جنت الخلد

خداوندکریم نے اپنے فضل
وکرم سے اپنے اطاعت گذاروں کےلیے  آخرت میں
جنت
کا انتظام فرمایاہے اور دنیاوی زندگی کی کامیابی  کےلئے 
جنت کا تصور ایک بہت بڑا محرک ہے اور اللہ نے اس جنت میں ہر قسم کی
سہولت  وآرام  اورراحت وعیش کا سامان مہیافرمایاہے وہاں دکھ
دردبیماری تکلیف نہ ہوگی حتاکہ موت بھی نہ ہوگی کھانے کی غذائیں  پینے کے مشروبات لذیز  ترین ہوں گے چنانچہ کھانے لئے ہر قسم کا میوہ
تیار ہوگا اور پینے کےلئے پانی خالص  شہد
شرات اور دودھ کی چار نہریں جاری ہوں گی جو کبھی بدذائقہ اور باسی نہ ہوں گی بلکہ
تازہ ولذیز رہیں گی پھر تسکین کےلئے حوران جنت کا ساتھ ہوگا مکانات عالی شان ہوں
گے حسد وکینہ بغض وعداوت وغیرہ کا نام ونشان تک نہ ہوگا حضرت امام جعفر صادق علیہ
السلام  سے منقول ہے کہ جنت کے آٹھ دروازے
ہیں ایک دروازے سے نبی اور صدیق دوسرے دروازے 
سے (سابق امتوں کے ) شہید اور صالح اور باقی پانچ  دروازوں سے ہمارے شیعہ اور محب  ہی داخل ہوںگے تفسیر انوار النجف کی متعدد
جلدوں میں جنت اور اسکی نعمات درجات کو مفصل بیان کیا گیا ہے ضرورت مند حضرات ان
کا مطالعہ فرماکر اپنی معلومات میں اضافہ کرسکتے ہیں  اور روایات میں ہے کہ جنت میں بوڑھاکوئی نہیں
جائے گا جس کا مقصد یہ ہے کہ ہر انسان جوان ہوکر ہی جنت میں جائے گا اور وہاں جوان
ہی رہے گا

Similar Posts

  • لواطہ

     لواطہ یعنی لڑکوں اور مردوں کے ساتھ خلاف فطرت فعل کا مرتکب ہونا حضرت رسالتمابؐ نے فرمایا کہ جو شخص کسی عورت کے ساتھ دبر سے مجامعت کرے یا کسی لڑکے کے ساتھ بد فعلی کرے وہ جب قیامت کے دن محشور ہو گا تو مردار جانور کی بد بو سے بھی اس کی بدبو…

  • چہل حدیث | chehl hadees

    چہل حدیث | chehl hadees جناب رسالتمآب  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  نے حضرت علی علیہ السلام کو بطور وصیت  کےارشاد فرمایا یاعلؑی  میری امت میں سے جو شخص خوشنودی خدا کےلئے چالیس حدیثیں  یادکرے تو قیامت کے روز انبیاء صدیقین شہداوصالحین کےساتھ محشور ہوگا حضرت علیؑ علیہ السلام نے عرض کی یارسوؐل اللہ  بیان…

  • کافرکی موت

     کافرکی موت روایت سابقہ میں ہے کہ جب کافر مرنے لگتاہے  تو حضرت علیؑ کہتے ہیں یارسوؐل  اللہ  یہ ہم اہل بیت سے بغض رکھتاتھا  اورحضرت رسوؐل خدا جبریل سے کہتے ہیں اور جبریل ملک الموت  سےکہہ کر اس کی موت کی سختی کی سفارش کرتاہے پس ملک الموت مرنے والے کی قریب آکر پوچھتاہے…

  • فقرو فاقہ

    فقرو فاقہ حضرت لقمان نے اپنے بیٹے کو نصیحت کی تھی کہ اے فرزند ! میں نے مصبہ بھی چکھا ہے اور درختوں کے چھلکے بھی کھائے ہیں لیکن فقر جیسی تلخ چیز کوئی نہیں دیکھی پس اگر تمہیں فقر سے واسطہ پڑے تو لوگوں کے سامنے اظہار نہ کرنا کیونکہ ایک طرف تیرا وقار…

  • صدق

    صدق یعنی سچائی  اور اس کے تین مراحل ہیں نیت  میں سچائی  قول میں سچائی اور عمل میں سچائی  اور پوراسچاانسان وہہے جو تینوں مراحل میں صادق ہو  کیونکہ نیت میں سچائی ہوگی تو منافقت  سے بچ جائے گا قول میں سچائی ہوگی تو جھوٹ سے بچ جائے گا اور عمل میں سچائی ہوگی توخدا…

  • موت کے وقت عمل کی حاضری

    بروایت کافی حضرت امیرالمومنین  علیہ السلام  سےمنقول ہے کہ مرتے وقت انسان کے سامنے تین چیزوں کی مثال کولایا جاتاہے 1            مال کی مثال کو اس کےسامنے لایاجاتاہے  تو مرنے والا اپنے مال کو دیکھ کر حسرت بھرے لہجے سے کہتاہے میں نے  تجھے بڑی محبت وپیار سے جمع کیاتھا کیااب تو میری مددکرسکتاہے ؟تو…

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *