anwarulnajaf.com

یقین و معرفت کے مراتب

جس طرح عقل
فطری منازل ارتقا ءطے کرنے کے بعد عقل مستفاد کا درجہ حاصل کرتی ہے یا عقل مسموع
طے منازل کے بعد عقل مطبوع کی حد تک پہنچتی ہے اسی طرح یقین و معرفت بھی مسموع سے
مطبوع تک یا فطری سے کسبی یا مستفاد کے مدارج تک پہنچنے ہیں چنانچہ اس کے بھی چار
مرتبے ہیں پہلا یقین مسموع دوسرا علم الیقین تیسرا عین الیقین اورآخری حق الیقین
اور ان کی وضاحت یہ ہے کہ سنی سنائی کو یقین کر کے مان لینا اورمقام اطاعت و
انقیاد میں سر جھکا لینا  یہ علم مسموع اور
یقین صر ف ہے جس میں نہ طلب دلیل نہ طلب مشاہدہ اور نہ طلب ذوق ہے اوریہ مرتبہ صرف
تقلید ہی تقلید ہے اس میں ثبات و پائیداری نہیں ہوتی بلکہ ادنی سے شکوک و شبہات کے
باد گولے اور معمولی سے ادھام کے جھکولے اس کی عالیشان و بظاہر پختہ عمارت کو چشم
زون میں منہدم کر دیا کرتے ہیں لہذا اس سے بلند و پائیدار یقین کا و ہ مرتبہ ہے جو
سننے کے بعد دلیل و برہان سےاستواری و مضبوطی کا حامل ہواور مرتبہ علم الیقین کہلا
تاہ ے یہ مرتبہ جس طرح اپنے لئے تسکین قلب کا موجب ہوتا ہے اسی طرح مقام تبلیغ و
تفہیم میں بھی یہ سہولت کا موجب ہے اس یقین پر تعمیر شدہ عقیدہ کی عمارت عام
تشکیکات و شبہات کے جھکولوں سے متزلزل نہیں ہو سکتی اور اس سے بڑھ کر یقین کاوہ
مرتبہ ہے جو مشاہد ہ سے حاصل ہوا ور اسے عین الیقین کہا جاتاہے اور یہ یقین و
عرفان اورایقان و اطمینان کی وہ منزل ہے جس میں پھسلنے کا امکان تک نہیں رہتا مثال
کے طور پرکسی کے کہنے سے آگ کا وجود مان لینا یقین مسموع ہے اوراس کی دلیل دھواں
موجود ہو تواسے دیکھ کر آگ کو تسلیم کرنا علم الیقین ہے پھروہ لوگ کا مشاہدہ کرنا
عین الیقین ہے اور اسکی گرمی کو چکھ لینا حق الیقین ہے بحارالانوار جلد 15 باب
الیقین و الصبر میں بروایت کافی امام محمد باقر علیہ السلام نے ان چار مراتب
کواسلام ایمان تقوی اورایقان سے تعبیر فرمایا ہے چنانچہ فرمایا ایمان اسلام کو
کہتے ہیں لیکن یہ اس سے ایک درجہ بلند ہے اور لوگوں میں یہ درجہ بلند ہے اور لوگوں
میں یہ درجہ بہت کم تقسیم ہوا ہے الخبر اور یہاں سے واضح ہو گیا کہ قرآن مجید میں
ایمان والوں کو ایمان کی دعوت دینا یا ایمان والوں کو تقوی کی دعوت دینا مرتبہ
ادنی سے اعلی کی طرف ارتقا ءکی دعوت ہے اور منازل معرفت میں سے کسی ایک زینہ پر بیٹھ
جانے کے بجائے عملی میدان میں قدم آگے بڑھاتے ہوئے عملی بلندیوں کے سرکرنے کی پیش
کش ہے اس ذیل میں علامہ مجلسی اعلی اللہ مقامہ فرماتے ہیں کہ ایمان کا پہلا زینہ
جس کا اسلام سے تعبیر کیا جاتا ہے جو صرف سنی سنائی سے تسلیم کی بدولت حاصل ہوتاہے
اس میں کم و بیش شکوک و شبہات کی ملاوٹ ہوتی ہے جیسے ارشاد خداوندی ہے وما یومن
اکثر ھم باللہ الا وھم مشرکون یعنی ان میں سے اکثرین کاایمان شرک کی ملاوٹ رکھتا
ہے اور اسی بنا ءپر اعراب کو جھڑک دیا گیا تھا قالت الاعراب امنا قل لم تومنو ا
ولکن قولوا اسلمناولما یدخل الایمان فی قلوبکم الایہ یعنی بدوی لوگوں نے کہا ہم
ایما ن لا چکے ہین تو ارشاد ہوا ان سے کہ دیجئیے تم ایمان نہیں لاچکے بلکہ یوں کہو
کہ ہم ایمان لا چکے ہیں اور ابھی تک ایمان تمہارے دلوں میں داخل ہی نہیں ہوا یعنی
وہ لوگ جنا ب رسالت مآب اورصحابہ کرام سے سن کر اسلامی عقائد کو تسلیم کر چکےتھے
جن میں شکوک و شبہات کی بھی ملاوٹ تھی ابھی ان کے ایمان پختگی دلیل و برہان کی
محتاج تھی جس کے بعد ان کی تسلیم کو ایمان کادرجہ ملتا اورایمان کادرجہ وہ ہے جس
میں شک و شبہہ کی گنجائش نہ ہو کیونکہ دلیل عقلی اس کی پشت پناہ ہوتی ہے الذین
امنو اباللہ ثم لم یرتابوا الایتہ یعنی وہ لوگ جو اللہ پرایمان لائے اور پھر شک و
فریب کی وادیوں میں نہ بھٹکے اوریقین کے تیسرے درجہ کو تقوی اورآخری درجہ کو
احسان سے بھی تعبیر کیا گیا ہے چنانچہ بعد میں فرمایا ثم اتقوا واقسعوا واللہ یحب
المحسنین یعنی ایمان کی منزل کے بعد تقوی کی منزل میں پہنچے اور پھراحسان کی منزل
تک پہنچے اور یہی یقین کی آخری منزل ہے جس کے متعلق فرمایا کہ خدا محسنین کو
محبوب رکھتا ہے محمد وآل محمد یقین و سرحا ن کی اسی آخری منزل پر فائز ہیں اسی
بنا پر وہ ماتحت کے تمام مراتب پر حاکم ہیں پس وہ مومنوں کے حاکم اورمتقیوں کےامام
و قائد ہیں


by

Tags:

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *