anwarulnajaf.com

تفسیر میں موجود ” ش ” سے شروع ہونے والے موضوعات | تفسیر انوار النجف جلد 15 | tafseer anwar ul najaf jild 15 | shia books online

شادی: حضرت اسمٰعیل ؑ کی قبیلہ جرہم میں
پہلی شادی پھردوسری شادی (ج۲ص۵۷۱)

٭      مرد کے لئے چار تک شادیاں جائز ہیں (ج۴ص۰۱۱)

٭      شادی برکت ورزق کی موجب ہو اکرتی ہے
(ج۰۱ص۴۳۱)

٭      لڑکی کی بروقت شادی نہ کرنا گناہ ہے
(ج۵ص۱۶۲)

٭
شادی کی پیش کش کو رد کرنا درست نہیں ہے (ج۰۱ص۴۳۱)

٭      زلیخا و حضرت یوسف ؑ کی شادی (ج۸ص۱۹)

٭      رسول اللہ کی زیادہ شادیوں پر اعتراض اور
اس کا جواب (ج۸ص۹۳۱)

٭      جاہلوں کی بد رسم بیوہ کی شادی نہ کرنا
(ج۸ص۸۱۲)

٭      معراج کے مقاصد میں سے ایک مقصد حضرت علی ؑو
بتول ؑ کی شادی تھی (ج۸ص۴۶۲)

٭      شادی کرنے کا حکم (ج۰۱ص۲۳۱)

٭      حضرت سلیمان ؑ کی ملکہ بلقیس سے شادی
(ج۰۱ص۲۵۲)

٭      حضرت موسیٰؑ کی حضرت شعیب ؑ کی لڑکی سے شادی
(ج۱۱ص ۲۳)

 ٭     حضر
ت لوط ؑ کی دوسری شادی اورحضرت ابراہیم ؑ کی سارہ سے شادی (ج۱۱ص ۸۷)

٭      طلحہ عائشہ سے شادی کرنے کا خواہشمند تھا
(ج۱۱ ص۹۰۲)

شب قدر: شب قدر میں قرآن نازل ہوا اور شب
قدر ماہ رمضان کا دل ہے(ج۲ص ۰۳۲)

٭      ہر انسان کی اجل شب قدر میں ملک الموت کو
بتائی جاتی ہے پس وہ اس پر عمل کرتا ہے (ج۶ص ۰۳)

٭      شب قدر ۳۲ ماررمضان کی رات ہے اور اسی کو
لیلہ مبارکہ کہا گیاہے (ج۲۱ص ۶۵۲)

٭      شب قدر میں روح اور ملائکہ نبی کے پاس رہتے
ہیں اور صبح کو واپس جاتے ہیں (ج۴۱ص ۱۰۱)

٭      شب قدر کی تعیین اور فضیلت اور ملائکہ کی
آمد (ج۴۱ص ۲۴۲ تا ۶۴۲)

شتر مرغ: شتر مرغ کے انڈے اگر حالت احرام
میں توڑ دے تو اتنے ہی نر اونٹ اونٹنیوں پر بٹھائے پس جتنے بچے نکلیں ان کی قربانی
دے (ج۵ ص ۷۶۱)

شجاعت : حضرت علی ؑجنگ صفین میں ایک بار
باریک قمیص کے ساتھ بغیر زرّہ کے مصروف جہاد تھے تو حضرت حسن مجتبیٰ ؑ نے عرض کی
ابا جان یہ کیوں تو آپ ؑ نے فرمایا: اِنَّ اَبَاکَ لا یُبَالِیْ وَقَعَ عَلٰی
الْمَوْتِ اَوْ وَقَعَ الْمُوْتُ عَلَیْہِ یعنی تیرے باپ کو پرواہ نہیں کہ موت پر
جا پڑے یا موت اس پر آپڑے

٭      جنگ احد میں جب یار بھاگ گئے تو نسیبہ نامی
عورت نے اپنے بیٹے کے شہید ہونے کے بعد اس کی تلوار لے لی اور جہاد شروع کر دیا
اور پیغمبر کے ارد گرد پروانہ وار گھومتی رہی اور آپ کی حفاظت کا فریضہ ادا کیا
چناچہ حضور نے فر ما یا کہ ان بھاگنے والوں سے تو یہ نسیبہ افضل ہے (ج۴ص ۹۳،۰۴)

٭      شیخ طوسی اور عالم معتزلی سنی کے درمیان
مناظرہ میں ابوبکر کی شجاعت پر دلچسپ بحث(ج۵ص ۶۲۱،۷۲۱)

٭      میدان صفین میں عباس بن ربیعہ بن حارث بن
عبدالمطلب کی شجاعت پر حضرت علی ؑ خود عباس کا لباس پہن کر وار میدان ہوئے اور جوہر
شجاعت دکھائے (ج۷ ص ۲۲)

٭      حنین میں حضرت علی ؑ کی شجاعت (ج۷ص ۴۳)

٭      اِذَا اعْتَلٰی قَدَّ وَ اِ ذَا اغْتَرَ ضَ
قَطَّ حضرت علی ؑ کی ضربتیں نئے رنگ کی ہوتی تھیں جب اُوپر سے مارتے تو چیر دیتے
تھے اور جب ایک طرف سے مارتے تو برابر دو حصوں میں کاٹ دیتے تھے (ج۸ ص ۹۲)

٭      امام جعفر صادقؑ سے پوچھا گیا کہ علی ؑ بڑے
بہادر تھے لیکن کعبہ میں پیغمبر کا بوجھ نہ اٹھا سکے کیا وجہ ہے؟ پھر آپ ؑ کا جواب
(ج۹ ص ۳۶، ۴۶)

شریعت : گذشتہ شریعتوں کے مقابلہ میں شریعت
اسلامی نہایت سہل ہے (ج۳ص ۳۸۱ تا ۵۸۱)

شراب: شراب و شطرنج کی مذمت (ج۳ص ۷۴ تا ۹۴-
ج۵ص ۳۶۱)

٭      شرابی کو بے وقوف اور بے عقل کہاگیا ہے
(ج۴ص ۸۱۱،۹۱۱)

٭      شراب خور مثل بت پرست کے ہے (ج۵ص ۰۲)

٭      حرمت شراب (ج۵ص ۰۵-ج۶ص ۹۲)

٭      شراب کی قیمت سُحت ہے (ج۵ص ۰۱۱)

٭      مسخ ہونے والوں کی برائی میںایک شراب خوری
بھی تھی (ج۵ص ۳۵۱)

٭      شراب کے بارے میں دس آدمیوں پر لعنت ہے:

 (۱) کاشت کنندہ (۲) محافظ (۳) نچوڑنے والا (۴)
پینے والا (۵) پلانے والا (۶) اٹھانے والا (۷) جس کی طرف لایا جائے (۸) بائع (۹)
مشتری (۰۱) اس کی قیمت کھانے والا (ج۵ص ۳۶)

٭      بعض روایات میں زنا کاری، چوری اور شراب
نوشی کو ظلم کہا گیا ہے (۵ص ۵۳۲)

٭      ناقہ حضرت صالحؑ کے قتل کی وجہ شراب نوشی
تھی (ج۷ص ۱۵)

٭      جس نے شراب پیا وہ ایمان سے خارج ہے (ج۶ص
۸۶۱) شراب نجس ہے (ج۷ ص ۸۳)

٭      فقہا کے نزدیک شراب کی نجاست پیشاب کی نجاست
سے زیادہ ہے، چنانچہ اگر مجبوری کے عالم میں شراب اور پیشاب سامنے ہوں تو پیشاب کو
اختیار کرے شراب نہ پئے شراب نوشی گناہ کبیرہ ہے (ج۳۱ص ۸۵۱)

٭      شرابی کی چالیس دن تک نماز قبول نہیں ہوتی
اورجہنم میں اس کو صدید پلایا جائے گا (ج۸ ص ۰۵۱)

٭      شراب شیطان کا مشروب ہے (ج۸ ص ۲۸۱)

٭      سکر کا معنی شراب (ج۸ ص ۵۲۲)

٭      کیا مومن شراب پیتا ہے؟ (ج۹ ص ۸۶)

٭      شراب و شطرنج ان گناہوں میں ہیں جو بے عزتی
کے موجب ہیں (ج۱۱ص ۰۲۱)

٭      شراب نوشی کی سزا میں حضرت علی ؑ نے ولید بن
عقبہ کو اسی تازیانہ مارا تھا (ج۱۱ص ۱۵۱)

٭      جنت کی شراب ان عیبوں سے پاک ہے کیونکہ جنت
کی شراب پاکیزہ ہو گی (ج۲۱ص ۹۳۱)

٭      شَرَابًا طَہُوْرًا (ج۴۱ص ۳۵۱)

٭      شراب مختوم (ج۴۱ص ۱۹۱)

شطرنج: شطرنج اور تاش وغیرہ رجس ہیں (ج۰۱ص
۸۲)

٭      شطرنج کی حرمت (ج۳ص ۹۴-ج۹ص ۹۲۲)

٭      شراب و شطرنج کی مذمت (ج۳ص ۷۴ تا ۹۴- ج۵ص
۳۶۱)

٭      شراب و شطرنج ان گناہوں میں ہیں جو بے عزتی
کے موجب ہیں (ج۱۱ص ۰۲۱)

شفا : آیات قرآنیہ میں شفا ہے (ج۱ص ۲۳ -ج۹ص
۵۶)

٭      سورہ فاتحہ کا پڑھنا باعث شفا ہے (ج۲ص ۸)

٭      خاک شفا (ج۴ص ۴۱-ج۹ص ۰۶)

٭      قرآنی و اسلامی تعلیمات امراض روحانیہ کےلئے
باعث شفا ہیں (ج۲ص ۰۵ – ج۲۱ ص ۲۹۱)

٭      اللہ کے فرمان کی اطاعت موجب شفا ہے اس پر
جرح کرنا دانشمندی نہیں (ج۲ص ۹۸۱)

٭      شہد کو اللہ نے شفا قرار دیا ہے شِفَائٌ
لِلنَّاسِ (سورہ نحل، آیت ۹۶) (ج۵ص ۶۲۲)

٭      حضرت امیر المومنین ؑ نے پیٹ کے مریض کو
قرآنی نسخہ تعلیم فرمایا جس کے تین اجزاءہیں:

 (۱) شہد باعث شفا ء ہے (۲) بارش کا پانی باعث
برکت ہے (۳) عورت کے حق مہر سے کوئی چیز جس کو قرآن نے حَنِیْئًا مَّرِیْئًا کہا
ہے، جس مریض نے ان تینوں چیزوں کو ملا کر استعمال کیا وہ شفایاب ہو گیا (ج۰۱ص ۱۸۱)

شفاعت: تارک نماز کےلئے شفاعت نہ ہوگی (ج۲ص
۲۰۱)

٭      محمد و آل محمد شفاعت کریں گے (ج۲ص ۴۰۱-ج۷
۵۴۱-ج۰۲ص۲۰۲ -ج۸ص۸۶۱-ج۹ص ۸۲۲-ج۲۱ص ۶۰۲-ج۴۱ص ۶۳۱،۶۶۱)

٭      بعض لوگوں کو شفاعت پہنچے گی جب کہ جہنم میں
جل کر ان کے چہرے سیا ہ ہو چکے ہوں گے (ج۴ص ۸۹)

٭      مسجد کوفہ اپنے نمازیوں کےلئے شفاعت کرے
گی(ج۷ص ۵۲)

٭      شفاعت اورنصرت میں فرق (ج۷ص ۸۰۲)

٭      گنہگارمومنوں کےلئے شفاعت کا دروازہ کھلا ہے
(ج۱۱ص ۸۳۱)

٭      حضرت رسالتمآب باذن پروردگار اپنی امت کی
شفاعت کریں گے سابق انبیا ء کو بھی حق شفاعت حاصل ہوگا اور امام محمد باقرؑ نے
فرمایا ایک مومن قبیلہ مفرد ربیعہ کے افراد کے برابر گنہگاروں کی شفاعت کریں گے
(ج۲۱ص ۵۴۲،۶۴۲)

٭      حضرت پیغمبر کا حق شفاعت دنیاوی حکومتوں
اورزندگی دنیا سے ستر گنا افضل ہے (ج۲۱ص ۴۹)

٭      شفاعت کا حق ان کو حاصل ہو گا جن کو اللہ
اذن دے گا (ج۲۱ص ۷۲۱)

٭      حضرت امیر المومنین ؑ نے فرمایا میرے شیعوں
اور موالیوں میں سے ہر ایک اپنے ہمسایوں اور دوستوں کے حق میں شفاعت کرے گا (ج۲۱ص
۰۴۱،۹۶۲)

٭      جناب خاتون جنت سے شفاعت کریں گی (ج۳۱ص
۸۳۱)

شرک: حضرت پیغمبر کی وصیت ہے کہ اللہ کے
ساتھ شرک نہ کرنا (ج۲ص ۰۳۱)

٭      جو کسی وقت بھی شرک کی نجاست میں آلودہ رہ
چکا ہو وہ کبھی عہد ہ امامت کے لائق نہیں ہو سکتا (ج۲ص ۳۷۱)

٭      غیر خدا کو پکارنے کی مذمت (ج۶ص ۹۴۱)

٭      شرک کی نفی پر دلائل (ج۷ ص ۲۶۱،۳۶۱،۳۷۱)

٭      غیراللہ کا سجدہ کرنا شرک ہے (ج۸ ص ۶۸)

٭      کیا مومن شرک کرتے ہیں؟ (ج۸ ص ۵۹)

٭      شرک عملی سے منع (ج۹ ص ۲۳۱)

٭      رجس اَوثان سے منع (ج۰۱ص ۸۲)

٭      مشرکوں کے شرک کی اصلی بنیاد (ج۰۱ص۹۶۱-ج۱۱
ص ۲۱۱،۳۱۱) شرک کی نفی (ج ۱۱ص ۹۰۱)

٭      تارک صلوٰة مشرک ہے (ج۱۱ص ۰۱۱،۱۱۱)

٭      فرشتوں کو خدا کا خطاب کہ جن لوگوں نے
تمہاری پر ستش کی ہے کیا تم نے ان کو کہا تھا (ج ۱۱ص ۱۵۲)

٭      مشرکین کو تنبیہ (ج۱۱ص ۸۶۲)

٭      بت پرستی اور پیر پرستی(ج۲۱ص ۱۵،۵۴۱)

٭      مشرکین مکہ فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں سمجھ
کر ان کو پوجتے تھے (ج۳۱ص ۴۷)

٭      شرک سے بچنے کی تنبیہ (ج۲۱ص ۳۱۱)

٭      مشرکین کے رویے کی مذمت (ج۲۱ص ۷۲۱،۹۲۱، ۳۳۱،
۲۶۱)

٭      شرک گناہ کبیرہ ہے (ج۳۱۸۵۱)

شعیاؑ: ان کو بنی اسرائیل نے شہید کیا (ج ۹ص
۹، ۱۱)

شعب ابی طالب ؑ: (ج۵ ص۳۰۲)

شعائر اللہ : شعائراللہ کی تعظیم تقویٰ ہے
(ج۲ص ۸۲-ج۰۱ص ۱۳،۲۳)

٭      صفا و مروہ شعائراللہ ہیں (ج۲ص ۳۰۲)

٭      شعائر اللہ کی تفسیر (ج۵ص ۵۱)

شعر خوانی: شعر پڑھنا روزہ دار کےلئے مکروہ
ہے مگر مطالب حقہ پر مشتمل اشعار میں کراہت نہیں (ج۲ص ۸۲۲)

٭      اشعارحضرت ابوطالب ؑ مشتمل برعقائد اسلامیہ
(ج۵ص ۴۰۲)

٭      مسجد میں شعر خوانی سے منع (ج۷ص ۹۲)

٭      شعر خوانی (جو بے ہودہ ہو) شیطانی فعل ہے
(ج۸ ص ۲۸۱)

٭      پیغمبر کی طرف شعر و شاعری کی نسبت کی
تردید (ج۳۱ص ۹۲)

شعراء: سورہ شعراء کے فضائل (ج۰۱ص ۹۸۱)

٭      شعراء کے معنی کی وضاحت (ج۰۱ص ۰۲۲)

 ٭    
شعریٰ کا معنی (ج۳۱ص ۲۶۱)

شعیبؑ: حضرت شعیب ؑ نے حضرت موسیٰؑ کو عصا
دیا تھا (ج۲ص ۶۱۱،ج ۹ص ۷۷۱)

٭      حضرت شعیبؑ کی امت پر عذاب آیا کیونکہ ان
کی امت کے نیک لوگ بروں کو نہ منع کرتے تھے اور نہ ان سے نفرت کرتے تھے (ج۴ص ۸۲)
عذاب بوقت دوپہر آیا (ج۶ ص۶)

٭      حضرت شعیب ؑ کا ذکر (ج۶ ص ۷۵، ۹۵-ج۷ص
۲۳۲-ج۰۱ص ۰۱۲)

٭      اصحاب مدین سے مراد حضرت شعیب ؑ کی قوم ہے
(ج۷ ص ۵۹)

٭      اصحاب ایکہ و اصحاب مدین دونوں کے پیغمبر
حضرت شعیبؑ تھے (ج۸ ص ۹۸۱-ج۳۱ص ۳۱۱)

٭      حضرت موسیٰؑ فرعونیوں کا قتل کرنے کے بعد
وہاں سے بھاگے اور حضرت شعیب ؑ کے پاس پہنچے (ج۹ ص ۳۸ -ج۱۱ص ۸۲)

٭      روایت میں ہے کہ اصحاب رس کے نبی بھی حضرت
شعیب ؑ تھے (ج۰۱ص ۸۷۱)

٭      حضرت ذوالکفل ؑ کے بعد حضرت شعیبؑ مبعوث
ہوئے (ج۲۱ص۳۰۱)

شکم : شکم مادر میں کلام (ج۳ ص۶۲۲)

٭      امام شکم مادر میں بھی سن سکتا ہے (ج ۵ص
۹۴۲)

٭      شکم ما در میں جناب فا طمہؑ زہرا ءاپنی ما
ں سے ہم کلام ہو اکرتی تھیں(ج۳ص۷۲۲)

شک: شک عمر و نبوت (ج۳۱ص ۶۷)

شکر: شکر کی دو قسمیں ہیںایک ذات پر اور
دوسرا احسانات پر اور الحمدللہ کہنے میں دونوں شکر آجاتے ہیں (ج۲ص ۳۱)

٭      شاکرین کی تفسیر (ج۴ص ۱۶)

٭      جس کے پاس شکر ہو زیادتی نعمت سے محروم
نہیں ہوتا (ج۶ص ۳۶۱-ج۸ص ۵۱۱، ۷۴۱)

٭      ناشکری کی مذمت (ج۷ص۷۵۱-ج۲۱ص۳۹۱)

٭      صبرو شکر کی وضاحت(ج۷ص۴۹۱-ج۹ص۷۵۱،۰۱۲-
ج۱۱ص۱۴۱-ج۲۱ص۵۶۱،۷۱۲)

شکار : مچھلی کا شکار بروزہفتہ بنی اسرائیل
پر حرام تھا (ج۲ص ۹۱۱)

٭      اپنے بچوں اور بیوی کے گزارا کےلئے شکار
جائز ہے البتہ لہو و لعب کے طور پر شکار کرنا حرام ہے حضرت ابراہیم ؑ جب ایک مرتبہ
حضرت اسمٰعیل ؑ کو ملنے گئے تھے تو وہ شکار کےلئے باہر گئے ہوئے تھے (ج۲ص ۵۷۱)

٭      شکاری کتے کے ذریعے کئے ہوئے شکار کے بعض
احکام (ج۹ص ۳۳۴،۶۴)

٭      ملک العلماء کا لطیفہ (ج۹ ص ۴۴)

٭      شکاری کتے کی خرید و فروخت جائز ہے (ج۵ص ۴۴)

٭      غیر شکاری کتے کی قیمت سُحت ہے (ج۵ص ۰۱۱)

٭      حالت احرام میں شکار کر حکم (ج۵ ص ۲۲۱ تا
۸۲۱)

٭      شکار محرم کے متعلق یحییٰ بن اکثم کا سوال
اور حضرت امام محمد تقیؑ کا دندان شکن جواب (ج۵ص ۰۷۱)

شمعون ؑ : حضرت عیسیٰؑ نے آسمان پر جانے سے
پہلے حضرت شمعون کو اپنا وصی نامزد فرمایا تھا (ج۲ص ۰۰۱)

٭      حضرت یوسفؑ کے بھائیوں میں ایک کانام شمعون
تھا جس کو حضرت یوسف ؑ نے اپنے پاس رکھ لیا تھا جبکہ ددوسرے بھائی بن یامین کو
لانے کےلئے واپس کنعان گئے تھے (ج۸ ص ۷۵)

٭      حضرت شمعون کے عیسیٰؑ کے وصی ہونے کی تاریخ
یوم غدیر تھی (ج۵ص ۷۳)

٭      حضرت شمعون کا انطاکیہ کی طرف مبلغ بن کر
جانا (ج۲۱ص ۳۱)

شہد: حضرت پیغمبر نے شہد استعمال کیا
توعائشہ و حفصہ نے سازش کی کہ آپ نے مغافیر کھایا ہے (ج۴۱ص ۹۵)

شہر حرام: یعنی حرمت والا مہینہ اور یہ چار
مہینے ہیں (رجب،ذوالقعدہ، ذو الحجہ اورمحرم) (ج۵ص ۵۱)

شہاب ثاقب : جنات کو آسمانوں پر جانے سے
روکتے ہیں (ج۳۱ص ۳۳-ج۴۱ ص ۸۱۱-ج ۸ص ۳۷۱)

شہادت: شہدا ء کی زندگی (ج۲ص ۶۹۱ تا ۸۹۱)

٭      شہدائے اُحد کی فہرست (ج۴ص ۲۴)

٭      شہدائے بئر معونہ کا غم (ج۴ص ۶۴، ۱۸)

٭      بوقت شہادت حضرت علی ؑ نے کہا تھا فُزْتُ
بِرَبِّ الْکَعْبَہ (ج ۵ص ۸۹)

٭      حضرت پیغمبر نے فرمایا یا علی ؑ تجھے اس
امت کا بد ترین آدمی شہید کرے گا (ج۶ص ۳۵)

٭      حضرت موسیٰؑ پر ایمان لانے والے جادوگروں
کی شہادت (ج۶ص ۲۷)

٭      جو شخص ہر رات سورہ کہف کی تلاوت کرے اس کی
موت شہادت ہو گی (ج۹ ص ۹۷)

٭      شہادت حضرت امام حسین ؑ کی پیشین گوئی (ج۹ ص
۶۳۱)

٭      شہادت حضرت ذکریا ؑ (ج۹۰۵۲)

٭      شہادت سعد بن معاذ (ج۱۱ص ۳۸۱)

٭      حضرت محسن بن علی ؑ کی شہادت کی پیشین گوئی
(ج۲۱ ص ۶۳۲)

٭      حضر ت پیغمبر نے خیبری یہودیہ عورت کی زہر
سے شہادت پائی (ج۳۱ص ۳۸)

اقول: ہم کافی تحقیق اور جستجو کے بعد اس
نتیجہ پر پہنچے ہیںکہ یہ صاحبان اقتدار کی اپنے گھناﺅنے جرم پر پردہ ڈالنے کی ایک
سازش ہے ورنہ چند سال تک زہر بدن میں رہ کر آہستہ آہستہ عمل کرتی رہے یہ ناممکن ہے
حالانکہ زہر کا کام ہے نظام بدن کو درہم برہم کردینا اور خون انسانی کو خراب کر
دینا اگر زہر جزو بدن بن جائے تو پر وہ نظام بدن کو خراب نہیں کرتی بلکہ موافق ہو
جایا کرتی ہے اس میں شک نہیں کہ حضور کوزہر دی گئی لیکن نہ کہ خیبر میں بلکہ
گھرمیں اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ کس نے یہ جسارت کی تو اس کا انکشاف صحیح بخاری سے
ہوتا ہے ہماری کتب احباب رسول دیکھئے

٭      شہید اول محمد بن مکی مصنف کتاب لمعہ دمشقیہ
کا سانحہ شہادت (ج۳۱ص ۹۶۱)

٭      مومن کی موت شہادت ہے مَنْ مَاتَ عَلٰی
حُبِّ آلِ مُحَمَّدٍ مَاتَ شَھِیْدًا(ج۳۱ص ۰۲۲)

شیخی فرقہ: (ج۸ ص۵۶۱)

٭      ہماری ذاتی تحقیق یہ ہے کہ شیخ احمد احسائی
کا دامن ان الزامات سے پاک ہے جو ان کی طرف منسوب ہیں (ج۰۱ص ۰۱۱)

اقول: بعض علمائے قم سے تبادلہ ء خیالات ہوا
تو انہوں نے بھی ہمارے اس خیال کی تصدیق فرمائی اور جن کو شیخی کہا جاتا ہے وہ بھی
دوسرے شیعوں کی طرح پانچ اصول دین اور دس فروع دین کے قائل ہیں آجکل شیخی اور
خالصی کی تفریق بعض مولویوں کی تنگ نظری کے نتیجے میں ہے۔

شیر : حضرت موسیٰؑ جب داخل دربار فرعون ہوئے
تو شیر آپ کے قدموںمیں گر گئے (ج۱۱ص ۸۳)

شیطان: شیطان گمراہی کو اللہ کی طرف منسوب
کرتاہے (ج۲ص ۰۶)

٭      نمازی انسان سے شیطان خوفزدہ رہتا ہے (ج۲ص
۱۰۱)

٭      شیا طین نے حکومت سلیمان کے اندر جادو کو
ترویج دی (ج۲ص ۸۴۱)

٭      شیاطین اپنے اولیا ء کی طرف وحی کرتے ہیں
(ج۵ص ۱۵۲)

٭      شیطان کو زنجیروں میں جکڑ کر پیش کیا جائیگا
تو ایک دوسرے شخص کو اس کے ساتھ پیش کیا جائیگا شیطان از راہ عبرت پوچھے گا یہ
میرا ثانی کون ہے؟ تو جواب ملے گا یہ وہ ہے جس نے علی ؑ کے خلاف بغاوت کی تھی (ج۸
ص ۳۵۱)

٭      ولایت پیغمبر کی رات شہاب ثاقب کے ذریعے
شیطانوں کو آسمانوں سے روک دیا گیا (ج۸ ص ۳۷۱)

٭      لوگوں کو گمراہ کرنے کےلئے شیطان کے جال
مختلف ہیں (ج۸ ص ۱۸۱،۲۸۱-ج۹ص ۰۴،۱۴)

٭      شیطان مومن کو ولایت علی ؑ سے نہیں ہٹا سکتا
البتہ باقی برے کام کرا لیتا ہے (ج۸ ص ۳۴۲)

٭      ہر زمانہ کا شیطان اپنے پیرکاروں کے ہمراہ
جہنم میں داخل ہو گا (ج۹ ص ۱۶،۲۶۱)

٭      جن لوگوں نے شیطان کی اطاعت کی گویا انہوں
نے شیطان کو اللہ کے برابر ٹھہرایا (ج۲۱ص ۴۷)

٭      شیطان کا حضرت سلیمان ؑ سے انگوٹھی حاصل
کرنا شیعہ عقیدہ کے خلاف ہے (ج۲۱ص ۱۹،۹۲)

٭      شیطان کی چال (ج۲۱ص ۷۹،۸۹)

٭      شیطان کا اطاعت گزار جہنم میں شیطان کا
ساتھی ہوگا (ج۲۱ص ۵۳۲)

٭      شیطان نے ایک عابد کو گمراہ کیا (حکایت)
(ج۳۱ص ۷۵۲)

شیث ؑ: حضرت آدم ؑ نے شیث کو اپنا وصی نامزد
کیا لیکن امت آدم نے اس سے وفا نہ کی (ج۲ص ۰۰۱)

شیعہ : قرآن سے شیعہ کا تمسک اسکے ثبوت میں
تصریحات علمائے شیعہ عمل علمائے شیعہ شیعوں کا کردار عمل اور شیعوں پر بہتان (کہ
ان کا قرآن پر ایمان نہیں اور اس کا مدلل جواب) (ج۱ ص ۲۱۱ تا ۹۱۱- ج۸ ص ۰۷۱)

٭      بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم کے
متعلق شیعہ عقیدہ کہ آیا جزو سورہ ہے یا نہیں (ج۱ ص ۶۳۱)

٭      شیعہ عقیدہ کی رُو سے یاعلی ؑ مدد کہنا
اِیَّاکَ نَسْتَعِیْن کے منافی نہیں (ج۲ص ۱۳)

٭      متقین حضرت علی ؑ کے شیعہ ہیں (ج۲ص ۲۵)

٭      شیعہ کی موت کے وقت معصومین ؑ آتے ہیں
(ج۲۱ص ۷۸۱)

٭      شیعوں کو تنبیہ (ج۲ ص ۳۷،۷۱۲،۱۳۲-ج۲۱ص۴۱۱)

٭      بروز محشر نیک شیعہ گنہگارشیعوں کی شفاعت
کریں گے (ج۲ص ۴۰۱ -ج۹ص۳۰۲-ج۰۱ص۲۰۲)

٭      جو عالم جاہل شیعوں کو جہالت سے نکال کر نور
علم تک پہنچائے اسکے سر پر نورانی تاج ہو گا (ج۲ص ۴۳۱)

٭      شیعہ وہ ہے کہ جس محلہ میں آباد ہو اس میں
اس سے بڑھ کر امین اور دیانت دار دوسرا کوئی نہ ہو (ج۲ص ۵۳۱)

٭      سلطان غازان خان کا مذہب حقہ شیعہ کو قبول
کرنے کا مفصل واقعہ (ج۲ص ۰۰۲ تا ۲۰۲)

٭      قوم شیعہ کی خصوصیات (ج۲ص ۷۱۲)

٭      شیعہ قوم کی بد عملی قابل افسوس ہے (ج۲ص
۱۳۲)

٭      شیعیان آل محمد ان ہی سے ہیں (ج۳ص ۱۶۲-ج۳۱ص
۷۹۱)

٭      قوم شیعہ پر اما م رازی کا اعتراض اور اس
کا دندان شکن جواب (ج۵ص ۷۲،۵۲۱)

٭      شیعہ فرقہ بہتر (۲۷) فرقوں میں سے ناجی فرقہ
ہے (ج۵ص ۹۷)

٭      حکومت جور کی ملازمت سے منع (ج۵ ص ۳۵۱ -ج
۶ص ۷۶۱)

٭      حضرت ابراہیم ؑ نے انوار دیکھے اور شیعوں کی
علامات دریافت کیں (ج۵ ص ۳۳۲)

٭      شیعہ آئمہ کے ساتھ محشور ہوں گے (ج۶ ص ۳۹)

٭      شیعہ صابر ہیں (ج۸ ص ۸۲۱)

٭      مقدمہ فدک پر رازی کی بحث و جواب (ج۶ ص ۶۴۱)

٭      شیعوں کا مسلک غیر متزلزل ہے (ج۷ ص ۱۹ – ج۸ص
۵۵۱) دعا کا طریقہ (ج۸ ص ۸۱۱)

٭      شیعوں کا غم حسین ؑ میں رونا بدعت نہیں ہے
(ج۸ص ۴۷)

٭      فرشتوں سے شیطان علی ؑ کی محبت کا عہد لیا
گیا ہے (ج۸ ص ۱۶۲)

٭      یاعلی ؑ تو اور تیرے شیعہ جنت جائیں گے (ج۸
ص ۴۸۱-ج۹ص ۹۵۱،۶۶۱-ج۳۱ص۱۲۲، ۸۵۲)

٭      قائم آل محمد کی آمد پر مخصوص شیعہ اٹھائیں
گے (ج۸ ص ۹۰۲-ج۹ص ۲۵۲)

٭      شیعہ کون ہیں؟ (ج۸ ص ۳۱۲)

٭      شیعہ جنتی کا مکان (ج۹ ص ۶۱)

٭      شیعوں کو نصیحت و تنبیہ (ج۹ ص ۴۱)

٭      ایک شیعہ گنہگار کا واقعہ (ج۲۱ص ۸۴،۹۴)

٭      نبی کی بیویوں کے متعلق شیعوں کا عقیدہ
(ج۰۱ص ۵۲۱)

٭      مقام شیعہ (ج۳۱ص ۵۳۱)

٭      حضرت امام جعفر صادقؑ نے فرمایا تمہیں یہ
نام (شیعہ) مبارک ہو (ج۱۱ص ۵۲)

٭      حضرت ابراہیم ؑ پر شیعہ کا اطلاق (ج۲۱ص ۲۴)

٭      شیعہ اورمحب میں فرق (ص ۳۴)

٭      گنہگار شیعوں کی آئمہ سفارش کریں گے (ج۲۱ص
۹۹۲،۰۷۲)

٭      معاویہ کے دور میں شیعیان علی ؑ پرمظالم
(ج۴۱ص ۲۱)

٭      حضرت پیغمبر نے فرمایا یا علی ؑ اللہ نے
تیرے شیعوں کو سات انعامات عطا فرمائے ہیں :

        (۱)
موت کے وقت آسانی  (۲) وحشت قبر کے وقت انس     (۳) ظلمت قبر کے وقت نور

        (۴)
گھبراہٹ کے وقت امن       (۵) میزان میں
انصاف       (۶) پل صراط سے عبور

        (۷)
سب سے پہلے داخلہ جنت (ج۴۱ ص ۷۶، ۸۶)

٭      برو ز محشر کافر کہے گا کاش میں تراب (شیعہ)
ہوتا (ج۴۱ص ۷۶۱)


Posted

in

by

Tags:

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *