بِسْمِ اللّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ
وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَى (1)
وَالنَّهَارِ إِذَا تَجَلَّى (2) وَمَا خَلَقَ الذَّكَرَ وَالْأُنثَى (3) إِنَّ
سَعْيَكُمْ لَشَتَّى (4) فَأَمَّا مَن أَعْطَى وَاتَّقَى (5) وَصَدَّقَ
بِالْحُسْنَى (6) فَسَنُيَسِّرُهُ لِلْيُسْرَى (7) وَأَمَّا مَن بَخِلَ
وَاسْتَغْنَى (8) وَكَذَّبَ بِالْحُسْنَى (9) فَسَنُيَسِّرُهُ لِلْعُسْرَى (10)
وَمَا يُغْنِي عَنْهُ مَالُهُ إِذَا تَرَدَّى (11) إِنَّ عَلَيْنَا لَلْهُدَى (12)
وَإِنَّ لَنَا لَلْآخِرَةَ وَالْأُولَى (13) فَأَنذَرْتُكُمْ نَارًا تَلَظَّى (14)
وَالنَّهَارِ إِذَا تَجَلَّى (2) وَمَا خَلَقَ الذَّكَرَ وَالْأُنثَى (3) إِنَّ
سَعْيَكُمْ لَشَتَّى (4) فَأَمَّا مَن أَعْطَى وَاتَّقَى (5) وَصَدَّقَ
بِالْحُسْنَى (6) فَسَنُيَسِّرُهُ لِلْيُسْرَى (7) وَأَمَّا مَن بَخِلَ
وَاسْتَغْنَى (8) وَكَذَّبَ بِالْحُسْنَى (9) فَسَنُيَسِّرُهُ لِلْعُسْرَى (10)
وَمَا يُغْنِي عَنْهُ مَالُهُ إِذَا تَرَدَّى (11) إِنَّ عَلَيْنَا لَلْهُدَى (12)
وَإِنَّ لَنَا لَلْآخِرَةَ وَالْأُولَى (13) فَأَنذَرْتُكُمْ نَارًا تَلَظَّى (14)
لَا يَصْلَاهَا إِلَّا الْأَشْقَى (15)
الَّذِي كَذَّبَ وَتَوَلَّى (16) وَسَيُجَنَّبُهَا الْأَتْقَى (17) الَّذِي
يُؤْتِي مَالَهُ يَتَزَكَّى (18) وَمَا لِأَحَدٍ عِندَهُ مِن نِّعْمَةٍ تُجْزَى
(19) إِلَّا ابْتِغَاء وَجْهِ رَبِّهِ الْأَعْلَى (20) وَلَسَوْفَ يَرْضَى (21)
الَّذِي كَذَّبَ وَتَوَلَّى (16) وَسَيُجَنَّبُهَا الْأَتْقَى (17) الَّذِي
يُؤْتِي مَالَهُ يَتَزَكَّى (18) وَمَا لِأَحَدٍ عِندَهُ مِن نِّعْمَةٍ تُجْزَى
(19) إِلَّا ابْتِغَاء وَجْهِ رَبِّهِ الْأَعْلَى (20) وَلَسَوْفَ يَرْضَى (21)
اللہ کے نام سے رحمٰن و
رحیم ہے (شروع کر تاہوں)
رحیم ہے (شروع کر تاہوں)
رات کی قسم جب چھا جاتی ہے
(1) دن کی قسم جب تاریکی کو دور کرتا ہے (2) اس کی قسم ن نر و مادہ کو پیدا کیا
(3) تحقیق تمہاری کوششیں مختلف ہیں (4) بہرحال جو سخاوت کرے اور خوف خدا کرے (5)
اور نیکی کی تصدیق کرے (6) تو ہم اس کو مزید نیکیوں کو توفیق دیں گے (7) اور لیکن
جو بخل کرے اور لا پرواہی کرے (8) اور نیکی کو جھٹلائے (9) تو ہم اس کے لئے مشکلات کا راستہ آسان کریں
گے (10) اور اس کو مال فائدہ نہ دے گا جب
وہ کریگا (دوزخ میں) (11) تحقیق ہمار ے
اوپر ہے ہدایت کرنا (12) اور تحقیق ہمارے لیے ہے آخرت اور اولٰی (13) پس میں نے تم
کو بھڑکتی ہوئی آگ سے (14) ڈرایا ہے جس میں نہ جلے گا مگر بد بخت (15) وہ جس
جھٹلایا اور رو گردانی کی (16) اور اس بچے گا خدا سے ڈرنے والا (17) جس نے اپنا
مال (راہ خدا میں) دیا تا کہ پاک صاف ہو جائے اور کسی کا اس پر احسان نہ تھا جس کا
اس نے بدلہ دیا ہو (19) مگر اس نے اپنے بزرگ و برتر خدا کی خوشنودی کےلئے (دیا تھا)
(20) اور عنقریب وہ (اس کی جزا پر) راضی ہو گا۔ (21)
(1) دن کی قسم جب تاریکی کو دور کرتا ہے (2) اس کی قسم ن نر و مادہ کو پیدا کیا
(3) تحقیق تمہاری کوششیں مختلف ہیں (4) بہرحال جو سخاوت کرے اور خوف خدا کرے (5)
اور نیکی کی تصدیق کرے (6) تو ہم اس کو مزید نیکیوں کو توفیق دیں گے (7) اور لیکن
جو بخل کرے اور لا پرواہی کرے (8) اور نیکی کو جھٹلائے (9) تو ہم اس کے لئے مشکلات کا راستہ آسان کریں
گے (10) اور اس کو مال فائدہ نہ دے گا جب
وہ کریگا (دوزخ میں) (11) تحقیق ہمار ے
اوپر ہے ہدایت کرنا (12) اور تحقیق ہمارے لیے ہے آخرت اور اولٰی (13) پس میں نے تم
کو بھڑکتی ہوئی آگ سے (14) ڈرایا ہے جس میں نہ جلے گا مگر بد بخت (15) وہ جس
جھٹلایا اور رو گردانی کی (16) اور اس بچے گا خدا سے ڈرنے والا (17) جس نے اپنا
مال (راہ خدا میں) دیا تا کہ پاک صاف ہو جائے اور کسی کا اس پر احسان نہ تھا جس کا
اس نے بدلہ دیا ہو (19) مگر اس نے اپنے بزرگ و برتر خدا کی خوشنودی کےلئے (دیا تھا)
(20) اور عنقریب وہ (اس کی جزا پر) راضی ہو گا۔ (21)
سورہ والیل
· یہ سورہ مکیہ ہے ۔
· اس کی آیات کی تعداد بسم اللہ کو ملا کر بائیس
(22) بنتی ہے ۔
(22) بنتی ہے ۔
· حدیث نبوی میں ہے جو اس سورہ کو پڑھے گا خداوند
کریم اس کو اس قدر عطا کرے گا کہ وہ راضی ہو گا اور خدا اس کو تندستی سے
محفوظ رکھے گا اور اس کی توفیقات میں اضافہ فرمائے گا اور اس کو اپنے فضل و کرم سے
غنی کر دے گا اور جو شخص سونے سے پہلے اس سورہ کو پندرہ مرتبہ پڑھ لے تو اپنی نیند
میں وہ اچھی باتیں دیکھے گا جن کو پسند کرتا ہو گا اور برائی نہ دیکھے گا
اور جو شخص نماز عشاء میں اس کو پڑھے گا تو گویا اس نے ایک چوتھائی قرآن کی تلاوت
کی اور اس کی نماز مقبول ہو گی۔
کریم اس کو اس قدر عطا کرے گا کہ وہ راضی ہو گا اور خدا اس کو تندستی سے
محفوظ رکھے گا اور اس کی توفیقات میں اضافہ فرمائے گا اور اس کو اپنے فضل و کرم سے
غنی کر دے گا اور جو شخص سونے سے پہلے اس سورہ کو پندرہ مرتبہ پڑھ لے تو اپنی نیند
میں وہ اچھی باتیں دیکھے گا جن کو پسند کرتا ہو گا اور برائی نہ دیکھے گا
اور جو شخص نماز عشاء میں اس کو پڑھے گا تو گویا اس نے ایک چوتھائی قرآن کی تلاوت
کی اور اس کی نماز مقبول ہو گی۔
· حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے منقول ہے کہ
جو شخص اس سورہ کو پندرہ مرتبہ پڑھ لے تو وہ نا پسندیدہ امر نہ دیکھے گا اور نیند
میں خدا اس کو امن میں رکھے گا اور اگر بے ہوش اور مرگی والے انسان پر اس سورہ کو
پڑھا جائے تو وہ فوراً ہوش میں آجائے گا۔ باذن اللہ (برہان)
جو شخص اس سورہ کو پندرہ مرتبہ پڑھ لے تو وہ نا پسندیدہ امر نہ دیکھے گا اور نیند
میں خدا اس کو امن میں رکھے گا اور اگر بے ہوش اور مرگی والے انسان پر اس سورہ کو
پڑھا جائے تو وہ فوراً ہوش میں آجائے گا۔ باذن اللہ (برہان)
رکوع نمبر 17 ۔ والیل ۔ رات اور دن کی قسم کو پھر دھرایا تا
کہ صاحبان فکر ان کے متبادل انتظام میں غور کر کے توحید کی معرفت حاصل کرنے کی
کوشش کریں اور خداوند کریم اپنی مخلوق میں سے جس چیز کی قسم کھائے درست ہے
البتہ مخلوق کے لئے زیبا نہیں کہ اللہ کے سوا کسی قسم کھائیں اس لئے کہ وہ قسم قسم
نہیں جو اللہ کے بغیر کسی بزرگ کی کھائی جائے اور اس کی باطنی تفسیر وہی ہے جو
پہلی سورت میں گذر چکی ہے ۔
کہ صاحبان فکر ان کے متبادل انتظام میں غور کر کے توحید کی معرفت حاصل کرنے کی
کوشش کریں اور خداوند کریم اپنی مخلوق میں سے جس چیز کی قسم کھائے درست ہے
البتہ مخلوق کے لئے زیبا نہیں کہ اللہ کے سوا کسی قسم کھائیں اس لئے کہ وہ قسم قسم
نہیں جو اللہ کے بغیر کسی بزرگ کی کھائی جائے اور اس کی باطنی تفسیر وہی ہے جو
پہلی سورت میں گذر چکی ہے ۔
وما خلق ۔ یہ ما من موصولہ کے معنی میں ہے اور خدا نے اپنی
ذات کی قسم کھائی ہے
ذات کی قسم کھائی ہے
ان سعیکم ۔ یہ جواب قسم ہے اور معنی یہ ہے کہ اعمال بجالانے
والوں کے عمل مختلف ہوا کرتے ہیں بعض لوگ جنت کےلئے عمل کرتے ہیں اور بعض لوگ آخرت کو نظر انداز کر
کے دنیا فلاح و بہبود کو ہی ملحوظ رکھتے ہیں ۔
والوں کے عمل مختلف ہوا کرتے ہیں بعض لوگ جنت کےلئے عمل کرتے ہیں اور بعض لوگ آخرت کو نظر انداز کر
کے دنیا فلاح و بہبود کو ہی ملحوظ رکھتے ہیں ۔
ابن عباس سے منقول ہے کہ انصار می سے ایک شخص کی کھجور تھی
جو ایک ہمسایہ میں رہنے والے غریب و نادار شخص کے گھر پر جھکی ہوئی تھی پس یہ
کھجور کا مالک جب پھل اتارنے کےلئے کھجور پر چرھتا تھا تو بعض اوقات کھجور
کے دانے گر کر اس غریب و نادار شخص کے صحن
میں جا پڑتے تھے اور اس کے غریب چھوٹے بچے اٹھا لیتے تو یہ شخص کھجور سے اتر کر ان
بچوں سے کھجور کے دانے چھین لیتا تھا اور بعض اوقات ان کے منہ میں انگلی ڈال کر ان
کے منہ سے بھی کھجور کا دانا نکال لیا کرتا تھا اور ان بچوں سے کھجور کے دانے لیتا
تھا اور بعض اوقات ان کے منہ میں انگلی ڈال کر ان کے منہ سے بھی کھجور کا دانا
نکال لیا کرتا تھا اور ان بچوں کے رونے کی پرواہ نہ کرتا تھا پس غریب نے بارگاہ
نبویؐ میں شکایت تو آپ نے کجھور کے مالک کو کر فرمایا مجھے کھجور کا درخت فروخت کر
دو کہ اس کے بدلہ میں تجھے جنت کو کجھور کا درخت دونگا تو اس نے انکار کیا آپ نے
فرمایا جنت میں پورا باغ دوں گا تب بھی اس نے نہ مانا اورکہا کہ میرے پاس کھجوروں
کا باغ ہے لیکن اس کا خرما تمام باغ کے خرما سے بہتر ہے پس آپ خاموش ہو گئے ابو
الحداح ایک صحابی نے یہ بات سنی تو وہ اس کجھور کے مالک کے پاس آیا اور کہنے لگا
کہ اس کھجور کا سودا میرے ساتھ کرو چنانچہ وہ اس ایک کھجور کے بدلہ میں چالیس
کھجوریں لینے پر رضا مند ہوا اور ابوالاحداح نے گواہوں کے سامنے سودا پکا کر لیا
اور اس کے بعد خدمت نبوی حاضر ہر عرض گزار ہوا کہ حضورؐ جنت والی کھجور کا سودا آپ
میرے ساتھ کریں کیونکہ وہ کھجور کا درخت اب میری ملکیت میں ہے اور میں وہ آپ کی
ملکیت میں دیتا ہوں پس آپ نے قبول فرمایا اور ایک روایت میں ہے کہ آپ نے فرمایا کہ
جنت میں صرف ایک کھجور نہیں بلکہ تجھے باغات جنت عطا ہوں گے پس آپ اس غریب آدمی کے
گھر تشریف لے گئے اور فرمایا اے بندہ خدا یہ کھجور اب تیری ہے بے شک خود بھی اس کا
پھل کھاؤ اور اپنے بچوں کو بھی کھلاؤ پس قرآن مجید کی یہ آیتیں نازل ہوئیں اور یہ
ہے سخاوت اور ایثار شعاری جس کی بدولت اسلام تمام ادیان عالم سے سبقت لے گیا ہے
اگر دنیا کے بھر کے مسلمان پیغمبر کی ان تعلیمات کو اپنا لیں تو نہ دنیا میں کوئی
انسان بھوکا رہ سکتا ہے اور نہ کوئی گداگر ہو سکتا ہے بلکہ ساری دنیا میں کوئی
دوسرا دین رہ ہی نہیں سکتا اگر مسلمان صحیح ہو جائیں ۔
جو ایک ہمسایہ میں رہنے والے غریب و نادار شخص کے گھر پر جھکی ہوئی تھی پس یہ
کھجور کا مالک جب پھل اتارنے کےلئے کھجور پر چرھتا تھا تو بعض اوقات کھجور
کے دانے گر کر اس غریب و نادار شخص کے صحن
میں جا پڑتے تھے اور اس کے غریب چھوٹے بچے اٹھا لیتے تو یہ شخص کھجور سے اتر کر ان
بچوں سے کھجور کے دانے چھین لیتا تھا اور بعض اوقات ان کے منہ میں انگلی ڈال کر ان
کے منہ سے بھی کھجور کا دانا نکال لیا کرتا تھا اور ان بچوں سے کھجور کے دانے لیتا
تھا اور بعض اوقات ان کے منہ میں انگلی ڈال کر ان کے منہ سے بھی کھجور کا دانا
نکال لیا کرتا تھا اور ان بچوں کے رونے کی پرواہ نہ کرتا تھا پس غریب نے بارگاہ
نبویؐ میں شکایت تو آپ نے کجھور کے مالک کو کر فرمایا مجھے کھجور کا درخت فروخت کر
دو کہ اس کے بدلہ میں تجھے جنت کو کجھور کا درخت دونگا تو اس نے انکار کیا آپ نے
فرمایا جنت میں پورا باغ دوں گا تب بھی اس نے نہ مانا اورکہا کہ میرے پاس کھجوروں
کا باغ ہے لیکن اس کا خرما تمام باغ کے خرما سے بہتر ہے پس آپ خاموش ہو گئے ابو
الحداح ایک صحابی نے یہ بات سنی تو وہ اس کجھور کے مالک کے پاس آیا اور کہنے لگا
کہ اس کھجور کا سودا میرے ساتھ کرو چنانچہ وہ اس ایک کھجور کے بدلہ میں چالیس
کھجوریں لینے پر رضا مند ہوا اور ابوالاحداح نے گواہوں کے سامنے سودا پکا کر لیا
اور اس کے بعد خدمت نبوی حاضر ہر عرض گزار ہوا کہ حضورؐ جنت والی کھجور کا سودا آپ
میرے ساتھ کریں کیونکہ وہ کھجور کا درخت اب میری ملکیت میں ہے اور میں وہ آپ کی
ملکیت میں دیتا ہوں پس آپ نے قبول فرمایا اور ایک روایت میں ہے کہ آپ نے فرمایا کہ
جنت میں صرف ایک کھجور نہیں بلکہ تجھے باغات جنت عطا ہوں گے پس آپ اس غریب آدمی کے
گھر تشریف لے گئے اور فرمایا اے بندہ خدا یہ کھجور اب تیری ہے بے شک خود بھی اس کا
پھل کھاؤ اور اپنے بچوں کو بھی کھلاؤ پس قرآن مجید کی یہ آیتیں نازل ہوئیں اور یہ
ہے سخاوت اور ایثار شعاری جس کی بدولت اسلام تمام ادیان عالم سے سبقت لے گیا ہے
اگر دنیا کے بھر کے مسلمان پیغمبر کی ان تعلیمات کو اپنا لیں تو نہ دنیا میں کوئی
انسان بھوکا رہ سکتا ہے اور نہ کوئی گداگر ہو سکتا ہے بلکہ ساری دنیا میں کوئی
دوسرا دین رہ ہی نہیں سکتا اگر مسلمان صحیح ہو جائیں ۔
اما من اعطی ۔ اس کا مصداق تنزیل کے طور پر ابوالدحداح ہے
اور تاویل اس کی قیامت تک جاری ہے ۔
اور تاویل اس کی قیامت تک جاری ہے ۔
اما من بخل ۔ اس کا ظاہری مصداق وہ ہے جس نے بخل کیا تھا اور
تاویل اس کی بھی تا قیامت جاری ہے ۔
تاویل اس کی بھی تا قیامت جاری ہے ۔
Leave a Reply