anwarulnajaf.com

تفسیر میں موجود ” ن ” سے شروع ہونے والے موضوعات | تفسیر انوار النجف جلد 15 | tafseer anwar ul najaf jild 15 | shia books online

نبی: ضرورت نبی (ج۳ص۰۴۱،۱۴۱ -ج۱ص۶۸۱
-ج۷ص۴۴۱)

٭      ختم نبوت (ج۱ص۵۹)

٭      عصمت انبیا ء (ج۱ص۲۹۱-ج۹ص۴۲-ج۲ص۸۹)

٭      مقام نبوت (ج۸ص۹،۳۲،۴۲-ج۲۱ص۵۶۱-ج۱۱ص۲۶)

٭      حضرت یوسف ؑ کی نسل سے نبوت کو ختم کر
دیا(ج۸ص۴۸)

٭      نبی کی اولویت(ج۱۱ص۸۵۱-ج۱۱ص۲۲)

٭      تعداد انبیا ء ایک لاکھ چوبیس
ہزار(ج۳ص۲۳۱-ج۹ص۵۴۲-ج۲۱ص۵۶۱)

٭      انبیا ء ملائکہ سے افضل ہیں(ج۶ص۱۲)

٭      نبا ءعظیم (ج۲ص۶۰۱-ج۲۱ص۵۶۱)

٭      مراتب انبیا
ء(ج۱ص۳۶-ج۳ص۲۳۱-ج۴ص۸۸-ج۶ص۵۸،۸۸-ج۳۱ص۲۰۲)

٭      نبی اور رسول میں فرق(ج۳ص۸۳۲-ج۹ص۵۵۱-ج۰۱ص۰۴،۱۴)

ناخن: ناخن اور زیر نا ف بال صاف کرنا ملت
ابراہیمی ہے(ج۲ص۱۷۱-ج۵ص۲۷۱)

٭      نماز جمعہ کو جاتے ہوئے بال اتروانا اور
ناخن کٹوانا مستحب ہے(ج۴۱ص۰۲)

ناکثین: ناکثین، مارقین وقاسطین (ج۷ص۰۲،۱۲)

ناپ تول: ناپ تول میں کمی سے منع (ج۴۱ص۸۸۱)

ناد علی ؑ: (ج۴ص۱۴)

 ناقہ صالح علیہ السلام: (ج۶ص۹۴،۴۵)

نجاشی: نجاشی بادشاہِ حبشہ اپنے ملک میں فوت
ہوا، اس کا اصل نام عطیہ تھا اورحضرت پیغمبر نے مدینہ میں اس کی نماز جنازہ پڑھی
(ج۴ص۱۰۱)

٭      نجاشی کے پاس مسلمانوں کا ہجرت کر کے جانا
اور اس وفد کا سربراہ جعفر طیار تھا، چنانچہ مفصل گفتگو کے بعد بادشاہ کی ہمدردیاں
مسلمانوں نے حاصل کر لیں اور کفار کو ناکامی کا سامنا کر نا پڑا(ج۵ص۴۵۱،۸۵۱،۰۶۱)

نجاست: نجاست مشرکین (ج۷ص۶۳،۷۳)

٭      نجاسات (ج۷ص۸۳)

٭      نجس اور حرام میں فرق (ج۵ص۲۳)

٭      نجاست کے رفع اور دفع میں فرق (ج۰۱ص۱۲)

نجف اشرف: نجف میں حضرت علی ؑ کے روضہ میں
حضرت آدم ؑ وحضرت نوح ؑ مدفون ہیں (ج۶ص۴۴)

٭      نجف اس جگہ کا نام ہے جہاں حضرت موسیٰؑ کو
شرف کلام نصیب ہوا (ج۰۱ص۶۳)

نجم : حضرت ابراہیم ؑ کا استدلال چلو یہ
ستارہ خدا سہی جب ڈوبا تو فرمایا یہ خدا کی شان نہیں پھر چاند پرستوں سے خطاب کیا
اور آخر میں سورج پر ستوں پر اتمام حجت کر کے فرمایا میں شرک سے بری ہوں (ج۵ص۴۳۲)

٭      اس اللہ نے سورج،چاند،ستارے تمہارے لئے مسخر
کئے (ج۸ص۰۰۲)

٭      نجم تمہارے لئے باعث ہدایت ہیں اس سے مراد
آل محمد ہیں (ج۸ص۱۰۲)

٭      حضرت خضر ؑکے والد علم نجوم کے ماہر تھے
(ج۹ص۱۲۱)

٭      نجومیوں کی باتوں پر ایمان لانا فضا کی
تاریکی کا باعث ہے (ج۱۱ص۰۲۱)

٭      حضرت ابراہیم ؑ کے زمانہ میں علم نجوم کا
چرچا تھا (ج۲۱ص۳۵)

٭      فرعون کو نجومیوں نے خبر دی کہ بنی اسرائیل
میں پیدا ہونے والا بچہ تیری سلطنت کے زوال کا باعث بنے گا۔

٭      سورہ نجم کے فضائل (ج۳۱ص۴۴۱)

٭      نجم کی قسم (ص۵۴۱)

٭      نجم و شجر اللہ کا سجدہ کرتے ہیں (ج۳۱ص۹۷۱)

٭      مواقع نجوم کی قسم قرآن کریم کو مطہرون ہی
مس کر سکتے ہیں(ج۳۱ص۲۰۲)

نجویٰ (سرگوشی): بری قسم کی سرگوشی سے منع
ہے (ج۳۱۶۳۲)

٭      آیت نجویٰ جس پر حضرت علی ؑ نے ہی عمل کیا
سورہ مجادلہ (ج۳۱۸۳۲)

ناجی فرقہ : امت محمدیہ کے تہتر (۳۷)فرقوں
میں سے ناجی ایک فرقہ ہے (ج۲ص۷۶۱،ج۴ص۶۲، ج۵ ص۴۴۱ ص۰۰۲، ج۶ ص۰۴۱،ج۸ص۸۶۱،ج۳۱ص۴۴۲)

٭      ناجی وہی ہوں گے جو آل محمد کا دامن تھام
لیں گے (ج۵ ص۰۸ ص۱۸،ج۶ص۴۸ص۷۰۱)

نجران کے نصاریٰ: نجران کے نصاریٰ سے بحث
پھر مباہلہ (ج۳ص۷۴۲)

نحر کرنا: نحراُونٹ کے لئے ہے (ج۵ص۲۲ص۷۴)

نذر : (ج۳ص۹۱۲ص۴۱ص۷۴۱)

نسخ : قرآن کے تمام ناسخ و منسوخ کا علم
حضرت علی ؑ کے پاس ہے (ج۱ص۱۷ص۴۷ص۸۲۱)

٭      مَا نَنْسَخْ مِنْ آی©َةٍ کی
تفسیر(ج۲ص۳۵۱ص۴۱۲ص۶۳۲،ج۵ص۰۵،ج۸ص۴۴۲)

٭      انجیل منسوخ ہوچکی ہے (ج۵ص۵۱۱)

٭      انفال منسوخ نہیں ہیں(ج۶ص۶۵۱)

٭      پہلے جب صیغہ اخوت جاری ہوا تو ایک کے مرنے
کے بعد دوسرااس کا وارث ہوتا تھا لیکن آیت اُوْلُوْالْاَرْحَامْ نے اس وراثت کے
حکم کا منسوخ کردیا (ج۱۱ص۱۶۱)

٭      کیا وقت ِ عمل سے پہلے حکم کا نسخ جائز ہے؟
(ج۲۱ص۷۶)

نِسَائَنَا: آیت ِ مباہلہ کی تفسیر
(ج۳ص۰۵۲ص۵۵۲)

نسلی تفاخر : اَجَعَلْتُمْ سِقَایَةَ
الْحَاجِّ (ج۴ص۰۳،ج۳۱ص۵۰۱)

نسیان: نسیان کی نفی (ج۲ص۳۵۱، ج۵ص۸۲۲)

٭      امت محمد یہ سے نسیان معاف (ج۳ص۴۸۱)

٭      جب انشا ء اللہ کہنا بھول جائے تو جب بھی
یاد آئے کہنا چاہیے (ج۹ص۳۹)

٭      حضرت موسیٰؑ او رحضرت یوشعؑ کو مچھلی بھول
گئی (ج۹ص۸۰۱)

نشہ : نشے کی اقسام (ج۶ص۰۶)

٭      فتح اور کامیابی کا بھی ایک نشہ ہوا کرتا ہے
(ج۶ص۰۶)

٭      کثرت مال و اولاد بھی ایک نشہ ہے (ج۶ص ۰۶)

٭      لالچ ایک نشہ ہے کہ کسی ناصح کی نصیحت اس
پر اثر ہی نہیں کرتی (ج۶ ص ۰۶)

نصاریٰ: لفظی فصاحت (ج۲ص۲۲۱)

٭      نصاریٰ کے تین گروہ(ج۵ص۷۷، ج۹ص۰۵۱)

٭      نصاری و صائبین و یہود کے ایمان لانے کی
وضاحت (ج۲ص۸۱۱، ج۵ص۷۴۱)

٭      نصرانی بادشاہِ حبشہ عطیہ المعروف نجاشی کی
طرف مسلمانوں کی ہجرت (ج۵ص۴۵۱)

٭      شاہ ِروم نصرانی کی معاویہ و حضرت علی ؑ کے
درمیان مصالحتی کوشش(ج۲۱ص۴۰۲)

نطفہ ومنی : نطفہ و منی سے پیدا ہونے والابچہ
کبھی ماں کے اور کبھی باپ کے مشابہ ہوتاہے اس کی وجہ کیا ہے؟ یہودی کا سوال اور
حضرت پیغمبر کا جواب (ج۲ص۶۴۱)

٭      نطفہ و منی کا اِخراج روزے کا مبطل ہے
(ج۲ص۶۲۲)

٭      نبی کی نجاست (ج۵ص۳۲ص۸۶، ج۷ص۸۳،
ج۴۱ص۷۵۱ص۷۷۱)

٭      نطفہ سے انسان (ج۶ص۹۳ص۲۴ص۸۴۱ص۸۹۱، ج۹ص۵۲۲،
ج۰۱ص۸۵،ج۱۱ ص ۶۳۱، ج۲۱ص ۰۳،ج۳۱ص ۴۰۲)

٭      شکم مادر میں نطفہ پر بروج کے اثرات کا ترتب
(ج۹ص۱۲۱)

نظر بد : (ج۸ص۰۶، ج۱۱ص ۵۶۱، ج۲۱ص۷، ۴۱ص۱۹)

نعماتِ خداوندی:
(ج۸ص۹۹۱ص۲۰۲ص۴۲۲ص۸۲۲ص۸۴۲،ج۹ص۲۴،ج۰۱ص۴۴ص۴۶ ص۶۷ص۸۳۱ص۷۰۲، ج۱۱ص۸۳۱، ج۴۱ص۰۹)

نفس کی تحقیق: (ج۱۱ص۰۶۱)

٭      نفس واحدہ (ج۴ص ۴۰۱ – ج۶ ص۹۴۱-ج۲۱ص۲۱۱)

٭      نفس لوّ امہ (ج۴۱ص۸۳۱)

٭      نفس مطمئنہ (ج۴۱ص۰۲۲)

نفخ صور : (ج۵ص۱۳۲، ج۸ص۸۳۱، ج۹ص۸۲۱،ج۰۱ص۵۶۲،
ج۲۱ص۵۲ص۵۳)

٭      نفح صور تک حضرت خضر ؑ کوموت نہیں آئے گی
(ج۹ص۲۲۱)

٭      نفح اوّل و نفخ ثانی میں چالیس برس کا فاصلہ
ہوگا (ج۹ص۰۶۱) پچاس برس کا فاصلہ ہوگا(ج۰۱ص۹۸)

٭      فزع اکبر سے مراد نفخ صور ہے (ج۹ص۷۵۲)

٭      قیامت صغریٰ اِسی کو کہتے ہیں (ج۹ص۴۳۱ص۹۳۱)

نقدی : نقدی کا فلسفہ (ج۳ص۵۷۱، ج۷ص۳۷)

نکاح : (ج۲ص۷۹ص۰۰۱ص۰۰۲، ج۴ص۵۰۱)

٭      مشرک عورتوں سے نکاح کی ممانعت (ج۵ص۲۵)

٭      امام محمدتقی علیہ السلام کے مامون کی لڑکی
ام الفضل سے نکاح کے سلسلہ میں بنی عباس کی سازشیں اور پھر یحییٰ بن اکثم سے بھرے
دربارمیں مناظرہ (ج۵ص۹۶۱)

٭      ایک عورت کا اپنے شوہر پر چوبیس گھنٹے کے
اند ر چار دفعہ حرام ہونا اور چا ر دفعہ حلال ہونا(ج۵ص۱۷۱)

٭      ایک سے زیادہ نکاح کرنے کا جواز
(ج۴ص۰۱۱ص۲۱۱)

٭      عورت مرد پر تین طریقوں سے حلال ہے:

۱۔نکاح
با میراث ۲۔ نکاح بلامیراث (متعہ) ۳۔ ملکیت یعنی منکوحہ ممتوعہ اور کنیز مرد پر
حلال ہیں تفصیل مسائل کتب فقیہ میں موجود ہے (ج۰۱ص۶۵)

٭      جس شوہر دار عورت سے کوئی مرد زنا کرے وہ
عورت ہمیشہ کے لئے اس مرد پر حرام ہوجاتی ہے (ج۰۱ص۶۱۱ص۰۲۱)

٭      زینب بنت جحش سے حضرت پیغمبر کا نکاح
(ج۱۱ص۸۹۱ص۰۰۲)

نگینہ: وہ انگوٹھی جو حضرت علی ؑ نے رکوع
میں دی تھی اس کا نگینہ یاقوتِ سرخ کا تھا (ج۵ص۴۳۱)

نماز: نماز مومن کے لئے معراج ہے (ج۲ص۴۴،
ج۹س۹،ج۷ص۳۴۲)

٭      نماز متقی لوگوں کی علامت ہے (ج۲ص۲۵،
ج۶ص۶۶۱ص۸۶۱ص۱۷۱ص۳۷۱، ج۰۱ص۳۳ ص۳۵، ج۲۱ص۷۳، ج۴۱ص۴۱۲)

٭      تارک نماز کو اللہ نے مشرک کہا ہے
(ج۲ص۹۸ص۶۳۱، ج۶ص۴۶۱، ج۱۱ص ۰۱۱ص۰۲۱)

٭      نماز کا حکم (ج۰۱ص۱۰۱ص۵۵۱ص۱۲۲،
ج۷ص۱۷ص۵۶ص۰۴۲ص۱۴۲،ج۸ص۹۲۱،ج۹ ص۷۴ص۰۶ص۸۷، ج۴۱ص۳۰۱)

٭      نمازوسطیٰ: (ج۳ص۶۸ص۷۸)

٭      وہ غازی جس نے نماز کی ایک رکعت بھی نہیں
پڑھی لیکن سیدھا جنت میں گیا (ج۴ص۰۴)

٭      بااطمینا ن دو رکعت نماز بد دلی کی رات بھر
کی نماز سے افضل ہے (ج۴ص۶۶)

٭      رَابِطُوْاکی تفسیر میں حضرت پیغمبر نے
فرمایا کہ افضل الاعمال تین ہیں:

 ۱۔وضو مکمل کرنا ۲۔ نماز باجماعت کی طرف جانا ۳۔
نماز کے بعد دوسری نماز کا انتظار کرنا(ج۴ ص۲۰۱)

٭      نماز غفیلہ: مغرب وعشا ء کے درمیان دو رکعت
نماز، پہلی رکعت میں بعد از الحمد یہ آیہء شریفہ پڑھے: وَذَالنُّوْنِ اِذْا ذَھَبَ
مُغَاضِبًا فَظَنَّ اَنْ لَنْ نَقْدِرَ عَلَیْہِ فَنَادیٰ فِی الظُّلُمَاتِ اَنْ
لا اِلٰ©ہَ اِلَّا اَنْتَ سُبْحَانَکَ اِنِّیْ کُنْتُ مِنَ الظَّالِمِیْن
فَاسْتَجَبْنَالَ©ہُ وَنَجَّیْنَاہُ مِنَ الْغَمِّ وَکَذٰلِکَ نُنْجِی
الْمُوْمِنِیْن

