anwarulnajaf.com

تفسیر میں موجود ” ح ” سے شروع ہونے والے موضوعات | تفسیر انوار النجف جلد 15 | tafseer anwar ul najaf jild 15 | shia books online

حبّ علی ؑ: حبّ علی ؑ ایمان اور بغض علی ؑ
نفاق (ج۱ ص ۷۶۱)

٭      علی ؑ کے حبدار مساکین ہیں اور انکی
دستگیری کرنے والا جنت کے بلند درجات میں ہو گا (ج ۲ص ۴۳۱)

٭      حضرت امام محمد باقرؑ کا محبان علی ؑ کو
پیغام کہ تقویٰ اختیار کرو (ج ۲ص ۷۹۱ – ج۶ص ۸۳)

٭      اگر لوگ حضرت علی ؑ کی محبت پر اجتماع کر
لیتے تو خدا جہنم کو پیدا نہ کرتا (ج ۳ص ۸۰۲- ج ۸ص ۷۶۲)

٭      حضرت علی ؑ کے محبوں کے چہرے قیامت کے دن
نورانی ہوں گے (ج ۴ص ۹۲)

٭      یوم غدیر محبت علی ؑ کا اعلان عام (ج ۵ص
۵۳)

٭      پیغمبر اسلام کے چار یار (ج ۵ص ۲۷)

٭      ولایت علی ؑ آیت : اِنَّمَا وَلِیُّکُمُ
اللّٰہُ وَ رَسُوْلُہُ وَالّّذِیْنَ آمَنُوْا الخ (ج ۵ص ۹۲۱)

٭      نام حضرت علی ؑ کی تاثیر (ج۶ ص ۸۳۱) ولائے
حضرت علی ؑ (ج ۶ص ۴۷۱)

٭      حضرت علی ؑ کی محبت گناہوں کوکھاتی ہے (ج
۷ص ۱۴۲)

٭      محبان حضرت علی ؑ کا مقام (ج ۸ص ۴۳۱)

٭      اہل بیت ؑ کی محبت گناہوں کا کفارہ بنتی ہے
(ج ۰۱ص ۶۸۱)

٭      مَنْ مَاتَ عَلٰی حُبِّ آلِ مُحَمَّدٍ
مَاتَ شَھِیْد ًا (ج ۲۱ص ۰۱۲- ج ۲ص۷۹۱)

٭      حضرت علی ؑ نے فر مایا ہماری محبت اور
ہمارے دشمنوں کی محبت ایک جگہ جمع نہیں ہو سکتی (ج ۱۱ص ۶۵۱)

٭      آل محمد کی محبت کا بدلہ جنت کی نعمات ہیں
(ج ۱۱ص ۷۶۲)

٭      حضرت علی ؑ کی محبت کے ٹکٹ کے بغیر پل صراط
سے کوئی نہ گزر سکے گا (ج۲۱ص ۷۳)

٭      آل محمد کی محبت میں مرنے والا شہید ہوتا
ہے (ج ۲۱ص ۷۳)

٭      حضرت علی ؑ کا محب حضرت علی ؑ کے ساتھ
محشور ہوگا (ج۳۱ص ۶۷۱)

٭      بروز محشر محبت علی ؑ کا سوال ہو گا (ج ۳۱ص
۶۸۱)

٭      بروز محشر آل محمد کی محبت کا سوال ہو گا
(ج ۴۱ص ۲۸۱ – ج ۲۱ص ۷۳)

حبّ شیخین: حضرت امام جعفر صادقؑ کا فرمان
ہے کہ حبّ شیخین اگر دل میں رائی کے برابر بھی ہوئی تو بہشت میں داخل نہ ہو گا (ج
۳ص ۶۸۱)

حبشہ کی طرف ہجرت : (ج۵ص ۵۵۱)

٭      اللہ نے حبشیوں کی طرف ایک حبشی نبی بھیجا،
انہوں نے اسے جھٹلایا، بادشاہ وقت نے اس پر ایمان لانے والوں کو گرفتار کر کے آگ
سے بھری ہوئی اخدود میں ڈال دیا (ج۴۱ص ۰۰۲)

حج : سورہ حج (ج۰۱ص۶)

٭      حج کا بیان (ج ۳ص ۲۱ تا ۸۲ – ج ۴ص ۸۱،۹۱)

٭      حجة الودا ع (ج ۵ص ۹۳۱)

٭      حج کے بعض احکام (ج ۵ص ۶۶۱، ۷۶۱ – ج۰۱ ص ۶۲
تا ۱۳)

٭      حضرت ابوبکر کو حضرت پیغمبر نے امیر الحج
بنا کر بھیجا، پس سورہ براءت نازل ہوااور حضرت علی ؑ کو آپ نے اس کے پیچھے روانہ
فرمایا اور ابو بکر کو واپس بلا لیا (ج ۷ص ۲۱)

٭      حج اکبر کا معنی (ج ۷ص ۷۱)

٭      عرب لوگ حج کے مہینے کو ہر سال تبدیل کر دیا
کرتے تھے لیکن اسلام نے اس ردّو بدل کو روک دیا (ج۷ ص۷۴)

٭      حج کے بارے میں زہری کا امام زین العابدین
ؑ پر اعتراض اور آپ کا جواب (ج ۷ص ۱۳۱)

٭      حضرت ابراہیم ؑ نے کوہِ ابو قبس پر کھڑے ہو
کر لوگوں کو حج بیت اللہ کی دعوت دی تھی ان کی آواز مشرق سے مغرب تک پہنچی حتیٰ کہ
قیامت تک آنے والی نسلوں نے بھی عالم ارواح میں آپ ؑ کی آواز سنی، پس جس روح نے
لبیک کہی تھی وہی حج پر موفق ہوتا ہے (ج ۸ص ۰۶۱) ایک روایت میں ہے کہ آپ نے مقام
ابراہیم پر کھڑے ہو کر لوگوں کو دعوت دی تھی (ج ۲ص ۶۷۱)

٭      دعوت ابراہیم ؑ (ج ۰۱ص ۲۲، ۳۲)

٭      عبد الرحمن بن کثیر کہتا ہے میں دورانِ حج
حضرت امام جعفر صادقؑ کے ہمرا ہ تھا آپ ؑ نے فر مایا کہ شوروغل تو زیادہ ہے لیکن
حاجی لوگ بہت کم ہیں (ج ۸ص ۹۸۱)

٭      روایت میں ہے جس پر حج واجب ہو اور اس کو
ٹالتا رہے اور مر جائے تو بروزِ محشر اندھا محشور ہو گا (ج۹ص ۴۴، ۷۰۲)

٭      حضرت خضر ؑ ہر سال حج پر تشریف لاتے ہیں (ج
۹ص۲۲۱)

٭      حدود حرم میں جرم کرنے والے کو سزا بھی حد
ود حرم کے اندر دی جاسکتی ہے (ج ۰۱ص ۰۲)

٭      رسول اللہ کا خواب اور صلح حدیبیہ کے بعد
واپسی (ج۳۱ص ۸۸ تا ۰۹)

٭      باپ کا حج بیٹی بھی نیابت میں کر سکتی ہے
(ج ۳۱ص۱۶۱)

٭      جو لوگ حج کی طاقت نہیں رکھتے حضور نے فر
مایا نمازجمعہ مساکین کا حج ہے (ج ۳۱ص ۲۲)

٭      دشمن آل محمد کا حج باطل ہوا کرتا ہے (ج
۴۱ص ۹۷)

حٓ©©مٓ سجدہ: سورہ حم سجدہ (ج۲۱ص۸۶۱)

حٰمٓعسقٓ: سورہ حمعسق (ج۲۱ص۶۹۱)

حجت: (ج ۵ص ۵۶۲)

٭      حجت کی دو قسمیں ہیں: ایک ظاہری حجت دوسری
باطنی حجت (ظاہر ی نبی و امام اور باطنی عقل)

حجر اسود: کعبہ کی تعمیر نو کے وقت حجر اسود
کو نصب حضر ت پیغمبر نے ہی کیا (ج۴ص ۹)

٭      حجر اسود کو حضرت آدم ؑ اپنے ساتھ زمین پر
لائے تھے اور بنی آدم کے عہد و پیمان اس کو تفویض کئے گئے ہیں پس بروز محشر اپنی
زیارت کرنے والوں کے حق میں گواہی دے گا (ج ۴ص ۱۱)

حجرات: سورہ حجرات کے فضائل (ج۱۱ ص۰۶۲)

حبل: وَاعْتَصِمُوْا بِحَبْلِ اللّٰہِ
جَمِیْعًا (ج ۴ص ۴۲)

٭      حبل الورید (ج ۳۱ص ۵۱۱)

حبیب نجار : مومن آل یٰسین (ج ۵ص ۶۷)

٭      حضرت عیسیٰؑ کی طرف سے جو دو مبلّغ انطاکیہ
گئے وہ سب سے پہلے حبیب نجار کو ملے (ج ۲۱ص ۲۱)

٭      حبیب نجار کا بادشاہِ انطاکیہ کو مشورہ (ج
۲۱ص ۰۲)

٭      حبیب نجار کا اپنی قوم کو مشورہ (ج ۲۱ص ۸۱)

٭      مومن آل یٰسین کے متعلق معصوم ؑ نے فر مایا
وہ ہمارا خالص شیعہ ہے (ج۲۱ص ۸۴)

٭      حضرت پیغمبر نے فر مایا صدّیقین تین ہیں:

 (۱) مومن آلِ فرعون (۲) مومن آلِ یٰسین حبیب
نجار (۳) علی ؑ ابن ابی طالب (ج ۲۱ص ۹۴۱)

٭      امام جعفر صادقؑ نے فر مایا سابقین چار
آدمی ہیں:

(۱)
ہابیل ابن آدم (۲) مومن آل فر عون (۳) حبیب نجار (۴) حضرت علی ؑ (ج۳۱ص
۶۹۱،۷۹۱،۲۰۲)

٭      ایک حدیث میں ہے صدّیق تین ہیں:

(۱)
حبیب نجار (۲) حزقیل مومن آل فر عون (۳) حضرت علی بن ابی طالب ؑ (۳۱ص ۰۲۲)

حاطب بن ابی بلتعہ کا افشاء راز : یہ شخص
مکہ سے مسلمان ہو کر ہجرت کر کے مدینہ آیا ہوا تھا، پس اس نے حضرت پیغمبر کا راز
مکہ والوں پر فاش کر دیا لیکن بعد میں حضرت پیغمبر نے اس کو معافی دے دی (ج
۳۱ص۴۶۲)

حارث بن نعمان فہری: (ج۴۱ص۹۹)

حبط عمل: (ج ۱ص ۸۳۲، ۴۴۲، ۵۴۲)

٭      دشمن علی ؑ کے اعمال حبط و رائیگاں ہونگے
(ج ۵ص ۳۳)

٭      اگر خاتمہ ایمان پر نہ ہو تو سابق اعمال
حبط و ضائع ہو جاتے ہیں (ج ۷ص ۵۲۱)

٭      حبط عمل کا معنی یہ ہے کہ اس شخص کا عمل
قابل جزا نہیں رہتا (ج ۷ص ۷۹۱ – ج ۲۱ص ۳۳۱)

 حدید: سورہ الحدید کے فضائل (ج ۲۱ص ۰۱۲)

٭      اَنْزَلْنَا الْحَدِیْدَ (ج ۲۱ص ۶۲۲)

٭      ذو الفقار حیدری (ج ۲۱ص۷۲۲)

حدیث: حدیث کساء (ج۱۱ص۵۹۱)

٭      حدیث مواخات (ج۳۱ص۰۰۱)

٭      حدیث ثقلین (ج ۱ص ۵۶،۳۶،۵۷،۲۴۱)

٭      حدیث بساط (ج ۹ص ۳۸)

٭      حدیث غدیر (ج۵ص ۸۲ تا ۰۴)

حدیبیہ: صلح حدیبیہ کے بعد جب مسلمانوں نے
فتح مکہ کر لیا تو ان کے دلوں میں حدیبیہ سے واپس جانے کے انتقام کا جذبہ تھا تو
حضور نے مسلمانوں کو انتقامی کاروائیوں سے روک دیا (ج۵ص ۶۱)

٭      حدیبیہ کے صلح نامہ پر بِسْمِ اللّٰہِ
الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ اور مُحَمَّدٌ رَسُوْلُ اللّٰہ کے الفاظ حضرت علی ؑ نے
لکھے تو کفار نے کٹوا دئیے (ج ۸ص۵۳۱)

٭      صلح حدیبیہ اور فتح (ج ۳۱ص ۷۵، ۸۵)

٭      صلح حدیبیہ کے وجوہ اور مصالح (ج ۳۱ص ۷۸ تا
۱۹)

حسان بن ثابت: حسان بن ثابت کا قصیدہ (ج ۵ص
۰۳)

حزقیل ؑ: (ج ۳ص ۸۰۱)

٭      مومن آل فر عون کا نام حزقیل تھا (ج۳۱
ص۰۲۲)

حواس©: حواس خمسہ (ج ۸ص ۰۱)

حُسن : مردوں کا حسن عقل میں ہے اور عورتوں
کی عقل حسن میں ہے (ج ۳ص ۲۶)

حسنین ؑشریفین: اما م حسن ؑ نے ایک دفعہ فر
مایا اگر میں دعا کروں تو اللہ عراق کو شا م اور شام کو عراق بنا دے، مرد کو عورت
اور عورت کو مرد کر دے، ایک منافق ناصبی نے کہا اگر یہ طاقت ہوتی تو معاویہ سے صلح
کیوں کرتے؟ آپ نے فر مایا: اے عورت ! یہ مردوں کا مجمع ہے تو چلی جااور اب تیری
سابقہ عورت مرد ہو چکی ہے اب تیرے بطن سے ایک خنثیٰ پیدا ہوگا، چنانچہ اس شخص نے
اپنے آپ کو عورت پایا اور گھر پہنچا تو اس کی بیوی مرد تھی پس مجامعت کے بعد اس کے
پیٹ سے خنثیٰ پیدا ہوا پھر وہ دونوں حاضر خدمت ہوئے اور معافی کے خواستگار ہوئے تو
اللہ نے توبہ قبول کر لی اور اپنی اصلی حالت پر پلٹ گئے کیونکہ امام نے ان کو
معافی دے دی (ج۱ص ۳۳،۴۳)

٭      حضرت پیغمبر نے امام حسن ؑ اور اما م حسین
ؑ کے قاتلوں کو یہودی اور لعنتی کہا (ج ۲ص ۶۲۱)

٭      امام حسن ؑکا حسن خلق (ج ۴ص ۱۵)

٭      حضرت علی ؑ سے کسی نے حالت احرام میں شتر
مرغ کے انڈے توڑنے کا کفار پوچھا تو آپ نے فر مایا میرے فرزند حسن ؑ سے پوچھ لو،
امام حسن ؑ نے سائل سے فر مایا کہ نر اونٹ کو مادہ پر بٹھاﺅ (انڈوں کی مقدار کے
مطابق) پس جس قدر بچے پیدا ہوں ان کی قربانی دو، حضرت علی ؑ نے فر مایا اے فر زند
بعض اوقات ناقہ حاملہ نہیں ہوتی توامام حسن ؑ نے عرض کی ابا جان بعض اوقات انڈے
بھی تو خراب نکلتے ہیں (ج ۵ص ۸۶۱)

٭      امام حسن ؑاور اما م حسین ؑ کا صلبی اولادِ
رسول ہونے کا ثبوت (ج ۵ص ۶۳۲،۷۳۲-ج ۹ص ۸۵۱)

٭      ایک دفعہ معاویہ نے امام حسن ؑ سے سوال کیا
کہ میری اور آپ کی داڑھی کا ذکر قرآ ن میں کہاں ہے؟ تو آپ نے آیت پڑھی : وَ
الْبَلَدُ الطَّیّبُ یَخْرُجُ نَبَاتُہ¾ (پ۸) (ج ۶ص ۲۴)

٭      وَالشَّجْرَةَ الْمَلْعُوْنَة فِی
الْقُرْآن امام حسن ؑ نے یہ آیت پڑھ کر مروان سے فر مایا تو اور تیری اولاد شجرہ
ملعونہ ہے (ج ۹ص ۹۳)

٭      امام حسن ؑ و امام حسین ؑ کا رسول کے
کندھوں پر سوار ہونا (ج ۹ص ۴۶)

٭      امام حسن ؑ نے حضرت خضر ؑ کو مسائل سمجھائے
(ج ۹ص۱۲۱)

٭      امام حسن ؑ کی در بار شام میں معاویہ کے در
باریوں سے گفتگو (ج ۱۱ص ۱۵۱)

٭      امام حسن ؑ و امام حسین ؑ بچپنے سے ہی کامل
العقل تھے (ج ۹ص۱۴۱)

٭      حسنین جوانان جنت کے سردار ہیں (ج ۰۱ص ۱۲۲)

٭      حضرت پیغمبر نے حسنین شریفین کو اپنی اولاد
کہا (ج ۱۱ص ۱۰۲)

٭      شاہِ روم نے اما م حسن ؑ سے سوال کیا کہ وہ
سات چیزیں کونسی ہیں جو ماں کے شکم سے پیدا نہیں ہوئیں؟ آپ نے جواب میں فر مایا :
آدم ؑ ، حوا ، اسمٰعیل کے فدیہ والا دنبہ ، سانپ جنتی ، کوا ، ناقہ صالح ، ابلیس

نوٹ: سانپ سے مراد وہ ہے جو حضرت آدم ؑ کے
ساتھ آیا تھا اور کوا وہ جس نے حضرت ہابیل کا دفن کرنا قابیل کو سکھایا تھا (ج ۲۱ص
۵۰۲)

٭      شاہِ روم کے مفصل سوالات و جوابات (ج ۲۱ص
۴۰۲، ۵۰۲)

٭      حضرت علی ؑ کی شہادت کے بعد امام حسن ؑ کا
خطبہ (ج ۲۱ص ۸۵۲)

٭      حاملین عرش کی تاویل حاملین علم لی گئی ہے،
چار اولین میں سے نوحؑ، ابراہیم ؑ، موسیٰؑ اور عیسیٰؑ اور چار آخرین میں سے حضرت
محمد ، حضر ت علی ؑ، امام حسن ؑ اور امام حسین ؑ ہیں (ج۴۱ص ۵۹)

٭      مختلف حاجات پیش کرنے والوں کو امام حسن ؑ
نے استغفار کا وِرد تعلیم فر مایا (ج ۳۱ص ۸۰۱)

٭      حسنین ؑ شریفین کی بیماری اور منت اور نزول
سورہ دہر ھَلْ اَتیٰ عَلٰی الْاِنْسَانِ (ج ۳۱ص ۷۴۱)

٭      امام حسین ؑ نے آخری رخصت کے وقت بیمار فر
زند کو سب سے پہلے نمازکی وصیت فر مائی (ج ۲ص ۲۰۱)

٭      حضرت پیغمبر نے پیشین گوئی فر مائی تھی کہ
میری امت کے بعض لوگ میری ذرّیت و نسل کے پاکیزہ افراد کو قتل کریں گے، پس حضرت
حسین ؑ کی اولاد سے ایک مہدی کو خدا بھیجے گا جو اُن سے انتقام لے گا، پس حسین ؑ
اور اس کے دوستوں کے قاتلوں پر لعنت ہے، اللہ کی رحمت حسین ؑ کے عزاداروں پر اور ان
پر جو اِن کے قاتلوں پر لعنت بھیجیں اور جو شخص حسین ؑ کے قتل پر راضی ہو گا اس کا
شمار بھی قاتلان حسین ؑ میں ہو گا (ج ۲ص ۸۳۱، ۹۳۱)

٭      مصائب امام حسین ؑ (ج ۲ص ۹۹۱)

٭      قائم آل محمد تشریف لائیں گے اور قاتلان
امام حسین ؑ کی اولاد سے قصاص لیں گے، راوی نے امام رضا ؑ سے در یافت کیا کہ قاتل
تو یہ لوگ نہ ہوں گے بلکہ قتل تو کیا تھا ان لوگوں نے جو میدانِ کر بلا میں حاضر
تھے اور اللہ فرماتا ہے لا تَزِرُو وَازِرَةٌ وِزْرَ اُخْرٰی یعنی کوئی کسی دوسرے
کا بوجھ نہ اٹھا ئے گا؟ آپ نے جواب دیا جو شخص کسی کے فعل پر راضی ہو وہ اسی جرم
کا مرتکب سمجھا جا تا ہے چونکہ یہ لوگ اپنے قاتل آباء کے فعل پر راضی ہوں گے لہذا
ان سے بھی قتل کا قصاص لیا جائے گا (ج ۳ص ۰۱ – ج ۴ص۱۹ – ج ۰۱ص ۶۳ -ج ۲۱ص ۹۵۱)

٭      امام حسین ؑ کا مدفن کر بلا ہے، زمین کر
بلا کا ذکر اور خصوصیا ت (ج ۴ص ۲۱ تا ۴۱)

٭      امام حسین ؑ نے مکہ سے احرام حج کو اعمال
عمرہ بجا لا کر ختم کر دیا اور روانہ ہو گئے (ج ۲۱ص ۸۱)

٭      اَلْحَسَنُ وَالْحُسَیْنُ سَیّدَا شَبَابِ
اَہْلِ الْجَنّةِ (ج ۲۱، ۳۸-ج۰۱ص ۱۲۲)

٭      وہ حسین ؑہے جس کا ایک سجدہ جو انتہائی کرب
و بے چینی کے عالم میں خشوع و خضوع کا ایسا مرقع تھا کہ انبیا ء و ملائکہ بھی داد
دئیے بغیر نہ رہ سکے، جس کی جبین نیاز نے تپتی ہوئی ریت پر کفر و استبداد کے
ابھرتے ہوئے ناز توڑ دئیے اور پوری کائنات میں سجدہ و ساجدین اور عبادت و عابدین
سے اپنا مقام منوا لیا اور قیامت تک کےلئے بقائے اسلام کی ضمانت دے دی (ج ۵ص ۱۱)

٭      امام پاک جب شہید ہوئے تو ان کے جسم پر پشم
کا جبہّ تھا (ج ۶ص ۸۲)

٭      حضرت شہر بانو کا حضرت امام حسین ؑ کے نکاح
میں آنا، اس پر سنی مناظر کا اعتراض اور حضرت ملک العلماء ملک فیض محمد لکھیانوی
مرحوم کا منہ توڑ جواب (ج ۵ص ۴۴)

٭      امام حسین ؑ کے سبط رسول ہونے کی وجہ تسمیہ
حُسَیْنٌ مِنِّیْ وَ اَنَا مِنَ الْحُسَیْن (ج۵ص ۵۷)

٭      ایک شخص نے امام حسین ؑ سے رقم کا سوال کیا
تو آپ ؑ نے فر مایا میں تم سے تین سوال پوچھتا ہوں اگر سارے جوابات دئیے تو جو کچھ
مانگے گا سب دونگا ورنہ جس قدر جواب دو گے اتنا ہی دوں گا کیونکہ میرے نانا نے
فرمایا ہے: اَلْمَعْرُوْفُ بِقَدْرِ الْمَعْرِفَة یعنی کسی کے ساتھ بھلائی اتنی
کرو جتنی وہ معرفت رکھتا ہو، آپ ؑ نے پوچھا:

۱      تمام اعمال سے افضل کون سا عمل ہے؟    اس نے
جواب دیا  معرفت ِ خد ا

۲      مصیبت کے وقت سہارا کیا چیز بنتی ہے؟         اس نے جواب دیا   توکل بر خدا

۳      انسان کی زینت کیا ہے؟            اس نے جواب دیا   علم با عمل

٭      فرمایا اگر علم نہ ہو تو زینت کیا ہے؟       اس نے کہا  ما
ل سا تھ سخا وت کے

٭      پھر فرمایا اگر مال نہ ہو تو زینت کیا ہے؟ اس نے کہا فقر
صبر کے ساتھ

٭      آپ ؑ نے فر ما یا صبر نہ ہوتو؟               اس نے جواب دیا   آسمانی بجلی گرے اور اسے جلا دے

        آپ
ؑ نے سوالوں کے بدلہ میں اس کوایک ہزار دینار عطا فر مائے اور ایک انگو ٹھی بطورِ
انعام دی جس کا نگینہ دو سو کی قیمت کا تھا فر ما یا اس کو اپنے بال بچوں کے
اخراجات پر صرف کر نا(ج۶ص۳۴۱،۴۴۱-ج۱۱ص ۷۵)

٭      کیا امام حسین ؑ کے غم میں رونا بے صبر ی
ہے؟اس کا مدلل جواب (ج۸ص۱۷)

٭      غم حسین ؑ میں رونے کے دلائل اور رونے کے
نتائج (ج ۸ص ۴۷)

٭      امام حسین ؑ کا حسن خلق: ایک دفعہ گروہ
مساکین کے پاس سے گزرے وہ کھانا کھار رہے تھے انھوں نے آپ ؑ کو مدعو کر لیا تو آپ
وہیں ان کے پاس زمین ہی پر بکھرے ہوئے روٹی کے ٹکڑ ے ان کے ہمراہ کھانے لگ گئے (ج
۸ص ۴۰۲)

٭      ایک دفعہ آ پ ؑ کے غلام نے نجس جگہ پر پڑ ے
ہوئے روٹی کے ٹکڑے کو اُٹھا کر دھو کر کھالیا تو آپ ؑ نے خوش ہو کر اسے آزاد کر
دیا اور فر مایا جو شخص اللہ کی نعمت کی قدر کرے وہ آتش جہنم سے آزاد ہو جاتا ہے
تو پھر میں اس قدر کیوں نہ کروں (ج۸ص ۹۴۲- ج۱۱ص ۷۹ -ج ۶ص ۳۴۱)

٭      دوش رسول پر اور حالت نماز میں پشت پر سوار
ہونا (ج۹ص ۴۶)

٭      حضرت ذکریا کو پنجتن پاک کے نام تعلیم کئے
گئے تو عرض کی اے پروردگار! جب پانچواں نام لیتا ہوں تو میرے اوپر گریہ طاری ہو
جاتا ہے اس کی کیا وجہ ہے؟ پس کھیعصکے ذریعے ان کو اطلاع دی گئی کاف سے مراد کر
بلا ھا سے مراد ہلاکت یا سے مراد یزید عین سے مراد عطش اور صاد سے مراد صبر ہے۔

٭      حضرت ذکریا ؑ تین دن مسلسل مسجد میں صف ماتم
بچھا کر روتے رہے (ج۹ ص ۶۳۱)

٭      امام حسین ؑ اور حضرت یحییٰؑ میں مشابہت (ج
۹ص۸۳۱)

٭      حضرت اسمٰعیل نے دعا مانگی تھی اے اللہ مجھے
حسین ؑ کی طرح صبر محبوب ہے (ج ۹ص۷۵۱)

٭      انبیائے سابقین کے مجموعی مصائب سے بھی بڑھ
کر مصائب و آلام میں گھر جانے کے بعد امام حسین ؑ نے جو جلوہ جمال پروردگار کے
دیدارکا کربلا کی تپتی ہوئی ریت پر تمازت آفات کی پوری تیزی کے دوران تیروں،
تلواروں، پتھروں اور نیزوں کی موسلا دھار بارش میں لطف اٹھایا اس کی نظیر نا ممکن
ہے (ج۱۱ص ۸۸، ۹۸)

٭      حضرت امام حسین ؑ کی زیارت زیادتی رزق و
درازی عمر کی موجب ہے (ج۱۱ ۰۶۲)

٭      کیا امام حسین ؑ حضرت اسمٰعیل کے فدیہ تھے؟
(ج ۲۱ص ۶۶، ۷۶)

٭      حضرت امام حسین ؑ کی شہادت ایک طرف اسلام کی
بقاءکی ضمانت ہے

٭      ذکرِ امام حسین ؑ ایک زندہ معجزہ ہے (ج ۲۱ص
۰۱۲)

٭      حضرت ابرہیم ؑ کی دعا سے سلسلہء امامت
اسمٰعیل ؑ کی نسل میں پھر مخصوص طور پر امام حسین ؑ کی اولاد میں تا قیامت قائم
رہے گا (ج۲۱ص ۹۲۲)

٭      امام حسین ؑ کے مصائب کا سننا علمائے اسلام
نے ناجائز قرا ر دیا تھا تاکہ صحابہ پر بد گمانی نہ ہو (ج ۱ص ۳۰۱)

٭      شب معراج حضرت پیغمبر کو عترت پر آنے والے
مصائب کی اطلاع دی گئی تھی (ج ۲۱ص ۶۳۲)

٭      امام حسین ؑ کی زیارت بخشش گناہان کی موجب
ہے (ج ۲۱ص ۰۶۲)

٭      حضرت امام حسین ؑ کی شہادت پر آسمان نے گریہ
کیا چنانچہ بوقت طلوع آفتات و غروب آفتاب سرخی کا نمودار ہونا شہادت امام حسین ؑ
کے بعد سے ہے اور یہی اس کا گریہ ہے (ج ۲۱ص ۳۶۲ -ج ۲ص۳۰۲ – ج ۹ص ۹۳۱)

٭      حضرت جبرائیل ؑ نے خبر دی کہ جناب فاطمہ ؑ
کے بطن اطہر سے جو بچہ پیدا ہو گا اُس کو تیری امت بے جرم و خطا قتل کردے گی پس
ایام حمل میں بھی اور بعد از پیدائش بھی خاتون جنت غمگین رہیں (ج ۳۱ص ۳۲)

٭      امام حسین ؑ پیغمبر کی زبان چوس کر پلے (ج
۳۱ص ۴۲)

٭      امام حسین ؑ کے غم میںرونے کا ثواب (ج ۲۱ص
۴۶۲)

٭      امام حسین ؑ کو چار انعامات خصوصی طورپر عطا
ہوئے :

        ٭
اولادمیں امامت    ٭ خاک میں شفا    ٭ اِن کی قبر کے پاس دعا کا منظور ہونا

٭
زیارت پر جانے والے کا زمانہ زیارت اس کی زندگی میں اضافہ ہوتا ہے (ج۳۱ ص ۸۳۱،
۹۳۱) تارک زیارت کی عمر و رزق میں کمی ہوتی ہے (ج ۱۱ص ۰۶۲)

٭      امام حسن ؑ و امام حسین ؑ کے نام اللہ کے
نام محسن سے مشتق ہیں (ج ۳۱ص۷۴۱)

٭      حضرت پیغمبر نے فر مایا ہر نبی کی اولاد
اپنی صلب سے ہے اور میری اولاد علی کی صلب سے ہے (ج ۴۱ص ۲۴)

حشر : سورہ حشر (ج۳۱ص۶۴۲)

٭      فرعون نے موسیٰؑ سے سوال کیا تھا کہ حشر و
نشر کب ہو گا؟ (ج۹ص ۶۸۱)

٭      اللہ کےلئے کسی کے مرنے کے بعد اس کا دوبارہ
زندہ کرنا مشکل نہیں ہے (ج۱۱ ص ۶۲۲- ج ۲ ۱ص ۶۲)

٭      ہر شئے کی فنا کے بعد دوبارہ حشر و نشر کی
تفصیل (ج ۲۱ص ۶۳۱-ج ۳۱ص ۷۶۱)

حضر موت: حضر موت کی وجہ تسمیہ (ج ۰۱ص ۸۳)

حرامزادہ : حضرت علی ؑ کا دشمن حرامزادہ
ہوتاہے امام حسن ؑ کی ولید بن عقبہ کو تنبیہ (ج۱۱ص ۱۵۱)

٭      حرامزادہ دشمن علی ؑ ہے(ج۲۱ص ۱۱۲)

٭      حرامزدہ اپنے عقائد و کردار کی بدولت جواب
دہ ہو گا، ماں باپ کی غلطی کا یہ جواب دہ نہیں ہے (ج ۱۱ص ۲۶۲)

٭      منقول ہے کہ فر عون کے مشیر حلال زادے تھے
انہوں نے فرعون کو موسیٰؑ کے قتل کا مشورہ نہیںدیا تھا لیکن نمرود کے مشیر
حرامزادے تھے جنہوں نے حضرت ابراہیم ؑ کے لئے سزائے موت تجویز کی تھی (ج ۲۱ص ۹۴۱)

٭      حرامزادے پیدا کرنے والی عورت کا عذاب (ج ۸ص
۴۶۲)

حرام خور: حرام کھانے والے بروز محشر سور کی
شکل میں محشور ہوں گے (ج۴۱ ص۴۶۱)

حقوق : مومن وہ ہے جو مومنین کے حقوق کا
خیال رکھے (ج ۲ص۲۳۱ تا ۶۳۱ – ج ۵ص ۲۷)

٭      شیطان حقوق کی ادائیگی سے مومنوں کو روکتا
ہے (ج ۶ص ۵۱)

٭      حقوق والدین کی پرواہ نہ کرنے والے کا انجام
(ج ۷ص۹۷۱)

٭      اولاد پر والدین کا خرچہ واجب ہوتا ہے اگر
ان کو ضرورت ہو (ج ۳ص ۳۴)

٭      حقوق تین قسم کے ہیں : (۱) حقوق اللہ (۲)
حقوق النفس (۳) حقوق الناس مومن کو چاہیے کہ ان ہر سہ حقوق کی ادائیگی میں کوتاہی
نہ کرے (ج ۸ص۶۳۲ تا ۰۴۲-ج ۰۱ص ۷۵)

٭      حقوق معاشرہ (ج ۰۱ص ۷۸)

٭      حقوق والدین (ج ۹ص۰۲ -ج ۲ص ۰۳۱ تا ۳۳۱)

٭      ایک مرتبہ مہدی خلیفہ عباسی نے لوگوں کو
حقوق دلوائے تو امام موسیٰ کاظم ؑ نے فر مایا ہمیں بھی اپنے حقوق واپس ملنے
چاہییں، خلیفہ نے پوچھا وہ کیا ہیں؟ تو آپ ؑ نے فرمایا فدک اور اسکے گرد نواح کا
علاقہ (ج ۹ص۳۲)

٭      ابوبکر نے ایک دفعہ حق خاتون واپس کیا اور
تحریر بھی کر دیا لیکن عمر نے وہ تحریر لے کر پھاڑ ڈالی۔

٭      وَاٰتِ ذَالْقُرْبیٰ حَقَّہ¾ (پ ۵۱، آیت ۶۲)
حق سے مراد فدک اور اسکا علاقہ ہے (ج ۹ص ۳۲، ۴۲)

٭      امام جعفر صادقؑ نے فرمایا سواری کے بھی چھ
(۶) حقوق ہیں:

         (۱) اس کی طاقت سے زیادہ بوجھ نہ ڈالے

        (۲)
اس کی پیٹھ پر بیٹھ کر اس کو روکے نہ رکھے

        (۳)
اترتے ہی اس کو چارہ یا دانہ پیش کرے

        (۴)
اس کے منہ پر نہ مارے

        (۵)
اس کے منہ پر داغ نہ لگائے

        (۶)
جب پانی کے پاس سے گزرے تو اس کو پانی پینے کی مہلت دے (ج ۹ص۴۳)

٭      حقوق کی ادائیگی کرنے والے بروز محشر
گھبراہٹ سے محفوظ ہوں گے (ج ۹ص۶۵۲)

٭      قیامت کے روز پہلی منزل پر حقوق الناس کا سوال
ہوگا اور ہر مظلوم کو حکم ہو گا کہ اپنے غاصب سے اپنے حقوق و صول کرو (ج ۲۱ص ۸۳۱)

٭      حقوق نہ ادا کرنے والے بد بو دار محشور ہوں
گے (ج ۴۱،س ۴۶۱)

٭      عورت اور مرد کے حقوق (ج ۳ص۱۶)

٭      کاشتکار پر کھیتی کے حقوق (ج ۵ص ۲۶۲)

٭      بڑے بیٹے پر واجب ہے کہ والدین کے واجبات
ادا کرے چنانچہ ان کی قضا نمازوں کا پڑھنا اس پر واجب ہے (ج ۹ص ۹۴)

٭      والدین کے ساتھ نیکی کرنے کے ساتھ ساتھ
والدہ کےلئے خصوصی تاکید فرمائی گئی ہے(ج۳۱ ص۵۲)

حکمت : حکمت کی تفسیر اطاعت خدا معرفت امام
اور گناہوں سے اجتناب کی گئی ہے، اسی طرح علم قرآن علم دین اور معرفت و خوف خدا
بھی حکمت سے مراد لئے گئے ہیں۔

٭      حضرت امام جعفر صادقؑ نے حکمت کا معنی
معرفت اور دین میں فقہ حاصل کرنا بتایا، آپ ؑ نے فر مایا حکمت معرفت کا نور تقویٰ
کی میراث اور سچائی کا پھل ہے اگر میں کہوں کہ کوئی نعمت، نعمت ِحکمت سے زیادہ
قیمتی و بلند تر نہیں تو بجا ہو گا (ج ۳ص ۱۶۱)

حکومت جور: حکومت ِ جور کی طرف مقدمہ لے
جانا حرام ہے (ج ۲ص ۰۴۲)

٭      حکومت جور سے محبت حرام ہے (ج ۵ص ۳۵۱)

٭      حکومت جور کی مذمت (ج ۶ص ۳۶)

 ٭    
حکومت جور کی تشریح (ج ۸ص ۵۵)

حلالہ : حلالہ کا صحیح طریقہ جو قرآن مجید
میں بیان کیا گیا ہے (ج ۳ص ۲۷)

حلال و حرام : حلال جانور (ج۳ص ۴۱)

٭      حرام جانور کون سے ہیں (ج ۵ص ۷۱)

٭      حلّیت و حرمت کا معیار (ج ۵ص ۹۱ تا ۴۲، ۲۴
تا ۰۵)

٭      اضطراری حالت میں حرام اس قدر کھایا جاسکتا
ہے کہ جان بچ جائے (ج ۵ص ۰۵۲)

٭      عربوں کے نزدیک حلال و حرام کا معیار اور حکم
خدا (ج ۵ص ۷۵۲،۳۶۲- ج ۷ص ۰۷۱-ج ۰۱ص ۶۴)

حیوانات : جو شخص حیوانات کی زکوٰة ادا نہیں
کرتا بروز محشر وہی حیوان اس پر مسلط ہو کر اس کو ماریں گے بعض اس کو دانتوں سے
کاٹیں گے اور بعض پاﺅں تلے روندیں گے (ج ۸ص ۰۹)

٭      اللہ نے حیوانات کی تخلیق انسانوں کے منافع
کےلئے فر مائی ہے کہ سردیوں اور گرمیوں کے لباس ان کی اون اور چمڑوں سے بنائے
جاسکتے ہیں، کھانے کے کام آتے ہیں، سواری اور بار برداری کا فائدہ لیا جا سکتا ہے،
یہ حیوانات گھر کی زینت ہیں (ج۸ ص۸۹۱)

٭      وہ مادہ حیوانات جن سے دودھ حاصل ہوتا ہے
اگر سوچا جائے تو اللہ کا کس قدر احسان ہے کہ خون اور گوبر کے درمیان سے خالص دودھ
تیار کر کے انسان کو دیتا ہے (ج۸ص ۴۲۲)

٭      حیوانوں کے چمڑوں اور اون سے ہلکے پھلکے
گھر بنائے جاسکتے ہیں (ج ۸ص ۱۳۲)

٭      حیوانات کی تفصیل (ج۰۱ص ۹۴۱)

٭      دریائی جانوروں نے ایک دفعہ حضرت سلیمان
ؑسے ایک دن کی خوراک کا مطالبہ کیا تو آپ ؑ نے منظور فرمایا، آپ ؑ نے ایک ماہ تک
دریا کے کنارے غلہ جمع کرایا جو پہاڑ بن گیا لیکن ایک دریائی جانور (مچھلی) نے سر
باہر نکالا اور سب غلہ کو ایک لقمہ میں کھالیا اور حضرت سلیمان ؑ سے مزید خوراک کا
مطالبہ کیا حضرت سلیمان ؑ نے اس سے پوچھا کہ سمندر میں تیری مثل کوئی اور جانور
بھی ہے تو اس نے کہا ہزار ہا (ج ۰۱ص ۹۴۱)

حاملہ : حاملہ عورت کو اللہ کی راہ میں
مرابطہ کا ثواب ملتا ہے (ج ۴ص ۸۱۱)

٭      ہر موئنث کے شکم میں جو کچھ ہے اس کو صرف
اللہ ہی جانتا ہے (ج ۸ص۲۱۱)

٭      حمل کا اسقاط بھی قتل نفس شمار ہوتا ہے (ج
۹ص ۷۲)

٭      حضرت مریم ؑ کا حمل (ج ۹ص ۳۴۱)

٭      نمرود کے حکم سے بچنے کےلئے حضرت ابراہیم ؑ
کی والدہ کے حمل کو اللہ نے مخفی رکھا حتیٰ کہ دایہ عورتوں کو باوجود گہری تفتیش
کے بھی پتہ نہ چل سکا (ج ۹ص۳۵۱)

٭      حمل گرانے کا خون بہا (ج ۰۱ص ۹۵)

٭      حضرت موسیٰؑ کی والدہ کا حمل مخفی رکھا گیا۔

٭      حضرت فاطمہ ؑحضرت امام حسین ؑ سے حاملہ
ہوئیں تو غمگین تھیں اور جب حسین ؑ پیدا ہوئے تو غمگین تھیں (ج ۳۱ص ۳۲)

٭      بچے کے حمل و فصال کی کل مدت قرآن مجید نے
تیس ماہ بتلائی ہے تو چونکہ دوسرے مقام پر دودھ کی مدت حولین کاملین بتائی گئی ہے
لہذا ثابت ہوا مدت حمل چھ ماہ ہو سکتی ہے۔

حاملین عرش : (ج۲۱ص ۳۴۱ – ج ۴۱ص ۵۹)

 حمزہؑ: حضرت حمزہ ؑ کی جنگ اُحد میں شہادت اور
جسد کا مسئلہ (ج ۴ص ۹۳)

٭      حضرت حمزہ ؑ کے قاتل نے مسیلمہ کذاب کو قتل
کیا تھا (ج ۶ص ۲۲۱)

٭      جعفر طیار ؑ اور حمزہ ؑ بروز محشر انبیا ء
کی گواہی دیں گے (ج ۴۱ص ۰۸)

 حنظلہ : (غسیل ملائکہ) جسکی اسی رات شادی ہوئی
تھی اور شب عروسی کی صبح کو جنگ اُحد تھا پس شامل ہوااورشہید ہوا حضور نے فر مایا
کہااسکو ملائکہ خود غسل دے رہے ہیں اسی لئے اسکا لقب غسیل ملائکہ ہوا (ج۴ص۰۴)

٭      حضرت عیسیٰؑ کے بعد علاقہ یمن میں نبی
مبعوث ہوا جس کا نام حنظلہ تھا (ج ۹ص۸۱۲ – ج ۰۱ص ۸۳)

٭      امت نے حضرت عیسیٰؑ کے بعد مبعوث ہونے والے
نبی حضرت حنظلہ کو قتل کر دیا (ج ۰۱ص ۸۷۱)

حور:  
زمین پر اُترنے والے فرشتے جب واپس جاتے ہیں تو حور انِ جنت اُن سے خاک شفا بطور
تبرک مانگتی ہیں (ج ۴ص۴۱(

٭      اولاد آدم کا سلسلہ نسل چلانے کےلئے اللہ نے
شیث کےلئے حور بھیجی جس کا نام نزلہ تھا اور یافث کےلئے حور بھیجی جس کا نام منزلہ
تھا پس شیث کا لڑکا اور یافث کی لڑکی اور پھر ان کے باہمی نکا ح سے اولاد آدم بڑھی
(ج ۴ص ۶۰۱)

٭      جنتی ہر آلائش سے پاک ہو کر جنت میں پہنچیں
گے تو حوریں انکا استقبال کریں گی(ج ۹ص۶۶۱)

٭      جب مومن کی طرف حور دیکھے گی تو اس کے نور
سے محلات جنت روشن ہو جائیں گے (ج ۱۱ص ۰۵۱)

٭      حوران جنت پیار و محبت سے پیش آئیں گی (ج
۱۱ص ۷۶۲)

٭      حور جمع ہے حورا ء کی جس کا معنی ہے کشادہ
جسم (ج۳۱ ص ۷۳۱)

٭      قَاصِرَاتُ الطَّرْف کی تشریح (ج ۳۱ص۷۸۱)

٭      حورانِ جنت کی تعریف (ج ۳۱ص ۰۹۱)

٭      حورعین کشادہ و سیاہ چشم (ج ۳۱ص ۷۹۱)

٭      ایک ایک جنتی کو سینکڑوں بلکہ ہزاروں کی
تعداد میں حوریں ملیں گی (ج ۳۱ص ۱۰۲)

٭      سورہ نوح کے فضائل میں ہے کہ اسکی تلاوت
کرنے والے کو سینکڑوں حوریں ملیں گی (ج ۴۱ص ۶۰۱)

 حوا ؑ : حضرت حوا ؑ کی پیدائش (ج ۴ص ۵۰۱ – ج ۶ص
۶۴۱)

٭      ابلیس کا حوا ؑپر وسوسہ ڈالنا (ج ۲ص ۲۹)

٭      آدم ؑو حوا ؑ کا گریہ (ج ۵ص ۵۹)

حوارییّن : (ج ۳ص ۲۴۲) حواریّین نے حضرت
عیسیٰؑ سے مائدہ کے اُترنے کا سوال کیا تو حضرت عیسیٰؑ نے دعامانگی پس سرخ رنگ کے
رومال میں ایک مائدہ اُترا (ج ۵ص ۲۸۱)

حیات مسیحؑ: (ج ۳ص ۲۴۲ تا ۶۴۲)           

حیض کا بیان: حیض و نفاس والی عورت پر قرآن
کی سُوَرِ عزائم(وہ سورتیں جن میں سجدہ واجب ہے) کا پڑھنا حرام ہے (ج ۱ص ۳۴)

٭      مسائل حیض (ج ۳ص۳۵ تا ۵۵)

٭      یہودیوں کی جن بد عادتوں کی وجہ سے اُن پر
عذاب آئے ایک وجہ یہ بھی تھی کہ ایام حیض میں عورتوں سے ہمبستری کرتے تھے (ج ۵ص
۳۵۱)

٭      حیض کا آنا عورت کے بلوغ کی علامت ہے (ج ۹ص
۹۲)


Posted

in

by

Tags:

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *