anwarulnajaf.com

گریہ کا جواز

سوال  جب مصائب پر صبرکرناخاصان خداکا طرہ
امتیاز ہے توان کے مصائب پر گریہ وزاری کرناکیونکہ جائز ہے پس چاہیے کہ مصائب پر
گریہ بھی نہ کیا جائے
جواب  مصائب پر کریہ کرنا فطری چیز ہے البتہ
یہ ضروری چیز ہے کہ گریہ میں رضائے خداکے خلاف کوئی مظاہر نہ ہو نہ زبان سے حرف
شکایت نکلے اور نہ عمل سے اس قسم کا اظہار ہو صبرکامعنی ہے حدود شرعیہ کے اندر آپ
نے قول وفعل کو محدود رکھنا اوربے صبری کا مطلب ہے حدود خداکو توڑ کرباہر چلا جانا
خداکی خوش نودی کے پیش نظر خاصان خدا کے فراق میں رونا خاصان خداسے محبت کی دلیل
ہے اوربے صبری نہیں بلکہ قرب خداوندی کاپیش خیمہ ہے اوراگریہ رونابے صبری ہوتا تو
حضرت یعقوبؑ کو یوسف ؑکے فراق میں روکر آنکھیں کھو بیٹھنے کے بعد حلیم نہ کہا
جاتا اورحضرت رسول خدا نے حضرت حمز ہ کا ماتم اپنے گھر میں خود نہ بپاکرایا ہو تا
شیعہ کا مصائب شہداء پر گریہ خاکی ناسپاسی اوربے شکری نہیں بلکہ ان کے مصائب پر
رونا امت رسول کی بے قدری وبے دردی کا رونا ہے کہ ایسے محسنان اسلام کو نے احسان
کایہ بدلہ دیا


Tags:

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *