وقوف مشعر : غروب شمس کے بعد عرفات سے روانہ ہوکر
شعر الحرام میں پہنچے اور وہاں اذان کے
بعد دونوں نمازیں مغرب و عشاء بجا لائے ۔ اس مقام پر بھی تمام مسلمان مغرب وعشاء
کو جمع کر کے پڑھتے ہیں وقوف ِ مشعر سے پہلے غسل مستحب ہے اس مقام پر منقولہ دعائیں پڑھی اور اپنے
گناہوں کی اللہ سے مغفرت طلب کرے اور حمد و ثنا پر وردگار سے اپنی زبان کو معظر
رکھے ۔ نیت کرے کہ وقوف مشعر کرتا ہوں ۔ حج تمتع کے لئے
قربتہ اِلی اللہ طلوع صبح صادق سے لے کر طلوعِ شمس تک وقوف کرنا لازم ہے البتہ
عورتیں اور ضعیف مرد اور بیمار لوگ جن کو طلوعِ شمس کے بعد روانہ ہونے میں لوگوں
کے اژدوہام کی وجہ سے تکلیف کا خطرہ ہو تو وہ طلوع صبح سے پہلے بھی منیٰ کی
طرفروانہ ہوسکتے ہیں۔ اور اگر یہ خوف نہ ہو تو پھر طلوع شمس کے بعد روانہ ہو نا
چاہئے۔
منیٰ کے اعمال: طلوع شمس کے بعد مشعر الحرام سے روانہ
ہو اور اگر اس سے پہلے روانہ ہوجائے تو دوادی محسر کو طوع ِ شمس سےپہلے عبور نہ
کرے اور یہاں سے تین جمروں کو مارنے کےلئے ستر سنگریز ے چن لے اگر دوچار زیادہ
اٹھالے تو بہتر ہے منیٰ میں 10 ذی الحج کو تین عمل کرنے ہیں۔
(1) رمی جمرہ عقبہ (2) قربانی (3) حلق
رمی جمرہ عقبہ: منیٰ میں پہنچ کر پہلے پہل جمرہ عقبہ کو نیت کر کے سات
سنگریزے مارے ۔ سنگریزوں میں شرط کہ پہلے استعمال شدہ نہ ہو اور بہتر ہے کہ رنگ
برنگے ہوں اور حدف کے طریقے سے مارے یعنی انگشت شہادت کے ناخن اور انگوٹھے کے
درمیاں رکھ کم از کم سات ذرائع کے فاصلہ سے جمرہ کی طرف منہ اور قبلہکی طرف پشت کر
کے پا پیادہ باوضو یکے بعد دیگر ے مارے اور مارتے وقت منقو ل دعا بھی پڑھے ۔
Leave a Reply