نماز وزکوة کا بیان
نماز وزکوة کا بیان
بدینہ میں سے افضل ہے اور زکوة عباداتِ مالیہ میں سے افضل ہے –
جناب رسالتمآبﷺ نے اپنے آخری وقت میں فرمایاکہ نماز کو خفیف جاننے والامجھ سے یعنی میری امت
سے نہیں ہے اور شراب پینے والابھی میری امت سے نہیں ہے خدا کی قسم ایسا شخص میرے
پاس ہرگز حوض کوثر پرواردنہ ہوگا-
حضورﷺ نے فرمایاکہ مومن جب تک نماز کا پابند رہے شیطان اس سے خوف
زدہ رہتا ہے جب یہ نما ز کو ضائع کردے تو وہ اس پر غلبہ حاصل کرکے اس کو دوسرے
گناہان کبیرہ میں مبتلاکردیتاہے-
کہ جو شخص فرضی نمازوں کو پابندی وقت سے ادا کرے وہ غافلین میں شمار نہ ہوگا-
اپنے دین کے چہرہ کو بدنمانہ کرو-
اپنے آخری وقت میں سب سے پہلے نماز کی وصیت فرمائی حتی کہ حضرت امام حسین نے خیام سے آخری رخصت کے وقت اپنے بیمار فرزند کو سب سے
پہلے نماز کی وصیت فرمائی اورابوثمامہ صیداوی نے جب نمازکا وقت یاد دلایا تو آپ نے
نہایت خوش ہو کر اس کو یہی دعا فرمائی کہ خداتجھے نمازیو ں میں محشور کرے-
امام حسین کی فرمائشات اورآخری وصیت کی قدر
کرنی چاہیے نماز کے مسائل کی پوری تفصیل ملاحظہ کیجئے- [1]
جعفر صادق نے محمد بن مسلم سے فرمایا کہ جو شخص اپنے مال زکوٰةمیں سے کوئی چیز روک دے
اور ادا نہ کرے خداوند کریم بروز محشر اس مال کو اژدھا کی شکل دے کر اس کی گردن
میں ڈال دے گا جو اسے نوچتا رہے گا یہاں تک کہ مخلوق کا حساب ختم ہو-
رسول خداﷺنے نام لے کر پانچ آدمیوں کو اپنی مسجد سے نکال دیا
اورفرمایا کہ تم چونکہ زکوة ادا نہیں کرتے لہذا اس مسجد میں نماز بھی نہ پڑھو-
مومن ہے اور نہ مسلمان ہے، اورروایت میں ہے کہ اس کی نماز بھی مقبول نہیں ہے-
تفصیل ملاحظہ ہو- [2]
