کون نہیں جانتا کہ سر یپر عمامہ اور بدن پر قباد عبا سجانے
والوں کی اکثریت کی کھوپڑیاں جو ہر علم و حکمت سے قطعی خالی ہیں، چناچہ ایسے ہی
افراد کے سامنے جب وہابی گروہ کے اعتراضات پیش کئے جاتے ہیں۔ تو چونکہ
خور کو رفہم:علم و
امتیاز سے تہی دامن ہوتے ہیں۔
دولت دانش و خرد میں
مخص خالی ہاتھ ہوتے ہیں۔
حق و باطل میں امتیاز
ان کی دسترس سے کوسوں دور ہوتا ہے۔
اس لئے وہابی دلائل سے مرعوب ہوکر ناچار ان کی تقلید کرلیتے
ہیں۔ خود پرستی اور سستی شہرت کا حصّول ان میں ہوا بھرنے لگتا ہے۔ اور ان کا بے
شعور دماغ غبارے کی طرح پھیلنے لگتا ہے ۔ نتیجتہ” یہ ننگ علم و علماء اپنے کو
روشن فکر بنا نے کوشش میں ملت مسلمہ کو
جادۃ انتشار پر ڈال کر بغلیں بجاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم نے تحقیق جدید کرکے نئے
نظریات کی طرح ڈالی ہے۔
حالانکہ یہ لوگ اس حقیقت سے بے خبر ہیں کہ یہ نظریات ان کی
ایجاد نہیں بلکہ ایسے لغویات کا سلسلہ آغاز اسلام ہی سے شرُوع ہوگیا تھا۔ اور
علمائے حق ہر دور میں ان کے جوابات قرآن و سُنت کی روشنی میں دیتے رہے ہیں۔
انہی نام نہاد روشن فکر علماء میں سے عبد العزیز ابن سعود
بھی ایک تھا جسکی عقل مستعار نے تمام مختلف مولوکو اکٹھا کرکے ایک رسالہ لکھا اور
بغرض جواب شیخ جعفر کبیر متوفی ۱۲۲۸ کی
خدمت میں بھیجا چنانچہ۱۲۴۳میں شیخ اعلیٰ اللہ مقامہ نے اس کے جواب میں منہج
الشاد نجف اشرف سے طبع کراکے بھیجی بنا برین یہ
اعتراضات (
بعینہ ہمارے ایک بقلم خود علامہ کو مترجم نے کہتے ہوئے سنا تھا کہ میری
کتاب اس دور کی انقلابی کتابوں میں سے ہے۔ کیونکہ بقول فلاں انگریز وہی کتاب
انقلابی ہوتی ہے جس کے جوابات زیادہ سے زیادہ لکھے جائیں ۔ بزعم خویش اور بقول
انگریز تو واقعاً وہ کتاب انقلابی رہی لیکن بقول ایک عالم زبانی آیۃ العظمیٰ
خمینئی یہ کتاب انتشار ملی کا واحد خزانہ از مترجمہ)
اتنے علمی و فکر ی نہیں کہ ان کے جوابات کی خاطر وقت عزیز
جیسی قیمتی چیز کو ضائع کیا جائے مگر چونکہ عوام کیلئے موجب اشتباہ بن جاتے ہیں اس
لئے قرآن و سُنت سے ان کے جوابات لکھ دیئے گئے ہیں۔
Leave a Reply