ گمراہ ہوتے ہیں (ج۰۱ص ۰۷۱)
٭ مومن کی شان ہے کہ جس قدر عبادت میں اضافہ
ہوتا ہے اتنا ہی عظمت و جلال پروردگار اِن کے دلوں میں زیادہ ہوتی ہے اور مومن کا
ایمان خوف و رجا کے درمیان ہوتا ہے (ج۰۱ص ۵۸۱)
٭ دعا بہت بڑی عبادت ہے (ج ۰۱ص ۹۸۱-ج۲۱ص ۱۶۱)
٭ دعا اللہ کی ذات سے ہی مخصوص ہونی چاہیے
(ج۱۱ص ۳۸)
٭ والدین کی نافرمانی ایسا گناہ ہے جو دعا کو
نامقبول بناتا ہے اور عذاب کو قریب لاتاہے (ج۱۱ص ۱۲۱)
٭ مومن پر اللہ کا احسان ہے کہ اس کے مرنے کے
بعد بھی لوگوں کی دعاﺅں کا دروازہ اس کےلئے کھلا رہتاہے (ج ۱۱ص ۸۳۱)
٭ حضرت یونس ؑ کوقوم پر بد دعا کرنے پر تنبیہ
(ج ۲۱ص ۳۷)
٭ انسان دعا سے نہیں تھکتا (ج۲۱ص ۳۹۱)
٭ زراعت کے وقت دعا (ج۳۱ص ۵۰۲)
٭ آل محمد کے شیعو ! دعا سے پہلے تمہاری حاجات
کو پورا کروں گا (ج۲۱ص ۵۳۱)
٭ زنا سے تائب کی دعا (ج۴۱ص ۴۷۱-ج۶ص۰۶۱)
٭ امام جعفر صادقؑ نے فرمایا تین آدمیوں کی
دعا قبول نہیں ہوتی :
(۱)
نافرمان عورت پر شوہر کی بددعا کا کوئی اثر نہیں ہوتا اس لئے مرد چاہے تو اسے طلاق
دے سکتا ہے
(۲)
جس نے کسی کو قرضہ دیا اور لکھوایا نہیںاگر وہ انکار کر دے تو قرض خواہ پر اس کی
بد دعا مقبول نہیں ہوتی
(۳)
کسی کے پاس کھانے کو کچھ نہ ہو اور گھر کی چار دیواری میں بند ہو کر اللہ سے دعا
مانگے اور کمائے نہیں اس کی دعا مقبول نہ ہو گی (ج۴۱ص ۶۲)
٭ دعائے قنوت شیعوں کی علامت ہے (ج ۵ص
۳۳۲-ج۲۱ص ۳۴)
٭ دعائے قنوت کا بیان (ج ۳ص ۰۹)
٭ وتر کے قنوت میں ستر دفعہ استغفار متقین کی
نشانی ہے (ج۳۱ص ۶۲۱)
دعوت عشیرہ : دعوت ذوالعشیرہ کے دن جب ابو
لہب نے مجمع کو منتشر کر دیا توحضرت ابو طالب ؑ نے عرض کیا کہ میں آپ کے حکم کو
قبول کرنے والا ہوں بے شک آپ خداکے احکام پورے کریں میں تابعدار رہوں گا (ج۵ص ۱۰۲)
٭ دعوت عشیرہ کے موقعہ پر حضرت علی ؑ نے لبیک
کہی آپ نے وعدہ فر مایا کہ جو میرا ساتھ دے گا وہ میرے بعد میرا خلیفہ ہو گا ایک
روایت میں ہے کہ شب میں اس دعوت کا انتظام تھا چالیس اکابر قریش شریک دعوت تھے
تمام کتب سیر میں واقعہ موجودہے حضرت ابوطالب ؑ اور حضرت علی ؑ یعنی ان دو باپ
بیٹوں کے علاوہ کسی نے بھی حضور کی دعوت پر لبیک کہنے کی جرات نہ کی (ج۰۱ص ۵۱۲ تا
۸۱۲)
٭ دعوت عشیرہ کے موقعہ پر عتبہ بن ربیعہ کا رد
عمل (ج۲۱ص ۰۷۱، ۱۷۱) دعوت عمل (ج۲ص ۶۱۲)
٭ دعوت حق کا بیان (ج۶ص ۳۷۱)
٭ دعوت غور و فکر (ج۸ص ۳۰۲)
٭ دعوت برائے معرفت توحید (ج۸ص ۴۲۲ -ج۰۱ص ۳۸)
٭ دعوت فکر برائے ولائے علی ؑ (ج۹ص ۳۱)
٭ دعوت انصاف برائے ارباب فکر (ج۱۱ص ۶۰۱،۴۶۲
-ج۲۱۴۹۱ -ج۴۱ ۳۶۱،۷۷۱)
٭ اگر کوئی شخص نیکی کی دعوت دے تو اس کے
نامہء اعمال میں ان لوگوں کی نیکیاں بھی درج ہونگی جنہوں نے اس کی دعوت کو قبول کر
کے نیکیاں کی تھیں اور اگر کوئی شخص برائی کی دعوت دے تو اس کے نامءہ اعمال میں ان
تمام لوگوں کی برائیاں بھی درج ہونگی جنہوں نے اس کی دعوت کو قبو ل کر کے وہ
برائیاں کی تھیں (ج۸ص ۴۰۲)
دقیانوس: روم کا بادشاہ تھا افسوس نامی شہر
اسکا پایہ تخت تھا اس کا زمانہ ۰۵۲ئ کے قریب ہے (ج ۹ص ۳۸)
٭ در اصل ایران کا بادشاہ تھا اور مسلمان
بادشاہ کے مرنے کے بعد حکومت روم پر بھی اس نے قبضہ کر لیا تھا (ج ۸ص ۴۷)
دنبہ : فدیہ حضرت اسمٰعیل ؑ کوہ ثبیر کی
چوٹی سے جبرائیل ؑ نے پکڑ کر چھری کے نیچے لٹا دیا (ج۲۱ص ۱۶)
٭ مروی ہے کہ یہ دنبہ بہشت سے آیا اور آسمان
سے اترا یہ کسی ماں کے شکم سے نہیں (ج۲۱ص ۴۶)
٭ اُن سات میں سے ایک دنبہ ہے جو ماں کے شکم
سے نہیں ہے (ج۲۱ص ۵۰۲)
دنیا : دنیا کی قیمت اگر پر مچھر کے برابر
بھی اللہ کے نزدیک ہوتی تو کسی کافر کو ایک گھونٹ پانی بھی نصیب نہ ہوتا (ج۹ص۰۱۲)
٭ دنیا مومن کےلئے قید خانہ اور کافر کےلئے
جنت ہے (ج۱۱ص ۸۴) دنیا دارِ امتحان ہے (ج ۱۱ص ۹۵)
٭ دیدارِ خدا ناممکن ہے دنیا و آخرت میں (ج ۶ص
۱۹)
دہریہ: دہریہ عقیدہ کی تردید اللہ نے اپنے
اختیا رسے تمام عالم کو خلق فر مایا ہے نہ کہ مادہ وطبیعت سے اور نہ خود بخود بغیر
مادہ کے چیزیں بن گئیں (ج۵ س۰۹۱- ج ۷ص ۱۴، ۲۴)
٭ تدبیر الامور دہریت کو باطل کرتا ہے (ج۷ص
۲۶۱)
٭ کفر کی پانچ قسمیں اور ان کی تردید پہلی
دہریوں کا کفر اور اس کا بطلان (ج۱۱ص ۱۱۱)
٭ مادّہ و طبیعت کے پرستاروں کی تردید (ج۳۱ص
۳۱)
٭ خیر و شر کے الگ الگ خالق کہنے والوں کی
تردید (ج۲۱ص ۴۷- ج۵ص ۴۴۲)
٭ دہریوں کی تردید (ج ۳۱ص ۳۱)
دودھ: حضرت موسیٰؑ کو دودھ پلانے کےلئے
مرضعہ کی تلاش (ج۱۱ص ۸۱)
٭ بچے کو دودھ پلانے والی کو اگر روزہ نقصان
دے توافطار کرے اور پھر قضا رکھے (ج۲ ص ۲۳۲)
٭ عورت کا بچے کو ایک دفعہ دودھ پلانا راہ خدا
میں غلام آزاد کرنے کے برابر ہے (ج۲ص۶۳۲-ج۴ ص ۹۱۱)
٭ اللہ کی نشانیوں میں سے ہے کہ گوبر اور خون
کے درمیان سے وہ خالص دودھ تیار کر کے انسانوں تک پہنچاتا ہے (ج۸ ص۴۲۲،۵۲۲)
دین: دین خدا سے انحراف کی باز پرس (سورہ آل
عمران آیت ۳۷) (ج ۱ص ۰۷۱)
٭ ضرورت دین (ج۳ص ۸۲)
٭ دین میں اختلاف (ج ۱ص ۰۴-ج۷ص ۶۵۱،۴۴۲)
٭ دین اسلام دین فطرت ہے اور حضرت ابراہیم ؑ
اسی دین فطرت یعنی اسلام پر تھے (ج۲ص ۰۶۲)
٭ حضرت ابراہیم ؑ حنیف تھے یعنی تمام ادیان
باطلہ سے کنارہ کش تھے (ج ۲ص ۱۶۲)
٭ اسلام کے علاوہ کوئی دوسرا دین اللہ کے
نزدیک قابل قبول نہیں ہے (ج ۲ص ۱۷۲)
٭ آیت اکمال دین اَکْمَلْتُ لَکُمْ دِیْنُکُمْ
بروز غدیر اُتری (ج ۵ص ۵۲، ۹۲)
٭ بادشاہ حبشہ نجاشی کے سامنے حضرت جعفر طیار
نے دین اسلام کی وضاحت کی (ج۵ص ۷۵۱)
٭ کفار حضرت شعیب ؑ سے کہتے تھے کہ تم ہمارے
دین پر پلٹ آﺅ (ج۶ص ۱۶)
٭ اگر خدا جبر و اکراہ سے چاہتا تو سب لوگوں
کا دین ایک ہوتا (ج۷ص ۴۴۲-ج۵ص ۶۴۲-ج۸ص ۰۴۲-ج۳۱ص۳۱)
٭ دین فطرت ہے: لا اِلٰ©ہَ اِلَّا اللّٰہُ
مُحَمَّدٌ رَسُوْلُ اللّٰہِ عَلِیٌّ اَمِیْرِ الْمُوْمِنِیْنَ وَلِیُّ اللّٰہِ
(ج۱۱ص ۰۱۱،۲۲۱)
٭ یہ دین نیا نہیں بلکہ وہی ہے جس کی تمام
انبیا ء تبلیغ کرتے رہے (ج۲۱ص ۰۰۲)
٭ دین میں کوئی جبر و اکراہ نہیں ہے (ج ۲ص
۰۶-ج۳ص ۷۳۱)
٭ دین میں فساد اور اختلاف و انتشار کا بیج
انہوں نے بویا جنہوں نے اقتدار کی خاطر بیعت غدیر کو توڑا (ج۸ ص ۰۳۱)
Leave a Reply