خلع اورمبارات
وَ لایَحِلُّ لَکُمْ: یعنی جب کوئی مرد عورت کوطلاق دے تو اس کےلئے یہ
جائز نہیں کہ عورت کودی ہوئی چیز حق مہروغیرہ اس سے واپس لے لے۔
اِلَّا اَنْ یَّخَافَا:یہ پہلے حکم سے
استثنیٰ ہے یعنی ویسے تو طلاق دینے والا مرد عورت سے کوئی دی ہوئی چیز کوواپس نہیں
لے سکتا مگر ایک صورت میں اوروہ یہ کہ دونوں کویقین ہو کہ وہ بغیر طلاق کے اللہ کی
حدود کوقائم نہ رکھ سکیں گے۔
ابن عباس سے مروی ہے کہ مراد یہ ہے کہ عورت
سے نشوز یعنی مرد کی نافرمانی اورمرد کے حق میں بداخلاقی ظاہر ہو اورروایات آئمہ
طاہرین علیہم السلام میں ہے کہ جب عورت مرد کو کہے کہ میں تیرے اذن کے بغیر گھر سے
باہر جاﺅں گی اورتیری خوابگاہ پر غیر کولاﺅں گی اورتیرے لئے جنابت
سے غسل نہ کروں گی یایہ کہے کہ میں تیری اطاعت نہ کروں گی یہانتک کہ مجھے طلاق دے
دے تو ان حالات میں مرد کےلئے عورت سے فدیہ لے کرطلاق دینا جائز ہے۔
پھر اختلاف اس میں ہے کہ ایسی صورت میں مرد
عورت سے فدیہ صرف وہی چیز لے سکتا ہے جو پہلے مہر میں اس کودے چکاہو یااپنے دئیے
ہوئے سے فدیہ زیادہ بھی لے سکتا ہے؟ تو اس میں علمائے امامیہ نے دو صورتیں بیان
فرمائی ہیں :
(1) اگر نافرمانی صرف عورت کی طرف سے ہو اور ہو مرد کے ساتھ آباد
ہونا پسند نہ کرتی ہو تو اس صورت میں مرد کے لئے اپنے دئیے ہوئے حق مہر سے زیادہ
چیز وصول کرناجائز ہے اوراس کوخلع کہاجاتا ہے۔
(2) اگر بغض وناراضگی ہر دوطرف سے ہو اوردونوں ایک دوسرے کونہ
چاہتے ہوں اوراللہ کی حدود کو توڑنے کادونوں سے خطرہ ہوتو مرد عورت سے صرف اسی قدر
وصول کرسکتاہے جس قدر اس کودے چکاہے اوراس کو مبارات کہاجاتاہے۔
مسئلہ خلع
اورمبارات کاصیغہ جاری کرتے وقت انہی شرائط کاہوناضروری ہے جوطلاق کے صیغہ کے وقت
معتبر ہوا کرتی ہے نیز خلع اورمبارات کے صیغہ میں طلاق کاذکر کرنابھی لازمی ہوا
کرتا ہے:
خلع کاصیغہ: مرد عورت کو کہے: خَلَعْتُکِ عَلٰی کَذَا (یہاں فدیہ کا ذکر کرے)
فَاَنْتِ طَالِق
یاکہے: خَلَعْتُ زَوْجَتِیْ فَلانَة (زوجہ
کا نام) عَلٰی کَذَا (فدیہ کا ذکر کرے) فَھِیَ طَالِق
مرد کاوکیل کہے: خَلَعْتُ
زَوْجَةَ مُوَکِّلِیْ فَلانَة (عورت کا نام) عَلٰی کَذَا (ذکر فدیہ) فَھِیَ طَالِق
مبارات کاصیغہ: مرد عورت کو کہے: بَارَاتُکِ عَلٰی کَذَا (ذکر فدیہ) فَاَنْتِ
طَالِق
یا کہے: بَارَاتُ زَوْجَتِیْ فَلانَة (بیوی
کا نام) عَلٰی کَذَا (ذکر فدیہ) فَھِیَ طَالِق
مرد کا وکیل کہے: بَارَاتُ زَوْجَةَ
مُوَکِّلِیْ فَلانَة (عورت کا نام) عَلٰی کَذَا (فدیہ) فَھِیَ طَالِق
مسئلہ خلع کی صورت میں اگر عورت فدیہ کی طرف
رجوع کرے تو پھر مرد کوبھی عورت کی طرف عدت کے اندر رجوع کاحق حاصل ہے اورمبارات
کی صورت میں بھی یہی حکم ہے اورعدت گزر جانے کے بعد نہ عورت کو فد یہ کی طرف رجوع
کرنے کاحق ہے اورنہ مرد کو عورت کی طرف رجوع کاحق باقی رہتا ہے۔
مسئلہ خلع
یامبارات کی طلاق میں عدت گزرنے کے بعد وہ مرد اس عورت کے ساتھ نکاح جدید کرسکتا
ہے کیونکہ یہ طلاق ایک طلاق ہے اوراسی قسم کی تین طلاقوں کے بعد طلاق بائن ہوگی پس
وہ مرد اس عورت سے پھر نکاح نہ کرسکے گا مگر یہ کہ وہ عورت کسی دوسرے مرد سے شادی
کرلے اوروہ باشرائط اس کو طلاق دے دے یامرجائے تو عد ت کے بعد یہ مرد اس سے نکاح
کرسکتا ہے چنانچہ بعد والی آیت میں اسی کوبیان کیا جارہاہے۔
شانِ نزول
جمیلہ بنت عبداللہ ثابت بن قیس کی زوجہ تھی
اوراپنے شوہرکوناپسند کرتی تھی چنانچہ وہ جناب رسالتمآب کی خدمت اقدس میں حاضر
ہوئی اورعرض کیا کہ گو میں اپنے شوہر میں دینی یااخلاقی کوئی عیب نہیں پاتی
اوراسلام قبول کرنے کے بعد میں خداکی نافرمانی کوناپسندکرتی ہوں لیکن میرا شوہر
چونکہ سیاہ رنگ کوتاہ قد اوربدصورت ہے لہذا میں اس کے ساتھ کسی صورت میں ہمبستر
ہونا گوارا نہیں ( پس میرا شوہر مجھے طلاق دے دے تو ٹھیک ہے کیونکہ اس کے طلاق نہ
دینے کی صورت میں مجھے خداکی نافرمانی میں پڑنے کاڈر ہے ) اس کا شوہر ثابت دل سے
اس کوطلاق دینے پر آمادہ نہ تھا پس یہ آیت اتری ثابت نے کہاکہ مجھے اپنامہرواپس
کردے (اوروہ ایک باغ تھا ) حضرت رسول خدانے جمیلہ سے دریافت فرمایاکہ تو اسے وہ
باغ واپس کردے گی؟ اس نے عرض کیا کہ حضور وہ باغ بھی واپس کرتی ہوں اورکچھ زائد
بھی دوں گی (بہر کیف یہ مجھے طلاق دے ) آپ نے فرمایا کہ بس تو زائد نہ دے بلکہ وہی
باغ واپس دے دے پس جمیلہ نے باغ واپس دیا اورثابت نے اس کوطلاق دے دی۔
لا جُنَاحَ عَلَیْھِمَا فِیْمَا افْتَدَتْ
بِہ: یعنی طلاق خلع کی صورت میںعورت جس
قدر بھی فدیہ دے عورت اور مرد دونوں پر اس کاکوئی گناہ نہیں ہے نہ عورت کودینے میں
گناہ ہے اورنہ مرد کولینے میں گناہ ہے۔
تِلْکَ حُدُوْدُ اللّٰہِ: یہ اللہ کی حدّیں
ہیں یہاں حدود سے مراد خلع طلاق رجوع اورعدت وغیرہ ہیں۔
x
Leave a Reply