جاثیہ: سورہ جاثیہ (ج۳۱ص۵)
جہاد: جذب و دفع کافلسفہ(ج۳ص۷۲۱)
٭ ماںکی خدمت جہاد ہے (ج۲ص۱۳۱)
٭ جہا دِ نفس افضل جہاد ہے (ج۴ ص۰۵، ۷۵-ج۶ص۷۲)
٭ جہاد کی مصلحت (ج۳ص۹۳،۴۳۱)
٭ جہاد واجب کفائی ہے، یعنی اگر سب مسلمان ترک کر دیں تو سب مسلمان
گنہگار ہوں گے لیکن اگر کچھ آدمی مصروف جہاد ہو جائیں جو دشمن کے مقابلہ میں کافی
ہوں تو باقیوں سے ساقط ہے (ج۵ص۳۴،۴۴)
٭ دشمنان خدا سے جہاد کے وجوب کی علت (ج۵ص۱۲)
٭ حضرت علی ؑ کے نزدیک جہاد سے فرار کرناکفر ہے (ج۵ ص۳۵ -ج۳۱ص۸۵۱)
٭ جہاد کا حکم (ج۷ص۹۳،۶۹،۱۴۱-ج۳۱ص۲۴)
٭ قوموں کی ترقی کا راز مجاہدانہ زندگی میں مضمر ہے(ج۷ص۹۴،۴۶)
٭ ثواب جہاد (ج۴ص۳۸)
جنگ : حرمت والے مہینوں میں جنگ کر نا حرام
ہے (ج۳ص ۳۴ -ج۷ص۵۴)
٭ جنگ پا کستان (ج۱۱ص۴۵۱)
جو ا: جوئے سے حاصل ہونے والا مال حرام
ہے(ج۲ص۰۴۲-ج۳ص۹۴)
٭ جوئے کی حرمت (ج۵ص۳۶۱)
٭ قوم لو ط پر عذاب کی وجو ہات میں سے ایک وجہ ان کی جو ا با زی
تھی (ج۱۱ص۱۸)
٭ وہ گناہ جو بے عزتی و بے حرمتی کے مو جب ہیں ان میں سے جو ا بازی
بھی ہے (ج۱۱ص۰۲۱)
جادو: جادو کے دفع ہو نے کا عمل(ج۶ص۰۴۱)
٭ جادو اور معجزہ میں فرق (ج۶ص۰۷)
جفر: امام جعفر صا دقؑ سے مروی ہے کہ الواح
مو سیٰ میں علم جفر تھا وہ ایک پہا ڑمیں دفن تھیں چنا نچہ زمانہ پےغمبر میں ایک
یمنی قا فلہ ان کو نکال کر حضورکے پاس لایا آپ نے حضرت علی ؑ کو اپنی قلم سے لکھنے
کا حکم دیا اور امام ؑنے فر ما یا وہ جفر اب بھی ہما رے پاس موجود ہے (ج۶ص۴۹)
·
علم جفر
ایک وسیع علم سب سے پہلے جفر کے لکھنے کا طریقہ معلوم ہونا ضروری ہے اور اس کی دو
قسمیں ہیں 1۔ جعر جامع 2۔ جفر کبیر اور دونوں کا طریقہ الگ الگ ہے۔
·
شرائط کتابت
1. طہارت اربعہ یعنی ظاہر و باطن دل اور زبان کو پاک
رکھنا ہے
2. جس مکان میں جفر لکھی جائے سفید پاکیزہ سرکشودہ،
برلب آب رواں ہو۔
3. تنہائی میں لکھے کھانا کم حلال و طیب غذا ہو۔
4. نیند کم ذکر زیادہ، لکھتے وقت متفکر نہ ہو
باطمینان ہو۔
5. چار حروف آپس میں متصل نہ ہوں خصوصاً پہلے دو حرف
اور اضلاع سے بھی ملحق نہ ہوں
6. حروف کی آنکھیں کھلی ہوں
7. کوئی حرف کھرچا نہ جائے اصلاح و غلط نہ ہو نقطے
درست ہوں
8. کاغذ بے سوراخ و بے داخ ہو۔
9. کتابت سعد ایام و سعدساعات میں ہو۔
10.
قمر حضیض
و عقرب و نحوست میں نہ ہو۔
11.
بخورات پاکیزہ ہوں
12.
لوگوں سے میل جول کم اور دنیاوی مشاغل سے آزاد ہو لہو و لغو
سے پرہیز ضروری ہے۔
13.
تمام خانہ جات مربع قائم الزوایا اور متساوی الاضلاع ہوں۔
14.
ایک ہزار دن میں کتابت مکمل ہو گی بروز ہفتہ اور کسوف اور
خسوف میں نہ لکھی جائے گی۔
15.
مکان عورتوں کی گزر سے پاک ہو۔
16.
مکان پاکیزہ بدن و لباس پاک بستر پاک تقوٰی و صدق لازم
17.
بوقت کتاب کتے اور گدھے کی آواز کان میں نہ آئے
18.
کاغذ روشنائی خوراک پاک اور حلال ہو۔
فوائد جفر
اگر باشرائط لکھی جائے
·
جس گھر
میں ہو گی وہ گھر آفات و بلیات سے محفوظ ہو گا۔
·
لکھنے والے
کو غائب چیزوں کا علم ہو گا۔
·
مرگ مناجات
سے اللہ محفوظ رکھے گا۔
·
اہل خانہ
کی دعائیں اور بری خصلتیں نیکی سے بدل جائیں گی۔
·
اس گھر
میں چور ڈاکو نہ گھس سکیں گے ورنہ ذلیل ہوں گے
·
صاحب کتابت
کی دعا مستجاب ہو گی اور لوگوں کی نظروں میں محترم و مکرم ہوگا۔
·
جس گھر
میں ہو وہ برکتوں کے نزول کا مرکز ہو گا۔
·
سفر میں
ساتھ ہوتو سفر پر امن ہو گا۔
·
ترتیب انجدی
سے یا ترتیب ہجائی سے لکھی جا سکتی ہے۔
·
اس کے
اسماء یہ ہیں تکسیر اعظم، اسم کبیر ، جفر جامع، عقل نعال ، لوح محفوظ اور مصحف قمری۔
·
یہ کل
اٹھائیس (28) اجزاء ہوں گے جن کو اقالیم کہا جاتا ہے (اقالیم 28) ہر اقلیم (ہر
جزو) کے 28 صفحات ہو نگے جن کو شہر کہا جاتا ہے (کل صفحات 784) ۔ ہر شہر یعنی ہر
صفحہ پر 28 سطریں ہوں گی جن کو محلہ کہا جاتا ہے ۔ (کل سطریں (محلے) 21952) ہر
محلہ یعنی ہر سطر میں 28 خانہ جات ہوں گے جن کو بیت کہا جاتا ہے کل خانے 614656)
اور ہر خانہ میں چار حرف ہوں گے جنہیں ساکنین کہا جاتا ہے ۔ 2458624
·
جفر جامع
کی کتابت میں پہلے خانہ پھر محلہ پھر شہر اور آخر میں اقلیم درج ہوتا ہے۔
·
یعنی پہلا
حرف خانے کا دوسرا حرف محلہ کا اور تیسرا حرف شہر کا اور چوتھا حرف اقلیم کا ہے۔
اسی طرح 28 صفحات پر ہوں گے اور بعد دوسری
جزو (اقلیم شروع ہو گی) تو چوتھا حروف ب ہو گا۔
جزو 2 (یعنی اقلیم 2)
اور کفر کبیر میں اس کے برعکس پہلے اقلیم
پھر شہر پھر محلہ پھر آخر میں خانہ لکھا جاتا ہے۔
·
اگر 28
حروف کی تکسیر نہ کر سکے تو حروف نورانیہ مقطعات جو چودہ ہیں ان کی تکسیر کرے بہت
فوائد اس میں موجود ہیں خصوصاً وسعت رزق و عزت نفس وہ یہ ہیں۔
ا ل م ص ر ک ھ ی ع ط س ح ق ن
·
جفر جامع
کے طریق پر کے
·
ہر رات
چودہ صفحات پر کرے
·
اور چودہ
راتیں اسی طرح پر کرے
·
قمر زائد
النور میں پر کرے
·
اور چودہ
مہینے عمل کو مسلسل ۔ ترقی درجات ، بلندی عزت و اقبال اور وسعت رزق کے لئے ۔
جنگ ِبدر: جنگ بدر کی طرف اشا رہ
(ج۳ص۳۰۲-ج۴ص۳۴-۵۴،۹۷-ج ۵ص ۸۱۱)
٭ جنگ بدر کی تفصیل (ج۶ ص۵۷۱ تا ۶۸۱)
٭ جنگ بدر میں ملا ئکہ کی آمد (ج۶ص۳۴۲)
٭ جنگ بدر (ج۶ص۳۵۲-ج۱۱ص۳۰۱،۱۵۱-ج۴۱ص۶)
٭ پےغمبر سے د شمنی کی وجہ سے کفا ر مکہ جنگ بد رکے عذ ا ب میں گر
فتا ر ہو ئے (ج۹ص۶۴ – ج۰۱ص۲۴ – ج۲۱ص۸۳۲)
جنگ ِتبوک: غزوہ تبوک کے مو قعہ پر منا فقین
کا رویہ (ج۷ص۲۹،۷۹ – ج۱۱ص۹۵۱)
٭ غزوہ تبو ک سے وا پسی کے موقعہ پر بعض منافقین نے حضرت پےغمبر کے
قتل کا ارادہ کیا تھا جبکہ حضور پہاڑی را ستہ عبور کر رہے تھے اور حذیفہ کے ہا تھ
میں سواری کی مہا رتھی ان منا فقوں نے اپنے چہر وں پر نقاب ڈالے ہو ئے تھے جن کو
پہچا نا نہ جا سکا، لیکن حضور نے حذیفہ کو ان با رہ آدمیوں کے نا م بتا دیے تھے
شاید اس بنا ء پر حضرت عمر حذیفہ سے پو چھا کر تے تھے کہ کیا نا موں میں سے حضور
نے میرا نام تو نہیں لیا تھا؟ جیسا کہ میزان الاعتدال میں علامہ ذہبی نے بھی ذکر
کیا ہے (خدا جانے حضرت عمر کو اپنے اوپر شک کیوں ہوا تھا؟)
٭ غزوہء تبوک کا تفصیلی جائزہ (ج ۷ص ۷۰۱ تا ۱۱۱) توبہ کرنے والوں
کا ذکر (ج ۷ص ۶۲۱)
جنگ ِخندق : حی بن اخطب یہودی کی ریشہ
دوانیاں ہی جنگ خندق کا موجب بنیں (ج ۲ص ۴۵۱ – ج ۵ص ۳۵۱)
٭ جنگ خندق سے پہلے ماہ ِرمضان میں سو چکنے کے بعد کھانا حرام ہو
جاتا تھا، چنانچہ معطم بن جبیر دن کا تھکا ماندہ جب گھر پہنچا تو بیوی کے کھانا لے
آنے سے پہلے اس کو نیند آ گئی جب بیدار ہوا تو اس نے کہا کیوںکہ میں سو چکا ہوں
لہذا کھانا مجھ پر حرام ہے پس دوسرے دن بھی روزہ رکھ لیا اور خندق کی کھدائی میں
شامل ہو گیا چنانچہ اسی دوران میں وہ بے ہوش ہو گیا اور بعض صحابہ بھی تکلیف زدہ
ہوئے، تب پہلا حکم منسوخ ہوا اور رات بھر تا طلوع صبح کھانے کی اجازت ہو گئی (ج ۲ص
۷۳۲)
٭ جنگ خندق میں کھدائی کے حصص مقرر ہوئے تو جناب سلمان ؑ کو پیغمبر
نے اپنے ساتھ ملا کر فرمایا: اَلسَّلْمَانُ مِنَّا اَھْلَ الْبَیْتِ (ج ۳ص ۱۱۲)
٭ جب دوران جنگ خندق کو پار کر کے عمر و بن عبدو د نے مسلمانوں کو
للکارا تو کسی میں اس کے مقابلہ کرنے کی جراءت نہ تھی، چنانچہ حضرت عمر نے ایک
گزرا واقعہ یاد دلا کر لوگوں کے حوصلے پست کر دیئے، انہوں نے بیان کیا ایک دفعہ
سفر شام میں یہ شخص ہمارا رفیق سفر تھا اور ڈاکوﺅں کے ایک ہزار (۰۰۰۱) پر مشتمل
بھاری اور مسلح گروہ نے ہم پر حملہ کیا تو اس شخص نے ایک ہاتھ میں تلوار میں لی
اور ایک پانچ سالہ اونٹ کو ایک ہاتھ میں بطور ڈھال اٹھا کر ڈاکوﺅں کے مسلح گروہ پر
حملہ کیا، پس وہ ڈر کے مارے قافلہ والے سب لوٹا ہوا مال و اسباب چھوڑ کر بھاگ گئے
اور صحابہ میں بز دلی کی لہر دوڑ گئی اور حضرت علی ؑ نے باذنِ پیغمبر میدان جنگ
میں قدم رکھا اور عمرو بن عبدود کو واصل جہنم کر کے کل ایمان کا خطاب پایا نقلا ً
از معارج نبوت (ج ۵ص۹۸)
٭ جنگ خندق کے موقع پر سورج واپس پلٹا تھا (ج ۵ص ۶۸)
٭ جنگ خندق کی طرف اشارہ (ج ۶ص ۵۷ -ج ۷ص ۱۱)
٭ جنگ خندق کی تفصیل (ج ۱۱ص ۳۶۱ تا ۰۸۱)
٭ جنگ خندق میں بعض صحابہ کی پہلو تہی (ج ۳۱ص ۸۰۱)
جنگ ِخیبر : حضور نے فر مایا آج علم اس کو
دوں گا جو خدا اور رسول کا محبوب اور محب ہو گا اور کرار و غیر فرار ہو گا ذیل آیت
وَ یُحِبُّھُمْ وَ یُحِبُّوْنَہ¾ (پ ۶، سورہ مائدہ) (ج ۵ص ۰۲۱، ۸۲۱- ج ۷ص۱۱ -ج
۶ص۶۷)
٭ حضرت جعفر طیار ؑ حبشہ کے کامیاب دورہ کے بعد خیبر میں حاضر بارگاہ
پیغمبر ہوئے تو حضور بہت خوش ہوئے (ج ۵، ص۰۶۱) اور حضرت جعفر طیار کو ایک نماز
تعلیم فر مائی جس کو زندگی بھر میں ایک دفعہ پڑھنے والے کے بھی تمام گناہوں کی
بخشش کی ضمانت دی گئی ہے، نماز مذکور کا طریقہ ہماری کتاب انوار شرعیہ میں
مذکورہے۔
٭ جنگ خیبر کی تفصیل (ج ۳اص۷۷ تا ۲۸) اور سورہ فتح مبین سے مراد
جنگ خیبر کی فتح ہے جس کا سہرا حضرت علی ؑ کے سر پر ہے (ج۳۱ ص ۷۵)
جنگ ِجمل : حضرت علی ؑ کی حکومت کو ناکام
بنانے کےلئے جنگ جمل چھیڑدی گئی (ج ۵ص۷۲)
٭ حضرت علی ؑ سے جنگ جمل کرنے والوں کو ناکثین کہا جاتا ہے (ج ۵ص ۰۲۱
– ج۷ ص ۰۲ – ج ۸، ص۰۴۲ – ج ۴۱ص ۹۱۱)
٭ جنگ جمل کی فتح کے بعد حضرت علی ؑ کا رویہ (ج ۳۱ص ۹۹)
٭ حضرت علی ؑ نے جنگ جمل کی فتح کے بعد اہل بصرہ کو اہل موتفکہ سے
تعبیر کیا (ج۳۱ص۲۶۱ -ج۴۱ص ۳۹)
جنگ ِصفین: حضرت علی ؑایک بار ایک قمیص پہن
کر مصروف ِجہاد تھے تو حضرت محمد حنفیہ کے سوال کے جواب میں آپ نے فر مایا اے فر
زند ! تیرے باپ کو پرواہ نہیں کہ وہ موت کی طرف جائیں یا موت ان کی طرف جائے (ج
۲ص۴۱۱)
٭ حضور نے عمار نے فر مایا تھا کہ تجھے باغی جماعت قتل کرے گی اور
تاکید فر مائی کہ حق کا ساتھ نہ چھوڑنا (ج ۵ص ۲۸)
٭ جنگ صفین میں حضر ت علی ؑکے ساتھ لڑنے والوں کا قاسطین کہا جاتا
ہے (ج ۵ص ۰۲۱ – ج ۷ص ۱۲، ۲۲ – ج ۴۱، ص۹۱۱) فیصلہ تحکیم بعد جنگ صفین (ج ۱۱ص ۴۹)
٭ جنگ صفین سے واپسی پر حضرت علی ؑ کےلئے غروب کے بعد سورج واپس
پلٹا آپ نے نماز ظہر، عصر پڑھی (ج ۵ص ۷، ۸)
جنگ ِنہروان : فیصلہ تحکیم کے بعد خوارج کے
گروہ نے حضرت علی ؑ سے لڑا ئی کی اور اسی جنگ کو جنگ نہروان کہا جاتاہے (ج ۴۱ص
۹۱۱) اور اس جنگ میں حضرت علی ؑ کے مخالفین کو مارقین کہتے ہیں (ج۵ ص ۰۲۱)
٭ ناکثین، قاسطین، مارقین (ج ۷ص ۱۲)
خلاصة القول: یوں تو حضرت علی ؑ کی ساری
زندگی مرقع جہاد ہے لیکن اگر نظر تحقیق سے جائزہ لیا جائے تو یقین ہوتا ہے کہ حضرت
علی ؑ نے اعلائے حق کےلئے تین محاذوں پر جہاد فرمایا:
۱ محاذِ توحید: جنگ بدر، جنگ
احد،جنگ خندق، جنگ حنین وغیرہ مشرکین کے ساتھ لڑیں اور کلمہ توحید ہی بنیادی
اختلاف تھا پس ان جنگوں میں فاتحانہ انداز سے حضرت علی ؑ نے پرچم توحیدبلند
فرمایا۔
۲ محاذ ِرسالت: یہ جنگ خیبر ہے جہاں مد مقابل مشرک نہیں تھے بلکہ
یہود تھے جو کلہ توحید کا اقرار کرنے کے بعد حضرت پیغمبر کی نبو ت و رسالت کے منکر
تھے پس حضرت علی ؑ نے اس جنگ میں نمایاں فتح حاصل کرکے پر چم کفر سر نگوں کر تے
ہوئے پرچم رسالت بلند فرمایا۔
۳ محاذِ ولایت : یہ جنگ جمل، جنگ صفین اور جنگ نہروان کی تینوں
جنگوں میں جن میں حضرت علی ؑکے مد مقابل نہ تو کلمہ توحید کے منکر تھے اور نہ کلمہ
رسالت کے منکر تھے بلکہ صرف مقام ولایت کے منکر اور خلافت علی ؑ کے دشمن تھے پس آپ
نے ان جنگوں میں فاتحانہ کردار ادا کیا۔
گویا حضرت علی ؑ پوری زندگی میں تین محاذوں
پر لڑے:
محاذ توحید پر شرک کو شکست دے کر لا اِلٰ©ہَ
اِلَّا اللّٰہُ کی لاج رکھی
محاز رسالت پر کفر کو زیر کر کے مُحَمَّدٌ
رَسُوْلُ اللّٰہِ کا کلمہ پڑھا یا
محاذ ولایت پر منافقین سے نبرد آزما ہو کر کلمہ
ولایت سے لوگوں کو رو شناس کر ایا
اس طرح لا اِلٰ©ہَ اِلَّا اللّٰہُ مُحَمَّدٌ
رَسُوْلُ اللّٰہِ عَلِیٌّ وَلِیُّ اللّٰہِ مکمل ہوا۔
حضرت پیغمبر نے فر مایا جس طرح میں تنزیل
قرآن کے ماتحت جنگ کرتا ہوں حضرت علی ؑ تاویل قرآن کے مطابق جنگ کرے گا وہ جنگ
جمل، جنگ صفین اور جنگ نہروان کی تین جنگیں ہیں جو مرتد لوگوں کے ساتھ حضرت علی ؑ
نے لڑیں (ج ۵ص ۱۲۱) (آیت ۶۲، سورہ مائد ہ) حضرت علی ؑ نے فر مایا کہ اس آیت کا
مصداق میں ہوں۔
معکوس ذہنیت کے مصائب
یہ دور جو آجکل کے منچلے لوگوں کی خود ساختہ
و خود پر داختہ اصطلاح کے مطابق روشنی کا دور ہے سائنسی دور ہے اور انسان کےلئے
ارتقائی دور ہے کس قدر مقام تعجب ہے کہ اپنے افکار و انظار کو اغیار کی کاسہ لیسی
کی بدولت ان کی چاہ کے سانچے میں ڈھالنے کی ہر ممکن کوشش کو عمل میں لانے کے با
وجود روشن خیالی اور بلنددماغی کا ڈھندورا پیٹا جاتاہے ان مسلمانوںکے لئے اسے
ارتقائی دور کہنا کس طرح زیبا ہے جن کا اپنے ذہن و دماغ کا دیوالیہ ہی نہیں بلکہ
جنازہ نکل چکا ہے؟
اپنے سونے سے اغیار کے پیتل کو بنظر استحسان
دیکھنے والے ! اپنے حسن عمل کو دوسروں کی بد اعمالیوں پر قربان کرنے والے ! اپنے
حیا کوغیر کی بے حیائی کی بھینٹ چڑھانے والے ! اپنی شرافت کو مغرب کی بے حیائی پر
نچھاور کر نے والے !
بلکہ اپنی ہر اچھی و نیک ادا سے اغیار کے
افسوسناک و المناک و خطر ناک کردار کو تر جیح دینے والے مسلمانوں سے انسان کیوں کر
توقع رکھ سکتا ہے کہ ان کی نگاہوں میں حق و صداقت کی بھی کچھ وقعت ہے یا یہ کہ
باطل و جھوٹ اور مکر و فریب بھی قابل اجتناب چیزیں ہیں جب کہ حق و صداقت کی طرف
داری ہی رجعت پسندی کے خطاب کی پیش خیمہ ہو۔
پورا معاشرہ ذہنی انحطاط کی اس منزل پر پہنچ
چکا ہے کہ حق کو حق کہنے والا بھی جھجھکتا ہے اور اگر کہہ گزرے تو اس کے بھیانک
انجام سے خوفزدہ رہتاہے اور ایسے شخص کی طرف استعجاب میں ڈوب کر عوامی نظریں اٹھتی
ہیں اور کافی دیر تک اس کا تعاقب کرتی ہیں جس کے نتیجہ میں بالآخر حق کو حق کہنے
اور اپنی حق گوئی کو اپنی نا قابل عفو غلطی تصور کرنے پر مجبور ہوتا ہے۔
دوسری طرف مکر و فریب اور کذ ب و باطل کے
اوڑھنے بچھونے میں بسر کرنے والا ننگ ِانسانیت فرد حق و صداقت سے ٹکرانا اپنی
جوانمردی اور بلند ہمتی تصور کرتا ہے اور جب ٹکرانے لگتاہے تو پورے معاشرے کو اپنی
داد و تحسین بلکہ امداد و تائید پر آمادہ کرتا ہے اور ایسے شخص کو عوامی جذبات خیر
سگالی کے پیغامات سے نوازنے میں فخر محسوس کرتے ہیں!!!
مقام حیرت ہے کہ ترقی پذیر اذہان اہل مغرب
کی ٹیڑھی راہوں پر چلتے ہوئے مُلّا کی تنقید کی ذرّہ بھر پرواہ نہیں کرتے لیکن
حضرت علی ؑ کے فضائل و مناقب وا ضح آشکار طور پر سامنے آئیں تو مُلّا کی باتوں پر
کان دھرتے ہوئے حق و صداقت کا ساتھ دینے سے گریز کرتے ہیں اس سے بڑھ کر ذہنی
انحطاط اور کیا ہو سکتا ہے؟
جنگ ِاحد : (ج ۴ص ۶۳)
٭ جنگ احد میں شہیدہونے والے مسلمانوں کی تعداد ستر (۰۷) تھی جن
میں صرف چار مہاجر تھے باقی سب انصاری تھے ان کی مکمل فہرست (ج ۴ص ۲۴) پر درج ہے۔
٭ جنگ احد سے واپس چلے جانے کے بعد کفار نے راستے میں ایک منصوبہ
تیار کر لیا کہ واپس جاکر مدینہ میں لوٹ کھسوٹ کا بازار گرم کیا جائے تاکہ آئندہ
کےلئے مسلمانوں کو کفار کے خلاف جنگ لڑنے کی جراءت نہ ہو سکے اور پھرادھر مسلمانوں
کو حکم ہوا کہ تم ان کا تعاقب کر و تاکہ وہ ادھر منہ کرنے کی جراء ت نہ کر سکیں (ج
۴ص ۵۵)
٭ جنگ اُحد کے بعد ابلیس کی پالیسی سے قتل پیغمبر کی افواہ عام
ہوئی تو بعض مسلمان ارتداد کی طرف مائل ہونے لگے پس ان کی سرزنش میں قرآ ن نازل ہوا
(ج ۴ص ۸۵)
٭ صحابہ میں جنگ کے عزائم (ج ۴۱ص ۶)
٭ جناب فاطمہ ؑ زہراء روتی پیٹی ہوئی میدان احد کی طرف روانہ ہوئیں
(ج ۴۱ص ۰۶)
توحیدبنت ِرسول : اس روایت سے جہاں یہ ثابت
ہوتا ہے کہ شہید کے غم میں رونا پیٹنا جائز ہے بلکہ اولاد پیغمبر کی سنت ہے وہاں
یہ بھی پتہ چلتاہے کہ حضرت پیغمبر کی دختر صرف ایک تھی ورنہ اگر کوئی اور بیٹی
ہوتی تو قتل پیغمبر کی افواہ عام ہونے کے بعد وہ بھی میدان اُحد کی طرف ضرور آتی
اور تاریخ ان کا نام لینے سے قطعاً بخل نہ کرتی اور عقل اس بات کو تسلیم نہیں کرتی
کہ سب سے کمسن بچی (جناب فاطمہ ؑ) تو تین میل کا فاصلہ طے کر کے اپنے والد کی خبر
گیری کےلئے تشریف لے جائیں اور بڑی بیٹیاں باپ کے قتل ہونے کی خبر سننے کے باوجود
میدان تک نہ آئیں؟ پس معلوم ہوتا ہے کہ جناب رسالتمآب کی حقیقی بیٹی صرف ایک ہی
تھی جس کا نام فاطمةُالزہراء ہے باقی پالتو لڑکیاں تھیں کیونکہ اگر حقیقی بیٹیاں
ہوتیں تو ان کے خون میں بھی کشش اور تڑپ ضرور ہوتی!!
٭ جنگ احد میں حضرت علی ؑ کا کردار (ج ۴ص ۲۶) صحابہ کا فرار (ج ۴ص
۷۶)
٭ حضرت علی ؑ سے جب پیغمبر نے پوچھا یا علی ؑ آپ کیوں نہیں بھاگے
تو علی ؑ نے جواب دیا کیا یہ ہو سکتا ہے ایمان کے بعد کفر کا ارتکاب کروں (ج ۴ص
۰۷)
٭ حضرت عمر کا قول ہے کہ میں بھاگ کر پہاڑی بکر ے کی طرح پہاڑ پر
چڑھ گیا تھا (ج ۴ص۰۷)
جنگ ِحنین : (ج ۷ص۳۲ تا ۶۳ – ج۳۱ ص ۵۸)
جنگ ِذات ِسلاسل : (ج ۷ص ۱۱)
٭ واد یء یابس کے کفار نے اسلام کے خلاف باہمی عہد کیا جن کے جنگی
جوانوں کی تعداد بارہ ہزار (۰۰۰۲۱) تھی پس جبرائیل ؑ ؑ نے آپ کو خبر دی تو آپ نے
حضرت ابو بکر کو چار ہزار (۰۰۰۴) فوجی جوان دے کر اُن کی سر کوبی کےلئے روانہ فر
مایا جب اسلامی لشکر وادیء یابس کے قریب پہنچے تو وہاں کا کافر سردار اپنے دو سو
(۰۰۲)فوجی افسران کے ہمراہ اسلامی فوج سے مذاکرات کرنے کےلئے نکلا جب اِنہوں نے
اسلام کی دعوت دی اور اسلام قبول نہ کرنے پر جنگ کی دھمکی دی تو کافر سردار نے تند
و تلخ لہجے میں دعوت اسلام کو ٹھکراتے ہوئے قبضہ تلوار پر ہاتھ رکھا اور اعلان جنگ
کے ساتھ اپنی بارہ ہزار فوج کو میدانِ کار زار میں اترنے کاا ٓرڈر دے دیا اس کے
نتیجہ میں حضرت ابو بکر نے اپنی فوج کو میدان چھوڑنے اور واپس مدینہ جانے کا حکم
صادر فر مادیا اور خیریت سے مدینہ پہنچ گئے اس کے بعد حضو ر نے اپنی فو ج حضرت عمر
کو دے کر وادیء یابس کے کفا ر کی سر کو بی کے لئے دو بارہ بھیج دی لیکن حسب سا بق
ان کے بھی قدم نہ جم سکے اور نا کا م واپس آئے، پس تیسری مر تبہ شیر بیشہ شجا عت،
اسد اللہ الغا لب، کرّار غیرفرار،حضرت علی ؑ کو انہی سابق مجاہدین کی لڑاکا فو ج
کی کمان دےکراذنِ جہادعطا فر ما یا جب آپ وہا ں پہنچے تو کا فر فوج کے کمان افسر نے
حسب سا بق دعوت اسلام کوٹھکراتے ہوئے اپنے رعب کا سکہ بٹھا نے کی کو شش کی لیکن
ادھر شیر خدا نے للکار کر اس کو اینٹ کا جواب پتھر سے دینے کی دھمکی دے کر اپنی فو
ج ظفر کو میدان جنگ میں کود پڑنے کے لئے تیاری کا حکم دے دیا چنا نچہ انہوں نے رات
کی گھڑیاں گن گن کرگزاریں اور صبح سویرے نما زادا کر نے کے بعد آمادہ جنگ ہو گئے
مقا بلہ ہوا فوج کفا ر کے سپاہی تا ب نہ لا سکے پس مجا ہدین اسلام نے کفا ر کو تہِ
تیغ کر کے وادیء یابس میں اسلام کا جھنڈا لہرادیا جبرائیل ؑ نے فتح کی خو شخبر ی
حضرت پیغمبر کو سنائی تو آپ بنفس نفیس مدینہ سے تین میل تک حضرت علی ؑ کے استقبال
کے لئے تشریف لائے تو حضرت علی ؑ کو گلے لگا لیا، چنا نچہ سورہ والعادیات حضرت علی
ؑ کی فتح کی خوشخبری کے طور پر نا زل ہو ا (ج۴۱ص۴۵۲)
جبرائیل ؑ و میکا ئیل ؑ : بعض علماء کے
نزدیک روح القدس سے مراد جبرائیل ؑ ہے (ج۲ص۹۳۱)
٭ یہودی لو گ جبرائیل ؑ کو دشمن سمجھتے تھے اور میکائیل ؑ کو اپنا
دوست سمجھتے تھے(ج۲ص۷۴۱)
٭ حضرت پےغمبر نے غدیر کے دن خطبہ کے بعد حضرت علی ؑکی ولایت کا صحا
بہ سے عہد لیا تو حضرت جبرائیل ؑ ایک خو بصورت جوان کی شکل میں ظا ہر ہوئے اور
کہنے لگے آج پےغمبر نے ایسا عہد و پےمان لیا ہے جس کو سوائے کا فر کے کوئی بھی تو
ڑنے کی کوشش نہ کر ے گا، حضر ت عمر نے یہ بات رسا لتمآب کے سا منے دہرائی تو حضور
نے فر ما یا یہ کلمات کہنے والا جبرائیل ؑ تھا خبر دار اس گرہ کو کھولنے کی کوشش
نہ کر (ج۵ص۵۳)
٭ روایت میں ہے جب حضرت قا ئم آل محمد کا ظہور ہو گا تو تین
سوتیرہ(۳۱۳) اصحاب کے علاوہ جبرائیل ؑ دا ئیں طرف اور میکا ئیل با ئیں جانب اور پا
نچ ہزار ملا ئکہ بھی ان کے ہمراہ ہوںگے(ج۶ص۶۹۱)
٭ حضرت مو سیٰؑ کی قوم جب دریا میں دا خل ہو ئی پیچھے فر عون کا
لشکر تعا قب میں تھا پس جبرائیل ؑ بشکل انسان ایک گھوڑی پر سوار ہو کر آگے بڑھا تب
فر عون کا گھوڑا اس کے پیچھے دریا میں دا خل ہوا (ج۸ص۰۸۱)
٭ نار نمرودی میں حضرت جبرائیل ؑ نے جنت سے قمیص لا کر حضرت خلیل
کو پہنائی تھی اور وہی قمیص حضرت یعقوب ؑ نے حضرت یوسف ؑ کے گلے میں بطور تعویذ
باندھی تھی (ج ۸ص ۶۱)
٭ منقول ہے کہ یہی قمیص حضرت یوسف ؑ نے بشیر کو دی تھی جس کی خوشبو
حضرت یعقوب ؑ تک پہنچی تھی اور اسی قمیص کو آنکھوں پر لگایا تو بینائی درست ہو
گئی، جبرائیل ؑ کی تیز رفتاری (ج ۸ص ۶۱ – ج ۹ص ۷۳۲)
٭ حضرت جبرائیل ؑ کو ذی قوت کہا جاتا ہے کہ اس نے ایک پر سے پوری
ایک قوم کو زمین سے اکھیڑ کر الٹا دیا تھا (ج ۴۱ص ۳۸۱)
٭ شب معراج ایک مقام پر حضرت جبرائیل ؑ نے کہا اگر اس سے آگے بڑھتا
ہوں تو جلتا ہوں (ج۶ص۲۲، ج۸ص۶۶۲، ج۳۱ ص۳۵۱)
جبر و اختیار: (ج ۲، ص۴۵تا ۴۶) ان مسائل پر سیر
حاصل تبصرہ کیا گیا ہے۔
٭ حضرت امام جعفر صادقؑ سے اس مسئلہ کے متعلق دریافت کیا گیا تو آپ
نے جواب میں ارشاد فر مایا ہر وہ فعل جس پر بندے کو ملامت اور سر زنش کی جاسکے وہ
انسان کا اختیاری فعل ہے اور وہ فعل جس پر بندہ کو سر زنش نہ کی جاسکے وہ اللہ کا
فعل ہے مثلاً انسان کو سرزنش کے طور پر کہا جاتا ہے کہ تو نے زنا کیوں کیا؟ تو نے
نماز کیوں نہیں پڑھی؟ وغیرہ یہ اس کے اختیاری فعل ہیں لیکن یہ نہیں کہا جا سکتا کہ
تو بیمار کیوں ہوا؟ اور تو سفید اور سیاہ کیوں ہو گیا؟ پس معلوم ہوا یہ اللہ کے
افعال ہیں (ج ۲ص ۸۵)
٭ عقیدہء جبر کی تردید (ج ۲ص ۴۷، ۵۷ – ج ۵ص ۲۵۲-ج ۶ص ۳۰۱ – ج ۰۱ص
۱۶)
٭ جبر و تفویض پر(ج ۴۱) میں (ص ۳۷ تا ۵۷) پر کافی بحث کی گئی ہے
اورنتیجہ یہ ہے کہ نہ انسان اپنے افعال میں مجبور ہے اور نہ اپنی پسند و ناپسند
میں مختار کل ہے کہ جو چاہے کرتا پھرے، بلکہ در میانی راستہ درست ہے اسی بناء پر
معصوم ؑ نے فر مایا: لا جَبْرَ وَ لا تَفْوِیْضَ بَلْ اَمْرٌ بَیْنَ الْاَمْرَیْن
اللہ نے انسان کو خیر و شر کے دونوں راستے دکھا دئیے اور اپنے اختیار سے اس کو
نیکی کرنے کا حکم دیا پس وہ مجبور کسی کو نہیں کرتا (ج ۴۱ص ۶۴۱، ۴۵۱، ۴۸۱)
جرم : جرم اور ذنب میں فرق یہ ہے کہ جرم وہ
گناہ ہے جو قابل بخشش نہ ہو اور ذنب وہ گناہ ہے جو قابل بخشش ہو اس لئے انبیا ء و
آئمہ شفیع المجرمین نہیں ہیں (ج ۰۱ص ۳۰۲)
جمع قرآن : (ج ۱ص ۰۳۱، ۱۴۱) جمع قرآن پر
مفصل بحث موجود ہے۔
جمعہ : حضرت امیر المومنین ؑ سے منقول ہے کہ
نماز جمعہ میں حاضر ہونے والے لوگوں کی تین قسمیں ہیں:
۱ ایک قسم ایسے لوگوں کی ہے جو نماز جمعہ کےلئے پیش نماز سے پہلے
آتے ہیں اور سکون و اطمینان سے انتظار کرتے ہیں ایسے لوگوں کا جمعہ میں آنا اگلے
جمعہ تک کے گناہوں کا کفارہ ہے اور تین دنوں کا ثواب زائد بھی ہے
۲ دوسری قسم ایسے لوگوں کی ہے جو پہلے آتے ہیں اور اِدھر اُدھر کی
باتوں میں وقت گزارتے ہیں پس ان کا نصیب وہی گپیں ہیں
۳ تیسری قسم ان لوگوں کی ہے جو عین خطبہ کے وقت پہنچےں اور نماز
جمعہ ادا کر کے چلے جائیں ان کی دعائیں اگر خدا چاہے تو منظور کر لے (ج ۵ص۱۷۲)
٭ جمعہ و عیدین میں غسل کرنا اور سفید لباس پہننا مستحب ہے اور
جمعہ و عید کے دن زینت کا لباس پہن کر جانا مستحب ہے (ج ۶ص۴۲)
٭ بروز جمعہ خوشبو لگانا مستحب ہے (ج ۶ص۸۲)
٭ روایت میں ہے کہ زمین و آسمان کی تخلیق بروز جمعہ مکمل ہوئی (ج
۶ص۹۳)
٭ حضرت یعقوب کے بیٹوں نے اپنے باپ سے دعائے مغفرت مانگی تھی تو
حضرت یعقوب نے ان سے شب جمعہ کا وعدہ فر مایا تھا پس آپ نے دعا مانگی جو مقبول
ہوئی اور خدا نے ان کو معاف کر دیا (ج ۸ص ۲۸)
٭ حضرت موسیٰؑ جب اپنی بیوی صفور ا بنت شعیب ؑ کو اپنے ہمراہ لے کر
واپس جارہے تھے اور رات کے وقت کوہ طور کے پاس سے گزرے جہاں آ گ کی روشنی دیکھی تو
کرشمہء قدرت دیکھا اور سلسلہ کلام پروردگار شروع ہوا یہ جمعہ کی رات تھی (ج ۹ص
۳۷۱)
٭ ملائکہ آسمان چہارم ہر جمعہ حضرت علی ؑ اور شیعیان علی ؑکی محبت
کاعہد تازہ کرتے ہیں (ج ۸ص ۱۶۲)
٭ ایک دفعہ بروز جمعہ وحیہ کلبی شام سے سامان تجارت لایا تو اس نے
شہر سے باہر دف بجانا شروع کیا پس لوگ خطبہ پیغمبر چھوڑ کر بھاگ گئے اور صرف چند
مخصوص بچ گئے جن کی خدا نے مدح فر مائی (ج ۰۱ص ۴۴۱- ج ۴۱، ص۸۲)
٭ شب جمعہ اور روز جمعہ کی عبادت کا ثواب باقی ایام سے زیادہ ہوتا
ہے (ج ۱۱ص ۰۵۱)
٭ فضائل جمعہ (ج ۴۱ص ۱۲ تا ۳۲)
٭ سورہ جمعہ کے فضائل (ج ۴۱ص ۳۱) نماز جمعہ (ج۴۱ ص ۳۲)
جھوٹ : جھوٹے پر خدا کی لعنت ہے (ج۲ ص ۶۴)
٭ خدا و رسول و آئمہ پر عمدا ً جھوٹ بولنا روزہ کو باطل کر تا ہے
(ج ۲ص ۶۲۲)
٭ جھوٹ منافقت کی نشانی ہے (ج ۳ص۳۶ ۲)
٭ آیت مباہلہ کی تفسیر اور سچوں اور جھوٹوں کے درمیان فرق (ج ۳ص
۸۴۲)
٭ جھوٹ کی حرمت (ج ۵ص ۶۶۲)
٭ ایک شخص نے حضرت پیغمبر سے اپنے گناہوں کا شکوہ کیا تو آپ نے فر
مایا جھوٹ بولنا چھوڑ دو چنانچہ جب گھرواپس آیا تو گناہ کا ارادہ کیا پھر سوچا کہ
پیغمبر کے پاس جاﺅں گا تو کیا جواب دونگا جب کہ ترک جھوٹ کا وعدہ کر آیا ہوں پس اس
گناہ کو چھوڑ دیا ور رفتہ رفتہ اس سے تمام گناہ چھوٹ گئے (ج ۶ص ۷۳ ۱)
٭ مومن کے علائم میں سے ہے کہ جھوٹ نہ بولے (ج ۶ص ۶۶۱)
٭ اصلاح کی خاطر جھوٹ بولنا جائز ہے (ج ۸ص ۵۶)
٭ چنانچہ مثل مشہور ہے دروغ مصلحت آمیز بہ از راستی فتنہ انگیر
یعنی وہ جھوٹ جس میں مصلحت ہو اس سچائی سے بہترہے جو فتنہ فساد کی بنیاد ہو، اسی
بناء پر مذہب شیعہ میں تقیہ جائز ہے اور روایت میں ہے کہ جھوٹی قسم کھانے اور جھوٹ
بولنے سے زندگی کم ہوتی ہے اور موت قریب ہوتی ہے (ج ۱۱ص۰۲۱)
٭ خدا و رسول و آئمہ پر جھوٹ باندھنے کی سزا (ج۲۱ ص ۱۳۱)
٭ پیغمبر کی طرف جھوٹ منسوب کر نے والے منافق تھے (ج ۵ص۹۰۱)
جنابت : جنابت اور غسل جنابت کا بیان (ج ۵ص
۷۶ تا ۰۷)
٭ جنبی آدمی کےلئے قرآن مجید کی سات آیات سے زیادہ پڑھنا مکروہ ہے
اور آیات سجدہ کا پڑھنا حرام ہے (ج ۱ ص ۳۴)
جوان : جوان ہونے کی علامات (ج ۹ ص ۹۲)
جن : سورہ جن (ج۴۱ص۳۱۱)
٭ نصیبین کے نو جن سننے میں آئے (ج ۳۱ ص ۳۳)
٭ جنوںکی شرار ت (ج ۲۱ ص ۲۹)
٭ قوم جن کی طرف بھیجا جانے والا نبی یوسف تھا (ج ۵ ص ۴۵۲)
٭ مشرکین نے جنوں کو خدا کا شریک بنا لیا (ج ۵ص ۴۴۲ – ج۵ ص۴۷)
٭ مقام نصیبین کے نو جن آئے تھے جنہوں نے حضور کے ہاتھ پر بیعت کی
تھی پھر اکہتر ہزار (۰۰۰۱۷) جنوں نے بیعت کی تھی (ج۲۱ ص ۶۲)
٭ قوم جن کی پیدائش: نار سموم سے مارج اور اسکی بیوی مارجہ پیدا
ہوئے ان سے جان پیدا ہوا اور اس سے جن پیدا ہوئے اور ابلیس اسی کی اولاد سے ہے اس
کی بیوی لہباء بنت روحا اس میاں بیوی کا جوڑا بیلقس لڑکا اور طونہ لڑکی تھے پھر
فقطس لڑکا اور فقطسہ لڑکی اور پھر اولاد بڑھ گئی اور بنی آدم کے ایک کے مقابلہ میں
اس کے سات بچے پیدا ہوتے تھے (ج ۸ص ۷۷۱، ۸۰۲)
٭ قوم جن (ج ۴۱ص ۴۱۱)
جعفر صادقؑ : امام جعفر صادقؑ کی ابو حنیفہ
سے گفتگو (ج ۱ص ۵۷ تا ۷۷)
٭ امام جعفر صادقؑ کا سوال کہ اللہ نے لَعَلَّ کو کیوں استعمال کیا
ہے؟ (ج ۹ص۵۸۱)
٭ آپ کا ابو حنیفہ کو خچر کے بدلہ میں لا شَیء یعنی سراب پیش کر نا
(ج ۰۱ص ۷۴۱)
٭ امام جعفر صادقؑ کے قیمتی عمدہ لباس پہ سفیان ثوری نے اعتراض کیا
تو آپ نے فر مایا کہ یہ اوپر کا قیمتی لباس لوگوں کےلئے بطور وضعداری کے ہے اور
اندر اس کے کھردرا لباس خوشنودی خدا کے لئے ہے لیکن تو نے اپنے جسم کی آسائش کےلئے
اندر قیمتی لباس پہنا ہواہے اور اوپر لوگوں کے دکھاوے کےلئے کھردرا لباس پہنا ہوا
ہے (ج ۶ ص۷۲)
جعفر طیار ؑ : اَلَّذِیْنَ اٰتَیْنٰھُمْ
الْکِتٰبَ (سورہ بقرہ، آیت ۰۳۱) بعض مفسرین نے ذکر کیا ہے کہ یہ آیت مبارکہ حضرت
جعفر طیار اور ان کے چالیس ساتھیوں کے حق میں اتری ہے جو حبشہ کی طرف ہجرت کر کے
گئے تھے (ج ۲ص۳۶۱)
٭ حضرت جعفر طیاؑر کی حبشہ کی طرف ہجرت کا مفصل قصہ (ج ۵ص ۵۵۱ تا
۸۵۱)
٭ عبدا للہ بن جعفر طیاؑر کی ولادت اسماء بنت عمیس کے شکم سے حبشہ
میں ہی ہوئی تھی (ج ۵ص ۰۶۱)
٭ حضرت ابوطالب ؑ اپنے فر زندان جعفر طیار ؑ اور علی ؑ کو پیغمبر کی
نصرت کی تلقین فر مایا کرتے تھے (ج ۵ص ۲۰۲)
٭ حضرت امام جعفر صادقؑ سے منقول ہے کہ برو ز محشر جب حضرت نوح ؑ
سے تبلیغ نبوت کے گواہ مانگے جائیں گے تو حضرت جعفرطیار اور حمزہ ان کی گواہی دیں
گے، راوی نے پوچھا کہ حضرت علی ؑ اس وقت کہاں ہوں گے تو آپ نے فر مایا کہ علی ؑ کا
مرتبہ اس سے بلند تر ہے (ج ۴۱ص ۰۷)
جوتا: حضرت امام جعفر صادقؑ سے منقول ہے کہ
جو شخص زرد رنگ کا جوتا پہنے گا تو جب تک وہ جوتا اس کے پاﺅں میں رہے گا اسے خوشی
نصیب ہو گی نیز مال اور علم اس کو نصیب ہو گا (ج ۲ص ۳۲۱)
٭ حضرت موسیٰؑ کو وادی ء مقدس میں جوتا اتارنے کا حکم ہوا تھا یا
تو اس لئے تاکہ آپ کے پاﺅں وادیء مقدس سے مس ہوں یا اس لئے کہ اس سے تواضع مقصود
تھی اور اس کی تاویل یہ بھی کی گئی ہے کہ حضرت موسیٰؑ کے دل میں بیوی کی فکر بھی
پس ارشاد ہوا کہ اس فکر کو دل سے نکال دو گویا جوتا اتارنا دل کو فکر سے آزد کرنے
کا کنایہ ہے (ج ۹،ص ۴۷۱)
جہنم : جہنم کے سات طبقے ہیں : جحیم ، نطی ،
سقر ، حطمہ ، ہاویہ ، سعیر ، جہنم (ج ۸ص۲۸۱)
جولاہے : حضرت مریم ؑ کے ہاں جب حضرت عیسیٰؑ
پیدا ہوئے تو حکم ہوا کھجور کو حرکت دیجئے تاکہ وہ تازہ پھل گرائے اور منقول ہے کہ
نوزائیدہ بچے کی ماں اگر تازہ کھجور کھالے تو بچہ حلیم ہو گا نیز نفاس کے ایام میں
کھجور تازہ کا کھانا دکھ و درد کا علاج ہے، بہر کیف اس دن ایک میلہ تھا اور حضرت
مریم ؑکو میلہ پر جاتے ہوئے چند جو لائے راستے میں ملے جو خچروں پر سوار تھے آپ نے
ان سے کھجور تک جانے کا راستہ پوچھا تو انہوں نے غیر مہذب انداز میں جواب دیا جس
پر جناب مریم ؑ کو غصہ آیا اور ان پر بد دعا کی کہ خدا تمہارے پیشہ کو ذلیل کرے اس
کے بعد تاجروں کا گروہ سامنے آیا جنہوں نے جناب مریم ؑکی عزت و تکریم کی پس آپ نے
ان کے حق میں دعا خیر دی کہ خدا تمہارے پیشہ میں بر کت دے (ج ۱ص۵۴ ۱)
Leave a Reply