 دوسری رکعت میں بعد ازسورہ الحمد یہ آیہ شریفہ
پڑھے: وَعِنْدَہُ مَفَاتِیْحُ الْغَیْبِ لا یَعْلَمُھَا اِلَّا ھُوَ وَیَعْلَمُ
مَا فِی البَّرِّ وَالْبَحْرِ وَ مَا تَسْقُطُ مِن وَّرَقِةٍ اِلَّا یَعْلَمُھَا
وَلاحَبَّةٍ فِی ظُلُمَاتِ الْاَرْضِ وَلا رَطْبٍ وَّ لا یَابِسٍ اِلَّا فِیْ
کِتَابٍ مُبِیْن اس نماز کے بعد جو دعا مانگی جائے اللہ قبول فرمائے گا (الصادقی)
(ج۵ص۵۲۲)

٭      نماز کے لئے جاتے وقت عمدہ لباس پہن کر اور
تیاری کرکے جانا چاہیے (ج۶ص۴۲)

٭      نماز قبول تو باقی اعمال بھی قبول ورنہ باقی
اعمال مردود ہوں گے (ج۶ص۲۱۱)

٭      مسجد سہلہ میں نماز کا ثواب (ج۷ص۵۲)

٭      مسجدکوفہ میں نماز کا درجہ (ج۷ص۵۱۲-ج۸ص۵۶۲)

٭      حدیث بساط اور صبح کی نماز (ج۹ص۳۸)

٭      حضرت موسیٰؑ کو حکم نماز (ج۹ص۴۷۱)

٭      حضرت علی ؑ کی عبادت نہ غلامانہ نہ تاجرانہ
بلکہ عابدانہ تھی (ج۹ص۱۵۲)

٭      نماز برائی اور بے حیائی سے روکتی ہے
(ج۱۱ص۷۸)

٭      نماز تہجد (ج۱۱ص۹۴۱)

٭      نماز وتر(ج۹ص۲۵)

٭      حضرت ابراہیم ؑ کی ملکوتِ سما کی سیر اور
شیعہ کے علائم نماز اکاون رکعت(ج۲۱ص۳۴-ج۵ ص۳۳۲)

٭      فرشتوں کا موضوع بحث دو چیزیں ہیں: ۱۔
کفارات ۲۔درجات

کفارات تین ہیں: موسم سرما کا وضو ، جماعت
کی طرف جانا ، بعد والی نماز کا انتظار کرنا

درجات بھی تین ہیں: سلام کہنا ، روٹی دینا ،
رات عبادت میں بسر کرنا(ج۲۱ ص۷۰۱- ج۳۱ص۴۵۱)

٭      نماز جمعہ (ج۴۱ص۳۲،۷۲)

٭      طریقہ نماز شیعہ (ج۴۱ص۰۲۱،۲۲۱)

٭      جہنمی کہیں گے ہم نماز نہ پڑھنے کی وجہ سے
دوزخ میں ڈالے گئے ہیں (ج۴۱ص۶۳۱)

٭      نافلہ نماز کا ثواب (ج۴۱ص۴۴۱)

٭      نماز خوف کا بیان(ج۳ص۱۹-ج۳ص۱۹-ج۵ص۴۷)

٭      نماز باجماعت (ج۲ص۲۰۱-ج۴ص۲۰۱-ج۲۱ص۷۰۱)

٭      نماز باجماعت میںقراءت (ج۶ص۳۵۱)

٭      نماز باجماعت نہ پڑھنے والوں سے بائیکاٹ کا
حکم(ج۷ص۸۲)

٭      جس مسجد میں نماز نہ پڑھی جائے بروز محشر
شکوہ کرے گی (ج۷ص۷۲)

٭      حضرت یوسف ؑ کے بھائیوں نے حضرت یوسف ؑ کو
کنوئیں میں ڈال کر نماز باجماعت ادا کرکے اللہ سے دعا مانگی کہ اے پروردگار ہمارا
راز فاش نہ کرنا (ج۸ص۸۱)

٭      نماز باجماعت میں مردوں کے لئے اگلی صف میں
کھڑا ہونا زیادتی ثواب کا موجب ہے اور عورتوں کے لئے پچھلی صف میں کھڑا ہونا بہتر
ہے (ج۸ص۶۷۱)

٭      حضرت پیغمبر نے شب معراج بیت المعمور پر
نماز انبیا ء کو پڑھائی تو آیت نازل ہوئی: فَسْئَلِ الَّذِیْنَ یَقْرَئُ وْنَ
الْکِتٰبَ مِنْ قَبْلِکَ(سورہء یونس آیت ۴۹) پس حضورنے سوال کیا تو سب نے جواب
دیاکہ ہم اللہ کی الوہیت تیری نبوت اور علی ؑ کے امیر المومنین ہونے کی شہادت دیتے
ہیں (ج۸ص۲۶۲)

٭      نماز باجماعت کا ثواب (ج۴۱ص۹۸)

نمرود کاذکر : حضرت ابراہیم ؑ کا نمرود کے
بھرے دربارمیں موضوعِ توحید پر مناظرہ (ج۳ص۲۴،۴۴۱)

٭      آذر نمرود کا مختیارعام ا ور وزیر مملکت تھا
اور علم نجوم میں کافی مہارت رکھتاتھا (ج۵ص۱۳۲)

٭      نمرود بن کنعان (ج۸ص۶۰۲)

٭      آتش نمرودی سے حضرت ابراہیم ؑکا نجات پانا
یوم غدیر تھا (ج۵ص۷۳)

٭      نمرود و بخت نصر و ہ کافر ہیں جو پوری دنیا
کے فرمانروا تھے(ج۹ص۰۳۱)

٭      نمرود کے حکم قتل کے ڈر سے ابراہیم ؑکی
تربیت مخفی ہوتی رہی (ج۵ص۱۳۲- ج۹ص۳۵۱،۴۵۱)

٭      حضرت ابراہیم ؑپربت شکنی کا کیس اور نمرود
کی طرف سے آگ میں پھینک دینے کا حکم (ج۹ص۲۳۲)

٭      نمرود کی لڑکی رعضہ کا ایمان اور سزائے موت
(ج۹ص۹۳۲)

٭      نمرود کے مشیرانِ سلطنت حرامزادے تھے جنہوں
نے ابراہیم ؑ کی سزائے موت کا حکم دیا(ج۱۱ص۹۴۱)

٭      آتش نمرودی میں انگاروں کے مُصلّٰی پر بیٹھ
کر کلمہ حق کا بلند کرنا ابراہیم ؑ کا کام تھا (ج۲۱ص۹۲۲)

٭      نمرود کا عوام الناس کو گمراہ کرنے کےلئے
غبارہ میں بیٹھ کر اسے پرندوں کے ذریعے اڑانا (ج۸ص۳۶۱)

٭      نمرودی آگ میں حضرت جبرائیل ؑ نے حضرت
ابراہیم ؑ کو مدد کی پیش کش کی تو حضرت ابراہیم ؑنے کہا کہ مجھے اللہ کافی ہے
(ج۷ص۱۴)

نیکی کرنا: خدا وند کریم نیک لوگوں کی بدولت
گنہگاروں کو بھی عذاب سے امان دیتا ہے (ج۳ص۶۲۱)

٭      گناہ ایک کا ایک اور نیکی کا بدلہ ایک کا دس
گنا لکھا جاتا ہے(ج۲ص۸۸-ج۳ص۴۸۱)

٭      نیکی کی دعوت دینے والے نامہء اعمال میں وہ
تمام نیکیاں درج ہونگی جو اس کے کہنے پر لوگوں نے کی ہوں گی اور برائی کی دعوت
دینے والے کے اعمال میں وہ تمام برائیاں لکھی جائیں گی جو اس کے کہنے پر لوگوں نے
کی ہوں گی (ج۸ص۸۰۲)

٭      نیکی کی نیت بھی نیکی ہے اور مومن کو اس کا
ثواب بھی ملے گا (ج۹ص۶۶)

٭      اگر انسان نیکی کا ارادہ کرے تو ایک نیکی
لکھی جائے گی اور اگر نیکی کرے تو دس گنالکھی جائے گی اور برائی کا ارادہ کرے تو
کچھ نہ لکھا جائے گا لیکن اگر گناہ کرلے تو سات گھنٹے تک کچھ نہیں لکھا جاتا کہ
شاید توبہ کرلے اور سات گھنٹوں کے بعد ایک گناہ لکھا جاتا ہے (ج۳۱ص۵۱۱،۶۱۱)

نو چیزیں: نو چیزیں ایسی ہیں کہ ان کےلئے
گنا ہ کرنے کے باوجود انسان مرفوع القلم (اس کے نامہ اعمال میں گناہ نہیں لکھا
جاتا) ہوتا ہے:

 ۱۔ وہ گنا ہ جو بھو ل کر کرے ۲۔ غلطی سے برائی
ہو جائے بلاارارہ ۳۔ لاعلمی ۴۔ بے بسی ۵۔ ظالم کے ظلم کے ڈر سے جو گناہ ہو ۶۔ حالت
اضطرار میں جو گناہ ہو ۷۔ فال بد ۸۔ تو حید کے بارے میں غلط انداز فکر جس پر وہ
خود راضی نہ ہو ۹۔ حسد جبکہ اس پر عمل پیرا نہ ہو (ج۳ص۶۸۱-ج۹ص۶۲)

نیک اولاد : بنی اسرائیل میں ایک نیک لڑکے
کی کہانی جس کی گائے خریدی گئی اور مردہ لاش کو زندہ کیا گیا اور اس نے اپنے
قاتلوں کی نشاندہی کی (ج۲ص۴۲۱)

٭      نیک اولاد (ج۹ص۱۲)

٭      نیک اولاد کے فرائض (ج۲ص۰۳۱)

٭      حضرت نوحؑ کا نیک بیٹا (ج۶ص۴۴)

٭      نیک باپ کی اولاد کی اللہ خود حفاظت فرماتا
ہے (ج۹ص۸۱۱)

٭      نیک اولاد باپ کےلئے باقیات الصالحات ہے
(ج۹ص۱۰۱)

٭      نیک اولاد صدقہ جاریہ ہے (ج۲۱ص۰۱-ج۴۱ص۵۸۱)

٭      نبی نسل کی تربیت (ج۹ص۶۲)

نوحؑ: حضرت نوحؑ کا ذکر
(ج۵ص۶۳۲-ج۶ص۲۴،۴۴-ج۷ص۳۷۱،۳۰ ۲-ج۹ص۹۳۲- ج۰۱ص۴۶،۲۰۲ -ج۱۱ ص۱۷ -ج۳۱ص۱۳۱،۸۶۱)

٭      حضرت نوحؑ نے اپنے بیٹے سام کو اپنا ولی
عہد مقرر کیا (ج۲ص۰۰۱)

٭      حضرت نوحؑ کاگھر مسجد کوفہ کے مقام پر تھا
(ج۷ص۵۲)

٭      حضرت نوحؑ کا اپنے بیٹے (کنعان) کی سفارش
ترک اولیٰ تھا (۶ص۱۶)

٭      حضرت نوحؑ کے پاس اسم اعظم کے پندرہ (۵۱)
حروف تھے (ج۰۱ص۸۴۲)

٭      شاہِ روم نے جو تصویریں حضرت حسن ؑ کو پیش
کی تھیں ان میں حضرت نوحؑ کی تصویر تھی جس کو امام ؑنے پہچانا اورفرمایا کہ ان کی
عمر ۰۰۴۲برس تھی اور یزید نہ بتا سکا تھا (ج۲۱ص۴۰۲)

٭      حضرت نوحؑ اولوالعزم نبی تھے (ج۴۱ص۸۶)

٭      حضرت نوحؑ اور حضرت لوط ؑ کی بیویوںکی
مثالیں کہ وہ اپنے شوہروں کی وفادار نہ تھیں(ج ۴۱ص۸۶)

٭      حضرت نوحؑ کی تبلیغ رسالت کی گواہی کےلئے
حضرت پیغمبر حضرت جعفر طیار ؑ اور حضرت حمزہ ؑ کو بھیجیں گے پس وہ ان کی گواہی دیں
گے، راوی نے پوچھاکہ اس وقت حضرت علی ؑکہاں ہونگے؟ تو معصوم ؑ نے فرمایا علی ؑ کی
شان اس سے اجل ہے، یعنی وہ حضرت محمد مصطفےٰ کے گواہ ہوں گے (ج۴۱ص۰۸)

٭      سورہ ء نوح کے فضائل (ج۴۱ص۶۰۱)

نور : اَنَا وَ عَلِیٌّ مِّنْ نُوْرٍ
وَّاحِدٍ (ج۲ص۲۱ص۶۲،ج۵ص۰۸ص۳۳۲،ج۰۱ص۸۹ص۹۱۲)

٭      اَلنُّوْرِ الَّذِیْ اُنْزَلَ مَعَہ¾ سے
مراد حضرت علی ؑ و باقی آئمہ ہیں (ج۶ص۵۰۱)

٭      نورِ نبی و نورِ علی ؑ کی وضاحت (ج۷ص۲۵۱)

٭      اَوَّلُ مَا خَلَقَ اللّٰہُ نُوْرِیْ
(ج۸ص۶۶۱، ج۰۱ص۸۹)

٭      نور کی حقیقت (ج۰۱ص۴۹)

٭      قرآن میں نور کا استعمال (ج۰۱ص۶۹)

٭      نور ھُدٰی اور رحمت ہے (ج۰۱ص۷۹)

٭      اَللّٰہُ نُوْرُ السَّمٰوَاتِ کی تاویل و
تشریح (ج۰۱ص۷۳۱)

٭      آئمہ نور ہیں (ج۴۱ص۹۳ص۷۶)

٭      آئمہ کے نور سے کائنات پیدا ہوئی (ج۳۱ص۸۱۱)

نہی عن المنکر : امر باالمعروف اور نہی عن
المنکر یہ فریضہ اس شخص کا ہے جس کی بات موثر ہو اور اسکے اہل ہو اور خود اپنے قول
پر عمل کرنے والا ہو اور معصوم ؑ نے فرمایا اس شخص پر خدا کی لعنت ہے جو لوگوں کو
نیکی کا حکم دے اورخود عمل نہ کرے اور لوگوں کو برائی سے روکے اور خود نہ رُکے!

٭      رسول اللہ سے مروی ہے کہ جب تک معروف کا امر
کرنے والے اور منکر سے روکنے والے رہیں گے خیر و برکت نازل ہوتی رہے گی(ج۴ص۶۲ص۷۲،
ج۵ص۶۷۱)

٭      بنی اسرائیل میں سے برائی کرنے والے اور
برائی سے روک سکنے کے باوجود نہ رو کنے والے عذاب میںگرفتار ہو گئے اور وہ بچ گئے
جو برائی سے نہ روک سکتے تھے پس انہوں نے ان سے قطع تعلقی کرلی
(ج۵ص۲۵۱ص۶۳۱،ج۶ص۰۱۱)

٭      جعفر طیار ؑ نے نجاشی کے دربارمیں بیان کیا
کہ ہمار انبی نیکی کا امر کرتا ہے اور برائی سے روکتا ہے اور اپنی موثر تقریر سے
نجاشی کا دل موم کر لیا (ج۵ص۷۵۱)

٭      نہی عن المنکر کا فریضہ ادا کر سکنے کے
باوجود نہ کرنے والا گویا اعلانیہ اللہ سے دشمنی کرتا ہے اور جو شخص ظالم لوگوں کی
زندگی کو پسند کرے وہ گناہ کو پسند کر تا ہے (ج۵ص۹۱۲)

٭      امر بالمعروف اور نہی عن المنکر ایمان کی
نشانی ہے (ج۷ص۵۹ص۱۳۱ص۳۴۲،ج۱۱ص۷۳۱)

٭      تبلیغ کا موثر طریق کا ر یہ ہے کہ امر و نہی
کو بر محل بجا لائے (ج۷ص۵۳)

٭      حضرت لوط ؑ نے نہی عن المنکر کا فریضہ کس
طرح انجام دیا؟ (ج۱۱ص۷۷)

٭      امر باالمعروف اور نہی عن المنکر کے فریضہ
کو ترک کرنا کسی مصیبت کا پیش خیمہ ہوتا ہے (ج۱۱ص۰۲۱)

٭      حضرت ابراہیم ؑ کا طریق کار نہی عن المنکر
ہے (ج۲۱ص۲۵)

٭      جہاں امر بالمعروف اور نہی عن المنکر سے
خاطر خواہ نتیجہ برآمد ہو نے کا امکان نہ ہو وہاں امر و نہی کا ترک کرنا قابل
ملامت نہیں ہے (ج۳۱ص۳۳۱)

نوع مفر د: (ج۰۱ص۹۰۱،۸۶۱)


Posted

in

by

Tags:

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *