anwarulnajaf.com

بیٹی ہونے کا زمانہ

چونکہ بیٹی ہونے کے
زمانہ میں وہ ماں باپ یا اکابر کی زیر تربیت ہوتی ہے اس لئے اس کا اچھی بیٹی ہونا۔
والدین کی اچھی تربیت کا مرہون منت ہوتا ہے لہذا اس بارے میں ماں باپ کو اس کی
دیکھ بھال اور تربیت میں ذمہ دارانہ کردار ادا کرنا چاہیے بیٹی کی تعلیم و تادیب و
حسن تربیت میں غفلت کرنا ماں باپ کا ایسا معاشرتی گناہ ہے
  جس کو انسانیت کبھی معاف نہ کرے گی ماں باپ کا
فرض ہے کہ بیٹی کو شرم و ادب کا درس دیں ، والدیں کا احترام اس کے ذہن نشین کرائیں
اور گھریلو معاملات میں اسے اپنے فرائض کی نشاندہی کرائیں نیز غلط کردار کی لڑکیوں
کے ساتھ آزادانہ میل جول سے اس کو بچانے میں پوری احتیاط کریں اور یہ یقین کریں کہ
ابتداء میں اس کو معمولی غلطی سے نہ ٹوکٹا اس
 
کے لئے بعد میں بڑی غلطیوں کا پیش خیمہ بن جاتا ہے ۔
بحارالانوار ج 23 میں
قرب الاسناد سے منقول ہے حضرت پیغمبرؐ نے فرمایا اتقوااللہ اتقواللہ فی الضعیفین
الیسیم والمراۃ فان خیارکم خیارکم الاھلہ اللہ سے ڈرو، اللہ سے ڈرو ، دو کمزوروں
کے بارے میں ، ایک یتیم اور دوسری عورت تم میں سے اچھا وہ ہے جو گھر والوں کے لئے
اچھا ہو اس حدیث سے دو مطلب نکل سکتے ہیں ایک یہ کہ عورت سے مراد بیوی ہو یعنی
اچھا مرد وہ ہے جو یتیموں اور عورتوں کے حقوق سے عہدہ برآ ہونے میں خوف خدا کرے
اور دوسرا یہ معینی بھی ہو سکتا ہے کہ یتیموں اور عورتوں (لڑکیوں) کی تربیت میں
خوف خدا کرنے والا انسان بہترین انسان ہے اسی معنی کی حدیث بروایت خصال صدوق امام
جعفر صادقؑ سے اور بروایت امالی طوسی حضرت رسالتمابؐ سے بھی نقل کی گئی ہے۔

بروایت معانی الاخبار
حضرت پیغمبرؐ سے منقول ہے ایاکم وخضرآء الدمن یعنی مزبلہ کی سبزی سے بچو لوگوں نے
دریافت فرمایا حضورؐ ! مزبلے کی سبزی سے آپ کیا مراد ہے؟ تو آپ نے جواب میں ارشاد
فرمایا المرءۃ الحسناء فی منبت السوء یعنی وہ خوبصورت عورت جو بری تربیت گاہ میں
پروان چڑھی ہو مقصد یہ ہے کہ عورت کی خوبی میں اس کی تربیت کرنے والے خاندان کا
بڑا دخل ہے اور ہر شادی کے خواہش مند مرد کو حضورؐ کی جانب سے عورت کے انتخاب کے
لئے یہ ایک دستور دیا گیا ہے کہ کسی عورت سے شادی کرنے کے لئے صرف اس کے حسن کو
معیار انتخاب قرار نہ دیا جائے بلکہ اس کی تربیت کرنے والے خاندان کا بھی لحاظ
رکھا جائے۔

روضۃ الواعظین سے منقول
ہے حضرت پیغمبرؐ نے فرمایا جو شخص کسی عورت سے اس کی ظاہری خوبصورتی کی بناء پر
شادی کرے گا وہ اس عورت سے خوبی نہ دیکھے گا جو وہ چاہتا ہے اسی طرح جو شخص صرف
عورت کا مالدار دیکھ کر شادی کرے وہ بھی اچھائی نہ دیکھے گا تمہارا فرض ہے کہ دین
کو معیار انتخاب سمجھ کر کسی عورت سے شادی کرو اور اس کا مطلب صاف یہی ہے کہ مال و
جمال کے بجائے عورت کی حسن تربیت پر نگاہ رکھو یعنی اس کی شرافت ، متانت، پاکیزگی
، صفائی ، شرم و حیا، خانگی امور میں دانس مندی ، حقوق شوہر کی پاسداری اور فرائض
کی ادائیگی اس کی ایسی خوبیاں ہیں جو مرد کے لئے گھریلو زندگی کو پر سکون بناتی
ہین کیونکہ ظاہری مال و جمال مرد کو سکون نہیں دے سکتا بلکہ عورت کی اچھی عادات اور
نیک ادائیں ہی مرد کے دل کو مو لینے والی چیزیں ہیں اور یہ چیزیں تربیت سے تعلق
رکھتی ہیں۔

کتاب مکارم الاخلاق سے
مروی ہے کہ حضرت رسالتمابؐ نے فرمایا کہ عورتوں کو بالا خانوں پر جگہ نہ دو اور ان
کو لکھنا نہ سکھاؤ البتہ ان کو چرخا کاتنے کی تربیت دو اور ان کو سورہ نور کی تعلیم
دو ایک دوسری دوایت میں حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے منقول ہے کہ نیک عورت
کے لئے چرغا بہترین کھیل ہے ۔

آج کل کے زمانہ کو نئی
روشنی کا زمانہ کہا جاتا ہے اور عورتوں کی تعلیم کو ضروری قرار دیا جاتا ہے کیونکہ
تعلیم یافتہ مرد غیر تعلیم یافتہ لڑکی سے شادی کرنا پسند ہی نہیں کرتے تو اس ضرورت
کے ماتحت لڑکیوں کی تعلیم حد ضرورت تک ہونی چاہیے اور اس کے ساتھ قرآن مجید احادیث
معصومین علیہم السلام اور ضروری مسائل دینیہ کی بھی ان کو تعلیم دینی چاہیے تا کہ
رسمی و مادی علوم ان کے ذہن کو مذہب سے بیگانہ نہ کر دیں اور تجربہ شاہد ہے کہ جن
لڑکیوں کو صرف مغربی علوم سے وابستگی ہوتی ہے وہ دینی اقدار کو فرسودگی خیال کرتی
ہیں اور دین کا جوا گردن سے اتار پھینکنے میں اپنی روشن خیال محسوس کرتی ہیں ایسی
لڑکیاں معاشرہ میں اپنا صحیح کردار ادا نہیں کر سکتیں بلکہ اپنا نسوانی وقار بھی
ضائع کر بیٹھتی ہیں۔

آج کل کی فضا میں اعلٰی
تعلیم یافتہ اس کو کہا جاتا ہے جو مغربی علوم میں کافی دسترس رکھتا ہو مثلاً
گریجویٹ ہو یا امریکہ و برطانیہ سے کوئی ڈگری لے کر پلٹا ہو حالانکہ ایسے لوگ مغربیت
زدہ ہو کر اسلامی علوم سے بالکل نا آشنا ہوتے ہیں بلکہ اسلامی رجحان کو فرسودہ
خیالی سے تعبیر کرنا اپنی روشن ضمیری سمجھتے ہیں اور ایسا انسان باوجود تعلیم
یافتہ ہونے کے کورا جاہل ہے جو یہ نہ جانتا کہ بحثیت انسان ہونے کے میری ذمہ
داریاں کیا کیا ہیں؟ اور میرے اوپر کون سے امور بطور فرض عائد ہوتے ہیں ؟ جن سے
بحیثیت انسان کے میں عہدہ برآ ہونا ہے اور اس کے علاوہ معاشرہ انسانی میں میرا
مقام کیا ہے؟

معاشرہ میں عورت کا
مقام مرد کی بہ نسبت ذمہ داری کے لحاظ سے بہت اہم ہے کیونکہ عورت نے آنے والی نسل
کی ماں بننا ہے اور آنے والی پوری نسل کا کردار اس کی تربیت کا ہی مرہون منت ہے لہذا
عورت کے ذہن کو مغربیت زدہ کر کے مادہ پرستی تک محدود رکھنا عورت کو اپنے اصلی
مقام شرف سے دور ہٹا لے جانے کے مترادف ہے کیونکہ نام نہاد (اعلٰی تعلیم یافتہ)
عورتوں کو نسل نو کی تعمیر کردار سے قطعاً کوئی دلچسپی نہیں ہوتی ۔

والدین پر نہایت اہم
فریضہ عائد ہوتا ہے کہ اچھی تربیت سے لڑکی کو اچھی بیٹی بنائیں تا کہ بعد میں وہ
اچھی بیوی ثابت ہو سکے اور اولاد ہونے کے بعد وہ اچھی ماں کا کردار ادا کر سکے۔

اسلامی نقطہ نظر سے
اعلٰی تعلیم یافتہ انسان وہ ہے جو سب سے پہلے اپنے اوپر عائد شدہ ذمہ داریوں کا
احساس کرے پس حقوق نفس کو سمجھے حقوق اللہ کی معرفت حاصل کرے اور معاشرہ میں اپنے
مقام کا تعین کرے ہماری کتاب “معیار شراف” کا مطالعہ اس مقام کو سمجھنے
کے لئے نہایت ضروری ہے پس عورت اعلٰی تعلیم یافتہ دہی ہے جو خدا و رسول کی جانب سے
پہنچنے والی ہدایات کا مطالعہ کر سکتی ہو۔

قرآن و احادیث و فرامین
معصومین علیہم السلام پر سیر حاصل عبور کر کے شرعی طور پر اپنے فرائض کا علم رکھتی
ہو امور خانہ داری کی انجام دہی میں اپنی نسوانی صلاحیتوں کو بروئے کار لانے میں
سلجھا ہوا ذہن رکھتی ہو اور اپنے مقام نسوانیت کی نزاکت کا پورا پورا احساس اس کے
دل میں کار فرما ہو پس ایسی عورت بیٹی ہونے کے زمانہ میں اپنے والدین کے لئے باعث
سکون قلب ہو گی اور بیوی ہونے کے زمانہ میں اپنے شوہر کے لئے موجب تسکین ہو گی اور
ماں ہونے کے زمانہ میں اپنی اولاد کے لئے تشکیل سیرت و کردار کی بہترین مدرس ہو گی
۔

بحارالانوار میں خصال
سے مروی ہے حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا کہ تین چیزوں میں مومن کی
راحت ہے۔

1.     گھر کھلا ہو جس میں وہ اپنا سر چھپا لے
اور لوگوں سے اس کے عیوب یا بد حالی پوشیدہ ہو۔

2.     زوجہ صالحہ ہو جو دین و دنیا کے معاملات
میں اس کی معاون ہو۔

3.     اس کو بیٹی یا بہن ایسی نصیب ہو کہ اپنی
حویلی سے باہر یا اس کی ڈولی نکلے یا اس کا جنازہ نکلے ان دو صورتوں کے بغیر اس کا
قدم گھر سے باہر نہ نکلے۔

اس لئے عورت کے لئے
جناب بتولؑ معظمہ بنت رسولؐ اللہ کی سیرت کا مطالعہ نہایت ضروری ہے جن کا کردار
زندگی کی تینوں منزلوں میں مثالی رکھتا ہے۔

جب بیٹی تھیں تو محمد
مصطفٰی جسیے باپ کےلئے مایہ ناز تھیں اور جب بیوی کے مقام پر پہنچیں تو حضرت علیؑ
جیسے شوہر کے لئے مایہ افتخار تھیں اور جب ماں کے منزل پر پہنچیں تو اپنی پوری
اولاد کےلئے موجب فخر ثابت ہوئیں ۔ پردارہ داری کا یہ عالم تھا کہ ایک مرتبہ حضرت
پیغمبرؐ ایک نابینا صحابی کے ساتھ لے کر در دولت پر حاضر ہوئے اور طلب اذن دخول
کیا جناب مخدرہ طاہرہ کو چادر اوڑھنے میں دیر لگ گئی جب دروازہ کھولا اور حضورؐ
اندر تشریف لائے تو پوچھا دروازہ کھولنے میں دیر کیوں ہو گئی؟ تو بی بی نے عرض کیا
کہ کہ میرے سر پر چادر نہ تھی اس لئے چادر اوڑھنے اور سر منہ ڈھانپنے میں تاخیر ہو
گئی آپ نے فرمایا چادر اوڑھنے کی کیا ضرورت تھی؟ میرے ساتھ جو صحابی ہے وہ نابینا ہے
۔ بی بی نے جواب دیا ابا جان! اگر وہ نابینا ہے تو میں تو نابینا نہیں ہوں یعنی
عورت کی پردہ داری یہ ہے کہ نہ کسی محرم مرد کی نظر اس پر پڑے اور نہ اس کی نظر
کسی نامحرم مرد پر پڑے چنانچہ بحارالانوار جلد 23 میں سب اچھی صفت یہ ہے ان لا
یرین الرجال ولا یرا ھن الرجال یعنی وہ نہ مردوں کو دیکھیں اور نہ مرد ان کو دیکھ
سکیں جناب پیغمبرؐ کو یہ جواب نہایت پسند آیا اور فرمایا ان فاطمۃ بضعۃ منہ تحقیق
فاطمہؑ میرا ٹکڑا ہے ۔

نوادر راوندی سے منقول
ہے کہ ایک مرتبہ جناب امیر المومنین علیہ السلام رنجیدہ حالت میں گھر میں تشریف
لائے تو جناب فاطمہؑ نے دریافت کیا آپ کے غمزدہ ہونے کی کیا وجہ ہے؟ جناب علی علیہ
السلام نے جواب دیا آج (تیرے ابا جان! جناب رسول خداؐ نے ہم سے پوچھا کہ عورت کیا
چیز ہے؟ تو ہم نے جواب دیا کہ عورت ہمارا شرم ہے آپؐ نے پھر پوچھا کہ عورت اپنے
پروردگار کے ساتھ زیادہ قرب کس وقت رکھتی ہے ؟ تو ہم خاموش ہو گئے ۔ جناب فاطمہؑ
نے عرض کی ، یا علؑی اس کا جواب میں عرض کرتی ہیں ، جا کر میرے ابا سے کہہ دیجئے کہ
عورت اپنے پروردگار سے زیادہ قرب کا درجہ اس وقت رکھتی ہے جب اپنے گھر کی چار
دیواری سے باہر اس کا قدم نہ آئے۔ جب علیؑ نے جناب بتولؐ
  کا جواب حضرت پیغمبرؐ کے پیش کیا تو آپ نے
فرمایا ان فاطمۃ بضعۃ منی یعنی فاطمہؑ میرا ٹکڑا ہے۔

اور عورت کی پردہ داری
کی مناسبت سے اس کا گھر میں تنہا نماز پڑھنا مرد کے جامع میسجد میں نماز پڑھنے کے
برابر ہے بلکہ پچیس درجہ اس کا ثواب زیادہ ہے جیسا کہ بحار میں مکارم الااخلاق سے
حضرت پیغمبرؐ کا فرمان منقول ہے حضرت پیغمبرؐ نے فرمایا اللہ نے کسی عورت کو مرد کے
برابر قرار نہیں دیا مگر جناب فاطمہؑ کو علیؑ کے برابر کا درجہ دے دیا حالانکہ
فاطمؑہ عورت ہے اور علیؑ عالمین کے تمام مردوں سے افضل ہے۔

اور روایت میں ہے کہ جب
خاتون جنت کا وقت وفات قریب آیا تو ام ایمن سے اپنی گھبراہٹ کی وجہ بیان کی کہ
میرا جنازہ جب نکلے گا تو لوگوں کی نظریں پڑیں گی ام ایمن نے تابوت کا طریقہ بیان
کیا تو خاتون جنت خوش ہوئیں اور وصیت کی کہ میرے لئے تابوت بنایا جائے تا کہ میری
جسامت اور قد و قامت بھی لوگوں سے مستور رہے ۔


by

Tags:

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *