anwarulnajaf.com

خالق و رازق اللہ

 خالق ورازق اللہ
أَمْ
تُرِيْدُوْنَ أَنْ تَسْأَلُوْا رَسُوْلَكُمْ كَمَا سُئِلَ مُوسٰى مِنْ قَبْلُ
وَمَنْ يَّتَبَدَّلِ الْكُفْرَ بِالْإِيْمَانِ فَقَدْ ضَلَّ سَوَآءَ السَّبِيْلِ
(108) وَدَّ كَثِيْرٌ مِّنْ أَهْلِ الْكِتَابِ لَوْ يَرُدُّوْنَكُمْ
مِّن
مبَعْدِ
إِيمَانِكُمْ كُفَّارًا حَسَدًا مِّنْ عِنْدِ أَنفُسِهِمْ مِّنْ
مبَعْدِ
مَا تَبَيَّنَ لَهُمُ الْحَقُّ فَاعْفُوْا وَ اصْفَحُوْا حَتّٰى يَأْتِیَ اللّٰهُ
بِأَمْرِهِ إِنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِيْرٌ
(109) وَأَقِيمُوْا الصَّلوٰةَ وَآتُوْا الزَّكٰوةَ وَ مَا تُقَدِّمُوْا
لِأَنفُسِكُمْ مِّنْ خَيْرٍ تَجِدُوْهُ عِنْدَ اللّٰهِ إِنَّ اللّٰهَ بِمَا
تَعْمَلُوْنَ بَصِيْرٌ
(110) وَ قَالُواْ لَنْ يَّدْخُلَ الْجَنَّةَ إِلَّا مَنْ كَانَ هُودًا
أَوْ نَصَارىٰ تِلْكَ أَمَانِيُّهُمْ قُلْ هَاتُوْا بُرْهَانَكُمْ إِنْ كُنْتُمْ
صَادِقِيْنَ
(111) بَلٰى مَنْ أَسْلَمَ وَجْهَهُ لِلّٰهِ وَهُوَ مُحْسِنٌ فَلَهُ
أَجْرُهُ عِنْدَ رَبِّهِ وَلَاْ خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَاْ هُمْ يَحْزَنُوْنَ
(112)
ترجمہ:
کیا تم چاہتے ہو کہ سوال کرو اپنے رسول سے جس طرح
سوال  کیا گیا تھا موسیٰ سے اس سے پہلے اور
جو اختیار کر لے کفر کو بدلے ایمان کے پس تحقیق وہ گمراہ ہے سیدھے راستے سے
(108) چاہا بہت سوں 
نے اہل کتاب میں سے کہ تمہیں پھر کافر کر ڈالیں بعد تمہارے ایمان کے بوجہ
حسد کے جو اُن کے دِلوں میں ہے بعد واضح ہو جانے حق کے پس معاف کرو اور درگزر کرو
یہاں تک کہ اللہ اپنا حکم بھیجے تحقیق اللہ ہر چیز پر قادر ہے
(109) اور قائم کرو نماز کو اور ادا کرو زکواۃ کو اور جو
کچھ بھیجو اپنے نفسوں کے لئے اعمال خیر 
میں سے پاوٴ گے اللہ کے پاس اُس کی جزا تحقیق اللہ تمہارے اعمال سے آگاہ ہے
(110)
اور کہا
)اہل کتاب نے( کہ ہر گز نہ داخل جنت ہوگا
مگر جو یہودی ہو یا نصاریٰ یہ اُن کی
)بلاتاویل(آرزوئیں ہیں ان کو کہہ دیجئے کہ تم اپنی دلیلیں لاوٴ
اگر سچے ہو
(111) ہاں جو جھکا دے اپنا منہ اللہ
کیلئے اورنیک عمل ہو پس اس کیلئے اس کا اجر ہے اپنے ربّ کے پاس اورنہ ان پر خوف ہو
گا اورنہ غم
)بروزقیامت (112) (
اَمْ تُرِیْدُوْنَ: اس کے شانِ نزول کے متعلق اختلاف ہے:
  ابن عباس
سے منقول ہے کہ رافع بن حرملہ اور وہب بن زید نے حضرت رسول خدا
سے سوال کیا تھا کہ ہم تب ایمان لائیں گے جب ہمارے سامنے آسمان سے ایک کتاب
اُترے اور اُس کو ہم پڑھیں اور نیز ہمارے سامنے آپ پانی کی نہریں جاری کر کے
دکھائیں تب ہم مانیں گے اور تیری اطاعت بھی کریں گے-
بعض کہتے ہیں کہ عربوں نے ملائکہ کے نزول اور خداوند کی
رویت کا سوال کیا تھا-
  بعض کہتے
ہیں کہ قریش نے کوہِ صفا کے سونا ہو جانے کا سوال کیا تھا وغیرہ-
تو خدا وند کریم نے ان کے
سوالات کی تردید فرماتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ تم بھی رسول پاک
سے وہ سوالات کرنے لگے ہو جو حضرت موسیٰ سے ان کی قوم نے کئے تھے؟
جب رسول کی تصدیق کے لئے دلائل و براہین موجود ہیں جو شخص ان کو نہیں مانتا وہ ان
چیزوں پر کیا ایمان لائے گا؟ بلکہ جا دو وغیرہ سے تعبیر کر دے گا، منصف مزاج کے
لئے واضح دلائل موجود ہیں وہ ان میں غور کرے اور حق و باطل میں امتیاز کرے اور جو
شخص خوا ہ مخواہ عناد سے کام لے کر ایمان لانے کی بجائے انکار ہی پر ڈٹ جائے تو وہ  راہِ راست سے بھٹکا ہوا ہے اس کا علاج ہی کوئی
نہیں-[1]
وَدَّ کَثِیْرٌ:  شانِ نزول اس کا یہ ہے کہ حیی ابن
اخطب اور اس کا بھائی ابو یاسر جناب رسالتمآب
کے مدینہ میں تشریف لانے کے بعد حاضر خدمت ہوئےتھے، جب یہ واپس گئے تو ان سے
دریافت کیا گیا کہ آیا وہ نبی ہیں؟ تو حیی بن اخطب نے جواب دیا کہ ہاں بے شک، پھر
اس سے پوچھا گیا کہ ان کے متعلق تیرا نظریہ کیا ہے؟ تو جواب دیا کہ مرتے دم تک
دشمنی ہی رکھوں گا اور یہی وہ شخص ہے جس نے عہد شکنی کی اور جنگ خندق کا سبب
بنا،  ابن عبا س سے اسی طرح منقول ہے اور
یہ باتیں کعب بن اشرف سے منسوب کرتے ہیں-
فَاعْفُوْا وَ اصْفَحُوْا: یہودی جس قدر شرارتیں کرتے رہے مسلمانوں کو در گزر کرنے کا
حکم رہا، پس جب حکم خدا وندی ہو اتو بنی قریظہ کے مردوں کو قتل اور بچوں کو قید
کیا گیا اور بنی نضیر کو جلا وطن کر دیا گیا-
وَ اَقِیْمُوْا الصَّلوٰاةَ: تفسیربرہان میں
جناب رسالتمآب
سے ایک حدیث میں مروی ہے کہ نماز کی کنجی طہارت ہے اور وہ بڑی طہارت جس کے
بغیر نماز اور دیگر تمام عبادتیں ناقابل قبول ہیں وہ ولایت محمد وآلِ محمد
اور ان کے دوستوں سے دوستی اور ان کے دشمنوں سے دشمنی رکھنا ہے روایت کا
مرادی ترجمہ عرض کیا گیا ہے-
وَ قَالُوْا لَنْ یَّدْخُلَ الْجَنَّةَ: یعنی یہودی لوگ اپنے مقام پریہ کہتے تھے کہ صرف ہم ہی جنت
میں داخل ہوں گے اور نصرانی کہا کرتے تھے کہ جنت میں ہمارے سوا کوئی بھی داخل نہ
ہو گا، خدا وند کریم نے ان دونوں گروہوں کے فاسد خیالات کو یکجا ذکر فرمادیا ہے
اورپھر اُن کی تردید فرمادی ہے-
 اس کا یہ مطلب ہر گز نہیں کہ سب اہل کتاب یعنی
یہود ونصاریٰ تمام یہودیوں اورنصرانیوں کے جنتی ہونے کا دعویٰ کرتے تھے بلکہ مقصد
یہ ہے کہ ان میں سے ہر ایک اپنے آپ کو جنت کا ٹھیکیدار سمجھتا ہے اوردوسرے گروہ کو
باطل پر ست قرار دیتا ہے، چنانچہ اس کے بعد والی آیت اس مضمون کو صریح طور پر واضح
کر رہی ہے اوراس کے بعد خداوند کریم نے صاف طور پر ان کے دعویٰ کو جھوٹا بتا دیا
ہے-
بَلٰی مَنْ اَسْلَمَ: ان دونوں گروہوں
کی تردید کے بعدمعیارِ دخولِ جنت بیان فرمادیا کہ جو اللہ کے سامنے سر جھکا دے
اوراعمالِ صالحہ کرے پس اُس پر نہ خوفِ محشر ہو گا اورنہ موت کے وقت غم ہو گا
کیونکہ مومن کو موت کے وقت ہی جنت کی خوشخبری دی جاتی ہے جیسا کہ تفسیر اہل بیت
میں مرقوم ہے-


[1]
مجمع البیان ج۱

Tags:

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *