تعصیباتِ نماز
سلام پڑھنے کے بعد کانوں تک ہاتھ بلند کرکے تین بار اللہ
اکبر کہنا مستحب ہے۔
نماز سے فارح ہونے کے بعد نمازی کو چاہیے کہ فوراً چلا نہ
جائے بلکہ مصلائے عبادت پر بیٹھ کر ذکر خدا بجا لائے اور تمام اذکار میں سے تسبیح
جناب فاطمہ زہراؑ افضل ہے اور وہ یہ ہے :۔
چونتیس مرتبہ اَللّٰہُ اَکْبَرُ تینتیس مرتبہ اَلْحَمْدُ
لِلّٰہِ اور تینتیس مرتبہ سُبْحَانَ اللّٰہِ
یہ تسبیح صرف توحید ہی توحید کا درس ہے ہے، پہلے کلمہ میں
اللہ کی کبریائی کی گواہی ہے اور دوسرے کلمہ میں اللہ کی نعمات کا شکر ہے اور
تیسرے کلمہ میں ہر غیر شائستہ صفت سے اس کی تنزیہہ کا بیان ہے، خود حضرت رسالت مآب ﷺ نے اپنی پیاری شہزادی کو یہ
تسبیح تعلیم فرمائی اور معصوم سے مروی ہے کہ اس کا پڑھنا ثواب کے لحاظ سے ایک ہزار
رکعت نماز نافلہ کے برابر ہے، پس مومن کو چاہیے کہ نماز فریضہ کے بعد اس کو ترک نہ
کرے۔
سجدۂِ قرآنی
صافی میں مروی ہے کہ جب آدمی سجدہ کرتا ہے تو شیطان روتا ہے
اور کہتا ہے کہ ہائے میں نے کیا کیا یہ سجدہ کرکے تو جنت میں جائے گا اور میں نے
انکار کرکے جہنم لے لیا۔
قرآن مجید میں پندرہ سجدے ہیں جن میں سے چار واجب اور گیارہ
مستحب ہیں:۔
واجب سجدے: ۱۔ الم سجدہ ۲۔ حم سجدہ ۳۔ النجم ۴۔
اقراء میں ہیں
مستحب سجدے: باقی مستحب ہیں،
تفصیل یہ ہے:۔ ۱۔ سورۂ اعراف کے آخر میں
۲۔ سورۂ الرعد میں
وَ ظِلَا
لُھُمْ بِالْغُدُوِّ وَالْاٰصَالِ پر ۳۔
سورۂِ نحل میں یَفْعَلُوْنَ مَا یُؤْمَرُوْنَ پر ۴۔
سورہ بنی اسرائیل میں وَ یَزِیْدُ ھُم خُشُوْعًا کے مقام پر
۵۔ سورہ کھٰیٰعصۤ میں خَرّّوْا سُجَّدًا وَّ بُکِیًّا پر ۶۔ سورہ حج میں اِنَّ اللّٰہَ
یَفْعَلُ مَا یَشَآءُ پر ۷۔
اسی سورہ میں وَافْعَلُو الْخَیْرَ لَعَلّکُمْ تُفْلِحُوْن پر
۸۔ سورہِ فرقان میں
وَ زَادَھُمْ
نُفُوْرًا پر ۹۔ سورۃ
نمل میں رَبِّ الْعَرْشِ الْعَظِیْم پر
۱۰۔ الم تنزیل میں وَ ھُمْ لَا
یَسْتَکْبِرُوْنَ پر ۱۱۔ سورہ ص میں خَرَّ رَاکِعًا
وَّ اَنَابَ پر
۱۲۔ سورۃ حم سجدہ میں اِنْ کُنْتُمْ
اِیَّاہُ تَعْبُدُوْنَ پر ۱۳۔ سورۂ النجم کے خاتمے پر
۱۴۔ سورۂ انشقاق میں وَاِذَا قُرِ
أَ عَلَیْھِمُ الْقُرْاٰنُ لَا یَسْجُدُوْنَ کے
خاتمے پر
۱۵۔ سورۂ اقراء
میں خاتمے پر
مسئلہ: آیتِ سجدہ کو ختم
کرنے پر فوراً سجدہ بجا لانا چاہیے۔
مسئلہ: جس طرح قرآن پڑھنے
والے پر سجدہ واجب ہے اسی طرح سننے والے پر بھی سجدہ واجب ہوا کرتا ہے اور اگر سنت
ہو تو دونوں کے لئے مستحب ہوگا۔
مسئلہ: جن سورتوں میں
سجدہ واجب ہے ان کو عزائم کہا جاتا ہے اور ان کا نماز فریضہ میں پڑھنا ناجائز ہے
لیکن نافلہ میں پڑھ سکتا ہے اور جب آیت سجدہ پڑھے گا تو سجدہ کرے گا۔
مسئلہ: اگر نافلہ پڑھ رہا
ہو اور کوئی دوسرا آدمی عزائم میں سے آیت سجدہ کو پڑھے اور یہ سن رہا ہو تو اس پر
سجدہ واجب ہوگا پس فوراً سجدہ کرکے بعد میں اپنی نماز کو پورا کرے گا، لیکن اگر
نماز واجب میں ہو تو آیتِ سجدہ سن کر سجدہ کا اشارہ کرے اور نماز کو پورا کرے۔
مسئلہ: سجدۂِ قرآن کے
لئے نہ تکبیر کہنا ضروری ہے اور نہ اس کے بعد تشہد و سلام ہے، البتہ سجدہ سے سر
اٹھا کر تکبیر کہنی چاہیے۔
مسئلہ: اس سجدہ کے لئے
حدث و خبث سے طاہر ہونا ضروری نہیں ہے خواہ حدثِ اصغر ہو یا حدثِ اکبر ہو، لہذا
سننے والا جس حالت میں سنے گا اگر سجدہ واجب ہوگا تو اس کو بجا لانا ہوگا۔
مسئلہ: سننے سے مراد کان
دھر کر سننا ہے اتفاقی طور پر آواز کو کان میں پہنچ جانا موجبِ سجدہ نہ ہوگا۔
مسئلہ: سجدۂِ قرآن میں
قبلہ رُخ ہونا واجب نہیں، بلکہ بہتر ہے کہ حتی الامکان قبلہ رُخ ہو۔
مسئلہ: طہارت لباس اور
ساتوں اعضاء کا زمین پر رکھنا نیز ایسی چیز پر پیشانی کا رکھنا جو نماز کے سجدہ کے
لئے ضروری ہے، اس سجدہ میں کوئی شرط نہیں ہے، البتہ بہتر ہے کہ ان شرائط کا لحاظ
رکھا جائے۔
مسئلہ: سجدۂ قرآن میں
کوئی خاص ذکر معین نہیں ہے بلکہ جو ذکر یا دعا پڑھے کافی ہے اور امام جعفر صادق
علیہ السلام سے ایک روایت میں ہے کہ سجدۂ تلاوت میں یہ پڑھے:
سَجَدْتُ لَکَ
یَا رَبِّ تَعَبُّدًا وَّ رِقًا لَّا مُسْتَکْبِرًا عَنْ عِبَادَتِکَ وَ لَا
مُسْتَنْکِفًا بَلْ اَنَا عَبْدٌ ذَلِیْلٌ خَائِفٌ مُسْتَجِیْرٌ اور دوسری روایت میں ہے کہ یہ پڑھے
لَا اِلٰہَ
اِلَّا اللّٰہُ حَقًّا حَقًّا لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ اِیْمَانًا وَّ
تَصْدِیْقًا لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ عَبُوْریَّۃً وَّ رِقًا لَّا مُسْتَنْکِفًا
وَّ لَّا مُسْتَکْبِرًا بَلْ اَنَا عَبْدٌ ذَلِیْلٌ خَائِفٌ مُسْتَجِیْرٌ
اور بعض روایت میں ہے کہ ذکر نماز کے سجدہ میں پڑھا جاتا ہے
وہی پڑھے
مسئلہ: اگر سجدۂَ قرآن
بھول جائے تو جس وقت یاد آجائے کرلے۔
Leave a Reply