سہم امام علیہ
السلام:
مسئلہ:-
انفال کے بیان میں گزرچکا ہے کہ مال انفال سب کا سب امام کے
لئے ہوا کرتا ہے اور وہ گیارہ چیزیں ہیں ۔ جن کی تفصیل حسب ذیل ہے۔
۱۔ وہ زمین
جس کو دشمنانِ اسلام چھوڑ کر بھاگ گئے ہوں۔
۲۔ بغیر لڑائی
کے جو زمین کفار نے صلح کے طور پر اہل ِ اسلام کے سپرد کر دی ہو۔
۳۔ بنجر زمین
۴۔ شاہی
مختصات بشرطیکہ کسی مسلمان سے غصب شدہ نہ ہوں۔
۵۔ غنیمت
دارالحرب میں سے جو کچھ امام اپنی ذات کے لئے پسند کرے۔
۶۔ بغیر اذن
امام کے جو لڑنے والے غنیمت حاصل کریں۔
۷۔ وہ میراث
جس کا کوئی وارث نہ ہو۔
۸۔ پہاڑون کی
چوٹیاں
۹۔ وادیاں
۱۰۔ جنگلات
۱۱۔ معدنیات
مسئلہ: –
اس مطلب
پر احادیث بکثرت موجود ہیں کہ معدنیات مال انفال میں سے ہیں۔ جیساکہ بعض روایات
انفال کے بیان میں گزر چکی ہے اور بعض احادیث میں یہ مذکور ہے کہ اگر کسی کو معدن
مل جائے تو بعد از نصاب اس سے خمس نکالے پھر باقی اس پر حلال ہو گی یہ اجازت آئمہ
طاہرین علیہم السلام کی طرف سے احسان ہے
جو صرف ان کے موالیوں پر ہے ورنہ ان کے دشمن اس سلسلہ میں ان کے حقوق کے غاصب ہیں۔
مسئلہ: – خمس کا نصف
حصہ اور مال انفال سارا جس کے فئے بھی کہا جاتا ہےان دونوں کو سہم امام یا مال
امام کہا جاتا ہے۔
مسئلہ: – جو زمینیں
کفار سے بصورت فتح کے زبردستی لی جائیں وہ کسی کی ملکیت نہیں ہوتیں بلکہ اوّل سے
آکر تک تمام مسلمان اس میں برابر کے شریک ہیں۔
Leave a Reply