anwarulnajaf.com

عصمت انبیا ٔ

مذہب حقہ ٗشیعہ اثناعشریہ کا عقید ہ ہے کہ حضرت
آدم علیہ السلام سے لے کر حضرت سید الانبیا ٔ جناب محمد مصطفیٰؐ تک کل ایک لاکھ
چوبیس ہزار نبی بر حق تھے اور ہد ایت خلق کے لیے مبعوث کیے گئے تھے۔۔۔ پس وہ اپنی
امتو ں میں جمیع خصالِ حمیدہ کے لحاظ سے افضل واکمل تھے اور صاحبا نِ اعجاز تھے
علمی وعملی اَفضلیت کے ساتھ وہ اپنے جملہ اقوال و افعال میں اوّل سے آخر تک بچپنے
کے دَور سے آخری دم تک قبل ازبعثت اور اور بعد از بعثت تمام گناہانِ کبائروصغائر
سے معصوم تھے۔

عصمت انبیا ٔ کے متعلق ہمارے علمائے اعلام نے
متعدد دلیلیںپیش فرمائی ہیں حتیٰ کہ اس موضوع پر مستقل کتابیں بھی تحریر کی گئی
ہیں۔۔۔ اس جگہ میں نے صرف آسان اور عام فہم سادہ طریق پر چند دلیلیں پیش کرنے کی
کوشش کی ہے تاکہ آسانی سے استفادہ کیا جاسکے، علمائے اعلام نے علمی مذاق کے ماتحت
جو استد لالات ذکر فرمائے ہیں وہ کافی وقت طلب اور صطلاحاتِ خصوصیہ کے جاننے پر
موقوف ہیں لہذا اس مقام پران کو ترک کر دیا گیا ہے:

(۱)
  اگر نبی معصوم نہ ہو تو اس کی تبلیغ نا قابل قبول ہوگی کیو نکہ بغیر
عصمت کے اس کی ہر بات میں جھوٹ کا استعمال ہوگا۔

(۲)
  نبی کے لئے دعوائے نبوت کا اثبات بغیر عصمت کے محال ہے کیونکہ اگر اس
سے گناہوں کا سرزد ہونا جائز ہو تو منجملہ گناہوں کے ایک کذب بھی ہے۔۔۔ تو جب اس
کی ہر بات میں کذب کا احتمال پیدا ہو گیا تو دعوائے نبوت میں بھی یہی احتمال رہے
گا لہذا اس کی نبوت تسلیم نہ ہو سکے گی۔

(۳)
  اگر نبی گنہگار ہو اور جملہ افعال و کردار میں خدا کا تابع فرمان نہ
ہو تو عام رعایا پر اس کی تبلیغ کا کیا اثر ہوگا؟وہ تو صاف کہہ دیں گے کہ جو کام
خود نہیں کرتے ہو دوسروں کو کس منہ سے کہتے ہو؟ بلکہ خود عمل نہ کرنے والے کی
نصیحت موثر ہونے کی بجائے مضحکہ خیز ہوا کرتی ہے۔

(۴)
  جو شخص عامل نہ ہو لوگوں کے دلوں سے اس کا وقار کے بغیر نہ کوئی بات
سنتا ہے نہ مانتا ہے۔

(۵)
  بعثت۔۔۔ انبیا ٔ کی غرض ہے، اصلاح اور جس شخص کو نبی بنا یا گیا ہے
اگر گنہگار ہو تو وہ خود قابل اصلاح ہے لہذا اس کی اصلاح کا انتظام بھی ہونا چاہیے
اب یا تو ایسا ہو کہ وہ امت کی اصلاح کرے اور امت اس کی اصلاح کرے۔۔۔ تو یہ ناممکن
ہے اور اگر اس کی اصلاح کے لئے کوئی اور نبی مبعوث ہو جو فقط اسی کی اصلاح پر ہی
مامور ہو تو اسکے غیر معصوم ہونے کی صورت میں اس کیلئے ایک اور نبی درکار ہوگا اور
پھر یہ سلسلہ ختم نہ ہوگا۔

(۶)
  اگرنبی میں عصمت نہ ہوتو وہ گنہگار ہو نے میں اُمت کے ساتھ برابر ہو
جائے گا تو اس صورت میں بلاترجیح اس کو نبی بنانا اور با قی امت پر اس کو فو قیت
دینا منا فی عدل ہے۔

(۷)
  اگر نبی خود گنا ہ سے کنا رہ کش نہ ہو تو اس کا مطلب یہ ہے کہ خدا کے
احکام کی اہمیت اس کے اندر نہیں ورنہ ایسا نہ کر تا۔۔۔ تو اس صورت میں ممکن ہے کہ
ارتکاب گناہ میں دوسروں کا ہمنوا ہو جا ئے، تو پس بجا ئے تر ویج کے تخریب دین کا
مو جب ہو جائے گا یہ حکمت خدا وندی کے خلاف ہے۔

(۸)
  اگر خود گنہگار ہو گا تو رعا یا کے با ہمی نزاعا ت کے فیصلوں میں عدل
سے کام نہ لے گا اور تمدنی زندگی خراب ہوجائے گی۔

(۹)
  اگر بالفرض قبل از بعثت گناہ کرتا ہو اور بعد از بعثت گناہ نہ کرے
تاہم رعایا جرأت سے کہے گی کہ کل تک تو تم خود ایسا کیا کرتے تھے اور آج ہم کو
منع کرتے ہو؟ لہذا نہ رعب۔۔۔ نہ وقار۔۔۔ نہ اثر اور تبلیغ بے کار ہوگی۔

(۱۰) اگر
نبی گناہ صغیر ہ کرتا ہو اور وہ قبل از بعثت ہی کیوں نہ ہو۔۔۔تاہم اس کا مطلب یہ
ہے کہ اس میں خوف خدا اور عدالت کا ملکہ راسخہ نہیں اور اس صورت میں بعد از بعثت
بھی اس سے ارتکاب گناہ ممکن ہو سکتا ہے پس وہی خرابیاں لازم آئیں گی جو اُوپر
مذکور ہو چکی ہیں۔

ان کے علاوہ اور دلیلیں بھی کتب مفصّلہ میں مذکور
ہیں۔۔۔ اس مقام پر انہی پر اکتفا کی جاتی ہے۔

بہر کیف انبیا ٔ کی بعثت کے لئے ضروری ہے کہ خدا
وند عالم جس شخص کو ہماری ہدایات کے لئے بھیجے وہ ہم سے ہر طرح افضل واکمل ہو، پس
ہمارا عقیدہ ہے کہ تمام انبیا ٔ اپنے اپنے زمانہ میں پوری امت سے اَعلم اور
گناہانِ صغیرہ و کبیرہ سے معصوم تھے اور ہمارے رسول چونکہ تمام کائنات کا نبی بلکہ
گذشتہ نبیوں کے بھی نبی ہیں لہذا وہ ماسوا اللہ تمام کائنات سے افضل واَعلم و اکمل
ہیں۔۔۔ اور ان کے بارہ (
۱۲)جانشین ان کا قائم مقام
ہونے کی حیثیت سے آنحضرتؐ کے علاوہ باقی تمام کائنات سے افضل و اَعلم ہیں حتیٰ کہ
حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر حضرت مسیح علیہ السلام تک تمام انبیا ٔ بھی ان کی
رعایا کی حیثیت سے ہیں جس طرح کہ وہ جناب رسالتمآب ؐ کے رعایا ہیں، کیونکہ بادشاہ
کے وزرا ٔ یاقائم مقام بادشاہ کی پوری رعایا کے حاکم و سردار ہوا کرتے ہیں اور اس
کی تصدیق خود حضرت عیسیٰؑ اپنے عمل سے کریں گے،جب حضرت مصطفیٰؐ کا آخری وصی و جا
نشین گذشتہ تمام انبیا ٔ کے آخری ممتار نبی کا مقتداہو گا ( جس کی کتاب و شریعت
گذشتہ انبیا ٔ کی شریعتوں کی ناسخ تھی) تو اس سے پہلے کے انبیا ٔ کا مقتدا کیونکر
نہ ہو گا؟

اور جب آخری وصی ان سے افضل اور ان کا مقتدا ثابت
ہوا تو اس سے پہلے گیا رہ اوصیا ئے رسالت کیو نکر افضل نہ ہو ں گے؟

اس مقام پر پہنچ کر بعض شکوک و شبہا ت کا ازالہ
ضروری ہے جو بعض آیا تِ قرآنیہ سے عصمت انبیا ٔ پر حرف گیری کا مو جب قرار دئیے
جا تے ہیں و ان کی تفصیلی ابحاث اپنے اپنے مقامات پر انشاء اللہ مذکور ہو ں گی، پس
یہ جا ننا چاہیے کہ جب رسول با طنی (عقل) کے صریح فیصلہ سے یہ ثابت کر دیا گیا کہ
حجت خدا یعنی نبی و رسول کے لئے ہر صغیر ہ و کبیرہ گنا ہ سے معصوم ہو نا ضروری
ہے۔۔۔ تو جس جس مقام پر کسی آیت قرآنی سے اسکے خلاف کا شبہ ہو تو وہاں مناسب
توجیہ وتاویل ضروری ہے، محکمات کو چھوڑ کر متشابہات کے پیچھے پڑجانا کنجی قلب کی
نشانی ہے۔

آئمہ اہل بیت نے اس قسم کے مقامات پرازالہ شبہات
کے لیے نہایت بسط کے ساتھ روشنی ڈالی ہے جو منصف طبع کے لیے موجب اطمینان ہے۔۔۔
کاش امت اسلامیہ کا ثقلین (کتاب و عترت) ہر دو کے ساتھ تمسک ہوتا!  صرف اغراض
دنیاویہ کی خاطرقرآن کو سمجھنا اور عترت رسول سے کنارہ کرنا ہی عقائد اسلامیہ کی
تباہی کا موجب ہوا۔۔۔۔ جبھی تو صحیح بخاری میں حضرت ابراہیم ؑ جیسے بزرگ پیغمبر پر
بھی جھوٹ کے الزامات سے گریزنہیں کیاگیا۔


Tags:

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *