بِسْمِ
اللّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ
اللّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ
إِذَا
زُلْزِلَتِ الْأَرْضُ زِلْزَالَهَا (1) وَأَخْرَجَتِ الْأَرْضُ أَثْقَالَهَا (2)
وَقَالَ الْإِنسَانُ مَا لَهَا (3) يَوْمَئِذٍ تُحَدِّثُ أَخْبَارَهَا (4) بِأَنَّ
رَبَّكَ أَوْحَى لَهَا (5) يَوْمَئِذٍ يَصْدُرُ النَّاسُ أَشْتَاتًا لِّيُرَوْا
أَعْمَالَهُمْ (6) فَمَن يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَرَهُ (7) وَمَن
يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا يَرَهُ (8(
زُلْزِلَتِ الْأَرْضُ زِلْزَالَهَا (1) وَأَخْرَجَتِ الْأَرْضُ أَثْقَالَهَا (2)
وَقَالَ الْإِنسَانُ مَا لَهَا (3) يَوْمَئِذٍ تُحَدِّثُ أَخْبَارَهَا (4) بِأَنَّ
رَبَّكَ أَوْحَى لَهَا (5) يَوْمَئِذٍ يَصْدُرُ النَّاسُ أَشْتَاتًا لِّيُرَوْا
أَعْمَالَهُمْ (6) فَمَن يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَرَهُ (7) وَمَن
يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا يَرَهُ (8(
اللہ
کے نام سے جو رحمان و رحیم ہے (شروع کرتا ہوں)
کے نام سے جو رحمان و رحیم ہے (شروع کرتا ہوں)
جب
زلزلہ ہو گا زمین کو سخت زلزلہ (1) اور زمین اپنے دفینے باہر نکالے گی (2) اور
انسان کہے گا کہ اس کو کیا ہو گیا ہے (3) اس دن وہ اپنی خبریں بتائے گی (4) کہ
تیرے رب نے مجھے وحی کی ہے ؟ (5) اس دن نکلیں گے لوگ گروہ گروہ ہو کر تا کہ اپنے
اعمال کو دیکھیں (6) تو جس نے رائی برابر نیکی کی ہوگی اس کو دیکھے گا (7) اور جس
نے رائی برابر برائی کی ہو گی اس کو دیکھے گا (8)
زلزلہ ہو گا زمین کو سخت زلزلہ (1) اور زمین اپنے دفینے باہر نکالے گی (2) اور
انسان کہے گا کہ اس کو کیا ہو گیا ہے (3) اس دن وہ اپنی خبریں بتائے گی (4) کہ
تیرے رب نے مجھے وحی کی ہے ؟ (5) اس دن نکلیں گے لوگ گروہ گروہ ہو کر تا کہ اپنے
اعمال کو دیکھیں (6) تو جس نے رائی برابر نیکی کی ہوگی اس کو دیکھے گا (7) اور جس
نے رائی برابر برائی کی ہو گی اس کو دیکھے گا (8)
سورہ اذازلزلت
·
یہ سورہ مدنیہ ہے سورہ
نسآء کے بعد نازل ہوا۔
یہ سورہ مدنیہ ہے سورہ
نسآء کے بعد نازل ہوا۔
·
اس کی آیات کی تعداد
بسم اللہ کو ملا کر نو بنتی ہے۔
اس کی آیات کی تعداد
بسم اللہ کو ملا کر نو بنتی ہے۔
·
حدیث نبوی میں ہے جس نے
اس سورہ کو پڑھا گویا اس نے صورہ بقرہ کی تلاوت کی اور اس کو ایک چوتھائی قرآن کے
ختم کا ثواب ملے گا۔
حدیث نبوی میں ہے جس نے
اس سورہ کو پڑھا گویا اس نے صورہ بقرہ کی تلاوت کی اور اس کو ایک چوتھائی قرآن کے
ختم کا ثواب ملے گا۔
·
حضرت امام جعفر صادق
علیہ السلام سے منقول ہے کہ جو شخص سورہ ازا زلزلت کو نوافل میں پڑھے وہ کبھی
زلزلے کی موت نہ مرے گا نہ اس پر بجلی گرے گی اور نہ آفات دنیاویہ میں سے کسی آفت
میں مبتلا ہو گا اور جب مرے گا تو خدا کا حکم ہو گا کہ اے میرے بندے جنت تیرے لئے
مباح ہے جہاں چاہو رہو تجھے روکنے والا کوئی نہیں ہے ۔
حضرت امام جعفر صادق
علیہ السلام سے منقول ہے کہ جو شخص سورہ ازا زلزلت کو نوافل میں پڑھے وہ کبھی
زلزلے کی موت نہ مرے گا نہ اس پر بجلی گرے گی اور نہ آفات دنیاویہ میں سے کسی آفت
میں مبتلا ہو گا اور جب مرے گا تو خدا کا حکم ہو گا کہ اے میرے بندے جنت تیرے لئے
مباح ہے جہاں چاہو رہو تجھے روکنے والا کوئی نہیں ہے ۔
·
تفسیر برہان میں امام
جعفر صادق علیہ السلام سے مروی ہے کہ جب اس سورہ کی تلاوت کرنے والا مرتا ہے تو
ایک فرشتہ خدا کی جانب سے ملک الموت کو حکم دیتا ہے کہ اللہ کے ولی کے
ساتھ نرمی کرنا کیونکہ یہ مجھے بہت یاد کرتا
تھا اور اس سورہ کی تلاوت کرتا تھا اور خود یہ سورہ بھی ملک الموت سے سفارش کرے گی
تو ملک الموت جواب دے گا کہ مجھے خود خدا نے حکم دیا ہے کہ میں اس مرنے والے کا
حکم مانوں اگر وہ اجازت دے گا تو اس کی روح کو قبض کروں گا چنانچہ جب مرنے والے کے
سامنےجنت سے پردہ اٹھایا جاتا ہے تو وہ خود موت کی خواہش کرتا ہے اور نہایت آسانی
سے اس کی روح کھینچ لی جاتی ہے اور پھر ستر ہزار فرشتے اس کو جنت تک لے جانے
میں ایک دوسرے سے سبق کرتے ہیں ۔
تفسیر برہان میں امام
جعفر صادق علیہ السلام سے مروی ہے کہ جب اس سورہ کی تلاوت کرنے والا مرتا ہے تو
ایک فرشتہ خدا کی جانب سے ملک الموت کو حکم دیتا ہے کہ اللہ کے ولی کے
ساتھ نرمی کرنا کیونکہ یہ مجھے بہت یاد کرتا
تھا اور اس سورہ کی تلاوت کرتا تھا اور خود یہ سورہ بھی ملک الموت سے سفارش کرے گی
تو ملک الموت جواب دے گا کہ مجھے خود خدا نے حکم دیا ہے کہ میں اس مرنے والے کا
حکم مانوں اگر وہ اجازت دے گا تو اس کی روح کو قبض کروں گا چنانچہ جب مرنے والے کے
سامنےجنت سے پردہ اٹھایا جاتا ہے تو وہ خود موت کی خواہش کرتا ہے اور نہایت آسانی
سے اس کی روح کھینچ لی جاتی ہے اور پھر ستر ہزار فرشتے اس کو جنت تک لے جانے
میں ایک دوسرے سے سبق کرتے ہیں ۔
·
خواص القرآن سے منقول
ہے کہ باریک روٹی پر اس سورہ کو لکھ کر چور کو کھلایا جائے تو اس کے حلق میں لقمہ
پھنس جائے گا اسی طرح اگر چور کا نام لر انگوٹھی پر اس کو پڑھا جائے تو انگوٹھی
حرکت کرنے لگے گی اور اگر اس کو لکھ کر اپنے پاس رکھے اور داخلہ سلطان کے وقت اس
کو پڑھ لے تو بادشاہ کی گرفت سے محفوظ ہو گا ۔ اگر اس کو نئے برتن میں لکھا
جائےاور صاحب لقوہ دیکھ تو وہ باذن اللہ شفایاب ہو گا۔
خواص القرآن سے منقول
ہے کہ باریک روٹی پر اس سورہ کو لکھ کر چور کو کھلایا جائے تو اس کے حلق میں لقمہ
پھنس جائے گا اسی طرح اگر چور کا نام لر انگوٹھی پر اس کو پڑھا جائے تو انگوٹھی
حرکت کرنے لگے گی اور اگر اس کو لکھ کر اپنے پاس رکھے اور داخلہ سلطان کے وقت اس
کو پڑھ لے تو بادشاہ کی گرفت سے محفوظ ہو گا ۔ اگر اس کو نئے برتن میں لکھا
جائےاور صاحب لقوہ دیکھ تو وہ باذن اللہ شفایاب ہو گا۔
رکوع نمبر 24۔ قال الانسان ۔ یعنی جب قیامت خیز
زلزلہ ہو گا اورزمین کے نشیب و فراز سب برابر ہو کر زمین خزینے و دفینے و مرد سے
سب کچھ باہر آجائیں تو انسان کہے گا کہ اس کو کہا ہو گیا ہے تفسیر برہان میں
ہے ایک دفعہ ابو بکر کے زمانہ خلافت میں زمین مدینہ میں سخت زلزلہ آ یا لوگ گھبرا
کر ابو بکر و عمر کے پاس جمع ہوئے یہ دونوں تمام رعایا کو لے کر حضرت علی علیہ
السلام کے در دولت پر حاضر ہوئے جب کہ آپ کی طبعیت پر کوئی اضطراب نہ تھا پس آپ ان
کے ساتھ شہر سے نکل کر ایک ٹیلے پر آکر بیٹھے اور لوگ ان کے اردگردبیٹھ گئے ۔ اس
وقت مدینے کے مکانات کی دیواریں سخت طور پر ہل رہی تھیں آپ نے لوگوں کو تسلی دیتے
ہئوے ہونٹوں کو حرکت دی کچھ پڑھا اور زمین پر ہاتھ مار کر فرمایا ٹھہر جا چنانچہ
زلزلہ موقوف ہو گیا اور زمین میں سکون آ گیا سب لوگ حیران ہوئے تو آپ نے فرمایا یہ
گھبرانے کی بات نہیں ہے میں وہ انسان ہوں جس کے بارے میں خدا نے فرمایا قال
الانسان الخ پس زلزلہ قیامت کے وقت میں زمین سے کہوں گا کہ تجھے کیا ہو گیا ہے ؟
اور وہ مجھے ہی حالات بتائے گی ۔
زلزلہ ہو گا اورزمین کے نشیب و فراز سب برابر ہو کر زمین خزینے و دفینے و مرد سے
سب کچھ باہر آجائیں تو انسان کہے گا کہ اس کو کہا ہو گیا ہے تفسیر برہان میں
ہے ایک دفعہ ابو بکر کے زمانہ خلافت میں زمین مدینہ میں سخت زلزلہ آ یا لوگ گھبرا
کر ابو بکر و عمر کے پاس جمع ہوئے یہ دونوں تمام رعایا کو لے کر حضرت علی علیہ
السلام کے در دولت پر حاضر ہوئے جب کہ آپ کی طبعیت پر کوئی اضطراب نہ تھا پس آپ ان
کے ساتھ شہر سے نکل کر ایک ٹیلے پر آکر بیٹھے اور لوگ ان کے اردگردبیٹھ گئے ۔ اس
وقت مدینے کے مکانات کی دیواریں سخت طور پر ہل رہی تھیں آپ نے لوگوں کو تسلی دیتے
ہئوے ہونٹوں کو حرکت دی کچھ پڑھا اور زمین پر ہاتھ مار کر فرمایا ٹھہر جا چنانچہ
زلزلہ موقوف ہو گیا اور زمین میں سکون آ گیا سب لوگ حیران ہوئے تو آپ نے فرمایا یہ
گھبرانے کی بات نہیں ہے میں وہ انسان ہوں جس کے بارے میں خدا نے فرمایا قال
الانسان الخ پس زلزلہ قیامت کے وقت میں زمین سے کہوں گا کہ تجھے کیا ہو گیا ہے ؟
اور وہ مجھے ہی حالات بتائے گی ۔
دوسری
روایت میں ہے کہ یہ زلزلہ خلافت ثانیہ کے زمانہ میں آیا اور اس قدر سخت تھا کہ لوگ
گھروں سے نکل کھڑے ہوئے تھے اور مدینہ سے بھاگ جانے کی فکر میں تھے خلیفہ کی
درخواست پر آپ نے بدری صحابہ کی ایک جماعت کو پانے پیچھے آنے کا حکم دیا اور
مقداد ابوذر سلمان و عمار کو لے کر بقیع میں آئے پس زمین پر پاؤں کی ٹھوکر لگائی
اور فرمایا مالک؟ تین مرتبہ تجھے کیا ہو گیا ہے؟ پس زمین ساکن ہو گئیاور آپ نے
فرمایا مجھے رسول اللہ ؐ نے اس دن کی اور اس ساعت کی اور اس واقعہ کی خبر دی تھی
اور یقیناً آپ کا فرمان سچا تھا اس کے بعد آپ نے سورہ مجیدہ پڑھی اور فرمایا جب وہ
زلزہ ہو گا اس وقت بھی میں اسی طرح کہوں گا الخبر بہر کیف روایات اہل بیت میں
بکثرت وارد ہے کہ زلزلہ قیامت کے وقت زمین سے کلام کرنے والے حضرت علیؑ ہونگے ۔
روایت میں ہے کہ یہ زلزلہ خلافت ثانیہ کے زمانہ میں آیا اور اس قدر سخت تھا کہ لوگ
گھروں سے نکل کھڑے ہوئے تھے اور مدینہ سے بھاگ جانے کی فکر میں تھے خلیفہ کی
درخواست پر آپ نے بدری صحابہ کی ایک جماعت کو پانے پیچھے آنے کا حکم دیا اور
مقداد ابوذر سلمان و عمار کو لے کر بقیع میں آئے پس زمین پر پاؤں کی ٹھوکر لگائی
اور فرمایا مالک؟ تین مرتبہ تجھے کیا ہو گیا ہے؟ پس زمین ساکن ہو گئیاور آپ نے
فرمایا مجھے رسول اللہ ؐ نے اس دن کی اور اس ساعت کی اور اس واقعہ کی خبر دی تھی
اور یقیناً آپ کا فرمان سچا تھا اس کے بعد آپ نے سورہ مجیدہ پڑھی اور فرمایا جب وہ
زلزہ ہو گا اس وقت بھی میں اسی طرح کہوں گا الخبر بہر کیف روایات اہل بیت میں
بکثرت وارد ہے کہ زلزلہ قیامت کے وقت زمین سے کلام کرنے والے حضرت علیؑ ہونگے ۔
تحدث اخبارھا۔ اس کا ایک معنی یہ بھی کیا گیا ہے کہ
زمین بروز محشر لوگوں کے اعمال کی گواہی دے گی اور انسانوں کی طرح فصیح زبان میں
کلام کرے گی۔ حضرت رسالتمابؐ سے مروی ہے کہ وضو صحیح کیا کرو کیونکہ نماز جو اعمال
میں بہترین عمل ہے اس کا دارو مدار وضو کی صحت پر ہے اور زمین سے بچو اور درو یہ
تمہاری ماں ہے اور یہ ہر انسان کے نیک یا بد اعمال کی قیامت کے دن گواہی دے گی ۔
ابو سعید خدری کہتا ہے کہ جب تم جنگ میں ہو تو بآواز بلند اذان کہا کرو
کیونکہ میں نے پیغمبر سے سنا تھا کہ زمین کے ہر نشیب و فراز بروز محشر اس کی گواہی
دیں گے ۔
زمین بروز محشر لوگوں کے اعمال کی گواہی دے گی اور انسانوں کی طرح فصیح زبان میں
کلام کرے گی۔ حضرت رسالتمابؐ سے مروی ہے کہ وضو صحیح کیا کرو کیونکہ نماز جو اعمال
میں بہترین عمل ہے اس کا دارو مدار وضو کی صحت پر ہے اور زمین سے بچو اور درو یہ
تمہاری ماں ہے اور یہ ہر انسان کے نیک یا بد اعمال کی قیامت کے دن گواہی دے گی ۔
ابو سعید خدری کہتا ہے کہ جب تم جنگ میں ہو تو بآواز بلند اذان کہا کرو
کیونکہ میں نے پیغمبر سے سنا تھا کہ زمین کے ہر نشیب و فراز بروز محشر اس کی گواہی
دیں گے ۔
لیرواعمالھم۔ یعنی لوگوں کو اپنے اپنے اعمال کی جزا دکھائی
جائے گی یا یہ کہ لوگوں کو صحائف اعمال دکھائے جائیں گے جن میں ان کی ہرنیکی یا
برائی درج ہو گی بعض مفسرین نے کہا ہے کہ چونکہ ہر شخص کو نیکی یا بدی کا بدلہ ملے
گا تو کافر اس کی نیکی کا بدلہ دنیا میں ہی ملے گا۔ پس جب دنیا سے رخصت ہو
گا تو اس کی کوئی نیکی ایسی نہ گی جس کی جزا نہ پاچکا ہو اور مومن کو ہر برائی کی
سزا دنیا میں دی جائے گی پس اس کی جان و مال و اولاد و احباب کی تکالیف اس کے
گناہوں کا بدلہ ہوں گی یہاں تک کہ جب دنیا سے رخصت ہو گا تو اس کا کوئی گناہ ایسا
نہ ہوگا جس کی وہ سزا نہ پاچکا ہو پس کافر کے پاس قیامت کے دن نیکی کوئی نہ ہو گی
جس پر وہ جنت کا مطالبہ کرے اور مومن کے پاس کوئی گناہ نہ ہو گا جس کے بدلہ میں
اسے دوزخ میں جھونکا جائے البتہ ایسے گناہ جن کا دنیا میں بدلہ نہیں ہو سکتا جس
طرح قتل مومن اور زنائے محضہ وغیرہ تو ان سے اجتناب ضروری ہے اور بعض مفسرین نے
کہا کہ بعض اوقات انسان نیکیوں کو معمولی سمجھ کر چھوڑ دیتے ہیں اور گناہان غیرہ
کو معمولی سمجھ کر نہیں چھوڑتے اس آیت مجیدہ میں تنبیہ کی گئی ہے کہ کسی بھی نیکی
کو معمولی سمجھ کر چھوڑ نہ دو اور کسی بھی گناہ کو صغیرہ سمجھ کر ارتکاب نہ کرو
کیونکہ بروز قیامت رائی برابر نیکی کی جزا کو دیکھ کر بھی انسان کو مزید خوشی حاصل
ہو گی اور رائی کے برابر برائی کی سزا بھی ناقابل برداشت ہو گی مروی ہے کہ ایک دن
فرزوق شاعر کے داوے نے حضورؐ پاک سے درخواست کی تھی کہ آپ مجھے نصیحت فرمائیں تو
آپ نے فرمایا تھا ماں ، باپ اور قریبیوں سے نیکی کیا کرو اور زبان و شرمگاہ کو
اپنے قابو میں رکھو الخبر
جائے گی یا یہ کہ لوگوں کو صحائف اعمال دکھائے جائیں گے جن میں ان کی ہرنیکی یا
برائی درج ہو گی بعض مفسرین نے کہا ہے کہ چونکہ ہر شخص کو نیکی یا بدی کا بدلہ ملے
گا تو کافر اس کی نیکی کا بدلہ دنیا میں ہی ملے گا۔ پس جب دنیا سے رخصت ہو
گا تو اس کی کوئی نیکی ایسی نہ گی جس کی جزا نہ پاچکا ہو اور مومن کو ہر برائی کی
سزا دنیا میں دی جائے گی پس اس کی جان و مال و اولاد و احباب کی تکالیف اس کے
گناہوں کا بدلہ ہوں گی یہاں تک کہ جب دنیا سے رخصت ہو گا تو اس کا کوئی گناہ ایسا
نہ ہوگا جس کی وہ سزا نہ پاچکا ہو پس کافر کے پاس قیامت کے دن نیکی کوئی نہ ہو گی
جس پر وہ جنت کا مطالبہ کرے اور مومن کے پاس کوئی گناہ نہ ہو گا جس کے بدلہ میں
اسے دوزخ میں جھونکا جائے البتہ ایسے گناہ جن کا دنیا میں بدلہ نہیں ہو سکتا جس
طرح قتل مومن اور زنائے محضہ وغیرہ تو ان سے اجتناب ضروری ہے اور بعض مفسرین نے
کہا کہ بعض اوقات انسان نیکیوں کو معمولی سمجھ کر چھوڑ دیتے ہیں اور گناہان غیرہ
کو معمولی سمجھ کر نہیں چھوڑتے اس آیت مجیدہ میں تنبیہ کی گئی ہے کہ کسی بھی نیکی
کو معمولی سمجھ کر چھوڑ نہ دو اور کسی بھی گناہ کو صغیرہ سمجھ کر ارتکاب نہ کرو
کیونکہ بروز قیامت رائی برابر نیکی کی جزا کو دیکھ کر بھی انسان کو مزید خوشی حاصل
ہو گی اور رائی کے برابر برائی کی سزا بھی ناقابل برداشت ہو گی مروی ہے کہ ایک دن
فرزوق شاعر کے داوے نے حضورؐ پاک سے درخواست کی تھی کہ آپ مجھے نصیحت فرمائیں تو
آپ نے فرمایا تھا ماں ، باپ اور قریبیوں سے نیکی کیا کرو اور زبان و شرمگاہ کو
اپنے قابو میں رکھو الخبر
Normal
0
false
false
false
EN-US
X-NONE
AR-SA
/* Style Definitions */
table.MsoNormalTable
{mso-style-name:”Table Normal”;
mso-tstyle-rowband-size:0;
mso-tstyle-colband-size:0;
mso-style-noshow:yes;
mso-style-priority:99;
mso-style-parent:””;
mso-padding-alt:0in 5.4pt 0in 5.4pt;
mso-para-margin:0in;
mso-para-margin-bottom:.0001pt;
mso-pagination:widow-orphan;
font-size:10.0pt;
font-family:”Times New Roman”,”serif”;}
Leave a Reply