معدنیات پر خمس کا
وجوب:
أَنَّمَا غَنِمْتُم کے عموم سے بھی ثابت ہے جبکہ اس کا معنی مطلق استفادہ کیا جائے اور احادیث
صریحہ بھی اس پر بکثرت دال ہیں۔ چنانچہ بروایت کافی صحیح محمد بن مسلم میں ہے۔ میں
نے امام محمد باقر ؑ سے معدنیات، سونا، چاندی، پیتل، لوہا، اور سکہ کے متعلق پوچھا
تو آپ نے فرمایا ان سب پر خمس واجب ہے۔ اور صحیح حلبی میں ہے میں نے امام جعفر
صادق ؑ سے دریافت کیا کہ خزانہ میں کس قدر واجب ہے؟ تو آپ نے فرمایا خمس واجب ہے
پھر میں معدن کے متعلق پوچھا تو فرمایا خمس واجب ہے اور سکہ ، پیتل ، لوہا اور
جملہ معدنیات کے متعلق پوچھا کہ جس میں پانی اکٹھا ہو جائے اور پھر نمک بن جائے۔
تو آپ نے فرمایا یہ
معدن ہے اس میں خمس واجب ہے۔ بہر کیف اس بارے میں احادیث بکثرت موجود ہیں۔ لہٰذا
معدنیات میں وجوب ِ خمس کے متعلق کوئی اشکال نہیں ہے پس کان سے برآمد شدہ اشیاء
سونا، چاندی، سکہ، پیتل ، لوہا، نمک ، یاقوت ، زبر جد، سُرمہ ، عقیق ، فیروزہ،
ہڑتال ، تارکول، مٹی کا تیل، پٹرول اور گندھک وغیرہ اس قسم کی تمام چیزوں پر خمس
واجب ہوگا۔ پس ان اشیاء کے حاصل کرنے کے اوصاف کرنے کے اخراجات خمس سے پہلے نکال
لئے جائیں گے اور بعد میں اگر نصاب زکوٰۃ کی مقدار ہوگا تو خمس واجب ورنہ کم پر
واجب نہ ہوگا۔ چنانچہ بروایت تہذیب امام موسیٰ کاظم ؑ سے مروی ہے کہ کیا معدنیات
تھوڑے یا بہت سب پر خمس واجب ہے۔ تو آپ نے فرمایا کچھ واجب نہ ہوگا۔ جبتک کہ نصاب
زکوٰۃ کی مقدار یعنی بیس دینار کی قیمت کو نہ پہنچ جائے۔
مسئلہ: – اگر معدنیات
نصاب سے کم حاصل ہوں تو وہ ارباح مکاسب میں یعنی مطلق آمدنی میں داخل ہوں گے۔
لہٰذا اخراجات ضروریہ سے بچت کے بعد ان پر خمس واجب ہوگا۔
Leave a Reply