اُوْلِئکَ عِلَیْھِمْ صَلَوَاتٌ مِنْ رَّبِّھِمْ
الخ انہی مصائب پر صبر کرنے والوں پر خدا کی طرف سے درودرحمت ہے
اوروہی ہیں ہدایت پا نے والے علامہ حلی قدس سرہ نے ایک مناظرہ میں اہل بیت اطہار
پر درود وسلام ثابت کرنے کیلئے انہی ایات سے استدلال فرمایاتھا اس مقام پر ان کا
واقعہ گو موضوع بحث سے باہر ہے لیکن اختصار سے ذکرکرتاہوں امید ہے مومنین کیلئے
استفادہ کا موجب ہوگا
الخ انہی مصائب پر صبر کرنے والوں پر خدا کی طرف سے درودرحمت ہے
اوروہی ہیں ہدایت پا نے والے علامہ حلی قدس سرہ نے ایک مناظرہ میں اہل بیت اطہار
پر درود وسلام ثابت کرنے کیلئے انہی ایات سے استدلال فرمایاتھا اس مقام پر ان کا
واقعہ گو موضوع بحث سے باہر ہے لیکن اختصار سے ذکرکرتاہوں امید ہے مومنین کیلئے
استفادہ کا موجب ہوگا
شیخ عباس قمی اعلی اللہ مقامہ نے سفینۃ ابحار باب
الشین میں مستدرک سے اختصار انقل فرمایاہے جس کہ میں اورمختصر کرتا ہوں تاکہ طول
نہ ہو
الشین میں مستدرک سے اختصار انقل فرمایاہے جس کہ میں اورمختصر کرتا ہوں تاکہ طول
نہ ہو
ہلا کو خان کے پوتے کا بیٹا یعنی پڑپوتا سلطان غازان
خان جو ۷۰۲ھ میں بغداد کا بادشاہ تھا اس کے دور سلطنت میں
ایک دفعہ بروز جمعہ ایک سید نے بغداد کی جامع مسجد میں نماز جمعہ کے بعد انفرادی
طور پر نماز ظہر پڑھی لوگوںکو معلوم ہو گیا کہ یہ شیعہ ہے پس انہوں نے اس کو قتل
کردیا سید مرحوم کے رشتہ داروں نے بادشاہ سے شکایت کی اورواقعہ بیان کیا بادشاہ کو
بڑارنج ہواکہ اولاد رسول میں سے ایک شخص صرف نماز ظہر علیحدہ پڑھنے کے جرم میں
کیوں قتل کیا گیا بادشاہ کو اس وقت تک مذاہب اسلامیہ کی حقیقت کا علم نہ تھا پس اس
دن سے اس نے مذہب کی تلاش شروع کردی امیر طر مطار جو بادشاہ کے خواص میں سے تھا
اور بچپنے سے بادشاہ کا خادم تھا اس نے بادشاہ کے سامنے مذہب شیعہ کی حقیقت بیان
کی چنانچہ بادشاہ نے دیگر مذاہب کو ٹھکر کر شیعیت کو اپنا لیا اور اس کے بعد اس نے
سادات کے احترام میں کبھی کوئی دقیقہ فروگذاشت نہ کیا اور آئمہ معصومین ؑ کے
مشاہد کی بھی تعمیر کی اس کے مرنے کے بعد اس کا بھائی سلطان محمد معروف شاہ خدا
بندہ تخت نشین ہوا اور وہ حنفی المذہب اور حنفی علماء کا احترام کرتا تھا جو اپنے
مذہب میں متعصب تھے بادشاہ کا وزیر خواجہ رشید الدین شافعی بہت کڑھتا تھا لیکن
بادشاہ کے میلان کی وجہ سے بے بس تھا یہاں تک کہ قاضی نظام الدین شافعی جو منقولات
ومعقولات میں بہت ماہر تھا مراغہ سے چل کر یہاں ایا بادشاہ نے اس کے علم کے پیش
نظر اس کو قاضی القضاۃ مقررکیا وہ بادشاہ کے سامنے حنفی علماء سے مناظر ے کرتا تھا
اوران کو لاجواب کردیتا تھا حتی کہ بادشاہ نے مذہب حنفی ترک کرکے مذہب شافعی
اختیار کرلیا ۷۰۹ھ میں بخارا سے ایک حنفی عالم ابن صدر جہاں بغداد
پہنچاتو مقامی علماء نے نظام الدین قاضی کی اس سے شکایت کی اس نے اس مشکل کے حل
کرنے کا ان سے وعدہ کیا پس بروز جمعہ بادشاہ کے حضور میں اس نے قاضی نظام الدین سے
یہ مسئلہ دریافت کیا کہ اگر ایک شخص کسی عورت سے زناکرے اوراسی زنا سے لڑکی پیدا
ہو کیا وہ لڑکی اس زانی کے نکاح میں آ سکتی ہے بمطابق مذہت شافعی جواب دیجئے قاضی
نے جواب دیا کہ ہا ں بیشک آ سکتی ہے جس طرح کہ مذہب حنفیہ میں ماں بہن نکاح میں
آ سکتی ہیں اس بحث میں بڑی لے دے ہوئی ابن صدر جہاں حنفی نے اس مسئلہ کا انکار
کردیا تو قاضی نے امام ابو حنیفہ کے منظومہ میں سے یہ شعر پڑھا
خان جو ۷۰۲ھ میں بغداد کا بادشاہ تھا اس کے دور سلطنت میں
ایک دفعہ بروز جمعہ ایک سید نے بغداد کی جامع مسجد میں نماز جمعہ کے بعد انفرادی
طور پر نماز ظہر پڑھی لوگوںکو معلوم ہو گیا کہ یہ شیعہ ہے پس انہوں نے اس کو قتل
کردیا سید مرحوم کے رشتہ داروں نے بادشاہ سے شکایت کی اورواقعہ بیان کیا بادشاہ کو
بڑارنج ہواکہ اولاد رسول میں سے ایک شخص صرف نماز ظہر علیحدہ پڑھنے کے جرم میں
کیوں قتل کیا گیا بادشاہ کو اس وقت تک مذاہب اسلامیہ کی حقیقت کا علم نہ تھا پس اس
دن سے اس نے مذہب کی تلاش شروع کردی امیر طر مطار جو بادشاہ کے خواص میں سے تھا
اور بچپنے سے بادشاہ کا خادم تھا اس نے بادشاہ کے سامنے مذہب شیعہ کی حقیقت بیان
کی چنانچہ بادشاہ نے دیگر مذاہب کو ٹھکر کر شیعیت کو اپنا لیا اور اس کے بعد اس نے
سادات کے احترام میں کبھی کوئی دقیقہ فروگذاشت نہ کیا اور آئمہ معصومین ؑ کے
مشاہد کی بھی تعمیر کی اس کے مرنے کے بعد اس کا بھائی سلطان محمد معروف شاہ خدا
بندہ تخت نشین ہوا اور وہ حنفی المذہب اور حنفی علماء کا احترام کرتا تھا جو اپنے
مذہب میں متعصب تھے بادشاہ کا وزیر خواجہ رشید الدین شافعی بہت کڑھتا تھا لیکن
بادشاہ کے میلان کی وجہ سے بے بس تھا یہاں تک کہ قاضی نظام الدین شافعی جو منقولات
ومعقولات میں بہت ماہر تھا مراغہ سے چل کر یہاں ایا بادشاہ نے اس کے علم کے پیش
نظر اس کو قاضی القضاۃ مقررکیا وہ بادشاہ کے سامنے حنفی علماء سے مناظر ے کرتا تھا
اوران کو لاجواب کردیتا تھا حتی کہ بادشاہ نے مذہب حنفی ترک کرکے مذہب شافعی
اختیار کرلیا ۷۰۹ھ میں بخارا سے ایک حنفی عالم ابن صدر جہاں بغداد
پہنچاتو مقامی علماء نے نظام الدین قاضی کی اس سے شکایت کی اس نے اس مشکل کے حل
کرنے کا ان سے وعدہ کیا پس بروز جمعہ بادشاہ کے حضور میں اس نے قاضی نظام الدین سے
یہ مسئلہ دریافت کیا کہ اگر ایک شخص کسی عورت سے زناکرے اوراسی زنا سے لڑکی پیدا
ہو کیا وہ لڑکی اس زانی کے نکاح میں آ سکتی ہے بمطابق مذہت شافعی جواب دیجئے قاضی
نے جواب دیا کہ ہا ں بیشک آ سکتی ہے جس طرح کہ مذہب حنفیہ میں ماں بہن نکاح میں
آ سکتی ہیں اس بحث میں بڑی لے دے ہوئی ابن صدر جہاں حنفی نے اس مسئلہ کا انکار
کردیا تو قاضی نے امام ابو حنیفہ کے منظومہ میں سے یہ شعر پڑھا
وَلَیْسَ فِیْ لِوَاطِۃٍ مِنْ حَدٍّا
وَلَابِوَطْیِ
الْاُخْتِ بَعْدَ عَقْدٖ
وَلَابِوَطْیِ
الْاُخْتِ بَعْدَ عَقْدٖ
پس وہ خاموش ہوگیا بادشاہ اوردیگر امراء اس بحث کے
نتیجہ میں بہت نادم ہوئے اوربادشاہ غضبناک ہو کر اٹھ گیا اورمذہب اسلام کے اختیار
کرنے پر پشیمان ہوا کہ یہ عجیب مذہب ہے کہ کوئی لڑ کی کے نکاح کے جوز کا قائل ہے
کو ئی ماں بہن کے نکاح کو جائز کہتا ہے
نتیجہ میں بہت نادم ہوئے اوربادشاہ غضبناک ہو کر اٹھ گیا اورمذہب اسلام کے اختیار
کرنے پر پشیمان ہوا کہ یہ عجیب مذہب ہے کہ کوئی لڑ کی کے نکاح کے جوز کا قائل ہے
کو ئی ماں بہن کے نکاح کو جائز کہتا ہے
اقول حقیقت یہ ہے کہ عام طور پر مناظرین
اپنے مذ ہب کی صداقت ثابت کرنے کی بجائے ایک دوسرے پر کیچڑاچھالنا اپنی کامیابی کا
زینہ سمجھتے ہیں اوراس قسم کے لوگ ہر مذہب میں پائے جاتے ہیں وہ اپنے خیال میں
مذہب کی حمایت کرتے ہیں لیکن درحقیقت وہ مذہب کے بدترین دشمن ہو تے ہیں دوسرے کو
گالی دینا معیار صداقت نہیںہو تا بلکہ دلیل وبرہان اورعمل وکردار سے مذہب کے اصول
وفروع کی نقاب کشائی ہی صداقت کاطرہ امتیاز ہے)
اپنے مذ ہب کی صداقت ثابت کرنے کی بجائے ایک دوسرے پر کیچڑاچھالنا اپنی کامیابی کا
زینہ سمجھتے ہیں اوراس قسم کے لوگ ہر مذہب میں پائے جاتے ہیں وہ اپنے خیال میں
مذہب کی حمایت کرتے ہیں لیکن درحقیقت وہ مذہب کے بدترین دشمن ہو تے ہیں دوسرے کو
گالی دینا معیار صداقت نہیںہو تا بلکہ دلیل وبرہان اورعمل وکردار سے مذہب کے اصول
وفروع کی نقاب کشائی ہی صداقت کاطرہ امتیاز ہے)
امیر طرمطار نے جب یہ ماجرادیکھا تو بادشاہ کومذہب
شیعہ کی حقیقت معلوم کرنے کی دعوت دی بادشاہ شیعہ کی لفظ سن کر نہایت غٰظ وغضب سے
تلملااٹھا کہ اوربدبخت تو مجھے رافضی بنانا چاہتاہے
شیعہ کی حقیقت معلوم کرنے کی دعوت دی بادشاہ شیعہ کی لفظ سن کر نہایت غٰظ وغضب سے
تلملااٹھا کہ اوربدبخت تو مجھے رافضی بنانا چاہتاہے
اقول موجودہ درباری علماء نے مذہب شیعہ کو بادشاہ
کے سامنے ایک ایسے برے ر نگ میں ظاہر کیا ہوا تھاکہ بادشاہ شیعہ کا نام سن کر اگ
بگولہ ہو گیا چنانچہ اج کل بھی ناواقف لوگوں کے سامنے شیعہ مذہب کی حقیقت وصورت
ایسے ہی بد نما خدوخال سے پیش کی جاتی ہے کہ لوگ فریب خوردہ ہوکرشیعہ کے نام سے ہی
نفرت کرنے لگ جاتے ہیں
کے سامنے ایک ایسے برے ر نگ میں ظاہر کیا ہوا تھاکہ بادشاہ شیعہ کا نام سن کر اگ
بگولہ ہو گیا چنانچہ اج کل بھی ناواقف لوگوں کے سامنے شیعہ مذہب کی حقیقت وصورت
ایسے ہی بد نما خدوخال سے پیش کی جاتی ہے کہ لوگ فریب خوردہ ہوکرشیعہ کے نام سے ہی
نفرت کرنے لگ جاتے ہیں
اخرکار امیر طرمطارکے اصرار سے بادشاہ نے علامہ
حلی اوران کے فرزند فخر المحققین کو دعوت دے دی علامہ کے پاس اپنی تصنیفات میں سے
نہج الحق اورمنہاج الکرامۃ موجود تھیں جو بادشاہ کو ہدیہ کے طور پر پیش کیں علامہ
سے مناظرہ کرنے کیلئے قاضی نظام الدین شافعی کا انتخا ب عمل میں ایا دربار
شاہی میںعلمائے اسلام کے بھرے مجمع میں علامہ موصوف نے حضرت میر المومنین
علیہالسلام کی خلافت بلافصل کو براہین قاطعہ اوردلائل ساطعہ سے ثابت فرمایاکہ قاضی
مزکور کورد کرنے کی جرات نہ ہو سکی اوراس کیلئے بغیر تسلیم کے اورکوئی چارہ نہ
رہااوراخرکار یہی عذر پیش کی اکہ ابتدائے اسلام سے اج تک جن لوگوں کو ہم خلیفہ
رسول مانتے چلے ارہے ہیں ان کی خلافت کا ا نکار اسلام میں تفرقہ ڈانے کا موجب ہے
لہذا ہم نہ ان پر طعن کرسکتے ہیں اورنہ ان کی غلطیوں کو ظاہرکرسکتے ہیں پس قاضی کا
دبی زبان سے خلفائے ثلثہ کی خلافت سے انکار مناظرے کا فیصلہ تھا فورا ہی بادشاہ
اوراکثر امراء نے مذہب شیعہ اختیار کرلیا بادشاہ نے خطبہ جمعہ میں خلفائے ثلثہ کے
ناموں کی بجائے آئمہ اثنا عشرکے اسمائے طاہرہ کے ذکر کا اطراف مملکت میںحکم بھیج
دیا اس کے بعد علامہ نے نہایت فصیح وبلیغ تقریر فرمائی جس میں حمد و ثنا کے بعد
محمد وآل محمد پر درود و سلام بھیجا سید رکن الدین موصلی جو علامہ کی کامیابی
اورمذہب شیعہ کی فتح پر دل سے جل رہاتھا اورعلامہ پر نکتہ چینی کا بہانہ تلاش کر
رہاتھا اس نے اٹھ کر فورااعتراض کیا کہ غیر نبی پر صلوات کہاں سے جائز ہے علامہ
قدس سرہ نے قرآن مجید کی یہی ایات تلاوت فرمائیں کہ جن لوگوں پر مصائب ائے اورراہ
خدامیںخوشنودی خداکے پیش نظر ان کو برداشت کرکے صبرکیا ان پر خداکی طرف سے صلوات
ورحمت ہے اوروہی ہدایت والے ہیں سید موصلی نے اعتراض کیا کہ حضرت علی ؑاوران کی
اولاد پر کیا مصیبت ائی علامہ نے اس کے بعد مصائب اہل بیت کا ذکر کیا وراخرمیں
فرمایاکہ اس سے بڑھ کر اورمصیبت کیاہوگی کہ تو ان کی اولاد سے کہلواتاہے اوران کے
مخالفین کے نقش قدم پر ہوکران کو اہل بیت سے افضل مانتاہے حاضرین نے علامہ کا جواب
پسند کیا اوروہ شرمندہ ہوا اللھم صل علی محمد وآل محمد
حلی اوران کے فرزند فخر المحققین کو دعوت دے دی علامہ کے پاس اپنی تصنیفات میں سے
نہج الحق اورمنہاج الکرامۃ موجود تھیں جو بادشاہ کو ہدیہ کے طور پر پیش کیں علامہ
سے مناظرہ کرنے کیلئے قاضی نظام الدین شافعی کا انتخا ب عمل میں ایا دربار
شاہی میںعلمائے اسلام کے بھرے مجمع میں علامہ موصوف نے حضرت میر المومنین
علیہالسلام کی خلافت بلافصل کو براہین قاطعہ اوردلائل ساطعہ سے ثابت فرمایاکہ قاضی
مزکور کورد کرنے کی جرات نہ ہو سکی اوراس کیلئے بغیر تسلیم کے اورکوئی چارہ نہ
رہااوراخرکار یہی عذر پیش کی اکہ ابتدائے اسلام سے اج تک جن لوگوں کو ہم خلیفہ
رسول مانتے چلے ارہے ہیں ان کی خلافت کا ا نکار اسلام میں تفرقہ ڈانے کا موجب ہے
لہذا ہم نہ ان پر طعن کرسکتے ہیں اورنہ ان کی غلطیوں کو ظاہرکرسکتے ہیں پس قاضی کا
دبی زبان سے خلفائے ثلثہ کی خلافت سے انکار مناظرے کا فیصلہ تھا فورا ہی بادشاہ
اوراکثر امراء نے مذہب شیعہ اختیار کرلیا بادشاہ نے خطبہ جمعہ میں خلفائے ثلثہ کے
ناموں کی بجائے آئمہ اثنا عشرکے اسمائے طاہرہ کے ذکر کا اطراف مملکت میںحکم بھیج
دیا اس کے بعد علامہ نے نہایت فصیح وبلیغ تقریر فرمائی جس میں حمد و ثنا کے بعد
محمد وآل محمد پر درود و سلام بھیجا سید رکن الدین موصلی جو علامہ کی کامیابی
اورمذہب شیعہ کی فتح پر دل سے جل رہاتھا اورعلامہ پر نکتہ چینی کا بہانہ تلاش کر
رہاتھا اس نے اٹھ کر فورااعتراض کیا کہ غیر نبی پر صلوات کہاں سے جائز ہے علامہ
قدس سرہ نے قرآن مجید کی یہی ایات تلاوت فرمائیں کہ جن لوگوں پر مصائب ائے اورراہ
خدامیںخوشنودی خداکے پیش نظر ان کو برداشت کرکے صبرکیا ان پر خداکی طرف سے صلوات
ورحمت ہے اوروہی ہدایت والے ہیں سید موصلی نے اعتراض کیا کہ حضرت علی ؑاوران کی
اولاد پر کیا مصیبت ائی علامہ نے اس کے بعد مصائب اہل بیت کا ذکر کیا وراخرمیں
فرمایاکہ اس سے بڑھ کر اورمصیبت کیاہوگی کہ تو ان کی اولاد سے کہلواتاہے اوران کے
مخالفین کے نقش قدم پر ہوکران کو اہل بیت سے افضل مانتاہے حاضرین نے علامہ کا جواب
پسند کیا اوروہ شرمندہ ہوا اللھم صل علی محمد وآل محمد
Leave a Reply