غسل کا بیان
واجب ہونے والے غسل ہیں۔
1. غسل جنابت
2. غسل حیج
3. غسل استحاضہ
4. غسل نفاس
5. غسل میت
6. غسل مس میت
7. غسل نذر و عید
غسل کی دو قسمیں ہیں
ایک ترتیبی اور دوسرا ارتماسی
غسل جنابت کا طریقہ
غسل ترتیبی کا طریقہ یہ ہے کہ پہلے اپنے ہاتھوں کو
دھولے اور مقام نجس کو پاک کرے پس غسل کی نیت کر کے سر پر پانی ڈالے اور سر و گردن
کو دھوئے کہ کوئی جگہ خشک نہ رہ جائے اور آخر میں کندھے سے لے کر پاؤں کے تلوؤں تک
بائیں حصہ جسم کو دھوئے اور غسل ارتماسی یہ ہے کہ جسم کو پاک کر کے ایک دفعہ نیت
کر کے پانی میں چلا جائے کہ پورا جسم پانی میں چھپ جائے ۔
تنبیہ : ہر غسل خواہ واجب ہو یا سنت اس کے کرنے کے
یہی طریقے ہیں صرف نیت ہر ایک کی الگ الگ ہے۔
مسئلہ: چھلا، انگوٹھی ، کنگن یا کوئی زیور اگر موجود
ہو تو اس کے نیچے چمڑے تک پانی پہنچانا واجب ہے ورنہ غسل درست نہ ہوگا۔
مسئلہ: ناخن پالش کی موجودگی میں غسل صحیح نہ ہو
گاکیونکہ پالش کے نیچے ناخن تک پانی نہیں پہنچ سکتا بہر کیف جسم پر کوئی حائل نہیں
ہونا چاہیے۔۔
مسئلہ: اگر تیل یا گھی وغیرہ جسم پر زیادہ مل دیا ہو
کہ پانی جسم تک نہ پہنچ سکے تو غسل کرنے سے پہلے چکناہٹ کو دور کرے اور پھر غسل کر
لے تا کہ پانی پورے جسم پر پہنچے ۔
مسئلہ: غسل جنابت سے پہلے کلی کرنا اور ناک میں پانی
ڈالنا واجب نہیں بلکہ مستحت ہے۔
مسئلہ: غسل ترتیبی میں اعضاء کے درمیان تریب معتبر ہے
کہ پہلے سر، گردن پھر دایاں پھر بایاں حصہ اگر اس ترتیب کے خلاف کرے گا تو غسل
باطن ہو گا لیکن ہر ہر عضو میں ترتیب واجب نہیں کہ اوپر سے نیچے دھوئے یا نیچے سے
اوپر کو دھوئے بلکہ جس طرح دھوئے گا غسل صحیح ہو گا۔
مسئلہ: غسل ترتیبی میں موالات کا اعتبار نہیں اگر ایک
وقت میں سر و گردن دھوئے اور پھر کافی وقفہ کے بعد دایاں حصہ اور پھر دیر کے بعد
بایاں حصہ دھولے تو غسل ترتیبی ہو جائے گا۔
مسئلہ: غسل جنابت کے پہلے یا بعد میں وضو کرنا حرام
ہے اور بعض روایات میں اس کو بدعت تعبیر کیا گیا ہے اور اس کے علاوہ باقی جس قدر
اغسال ہیں اور ان کے ساتھ پہلے یا پیچھے نمازوں کے لئے وضو کرنا ضروری ہے۔
مسئلہ: خروج منی کے بعد غسل سے پہلے پیشاب کرلینا
چاہیے تا کہ نالی میں اگر منی کا کچھ حصہ پیچھے رہ گیا ہو تو وہ پیشاب کے ذریعے سے
باہر نکل آئے اور غسل کے بعد منی کے خروج کا احتمال نہ رہے اگر ایسا کرے اور پھر
غسل کرے تو بعد میں اگر کوئی رطوبت نکلے گئی تو غسل دوبارہ کرنے کی ضرورت نہ ہو گی
بلکہ اگر پیشاب کرنے کے بعد استبراء کر چکا تھا تو وضو کی بھی ضرورت نہ ہو گی ورنہ
وضو کرنا پڑے گا لیکن اگر خروج منی کے بعد پیشاب کئے بغیر غسل کرے اور بعد میں
کوئی رطوبت ظاہر ہو تو غسل دوبارہ کرنا پڑے گا۔
مسئلہ: اگر غسل کے متعدد اسباب جمع ہو جائیں تو سب کے
لئے صرف ایک ہی غسل کافی ہے اگر ان اسباب میں سے ایک جنابت بھی ہوتو نماز کے لئے
اول یا آخر میں وضو کی ضرورت نہ رہے گی لیکن اگر جنابت ان میں نہ ہوتو نماز کےلئے
اول یا آخر وضو کرنا ضروری ہو گا۔
مسئلہ: غسل جنابت یا دیگر اغسال میں مرد و عورت کا
طریقہ غسل ایک ہی ہے خواہ ترتیبی ہو یا ارتماسی۔
مسئلہ: جنبی مرد ہو یا عورت ان کے لئے چند چیزیں حرام
ہیں۔
1. کسی مسجد میں ٹھرنا اور مسجد نبی ، مسجد
حرام میں ٹھرنا تو بجائے خود ان میں گزر کرنا بھی ان کےلئے حرام ہے ہاں باقی مسجد
میں گزر جانا حرام نہیں اور نبیاء طاہرینؑ کے گھروں کا بھی یہی حکم ہے کہ جنبی
انسان ان میں داخل نہ ہو بنا بریں معصومین کے حرموں میں جنبی انسان کےلئے داخل
ہونا درست نہیں ہے۔
2. مسجد میں کوئی چیز رکھنا بھی جنبی انسان
کےلئے حرام ہے البتہ مسجد سے کوئی چیز اٹھا نا اس کےلئے حرام نہیں ہے ۔
3. قرآن مجید کی تحریر کو چھونا یا اللہ پاک
کے اسماء طاہرہ کو مس کرنا بھی جنبی انسان پر حرام ہے اور نبیائے طاہرین اور آئمہ
معصومین کے اسمائے مبارکہ کو مس کرنا بھی جنبی انسان کےلئے درست نہیں ہے۔
4. وہ امور جن میں طہارت شرط ہے جنبی انسان
کا بغیر غسل کے ان کو بجا لانا حرام ہے
5. جن سورتوں میں سجدہ واجب ہے ان کا پڑھنا
جنبی پر حرام ہے اور باقی قرآن میں سات ساتھ آیتوں سے تجاوز کرنا مکروہ ہے۔
مسئلہ : کھانا، پینا، تیل لگانا، خضاب کرنا اور سونا
جنبی انسان کےلئے مکروہ ہے
مسئلہ: حیض و نفاس والی عورت کے بھی یہی احکام ہیں
اور ان کے غسل کا بھی یہی طریقہ ہے اور حیض والی عورت کے احکام جنب کے احکام کے
علاوہ بھی ہیں اور ان میں نفاس والی عورت بھی شریک ہے۔
مسئلہ: اگر جنبی انسان بارش میں کھڑا ہو جائے اور نیت
غسل کی کرے پس انسان کے تمام جسم پر بہہ جائے تو غسل صحیح ہو گا تو گویا یہ غسل
ارتماسی کے حکم میں ہو گا جیسا کہ متعدد روایات میں موجود ہے۔
مسئلہ: غسل جنابت کرنے سے پہلے استبراء کر لے یعنی
پیشاب کرلے اور پیشاب کے بعد استبراء کا طریقہ گزر چکا ہے ۔
مسئلہ: غسل جنابت کر چکنے کے بعد مقام پیشاب سے کوئی
رطوبت نکلے تو اگر منی کے نکلنے کے بعد پیشاب کر چکا ہے تو اس رطوبت کی پرواہ نہ
کرے وہی غسل صحیح ہے اور اس کے بعد نماز پڑھ سکتا ہے لیکن اگر منی کے خارج ہونے کے
بعد پیشاب نہیں کر چکا تو اس رطوبت کو منی کا ہی حصہ سمجھے پس غسل دوبارہ کرنا پڑے
گا لیکن اگر منی کے بعد پیشاب کر چکا ہے لیکن پیشاب کے بعد استبراء نہیں کیا تو
غسل صحیح ہو گا ۔ لیکن نماز کےل ئے وضو کرنا پڑے گا اور وہ تری پیشاب کے حکم ہو
گی۔
مسئلہ: اگر منی کے بعد باوجود کوشش کرنے کے پیشاب
نہیں آیا تو استبراء کر لینے کے بعد غسل کر سکتا ہے اور اس صورت میں کلنے والی
رطوبیت کی پرواہ نہ کرے۔
مسئلہ: اگر دوران غسل میں حڈث خارج ہو جائے تو غسل
باطل نہ ہو گا پس غسل کو مکمل کرے اور نماز کےلئے احتیاطاً وضو کر لے
مسئلہ: اگر ایک آدمی پر چند غسل جمع ہو جائیں تو غسل
جنابت کی نیت کر کے غسل کرے باقی سب اس میں آ جائیں گے اور وضو کی ضرورت نہ رہے
گی۔
مسئلہ: غسل جنابت یا دیگر اغسال میں اگر ترتیبی ہوں
تو پہلے سر پھر دایاں پھر بایاں حصہ دھونا ہو گا لیکن نفا اعضاء میں ترتیب کی کوئی
نہیں چاہیے تو پہلے سر کو پھر گردن کو دھولے اور چاہے تو الٹ کرے لیکن ترتیب سے
دھونا بہتر ہے۔
مسئلہ: اعضائے غسل میں موالات کی بھی پابندی نہیں ہے
لیکن موالات افضل ہے۔
مسئلہ: غسل کےلئے مستحب ہے کہ پہلے دونوں ہاتھوں کو
کہنیوں تک دھوئے اور تین دفعہ کلی اور تین دفعہ ناک میں پانی ڈالے پھر نیت کر کے
غسل شروع کرے ۔
مسئلہ: سردار دائیں اور بائیں تینوں حصوں کو تین تین
دفعہ دھونا افضل ہے۔
Leave a Reply