anwarulnajaf.com

سورة العلق (96) — al-`Alaq — The Clot — العَلَقِ

سورة العلق (96)     al-`Alaq    The Clot    العَلَقِ

بِسْمِ اللّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ
اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ (1) خَلَقَ
الْإِنسَانَ مِنْ عَلَقٍ (2) اقْرَأْ وَرَبُّكَ الْأَكْرَمُ (3) الَّذِي عَلَّمَ
بِالْقَلَمِ (4) عَلَّمَ الْإِنسَانَ مَا لَمْ يَعْلَمْ (5) كَلَّا إِنَّ
الْإِنسَانَ لَيَطْغَى (6) أَن رَّآهُ اسْتَغْنَى (7) إِنَّ إِلَى رَبِّكَ
الرُّجْعَى (8) أَرَأَيْتَ الَّذِي يَنْهَى (9) عَبْدًا إِذَا صَلَّى (10)
أَرَأَيْتَ إِن كَانَ عَلَى الْهُدَى (11) أَوْ أَمَرَ بِالتَّقْوَى (12)
أَرَأَيْتَ إِن كَذَّبَ وَتَوَلَّى (13) أَلَمْ يَعْلَمْ بِأَنَّ اللَّهَ يَرَى
(14) كَلَّا لَئِن لَّمْ يَنتَهِ لَنَسْفَعًا بِالنَّاصِيَةِ (15) نَاصِيَةٍ
كَاذِبَةٍ خَاطِئَةٍ (16) فَلْيَدْعُ نَادِيَه (17) سَنَدْعُ الزَّبَانِيَةَ (18)
كَلَّا لَا تُطِعْهُ وَاسْجُدْ وَاقْتَرِبْ (19)( سجدة واجبة
)
اللہ کے نام سے جو رحمان و رحیم ہے (شروع
کرتا ہوں)
پڑھ اپنے رب کا نام لے کر جس نے پیدا کیا
(1) اس نے انسان کو خون بستہ سے پیدا کیا (2) پڑھ اور تیرا رب بڑا کریم ہے (3) جس
نے قلم لکھنا سکھایا (4)  انسان کو وہ کچھ
سکھایا کہ وہ جانتا نہ تھا (5) آگاہ ہو تحقیق انسان سر کشی کرتا ہے (6) کیونکہ وہ
اپنے آپ کو مستعفی جانتا ہے (7) حالانکہ تیرے رب کی طرف بازگست ہے (8) کیا دیکھتے
ہو اس جو روکتا ہے (9) بندے کو جب وہ نماز پڑھے (10)

سورہ العلق

·       یہ سورہ مکیہ ہے جو سب سے پہلے نازل ہوا۔ 
·       اس کی آیات کی تعداد بسم اللہ کو ملا کر بیس
(20) بنتی ہے ۔ 
·       حدیث نبوی میں ہے جس نے اس سورہ کی تلاوت کی
گویا اس نے نمام سورہ مفصلات کی تلاوت کی ۔ 
·       حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا جو
شخص اس کو دن یا رات میں پڑھے پھر اسی دن یا رات میں مر جائے توہ شہید مرتا ہے اور
اس کا ثواب رسولؐ اللہ کے ہمراہ جہاد کرنیولواں کے برابر ہوتا ہے (مجمع البیان
·       حدیث نبوی میں ہے جو شخص بحری سفر میں اس کو
پڑھے غرق سے محفوظ رہے گا اور اگر اس کو خزانہ کے درازہ پر پڑھا جائے تو وہ خزانہ
ہر آفت اور چوری سے محفوظ رہے گا یہاں تک کہ مالک اس سے ہر چیز خود نکالے (مطلق
سفر میں اس کا پڑھنا حرزجان اور باعث ارمان (الصادقی)
رکوع نمبر 21 ۔ اقرء باسم ربک ۔ مفسرین کے درمیان مشہور قول  یہ ہے
کہ یہ سورہ مبارکہ سب سے پہلے نازل ہونے والا سورہ ہے البتہ بعض نے کہا ہے کہ سب
سے پہلے سورہ مدثرہ نازل ہوا اور بعض سورہ فاتحہ کے متعلق رائے رکھتے ہیں لیکن یہ
روایت کہ جب پہلی دفعہ جبریل نازل ہوا تو حضورؐ ڈر گئے اور ؒحاف میں چھپ گئے یہ
شان بوت کے خلاف ہے اور عقیدہ شیعہ کی رو سے اس کا باطل ہونا ظاہر ہے بلکہ 
پہلی  دفعہ غار حرا میں جبرئیل آپ پر نازل
ہوا جب کہ وہ نظر نہیں آ رہا تھا تو آپ عبادت سے فارغ ہو کر جب گھر تشریف لائے تو
خدیجہ طاہرہ سے ذکر فرمایا اور خدیجہ نے جواب دیا کہ آپ ادائے امانت صلہ رحمی اور
صدق بیانی میں اپنی نظیر آپ ہیں لہذایہ اللہ کے فضل و کرم کے آثار ہیں جن کا ظہور
ہو رہا ہے چنانچہ خدیجہ کے چچا زاد ورقہ بن نوفل کے سامنے جب تذکرہ ہوا تواس نے
بھی اپنی رائے یہی ظاہر کیاس کے بعد جب دوسری دفعہ جبرئیل آیا تو اس نے بسم اللہ
سے لے کر ولا الضالین تک پورا سورہ فاتحہ پڑھ ڈالا اور حضورؐ سے کہا قراء یعنی آپ
پڑھیں جب آپ وحی لے کر پلٹے اور ورقہ بن نوفل نے قرآن کی آیتیں سنیں تو فوراً
ایمان الایا اور کہنے لگا کہ آپ یقیناً حضرت عیسی بن مریم کی پیشین گوئی کا نتیجہ
ہیں اور شریعت موسوی کی طرح مالک شریعیت ہیں اگر میری زندگی باقی تو میں ہر طرح سے
آپ کی نصرت کا فریضہ ادا کروں گا چنانچہ اس کی موت کے بعد آپ نے اس کو جنت کے
باغات میں دیکھا ۔
دوسری روایت میں ہے کہ خدیجہ کے ساتھ
شادی کرنے کے بعد جب آپ کی عمر شریف چالیس برس پوری ہوئی تو غار حرا میں عبادت کے
دوران آپ نے غائبانہ آواز سنی اور خدیجہ سے اس کا تذکرہ کیا جب دوسرے دن گئے تو
جبرئیل ایک حسین ترین شکل میں پیش ہوا اور اس نے سلام کا پیغام خداوندی سنایا کہ
آپ جن و انس کی طرف رسول بنا کر بھیجے گئے لہذا ان کو دین حق کی تبلیغ فرمائیں اور
عقیدہ توحید و نبوت و ولایت کی ان کو دعوت دیں اس کے بعد جبرئیل  نے زمین پر
اپنا پر مارا کہ پانی کا شیریں چشمہ نمودار ہوا آپ نے اس سے کچھ پیا اور وضو
فرمایا اور جبرئیل نے سورہ علق کی آیات آپ پر پڑھیں اور واپس چلا گیا واپسی پر آپ
جس درخت پتھر ، کنکرے کے پاس سے گذرتے تھے السلام علیک یا رسولؐ اللہ سے وہ آُ کا
استقبال کرتے تھے پس خدیجہ سے آپ نے واقعہ بیان کیا تو وہ بھی خوش ہوئیں ۔
علم بالقلم ۔ خداوند کریم نے قلم سے لکھنے کا علم دیکر
انسان پر احسان عظیم فرمایا اور یہی قلم ہی وہ عطیہ پردرگار ہے جو علوم کی بقا کی
ذریعہ ہے اور اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ حضورؐ کے پاس علم کتابت تھا ورنہ حضور
پر اس احسان جتلانے کا معنی ہی اور کوئی نہیں ہے ۔
ان الانسان ۔ یعنی کافر انسان نعمات پردگار کو سمجھنے
کے بعد بھی اور اپنی نفہ سے پیدائش کو جان لینے کے بعد بھی اپنے آپ کو مستعفی
جانتا ہے اور سرکشی کرتے ہوئے دین خداوندی سے باغی ہوجاتا ہے ۔ 
ءرایت الذی ۔ کہتے ہیں کہ ابو جہل نے جب حضورؐ کو نماز
پڑھتے دیکھا تو اس از راہ تکبر لوگوں سے کہا کہ جب یہ سجدہ میں جائے گا تو میں اس
کی گردن پر پاؤں رکھ دوں گا چنانچہ جب آپ نماز میں مشغول ہوئے اور سجدہ میں گئے تو
اس نے آگے بڑھنے کی جرات کی لیکن کانپتا ہانپتا فوراً واپس آیا اور لوگوں کے سوال
کے جواب میں کہنے لگا کہ میں نے دیکھا میرے اور محمدؐ کے درمیان ایک آگ کی خندق
موجود تھی اور پروں کے پھڑ پھڑانے کی آواز تھی ۔ اس کے بعد حضورؐ نے فرمایا اگر وہ
بد بخت آگے بڑھتا تو ملائکہ اس کے گوشت کا ریزہ ریزہ کر دیتے اور اس کے بعد عبادت
میں اختصار ہے اور جواب اس کا محذوف ہے یعنی ایسے شخص کی سزا اللہ کے نزدیک سنگین
ہو گی ۔ 
با لناصیۃ ۔ یعنی وہ نماز سے حضورؐ کو روکنے والا اگر
اپنے رویہ سے باز نہ آیا اور اسی حالت میں مرگیا تو ہم بروز محشر اس کو پیشانی سے
پکڑ کر جہنم میں ڈال دیں گے اور ناصیۃ کاذبۃ بدل میں الناصیۃ سے اور ہر وہ شخص جو
کسی کو نماز پروردگار سے رو کے وہ اس یت کا تاویل مصداق ہو گا اور خداوند کریم ہر
متکبر کو سزا دیتا ہے ۔
فلیدع نادیہ۔ جب ابو جہل نے سنا کر میرے متلعق تہدید کی
آیت اتری ہے تو اس نے کہا کہ میں ایک انجمن کا سربراہ ہوں مجھے کون پکڑ سکتا ہے؟
تو یہ آیت اتری کہ جب گرفتار عذاب ہو گا تو بے شک وہ اپنی انجم کو بلائے لیکن اس
کی کوئی بھی مدد نہ کر سکے گا ۔ 

عبرت و نصحیت

تفسیر برہان میں ہے کہ خداوند کریم
نے جس قدر مخلوق پیدا کی ہر زبردست کے اوپر زبردست پیدا کئے تا کہ تکبر کا علاج ہو
تا رہے ۔ چنانچہ بروایت حضرت امام جععفر صادق علیہ السلام حضرت نبی کریمؐ نے
فرمایا کہ خداوند کریم نے پہلے سمندروں کو پیدا کیا تو اس نے اپنے تلاطم دب کر رہ
گیا پھر زمین نے فخر کیا تو اس کے ہیجان کو سربفلک پہاڑوں کی میخوں سے ختم کر دیا
گیا پھر پہاڑوں نے فخر سے سر بلند کیا تو خدا نے اس کی سرکوبی کے لئے لوہے کو پیدا
فرمایا اور جب لوہے نے اپنی سختی اور مضبوطی پر فختر کیا تو اسکوتوڑنے کےلئے اللہ
نے آگ کو پیدا فرمایا اور جب آگ نے اپنی حرارت پر ناز کیا تو خدا نے پانی کو اڑا
کر لے جائے اور جب ہوا نے فخر کیا تواس پر حکومت کرنے کے لئے خدا نے انسان کو پیدا
کیا کہ انسان کی بنی ہوئی اشیاء کے سامنے ہوا بے بس ہو گئی اور جب انسان نے فخر
کیا تو اس کے تکبر کا سر نیچا کرنے کے لئے خدا نے موت کو پیدا کیا اور جب موت نے
فخر کیا تو خداوند کریم نے اعلان فرمایا کہ بروز محشر جنت اور دوزخ کے درمیان تجھے
ذبح کر دیا جائے گا جس کے بعد تجھے کبھی زندہ نہ کیا جائے گا پس موت بھی خوف خدا
سے ترساں و لرزاں رہتی ہے آپ نے فرمایا حلم غصے پر غالب ہے اور رحمت ناراضگی پر
غالب ہے اور صدقہ گناہ پر غالب ہے ۔


Tags:

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *