anwarulnajaf.com

تیمم کا بیان

خداوند کریم نے اپنے فیض عمیم اور فیض جسیم سے شریعت
اسلامیہ کو شریعت سہلہ قرار دیا ہے تا کہ اس پر عمل کرنے میں تکلیف محسوس نہ ہو پس
طہارت میں زمین کو پانی کا بدل قرار دے دیا تا کہ عبادت کےلئے وجو یا غسل کے غیر
ممکن ہونے کی صورت میں زمین پر تیمم کر کے فرائض کی بجا آوری ہو سکے پس وضو یا غسل
کے بدلہ میں تیمم کے جائز ہونے کے چند شرائط ہیں۔

1.     پانی میسر نہ ہو حتا کہ حد امکان تک
ڈھونڈنے کے باوجود بھی نہ مل سکتا ہو۔

2.     پانی موجود ہو لیکن پانی تک پہنچناناممکن
ہو ، بے طاقتی اور کمزوری کی وجہ سے یا وقت کی کمی کی وجہ سے کہ آمدروفت کے زمانہ
تک وقت عبادت ختم ہو جانے کا ڈر ہو۔ یا یہ کہ پانی کنویں میں ہو اور پانی کھینچنے
کےلئے ڈرل یا اس کا کوئی بدل موجود نہ ہو اور نہ وہ ممکن الادا رقم سے دستیاب ہوتا
ہے یا یہ کہ پانی تک جانے کےلئے جان مال ناموس وغیرہ کا خطرہ ہو اور کوئی اجرت لے
کر بھی وہاںس ے لانے والا نہ ہو۔

3.     پانی کے استعمال سے بیماری مانع ہو یعنی
بیمار ہونے کا ڈر ہو یا بیماری کے بڑھنے کا خطرہ ہو یا بیماری کے لمبا ہو جانے کا
خوف ہو۔

4.     پانی ہو لیکن اگر اس کو وضو یا غسل میں
استمعال کرے تو بعد میں اپنے لئے یا کسی مال محترم کےلئے پیاس سے مرنے کا خطرہ ہو۔

5.     ایسی صورتوں میں غسل یا وضو کے بدلہ میں
تیمم کر کے عبادت ادا کی جائے گی۔

مسئلہ: اگر تیمم کر چکنے کے بعد پانی مل جائے یا وہ
مجبوری ختم ہو جائے جس کے لئے تیمم کیا تھا تو تیمم خود بخود باطل ہو جائے گا۔

مسئلہ: پانی 
کے انتظار یا مجبوری کے رفع ہونے کے انتظار کے طور پر نماز یا عبادت متعلقہ
کو آخر وقت میں ادا کرنا چاہیے البتہ اگر پانی کے ملنے سے مایوسی یا وقت معین تک معذوری
و مجبوری کے رفع ہونے کا امکان نہ ہوتو تیمم کے ساتھ اول وقت میں بھی نماز پڑھی جا
سکتی ہے۔

مسئلہ: مٹی ریت پتھر پر یتمم ہو سکتا ہے اور تیمم
ایسی جگہ سے کرنا چاہئیے جہاں نجاست کا امکان کم ہو۔

مسئلہ: معدنیات چونا سیمنٹ پختہ اینٹ کپڑا وغیرہ جن
پر زمین کا نام صادق نہیں آتا ایسی چیزوں پر تیمم نہیں کرنا چاہیے۔


by

Tags:

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *