anwarulnajaf.com

رکونمبر7 بنی اسرائیل کے بارہ نقیب اور عوج بن عنق

رکونمبر7
بنی
اسرائیل  کے بارہ نقیب اور عوج بن عنق
اثنی  عشر نقیبا حضرت موسی کو حکم ہوا کہ بنی اسرائیل
کے بارہ قبیلوں میں سے بارہ نقیب چن کرانہیں شام اور دوسری اطراف میں  بھیجائائے تاکہ جبار وسرکش لوگوں کے حلالات کی
خبر لائیں  پس حضرت موسی نے بحکم خداہر
قبیلہ سے ایک نقیب چنااور ان کو روانہ کیا لیکن ان نقیبوں نے ان لوگوں کے بڑے بڑے
قددیکھ کر واپس اکر اپنی قوم کو ڈرایا اور جہاد سےبزدل کیا سوائے دوادمیوں  کے ایک کانام کالب بن یوحنا جو یہود کی اولاد
سے تھا  اور دوسرے کا نام یوشع بن نون  تھا جو حضرت یوسف کی اولاد سے تھا تفسیر
ابوسعود میں ہے کہ جب یہ نقیب کنعانیوں کے علاقہ میں پہنچے تو ان کو راستہ  میں عوج بن عنق مل گیا جس کا قد تین ہزر تین سو
تینتیس ذراع تھ اور اس کیعمر تین ہزار برس کی تھی اس کے سر پر ایک لکڑیوں کا گٹھا
تھا پس اس نے ان سب کو گرفتار کرلیا اورلکڑیوں 
کے گٹھے میں ان کو باندھ کر گھر لے ایا اپنی عور ت کے سامنے  جب گٹھا سر سے اتاراتو ان کوبھی کھول کررکھ دیا
اور عورت  سے کہنے لگا  یہ لوگ ہمارے ساتھ لڑائیکا ارادہ رکھتے ہیں اگر
تیری  مرضی ہوتو ان سب کو پاوں کے نیچے رکھ
کر پیس دوں  تو عورت نے جواب دیا کہ ایسا
نہکرو بلکہ ان کو چھوڑ دو تاکہ اپنی قوم کو جاکر اس حقیقت سے اگاہ کریں ان کے ہاں
جوانگور پیدا ہوتے تھے  ان کے ایک گچھے کو
چار پانچ ادمی اٹھا سکتے تھے جب یہ نقیب حالات کا جائزہ لے کر وہاں سے نکلے  تو اپس میں مشورہ  کیا کہ موسی اور ہارون کے علاوہ کسی کو یہ
حقیقت نہیں بتانی چاہیے تاکہ وہ مرتد نہ ہوجائیں  
اور ایک دانہ انگور کااپنے ہاتھ میں لائے 
جس کو ایک ادمی بمشکل  اٹھا سکتا
تھا پس کالب  بن یوحنا اور یوشع کے علاوہ
باقی نقیبوںا دیا اورکالب بن یوحنا حضرت موسی کی بہن مریم بنت عمران کا شوہر تھا                                    لوامع
باقی نقیبوں نے
اپنے اپنے قبیلہ کو ساراحال بتادیا اور کلب بن یوحنا
حضرت موسی کا
فوجی کمپ تین تین  میل لمبا چوڑا تھا  عوج  
ان کودیکھ کر پہاڑ کی طرف چلاگیا اور اس نے وہاں سے دیکھ کر چلاگیا  اوراس نے 
وہاں سے بڑا پتھر اٹھایا جو حضرت موسی کی ساری فوج کی وسعت کے برابرا
تھا  اور اسے سرپر رکھا تاکہ موسی کی فوج
کے اوپر ڈال  دے پس خدانے  پرندہ ہد ہد بھیجا جس نے پتھر کو اس کے سر کے
مقام سے کرید کرسوارخ کردیا اور وہ پتھر اوج کی گردن میں پھس گیا پس حضرت موسی اس
کی طرف بڑھے اپ کا قد دس ضرع تھا اور اپ کاعصا بھی دس ذرع کا تھا اور اپ نے دس  ذراع کی مقدار بلند چھلانگ لگا کر اس کو عصامارا
کہ وہ اس کے ٹخنے پر لگا اور وہ گر گیا اور لوگوں نے تلواروں سے اس کا سر کاٹ لیا
اور مجمع البیان
میں ہے کہ ان کے
انار کے نصف حصہ میں پانچ ادمیوں کو ڈالا جاسکتا تھا اور عوج کے تخت کی لمبائی اٹھ
سو ذراع تھی لوامع التنزل                                            میں ہےکہ بنی اسرئیل کی قدوقامت دس ذراع سے
چالیس ذراع تک تھی اور  قوم عمالقہ کی قد
بلعموم چالیس ذراع سے ایک سوذراع تک تھی لیکن عوج بن عنق   تمام سے طویل القامت تھا حی کہ بادل سے پانی
پی لیا کرتا تھا اور مچھلی کو دریا میں سے پیڑ کر سورج کی ترمی  میں بھون کر کھاتا تھا اور کہتے ہیں کہ حضرت
نوح علیہ السلام کا طوفان  جب کہ ہر بڑے سے
بڑے  بلند پہاڑ سے بھی چالیس گز بلند تھا
تو عوج کے گھٹنوں تک پہچاتھا اور اس کی ہر انگلی 
تین گذلمبی تھی عوج کی ماں  کا نام
عنق ہے جو حضرت ادم کی لڑکی تھی اور یہ پہلی عوسرت ہے جس  سے بدکاری کی ابتداہوئی  اور عوج زنا کا نففہ تھا اس لئے  باپ  کا
نام معلوم نہیں ہوسکا اور کہتے ہیں اس کی پنڈ کی کی ہڈدریاے نیل  پر بطور پل کا م دیتی رہی  واللہ اعلم
اقوال               اس روایت کے ظاہر سے پتہ جلتا ہے
کہ یہ اسرائیلیات میں  سے ہے اور اصول
درایتت کے لحاظ سے بالکل بے بنیاد چھو ث ہے پس عقلا ونقلا اس کے مردود ہونے  میں کوئی شک نہیں ہے
وضاحت
کیوں کہ سبط
کلام عرب میں اس درخت کو کہتے ہیں جس کی شاخیں زیادہ ہوں  اور چونکہ حضرت یعقو ب کا ہر فرزند ایک ایک
قبیلے کا باپ بنا اس لئے ان کواسبات  کہا
جاتا ہے  غالبا اسی بناء  پر حضرت امام حسین کو سبط کہا گیا ہے  حسین منی وانا منالحسین والحسین سبط من الاسباط
اور تمام  اعداد میں سے بارہ کا عدد بھی
عجب مبارک ومحبوب خدا ہے کہ لاالہ الااللہ محمد وسول اللہ علی خلفۃ  اللہ 
میں سے ہر جملہ بارہ حرفوں سے مرکب 
ہے پھر نظام  کا ئنات میں بروج  کی تعداد بارہ مہینوں کی تعداد بارہ اور ہر شب
وروز کی تقسیم بارہ  سے اور بنی اسرائیل کے
اسابات  بارہ پھر ان کے نقیب بارہ اور اسی
طرح حضور نے بھی فرمایاالائمتہ  من بعدی
اثنا عشر    یعنی  میرے بعد بھی امام کل بارہ ہوگے
ینابیع المودۃ
سے منقول ہےکہ ایک یہودی نے اپنے سوالات میں سےایک سوال حضور سے یہ بھی کیا تھا کہ
ہمارےنبی  موسی نے تو اپنے بعد حضرت یعشع
کو اپنا وضی مقرر کیا تھا فرماہیے اپ کا وصی کون ہے تو اپ نے فرمایا میرا وصی علی
بن ابی طالب ہے اور اس کے بعد میرے دوسبط حسن وحسین اور اسکے بعد نوامام ہوں گے
حسین کی اولاسے     لوامع التبزیل  یہ روایت بہت 
سی کتابوں میں موجود ہے ہم مقدمہ تفسیر میں بھینقل کرچکےہیں
وقال   اللہ یہ خطاب نقیبوں کو ہے یاتمام بنی اسرائیل
کو کہ اگر تم نماز وزکوۃ کے پابند رہے اور میرے رسولوں پر ایمان بھی لائے اور ان
کے معاون وناصر رہے  نیز خدا کو قرض
حسن  بھی دیتے رہے یعنی راہ خدا میں خرچ
کرتے رہے  یا اورنیکیاںکرتے رہے تو تمہاری
لغز شیں معاف کی جائیں گی اور تمہیں جنت عطا کرو ں گا  اور قران مجید میں نیکیوں پر قرضہ کا اطلاق ہوا
ہے جس طرح سورہ مزمل میں ارشاد ہے واقرضواللہ قرضا حسنا اور اللہ کو قرض حسن
دویعنی نیکیاں کرو
فبما نقضھم    پس انہوں ھے اپنے عہد توڑدئیے   بعض مفسرین کہتے ہیںکہ یہعمالقہ  جنگ کرنے کا عہد تھا لیکن بوقت حکم انہوں نے
حضرت موسی  کو یہ جواب دیا تھاکہ ہم ہرگز
نہ جائیں گے تو اور تیرر اپروردگار جاکر خود لڑ وہم  تو یہیں بیٹھے ہیں  اور بعض کہتے ہیں کہ رسولوں پر ایمان کا عہد
توڑا کہ ان کو قتل کیا اوران کی تککذیب کی اوربعض کہتے ہیں   کہ سب کے سب عہد توڑڈالے جوبھی کئے تھے
لعنھم                                     لعنت کا
معنی ہے رحمتخدا سے دوری جب کہا جائے کہ فلاں پر خداکیلعنت ہو یعنی اس کو خدااپنی
رحمت سےدور کرے یعنی اس پر اپنا عذاب نازل کرے اور جس کے متعلق خدا فرمادے کہ میں
اس پر لعنت کرتا ہوں اوردنیا میں یااخرت میں تو دنیا کی لعنت سے مرادہے دنیا کا
عذاب اوررسوائی وذلت اوراخرت ک لعنت سے مراد عذاب جہنم اور اخرت کی خواری ہے  یہودیوں پر خداوندکریم کا دنیا میں عذاب یہ
نازل ہوا کہ ان کو بندوں اور سوروں کی شکلوں میں مسخ کردیا گیااوراخرت میں تو جو
عذاب ہوگا  وہ خداخود بہتر جانتا ہے
ونسواحظا    اس کا یک معنی تو وہی ہے جو تحت الفظ موجود
ہے اور دوسرا یہ بھی ہوسکتا ہے کہ انہوں نے ضائع 
کردیا بعض ان ایات تورات کو جوان کے کام کی تھیں اور انکی ہدایت کیتھیں اور
ان کی تلاوت کو ترک کردیا کہ رفتہ رفتہ ان کو بھول گئیں
ولاتزال                       یہاں خائنتہ  خیانت کے معنی ہیں ہے اور اس سے مراد مطلق گناہ
ہے یعنی جھوٹ فریب عہد شکنی   اور مشرکین
سے میل جول وغیرہ کوئی نہ کوئی ان کی برئی اپ ملاحظہ فرماتے ہیں گے اور یہ بھی
ممکن ہے کہ خائنتہ  لیکن بعد میں الاقلیلا
کا استشنار پہلے معنی کے ساتھ زیادہ موزوں ہے یعنی سارے یہودی پھٹکا ر خداوندی میں
ہیں اوربیان کردہ برائیوں میں مبلاہیں سوائے چند ایک کے جیسے عبداللہ بن سلام
ومن الذین
یعنی  حضرت عسی  علیہ السلام کی قوم جو نصار نے کہلاتے  ہیں ان سے بھی ہم نے عہد    لئے تھے جس طرح کہ حضرت موسی کی قوم سے  لئے تھےلیکن انہوں نے یہودیوں کیطرح وہ نصیحتیں
بلاویں جن پر انہوں نے عمل کرنا تھا تو بطور سزا کے ان کی اپس میں دشمنی  پید اکردی گئی یاتو اس سے مراد وہ دشمنی ہے جو
نصاری اور یہود کی اپس  میں ہے اور یا یہ مراد
ہے کہ نصرانیوں کی اپس  میں دشمنی  پیدا کردی گئی کہ ان کے تین گروہ ہوگئے                     نسطور  یہ جوحضرت عیسی کو خداکا بیٹا مانتےہیں          یعقوبیہ جو حضرت عیسی بن مریم کو
خدامانتے ہیں  ملکانیہ جوتین خداوں کو
مانتےہیں  اللہ عیسی اور مویم

Posted

in

by

Tags:

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *