anwarulnajaf.com

حرمینِ مکہ کے خصوصیات

 حرمینِ مکہ کے
خصوصیات

۱۔       اگر
کوئی شخص حرم بیت اللہ کی حدود کے اندر ایسا جرم کرے جس کی شرعی حد یا قصاصِ مقرر
ہے تو اس کو اپنے کئے کی سزا حرم کے اندر دی جاسکتی ہے، لیکن اگر جرم کا ارتکاب
حرم کی حدود سے باہر ہوا اور مجرم بھاگ کر حرم کے اندر داخل ہوجائے تو اس پر سزا
جاری نہ ہوگی، جب تک کہ حدود حرم سے خارج نہ ہوجائے۔ البتہ کھانے پینے اور دیگر
ضروریاتِ زندگی میں اس پر سختی برتی جائے گی 
تاکہ وہ خود بخود حرم کی حدود سے نکل جاے اور اس پر معینہ حد جاری کی جائے۔

۲۔      مکہ
کی زمین میں تمام مسلمانوں کو رہنے کا حق حاصل ہے، لہذا کسی مسلمان کو وہاں کی
رہائش سے روکا نہیں جاسکتا۔ بعض علماء کا فتویٰ ہے کہ روکنا حرام ہے اور بعض مکروہ
جانتے ہیں۔

۳۔      کعبہ
کی عمارت سے بلند کسی مسلمان کو اپنا مکان نہیں بنوانا چاہیے (بعض علماء کے نزدیک
حرام اور بعض کے نزدیک مکروہ ہے)

۴۔      حدودِ
حرم کے اندر کسی کی کوئی چیز گر جائے تو خواہ وہ کم ہو یا زیادہ کسی اٹھانے والے
پر    نہیں ہوسکتی بلکہ وہ اس کے پاس امانت
کے طور پر رہے گی اور سال بھر تک اس کی       و
اعلان کرنا ضروری ہے، اگر مالک مل جائے تو ٹھیک ورنہ بطور امانت اپنے پاس رکھے یا
مالک کی طرف سے صدقہ کردے۔

۵۔      تفسیرِ
صافی میں مروی ہے کہ جو شخص حرم میں مدفون ہوجائے وہ قیامت کی سخت گھبراہٹ سے
محفوظ ہوگا۔

۶۔      جو
حرمِ خدا یا حرمِ رسول میں سے کسی ایک حرم میں مرجائے تو خدا اس کو امن پانے والوں
                       کرے گا۔

۷۔      جو
شخص ان دونوں حرموں کے درمیان مرے تو بروزِ محشر اس کا دیوان پیش نہ ہوگا (صافی)

مکہ میں داخل
ہونے والے کے لئے ضروری ہے کہ احرامِ عمرہ باندھ کر داخل ہو۔ خداوند کریم نے حدود
حرم کے اندر کے حصہ کو یہ شرف بخشا ہے کہ وہاں کوئی کسی پر دست درازی کرنے کا مجاز
نہیں، حتیٰ کہ وہاں شرعی حد بھی کسی مرجم پر جاری نہیں کی جاسکتی، جیسا کہ گزر چکا
ہے۔

مکہ کی زمین
میں سب مسلمان برابر کے شریک ہیں، نہ اس جگہ کی زمین کو بیچنا جائز ہے اور نہ اس
کا کرایہ لینا جائز ہے، بلکہ سب مسلمان اس میں برابر رہ سکتے ہیں اور احادیث میں
ہے کہ پہلے مکہ کے گھروں میں دروازے بھی نہیں ہوا کرتے تھے، باہر سے آنے والا
آزادانہ کسی کے گھر میں رہ کر فرائض حج ادا کرکے واپس چلا جاتا تھا اور مسلمان میں
پہلا شخص معاویہ ہے جس نے مکہ میں اپنی رہائش گاہ کے لئے دروازہ بنایا     (انوار النجف ، سورۃ حج، ع ۱۰)


Posted

in

by

Tags:

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *