آفرین ہے ان لوگوں کی دیانت داری پر ۔ اور شاباش ہے ان افراد
کی اسلام نوازی پیره اپنی ہر تحریر و تقریر کا آغازہ تو جذبہ دین سے سرشار ہو کر کرتے
ہیں۔ ابتداء میں انتہائی دلکش انداز سے دین سے وابستگی کا اظہار کرتے ہیں اپنے پڑھنے
اور سننے والوں کا دل موہ لینے کی خاطر قدم قدم پر دین کا ماتم کرتے ہیں ۔ اور جب دیکھتے
ہیں کہ قارئین اور سامعین فکر و قلب کی گہرائیوں سے متوجہ ہو چکے ہیں، توفرماتے ہیں۔
دین عقل و خرد کی راہنمائی کا نام ہے۔ اور جو کچھ تمہاری عقل میں سما جائے دہی میں
ہے
کیا انداز بیان ہے۔ حالانکہ یہ کور دماغ اس حقیقت سے بے خبر
ہیں کہ اگر سہاری اور آپکی عقل میں آنے والی باتوں ہی کا نام دین ہے تو پھر دینی حقائق
بیان کرتے وقت اپنی عقل کے ساتھ اسلام قرآن اور سرور کونین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
کا پیوند کیوں لگایا جاتا ہے ؟ اور اپنے غلط و جاہلانہ نظریات کو کیوں ارشادات سرور
کونین صلی اللہ علیہ وآلہ وکم کے اور کتنا درد دین ہے۔
خود ساختہ مفاہیم میں ڈھالا جاتا ہے۔؟ کیا یہی عوام فریبی نہیں
؟ کیا یہ سادہ لوح عوام سے مکاری نہیں ؟ کیا یہ مکروہ اور گھناؤنا کاروبار نہیں ؟
اگر مفاہیم عقل ہی کا
نام دین ہے تو پھر کیا وجہ ہے کہ اپنی تقریر وتحریر کے ابتلائیہ میں اسلام و قرآن پیش
کیا جاتا ہے ؟ میرے سامنے جو کتاب سے اس کے آغاز میں اسلام کی بیکسی پر ٹوٹ ٹوٹ کر
یا تم کیا گیا ہے ۔ لیکن ابھی تک اس نوحہ وشیون کی سیاہی بھی خشک نہ ہونے پائی تھی
کہ بڑی ڈھٹائی سے لکھ دیا گیا ہے کہ آج سے صدیوں قبل بنایا گیا قانون دور حاضر کے تقاضے
پورے نہیں کرتا۔ کیونکہ اس میں ٹول ٹیکس اور محصول چنگی وغیرہ جیسے اہم مسائل موجود
نہیں۔ یہ تو آگے چل کر ہی ہم وضاحت کریں گے کہ سرور کونین ﷺ کو جو دین ذات احدیث نے
دیا ہے وہ قیامت تک پیش آنیوالی ہر ضرورت کے لئے کفیل ہے ۔ لیکن یہاں تو یہ بتانا مقصود
ہے کہ جس دین کی بیکسی کا رونا آپ رو رہے ہیں۔ وہ تو ہے ناکافی اور پرانا اور جودین
آپ لوگوں کو دینا چاہتے ہیں وہ بھی ماخوذ ہے اسی قرآن وحدیث سے جو صدیوں پہلے آچکے
ہیں۔ کیا یہ تضاد بیانی تو نہیں ؟ اگر ہے تو آپکی کونسی بات قابل تسلیم ہے اگر نہیں
تو اوراق سیاہ کرنے کا فائدہ کیا ؟ آپکو آپکے ماضی کو۔ آپکے سابقہ اور لاحقہ کو جتنا
ہم جانتے ہیں شاید ہی کوئی جانتا ہوگا تمہیں کیا معلوم کہ دین کیا ہے ۔ اور اسلامی
قوانین کیا ہیں ؟
اگر کسی شخص نے قرآن کو دیکھا تک نہ ہو۔ اور وہ اپنے جیسے کم
علم افراد سے کہتا پھرے کہ مجھے کسی بھی مقام پر قرآن میں جبریل یا امین وحی کا نام
نظر نہیں آیا۔ تو آپ ہی بتائیں کہ ایسے شخص کا علاج کیا ہے ؟ اور اس کے ایسے اعتراض
کا جواب کیا ہوسکتا ؟
انشاءاللہ یکے بعد دیگرے ان تمام مسائل کو ہدیہ قارئین کریں
گے ۔ اور ان مند نشینان دین و مذہب کی خیانت کاریوں کو طشت از بام کریں گے۔
Leave a Reply