anwarulnajaf.com

اس شجرۂخبیثہ کی جڑیں

 

مناسب ہوگا کہ ان اعتراضات کے جوابات میں پڑنے سے قبل اس
شجرہ مذمومہ کی جائے پیدائش کا پتہ لگاتے چلیں تا کہ قارئیں بابصیرت ہوکر اعتراضات
کی تہہ تک پہنچ سکیں۔ الحاضر العالم الاسلامی کے ج ۲           
۹۷ کے مطابق نجد کے عونیہ نامی مقام پر  ۱۱۱۲ءمیں عبد الوہاب کے گھر ایک بچہ پیدا ہو جس
کا نام محمدؐ رکھا گیا زندگی کے ابتدائی مراحل طے کرنے کے بعد اسلامی تعلیم شُروع
کی۔ تکمیل تعلیم کے لئے دمشق آیا۔ حنبلی علماء سے ابن تیمیہ متوفی ۷۲۸ ءاور اس کے
شاگرد ابن قیم  متوفی    ۷۵۱   ءکے نظریات پڑھے اور انہیں قبول کرلیا ۔ وہابی
مسلک کی  باقاعدہ کا آغاز یہی سے شروع ہوا
۔ ازاں بعد محمد ابن عبد الوہاب نے تکمیل مزید کے لئے بغداد اور بصرہ کا سفر بھی
کیا۔ جب واپس وطن پلٹا تو قبیلہء عتوب و عنزہ کے حکمران محمدؐ ابن سعود کو اپنے
مسلک کی دعوت دی جس نے نہ صرف قبول کرلی بلکہ وہابی مسلک کو اپنی قلمرو میں
سرکاری مذہب قرار دے دیا ۔ ابن سعود                نے اس نو ساختہ مسلک کی تبلیغ کے
لئے پڑوسی ممالک پر حملے شُروع کردئے ۔ ابن سعود کا دارالحکومت عَیَّہ تھا، علماء
نے وہابی نظریات    کو مسترد کردیا ۔ ان
دونوں ریاض میں وہام ابن دواس حکمران تھا۔ ابن سعود اور وہام میں کافی عرصہ مجاذ
لوائی رہی۔ بالآخر وہام مغلوب ہوگیا اور ریاض ابن سعود کے زیر نگیں آگیا ابن سعود
کے بعد اس کا لڑکا عبد العزیز ابن سعود حکمران بنا۔ عبد العزیز ابن سعود بنا۔
عبدالعزیز نے بھی وہابی مسلک کی ترویج میں امکانی کوشش کی حتیٰ کی اس سلسلہ میں
ایک مرتبہ مکہ پر بھی حملہ کیا  ۱۲۱۵ھ اور       ۱۲۱۶  ھ میں پندرہ ہزار مسلح فوجیوں کے ساتھ عراق
پر حملہ کیا۔ کربلا انکی قتل اور گاتگری کا نصب العین تھا۔ نواسہ رسول کے حرم مطہر
کو پامال کیا۔ جو کچھ ہاتھ لگا لوٹ  لیا۔
بے گناہ اور نہتے اہالیاں کربلا کو بیدریغ ترتیع کیا۔ جب سعودی!

غارت گریٰ کی  اطلاع
ایران میں قاچاری سمران فتح علی کو ہوئی تو اس نے ایک لاکھ فوج تیار کی دوسری طرف
بغداد کے حکمران سلیمان پاشا نے بھی ایک لشکر تیار کیا ۔عین اسی وقت روس نے ایران
کو اورکردوں نے عراق کو اپنے فتنوں سے اپنی طرف متوجہ کر لیا جس کے نتیجہ میں
سعودی حکومت برطانوی سمراج کا شجرہ کا شتہ اپنے کیفر کردار کو نہ پہنچ سکا۔ یہ ہے
مختصر سی داسطان فتنہ وہابیت حقیقت یہ ہے کہ وہابی یا وہابیت زردہازہاں اپنے خیال
میں تو تقلید کا جواُتار کر بزرگان ملت بیضاء کے حق میں اوّل قول بکنا ان کی توہین
کرنا جسارت آمیز کلمات کہنا ہی اپنا علمی مقام سمجھتے ہیں لیکن وہ اس بات کو بھول
جاتے ہیں کہ وہ مقلد کے مقلد ہی ہیں۔ اور جنکی تقلید میں وہ انبیائے کرام اورر
ائمہ عظام کے حق میں گستاخیاں کرتے ہیں وہ ہیں صحرائے نجد کے وحشی گلہ بان جنہیں دنیائے
انسانیت ٹھکراچکی ہے۔

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *