anwarulnajaf.com

مغالطہ

عقیدہ وہابیت سے دور حاضر کے بعض قلمکار اسلام کی مقدس ترین
دستاویز سمجھتے ہوئے اسے بنیاد بنا کر نئی نئی اصلاحات نافذ کر رہے ہیں صحرائے نجد
کے گلہ بانوں کی تخلیق ہے۔ اور آج ان کی تبلیغ وترویج میں سرتوڑ کوششیں ہورہی ہیں۔
زبانیں خریدیجارہی ہیں قلم خریدے جارہے ہیں ۔ گوریلے پیدا کئے جارہے ہیں۔

ان نظریات کی شدت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ عقیدہ
وہابیت کی روسے سرور کونین صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی ذات گرامی بعد از رحلت لکڑی
کے ٹکڑے سے زیادہ کچھ بھی نہیں۔ ان لوگوں کو مسیح العقیدہ مسلمانوں پر اعتراض ہے کہ
امت مسلمہ بزرگان دین کی عظمت کی دلدل میں پھنس کر رہ گئی ہے ۔ جس کا نتیجہ یہ ہوا
ہے کہ آج مسلمان راہ ترقی میں یورپ سے صدیوں پیچھے رہ گئے ہیں ۔ اگر مسلمان عظمت بزرگان
اسلام کاجوا تارپھینکیں  تو ہم انتھائی برق
رفتاری سے اقوام عالم کے دوش بدوش چل سکیں گے۔ بلکہ سارا سلام ہمیں آگے لے جائے گا
اور یورپ ہماری تقلید پر مجبور ہوگا۔

 اب اس انداز نظر وفکر
کو ذراریگزار نجد میں چل کر دیکھئے۔ دنیا کے دیگر مسلمان توعقائد کی دلدل میں پھنس
کر پیچھے رہ گئے ہیں۔ لیکن کیا ان نظریات کے خالق نجدی جن کے ہاں مراسم ختم میں ۔عظمت
پیغمبرکو مسل کر رکھدیا ہے، جنت البقیع میں مزارات آل محمد زمین بوس کر دی گئی ہیں۔
روضہ رسول کو بوسہ دینا قانوناًجرم قرار دیاگیا ہے ۔

ترقی میں اقوام عالم سے جاملے ہیں؟

جہاں تک ہماری نگاہ نام کا تعلق ہے تو میں ان عقائد کے مبلغ
جس مقام پران نظریات سے پہلے کھڑے تھے آج بھی وہیں نظر آتے ہیں۔ بلکہ اس سے بھی کوسوں
میل پیچھے دھکیل دیئے گئے ہیں ایک صدی سے کچھ سال اوپر ہورہے ہیں کہ ان لوگوں نے ان
عقائد کی ترویج شروع کی۔ اگرایک صدی ترویج عقائد میں گزارنے کے بعد بھی وہ ایک قدم
آگے نہیں بڑھ سکے تو پھر کس منہ سے یہ لوگ امت مسلمہ کی سیاہ بختی کا اصلی سبب ان مراسم
کو بتلاتے ہیں۔ جوان کی زبان میں بدعت کہلاتے ہیں۔

اگران مراسم تعظیم وتکریم کو چھوڑکر ان لوگوں نے ترقی کی ہوتی
۔میدان علم میں نئی راہیں پیدا کی ہوتیں۔ میدان عمل میں آگے بڑھے ہوتے۔ سائٹس میں ایجادات
کی ہوتیں۔ علاج الامراض میں کمال پیدا کیاہوتا تو پھر ہم بھی تسلیم کرتے کہ واقعاً
ان لوگوں کا دعوی درست ہے ۔ اور ہم بھی ان مراسم کو خیر باد کہہ دیتے۔

چیکہ حقیقت اس کے سراسر خلاف ہے۔ علاج کیلئے نجدی امریکہ برطانیہ
اور فرانس کے چکر لگاتے ہیں علم نام کی کوئی چیز نہیں حتیٰ کہ اپنا دفاع بھی امریکہ
سے کرتے ہیں۔ حالانکہ ا گر حقائق کومدنظر رکھا جائے تو ہماری پستی کاراز یہ  مراسم تعظیم نہیں بلکہ ہماری علمی دست نگری کی داستان
دوسری ہے۔

 کاش یہ لوگ تعصب کے
خوں سے نکل کر سلاطین قدیم اور حکمرنان عصر نو کے حالات کا موازنہ کرتے ،اور پھر تجزیہ
کرتے کہ وہ کون سے اسباب تھے جنکی بنا پر امت مسلمہ کے عالم کا پھرپورانصف صدی سے بھی
کم عرصہ میں پورے عالم انسانیت پر لہرانے لگا تھا۔

کیا قرون دل میں امت مسلمہ کا علمی ارتقا اسلامی مراسم تھے یا
انہیں بدت کہہ کرٹھکرادینا تھا؟

 

یہ ایک بہت بڑا مغالطہ ہے جو یہ لوگ اپنی چرب زبانی اور دینار
کے سہارے سادہ لوح عوام کے اذہان میں ڈالتے رہتے ہیں۔ کہ قرون اولیٰ کے مسلمان ان بد
عات سے دور تھے اسل لئے۔ وہ دنیا پر چھا گئے۔ اور ہم ان بدعات میں گھر گئے اس لئے ہمارا
بیڑہ غرق ہورہاہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ قرون اولی کی حکومتیں بوجوہ اس بات پر مجبور تھیں
کہ دہ ظاہرا ًاپنے کوحدورالمیٰہ  کے دائرہ میں
محدود رکھیں۔

وہ لوگ بلا لومئہ لائم  چور کا ہاتھ کاٹنے پر مجبور تھے۔

 ان کے ذہن میں انتشار
پسند انتشار انگیز اور انتشار پر ور افراد گردن زدنی تھے۔ وہ لوگ نصوص قرآن کے مطابق
یہود انصاری کو اپنا جانی اور ایمانی دشمن سمجھتے تھے۔ وہ لوگ نہ صرف یہودو نصاریٰ
کے عقائد و نظریات کو خلاف اسلام سمجھتے تھے بلکہ ان کے خورد و نوش لباس و خوراک اور
تمدّن و معاشرت کو بھی خلاف اسلام سمجھتے تھے ۔

 ان کے دور میں تشبہ
بایہود وانصاری بھی گناہ عظیم تھا۔

وہ لوگ اپنے مذہبی مراسم کے قطعی پابند تھے۔

دہ لوگ دشمنان اسلام کو اپنا دشمن سمجھتے تھے ۔

 وہ لوگ اسلامی اصول
کے اس حد تک پابند تھے کہ اگر انکی قلمر د میں کسی ذمی یہودیہ کے پاؤں سے خلخال گم
ہو جاتی تو مارے ندامت کے ان کی پیشانی پر پسینہ آجاتا۔ اور پکارا سکتے تھے کہ امت
مسلمہ کے لیے مقام موت ہے کہ انکی حفاظت میں رہنے والی یہود کا زیور گم ہو جائے۔

ان کی نگاہ میں فرامین سرور کونین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی
اتنی عظمت تھی کہ وہ کسی کافر حکمران کے دربار میں بھی ریشمی فرش پر نہیں بیٹھتے تھے
کیونکہ اس کے رسولرحیم نے مرد کیلئے رشیم کا استعمال ممنوع قرار دیا ہے ۔

ان لوگوں کو احکام خدا اور ارشادات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ
وسلم پراتنا کامل یقین تھا کہ وہ زندگی کے ہر قدم پر اپنا اور اپنے دین کا محافظ خدا
کو سمجھتے تھے میں دجہ تھی کہ اگر کسی غیر کو کسی کافر کے دربار میں اندازے سے کہیں
زیادہ زہر بھی کھانا پڑی توانہوں نے بلا تامل کھالی ۔ اور پھر قدرت نے اپنا وعدہ حفاظت
یوں نبھایاکہ زہر کھانے والا زہر کھانے کے بعد بھی دربار دشمن سے صحیح وسالم اٹھ کر
چلا آیا۔ جس کے نتیجہ میں دشمنان اسلام کو بھی صداقت کے سامنے سر تسلیم خم کر دینا
پڑا۔

یہ ان لوگوں کی اسلام سے شدت عقیدت اور انتھائی وابستگی ہی
تو تھی چند ہزار سپاہی سات لاکھ کے رومی لشکر جرار سے ٹکرا کر فتح یاب ہوئے۔ میں حیران
ہوں کہ دور حاضر کے روشن خیال افراد کس بنا پر اسلامی مراسم کو بدعت کہتے ہیں جہاں
تک میرا تجزیہ ہے وہ یہ ہے کہ قرون اولیٰ کے مسلمان ایمان بالغیب سے ہر میدان میں کامران
رہے ۔ اور ہم ایمان بالغیب کو چھوڑ کر قعر ِمذلت میں گر گئے ۔

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *