anwarulnajaf.com

روایت کافی میں خیانت:-

ان کے مسوم اذہان نے اپنے مذموم مقاصد کی تکمیل کے لیے جہاں
دوسرے جائز نا جائز کو نہیں دیکھا وہاں کتب اربعہ میں سے اصول کافی کو بھی معاف
نہیں کیا اور اپنی مجرمانہ ذہنیت کا اظہار یوں کیاکہ کافی جو کتب اربعہ میں سے
معروف ترین کتاب ہے۔اس میں لکھا ہے کہ ذات احدیت نے کائنات کو پیدا کرکے اُسے محمد
ؐ علیؑ اور فاطمہؑ کے تصرف میں سے دیا وہ بایں ہمہ شیعوں نے اس پر اکتفا نہیں کی
اور آج کوئی ایسی بستی نہ ملے گی
 جس
میں ایک سے زائد بتخانے (امام بارگاہ) بنے ہوئے ہوں۔

حالانکہ اس بدانجام مصنف نے قطع و برید کرکے روایت کو پیش
کرتے ہوئے اتنا  بھی سوچا کہ میرے علاوہ
بھی کچھ لوگ پرھے ہوئے ہوں گے اور اگر انہوں نے کافی میں روایت کو دیکھ کر لفط
بلفط عوام کے سامنے پیش کردیا تو میری دیانت کا بٹھ بیٹھ جائے گا شرمساری اور جگ ہسنائی
ہوگی۔ میرے جھوٹ کی قلعی کھل جائے گی۔ یہ درست ہے کہ اس مصنف  نے کافی سے روایت کے کچھ الفاط پیش کرکے کچھ
دنوں تک کے لئے اپنے کو مطمئن کرلیا ہوگا اور روایت کی کاٹ چھانٹ نے اُسے وقتی
فائدہ بھی دیا ہوگا لیکن محتم قارئین لیجئے ہم اس کے دام ہمرنگ زمین کا تارو
پوبکھیر نے کی خاطر روایت لفظ بلفط آپ کے سامنے پیش کرتے ہیں ۔ اور فیصلہ آپ پر
چھوڑتے ہیں کہ۔

اس روایت سے اخذ کردہ مشرک کہاں ہے؟ اور کیسے ہے؟

کتاب مٱۃ العقول شرح کافی جلد اوّل ۳۰۴؎ حدیث ۵؎

حسین ابن محمدؐ اشعری معلیٰ ابن محمدؐ سے معلیٰ ابن محمدؐ
ابوالفضل عبداللہ ابن ادریس سے اور ابوالفضل عبداللہ ابن ادریس نے محمدؐ ابن سنان
سے نقل کیا ہے محمد ابن سنان کہتا ہے کہ میں امام علی نقی علیہ السلام کے حضور
بیٹھا تھا کہ میں نے آپ کی خدمت میں ۔۔۔۔۔ شیعہ اختلافات کا تذکرہ کیا امام علی
نقی علیہ السلام نے فرمایا۔

اے محمدؐ اللہ اپنی توحید میں ہمیشہ سے یکتا ہے ۔ذات
احدیت  نے محمدؐ علیؑ اور فاطمہؑ کو پیدا
کیا ایک ہزار زمانہ تک ان کے انوار عالیہ یونہی رہے پھر ذات احدیت نے کائنات عالم
کو پیدا فرما کر ان انوار عالیہ کو تخلیق کائنات کے راز سے آگاہ فرمایا ۔اللہ نے
پوری کائنات پر ان کی اطاعت فرض کردی ۔اور جُملہ امور عالم کوان کے سپرد فرمادیا
چنانچہ جس چیز کو چاہیں یہ حلال کریں اور جس چیز کو چاہیں حرام کریں پھر آپ نے
فرمایا۔

اے محمدؐ ! یہ ہے دین اسلام جو بھی اس میں کمی یابیشی کرے
گا وہ دین سے خارج ہوگا اور جواس راستہ سے پیچھے مٹے گا اس کا دین مردود ہوگا جو
اس راستہ پر چلے وہ صالحین سے ملحق ہوگا۔ اے محمدؐ ۔! تو بھی اسی راہ کو اپنا نصب
العین سمجھ ۔

محترم قارئین یہ ہے وہ حدیث جو ان لغوتراشوں نے سابقہ
ولاحقہ سے کاٹ کر فرقہ ناجیہ کے سہر فتوائےشرک کے ساتھ تھوپ دی ہے ۔اب ملاحظہ
فرمائیے کہ۔

ذات احدیت ازل سے اپنی توحید میں یکتا ہے۔ بھلا سلسلہ توحید
میں اس سے بہتر کوئی جملہ ہوسکتا  ہے؟

اگر کسی شخص کا یہ عقیدہ ہوکر محمدؐ ۔علیؑ اور فاطمہؑ مخلوق
اوّل تو کیا مشرک ہوجائیگا ؟ حالانکہ عالم تخلیق میں یہ تو بہر طور ماننا ہی پڑے
گا کہ خلاق عالم نے کسی کو سب سے پہلے زیور وجود 
سے آراستہ کیا ہے خواہ یہ مخلوق اوّل مٹی ہو یا پانی اور یا انسان ہو اگر
کسی دوسری چیز کو مخلوق اوّل ماننے سے شرک نہیں تو پھر محمدؐ علیؑ اور فاطمہؑ کو
مخلوق اول ماننے سے شرک کہاں سے ٹپک پرے گا اور کیوں۔

Page 115

 

 


121. ۔انسان کا انسان سے ہوتا ہے۔ حقوق اللہ کے سلسلہ میں خالق جب چاہے۔ جسے
چاہے۔جیسے چاہے۔ اور جہاں چاہے وہ معاف کردے اس کا فضل و کرم ہے۔ لیکن حقوق العباد
کی معافی کا تعلّق متعلّقہ فرد سے ہوگا۔ جس شخص سے زیادتی ہوئی ہے جب تک وہ معاف
نہیں کرے گا۔ خالق محّرم کو معاف نہیں فرمائے گا۔

اگر
اس رحمت و بخشش کا نام ظلم ہے۔ تو پھر رحمت کا یہ معنی  انسانی لغت سے متعلّق نہیں بلکہ یہ معنی صرف آپ
کے مخصوص گروہ کی مخصوص لغت ہے۔ میری معلومات کے مطابق آج تک کسی نے بھی رحم و کرم
کو ظلم اور ترس و ترحم کو طفلانہ نہیں کہا۔ میں نہیں سمجھتا کہ آپ لوگ کیوں متدین
طبقہ کو مشرک ثابت کرنے پر ادھار کھائے بیٹھے ہیں اور کیوں فرقہ حقہ پر ناجائیز
زیادتیاں کرتے ہو۔ آپ تو درویشانہ اشعار کو بھی فرقہ ء حقہ کے سرمنڈھنے سے نہیں
چوکتے۔ اور کہتے ہو کہ جہاں اگر فناشود علیؑ فناش میکند ۔ بھی شیعہ شاعر کا کلام
ہے۔ لہٰذا یہی تمہارا عقیدہ ہے اور ایسا عقیدہ شرک ہے۔

اگر
ایسے ہی اشعار آپ کے فتادیٰ کا تختہء مشق ہیں تو لیجیے میں آپ کو  ایک کتاب کی نشانہ وہی کرتا ہوں اسے ہاتھ میں
لے لیجیے اور ڈھنڈھورا پیٹیئے لوگ کو بتائیے کہ یہ شاعر کافر ہے۔ اس کتاب کے پڑھنے
والے کافر ہیں۔ اور اس کتاب کے متعلّقین کافر ہیں۔ یہ کتاب ہے۔ قصائد قاآئی  ۔قصائد قائی میں قاآنی آسمان و زمین کی گردش
اور کائنات عالم کے استقرار کو علی قلی مرزا اور محمدؐ شاہ قاچار کے احکام وارادہ
کا مرہون منت قرار دیا ہے۔ اور پھر لوگوں کو بتاؤ کہ دیکھو قاآنی شیعہ علماء سے ہے
اور اس نے مشرک کیا ہے ۔لہٰذا تمام شیعہ مشرک ہیِں۔ میں جانتا ہوں کہ تمہارے
معلومات کا دائرہ بھی قاآنی سے زیادہ نہیں ۔ اگر آپ ایسا کرلیتے تو یقیناً اس
وقت  میرے سامنے جو آپ کی کتاب ہے ۔ اور جس
میں تمہاری خود ساختہ اصطلاحات کے یادگار خزانے بھرے پڑے ہیں۔ اس کتاب کے حجم میں
دو چند اضافہ ہوجاتا ۔ اور آپ بہت بڑے عالم مانے جاتے۔

قرآنی
شہادت:۔

وادی
عقل سےکوسوں دور رہنے والے یہ خالی الد ماغ یا تو قرآن کریم کو پڑھتے نہیں۔ اور یا
اگر پڑھتے ہیں تو پھر اپنی ذلّت اور رسوائی کے خوف سے سادہ لوح عوام کو بتاتے نہیں
۔ ور نہ انہیں معلوم ہوتا کہ 122۔ کرم و بخش تو ظالمانہ کام ہے۔ اور نہ ہی طفلانہ
عمل۔ یہ لوگ تو خیر کیا راہ راست پر آئیں گے۔ البتہ میں تو صرف اس لئے قلم بدست
ہوا ہوں کہ کہین میری قوم کا ناپختہ ذہن ان کے نظریات سے زہر آلودہ نہ ہو جائے۔

محتّرمہ
قارئین:۔
جو شخص بھی تلاوت
قرآن کا شرف حاصل کرتا ہے۔ اسے نجوبی علم ہے کہ قرآن کریم کا کوئی صفحہ ایسا نہیں
جس میں خدائے رحیم نے اپنی خطاکار مخلوق سے وعدہ مغفرت نہ کیا ہو۔ اور امید رحمت
نہ دلائی ہو۔ بطور نمونہ چند آیات پیش کئے دیتا ہوں۔

آل
عمران ۱۲۴؎                           للہ
ما فی السمٰوٰت و ما فی الارض آسمانوں اور زمینوں میں جو کچھ ہے سب اللہ کی ۔۔۔۔

یغفر
لمن یشاء یعذب من یشاء واللہ غفور رحیم ہے جسے چاہے بخش دے اور جسے چاہے عذاب اللہ
اور رحیم ہے۔

نساء۱۱۶؎                   اِنَّ اللّٰهَ لَا یَغْفِرُ اَنْ یُّشْرَكَ بِهٖ وَ
یَغْفِرُ مَا دُوْنَ ذٰلِكَ لِمَنْ یَّشَآءُۚ-

اللہ
شرک کو یقیناً معاف نہیں کرے گا ۔علاوہ ازیں جسے چاہے بخش دے۔
         

زمر ۵۴             قُلْ یٰعِبَادِیَ الَّذِیْنَ اَسْرَفُوْا عَلٰۤى
اَنْفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوْا مِنْ رَّحْمَةِ اللّٰهِؕ-اِنَّ اللّٰهَ یَغْفِرُ
الذُّنُوْبَ جَمِیْعًاؕ-اِنَّهٗ هُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِیْمُ(
۵۳)          

اے میرے وہ بندو! جنہوں نے اپنے ظلم کیا ہے۔ رحمت خدا سے
مایوس مت ہونا۔ اللہ تمام گناہوں

کو
بخش دے گا۔ یقیناً وہ غفور اور رحیم ہے۔

کیا
یہ آیات قرآن میں نہیں ہیں؟

کیا
اگر اور کچھ بھی نہ ہو تو صرف یہی آیات بخشش و رحمت کی امید دلانے کو کافی نہیں؟

تمہیں
کیا معلوم کہ تعلیمات الٰہی کیا ہیں؟

تم
کیا جانو کہ دین اور اس کے تقاضے کیا ہیان؟

تمہیں
کیا خبر کہ معقولات و منقولات کے اصول کیا ہیں؟

تم
کیا جانو کہ ترس اور رحمت کے معنی کیا ہیں؟

تف
ہے تمہارے نظریات پر ۔ اگر سستی شہرت ہی چاہیئے تھی تو اس کے ذرائع اور بھی بہت
تھے۔ کیا سستی شہرت کے حصّول کا ذریعہ صرف دین ہی رہ گیا ہے؟

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

(ہمارے ہاںپاکستان
میں بھی کچھ ایسے افراد ہیں جو بعینہ آیۃ اللہ العظمیٰ خمینی اعظم کے مخاطب ہیں۔
جن کا نصب العین روز اوّل سے یہی رہا ہے۔ مجھے اچھّی طرح یاد ہے کہ پاکستان میں آج
ایک بقلم خود ۔۔۔۔۔ساحب حصّول تعلیم کے لیے نجف اشرف تشریف لے گئے۔ اور ہم وہاں سے
پہلے سے موجود تھے۔ قبلہ حجۃ الاسلام فغر المفسرین علامہ حسین بخش صاحب جاڑا۔

123۔ عزاداری:۔

نہ
تو میں اور نہ ہی کوئی دوسرا  متدین اس بات
کی ذمہ داری لینے پر تیار ہے کہ عزاداری سید الشہداء علیہ السلام کے نام پر جو
کُچھ بھی کیا جا رہا ہے اسے سو فیصد درست قرار دے جیسا کہ آپ کو معلوم ہے کہ
ہمارےبعض علمائے محترمہ نے بعض مراسم سے منع فرمایا تھا۔ زیادہ عرصہ نہیں ہوا حجۃ
الاسلا م الحاج شیخ عبدالکریم زنجانی نے صرف بیس برس قبل شبیہ خوانی سے منع فرمایا
تھا۔

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

نے
انہیں استقبالیہ کھانا دیا ۔تو اسی دوران 
وہ فرمانے لگے کہ شہرت حاصل کرنا کوئی مشکل کام نہیں ۔ بس کوئی ایسی بات
کردو جس کی لوگ مخالفت کرتے ہوں۔ خود بخود شہرت ہوجائے گی۔ اور نجف اشرف سے واپسی
کے بعد میں ان کے اس نظریہ اور عمل کو دیکھتا ہوں تو مجھے یوں معلوم ہوتا ہے جسےوہ
نجف اشرف سے عہد کرکے چلے ہوں ۔ کی کبھی کوئی ایسی بات کروں گا ہی نہیں جس سے عوام
موافقت کریں ۔ چنانچہ انہوں نے ملّت شیعہ پاکستان میں انتشار کا بیج یوں بویا کہ
ان کی تشریف آوری کے بعد آج تک شیعیان پاکستان مل بیٹھ نہ سکے اور افتراق کی یہ
خلیج وسیع تر ہوتی چلی جا رہی ہے۔ پھر انہیں چند ایک ساتھی بھی ایسے مل گئے جو بڑے
میاں تو بڑے میاں چھوٹے سبحان اللہ کے مصداق ہیں نہ کھوپڑی میں عقل ہے۔ نہ ذہن میں
علم ہے ۔ نہ زبان میں اخلاق ہے نہ کردار میں شستگی اور شائستگی ہے۔ نہ سیرت آئمہ
پیش نظر ہے۔ نہ کلمو الناس علی قدر عقو تہہ پر نگاہ ہے نہ جادلھم بالتی ھی احسن ۔
اور قولالہ قولاً لینا جیسے قرآن احکام سامنے ہیِں۔ افراد کی اصطلاح کرتے کرتے قوم
کو تباہ کردیا۔ اور ابھی تک یہ احساس بھی نہیں کہ ہم کیا کررہے ہیَں۔ دُعا ہے
خداوند کریم ان مصلحین کو انداز اصطلاح سے آشنا کرے۔

یہ
مترجم از ابتداء تا ۵۵؎                                 ہے۔ اور ایک
صفحہ اگلے حصّہ سے                   
۱۷۴۷۱ سے۔ عزاداری کے متعلّق لے کر اس کا ترجمہ بھی پیش کردیا ہے۔ کیونکہ
عزاداری قوم شیعہ کی رگ حیات ہے اور ہمارے پاکستان کے بقلم خود علامے اصلاح عزاداری
کے نام پر عزاداری کو ختم کرنے پر تلے بیٹھے ہیَں۔ میرا مقصد صرف یہ ہے کہ قارئین
محترمہ اور بقلم خود علاموں کے مقتدی۔ عزاداری کو آیۃ اللہ العظمیٰ خمینی اعظم کی
نگاہ سے دیکھ لیں۔ تا کہ ممکن ہے ان کی خالی کھوپڑیوں میں کچھ آجائے ۔ اور وہ
عزاداری اور مراسم عزاداری کے خلاف زہر افشانی سے باز آجائیں ۔۔۔۔۔۔۔عزاداری پر
ایک نگاہ                                                     
۱۷۴۷۱۷۳۔

124۔
اور شبیہ خوانی کی جگہ روضہ خوانی کا حکم دیا تھا۔

بایں
ہم:۔روضہ خوانی کے انداز میں جتننی مجالس بھی روئے ارض کے طول  و عرض پر یریا کی جارہی ہیَں۔ اپنی تمام تر
کمزوریوں کے باوجود انتہائی اہم ہیں۔ اور دینی و اخلاقی دستور کے عین مطابق ہیَں۔

یہی
مجالس عزاہی شیعیان آلِ محمدؐ علیھم السلام کیلئے سیرت محمدؐ و آل محمدؐ بیان کرنے
کا واحد ذریعہ ہیں۔ اگر بغور دیکھئے تو شیعہ مسلک میں احکام الٰہیہ کا دارو مدار
بھی صرف اور صرف انہی مجالس عزاپر ہے۔ جس طرح ماضی میں شیعیان علی مراسم عزاداری
بجالاتے تھے اس طرح آج بھی بجا لارہے ہیں۔ اور انشاء اللہ آئیندہ بجالاتے رہیں گے۔

ہر شخص
جانتا ہے کہ دیگر تمام اسلامی فرقوں کی نسبت شیعیان آلِ محمدؐ تعداد میں کم رہے
ہیِں۔ اگر یہ سلسلہ ء عزاداری اس فرقہ کے پاس نہ ہوتا تو آج روئے ارض اس گروہ سے
خالی ہوتا۔ اور سقیفائی گروہ ہر لحاظ سے چھاچُکا ہوتا۔ ذات احدیت نے جب دیکھا کہ۔

ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

(یہ
یاد رہے کہ شبیہ خوانی کا طریقہ یہ تھا کہ ایک بہت بڑے کپڑے یا اس قسم کی کسی چیز
پر واقعہ ء کربلا کے مختلف سنین بنا دیئے جاتے تھے۔ اور سین بنانے والے اس کپڑے
وغیرہ کو بازار چوک یا کوچہ میں کسی دیوار کے ساتھ لٹکا دیتا۔ اور ہاتھ میں چھڑی
لے کر ارشاد سے ہر سین کی تشریح و تفصیل بیان کرتا

جاتا
تھا۔ جس سے حاضرین پر رقت طاری ہوگاتی۔ از مترجم)

(اب
اگر کوئی اُٹھ کر یہ کہدے کہ ان مجالس کا کوئی فائدہ نہیں۔ ذاکروں کو نہ سنا جائے
وغیرہ وغیرہ اسے ادب سے گذارش کردی جائے کہ سر کار آپ تشریف لے جائیں نہ سین۔ ہمیں
آیۃ اللہ العظمیٰ خمینیء اعظم نے اجازت دی ہے۔ ہم تو مجلس ابلیت قوّتوں نے
جتنی   قوّت انسداد عزاداری پر صرف کی اتنی
کسی چیز پر صرف نہیں کی۔ آج بھی آپ دیکھئے ۔مخالفین   ابلیت۔ نمازاہلیت۔ زکوٰۃ ابلیت فمس املیت اور
روزہ ابلیت وغیرہ پر نہ کبھی اعتراض کیا ہے اور نہ ہی ان امور کو روکنے کی کوشش کی
ہَے۔ لیکن مخالفین کی ہر نسل نے مختلف حیلوں اور بہانوں سے راہ عزاداری میں
روڑے  اٹکانے کی مذموم کوشش ضرور کی ہے۔
حتیٰ کہ جہاں ان کا بس سرکاری ذرائع سے نہیں چلا تو ان لوگوں نے دھونس دھاندلی ۔
اور بزور۔ قوّت و طاقت بھی روکنے کی کوشش کی ہے از مترجم)

125۔
کہ اسلام کے صدر اوّل ہی میں چند طالع آزماؤں نے دینی بنیادوں کو متزلزل کردیا ہے
اد۔ روئے ارض پر چند افراد کے سوا کے حق آشنا نہیں رہے۔ تو حین ؑ ابن علی علیھما
السلام کو جانثاری اور ٖفدا کاری کا حکم بذریعہ الہام دیا۔ چنانچہ حضرت سیّد
الشہداء علیہ السّلام کمر ہمت کس کر اپنے اجا ۔ اقربا۔ اور اعزاء کے ساتھ وارد
میدان کربلا ہوگئے۔

جس
کا نتیجہ یہ ہوا کہ خواب خرگوش میں کروٹیں لینے والی ملّت مسلمہ بیدار ہوگئی۔ اور
حق شناس افراد کی معتدبہ افراد روئے زمین پر سانس لینے لگے۔

یہی
وجہ ہے کہ ذات احدیت نے ہر عمل کی نسبت عزاداری سیّد الشہداء کا ثواب زیادہ مقرر
فرمایا ہے۔ تا کہ قوم بیدار رہے۔ اور لوگ زیادہ سے زیادہ بنائے عزاداری یعنی کربلا
کو اپنی نگاہوں میں رکھیں تا لہ نسلاً بعد نسل انہیں یہ علم ہوتا رہے کہ بنائے
کربلا ہر ظلم وجود کی بلند و بالا عمارتوں کو مسمار کرنے کے لئے کافی ہے۔ اور
کربلا ہی وہ واحد درسگاہ ہے۔ جہاں سے توحید ۔ عدل ۔ رسالت۔ امامت اور قیامت کے سبق
ملتے ہیں۔ بنا بریں ضروری تھا کہ ایسی بنیادی درسگاہ جس کی اساس ظلم وجود کے خلاف
صدائے احتجاج بلند کرنے پر رکھی گئ تھی کہ قائم و دائم رکھنے کی خاطر اتنا اجر و ثواب
مقرر کیا جاتا کہ عوام ہر صعوبت ہر سختی اور ہر مشکل گوارا کرکے بھی اس درسگاہ سے
دست بردار نہ ہوں۔ یہ یقین کرلیں کہ اگر عزاداری نہ ہوتی تو واقعہ کربلا کے بہت کم
عرصہ بعد ظلم وجود کی تندوتیز آندھیاں قربانی حسین ؑ علیہ السلام کو زیر گرد کرو
یتیں۔ اور اس کا منطقی نتیجہ یہ ہوتا کہ تبلیغات رسالت سے ہم کیا پورا عالم اسلام
بے بہراہ رہتا۔
 

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *