anwarulnajaf.com

مستحقین زکوٰاۃ

 مستحقین زکوٰاۃ : ۔ اس مقام تک زکواۃ کے متعلق نہایت ضروری سائل کا ذکر کردیا
گیا ہے ۔ اب قرآن مجید کی رُد سے ذکواۃ کے مستحقین کا بیان کیا جاتا ہے قرآن مجید
میں مستقین کی آٹھ قسمیں بیان کی گئی ہیں۔

(1)       
فقراء

(2)مساکین

(3)       
عاملین

(4)سولنقہ القلوب

(5)       
غلام

(6)قرض دار

(7)خوشنودئی خدا کے طریقے

(8)       
مسافر

مسئلہ :۔ فقرا اور مساکین کے درمیان فرق کرنابہت مشکل ہے اور ان سے مراد ہر
شخص ہے جو اپنی اور اپنے واجب  النفقہ
افراد کی کفالت سے عاجز ہوا اور غنی کا مفہوم اس کے مقابلہ میں ہے کہ جو اپنی اور
اپنے واجب النفقہ افرادکی کفالت خود کر سکتا ہو خواہ بیک وقت سال کے مصارف اپنے
پاس جمع رکھتا ہو ۔ یا دوران سال میں اپنی کدید سے محنت کرکے عہدہ برا دینے پر
قادر ہو۔

مسئلہ :۔ ہر شخص کی احتیاج کا اس کے شایان ِشان اندازہ کیا جائے گا ۔لہذا
صاحبان مروت وعزت کے پاس گھڑے یا غلام کا ہونا استحقاق ذکواۃ سے ان کو خارج نہیں
کرتا جب کہ وہ مناسب طور پر اپنی شان کے مطابق خرچ نہ رکھتے ہوں اسی طرح ذخیرہ کتب
ومہمان خانہ یا اپنی وضع کے مطابق لباس پہننا منانی استحقاق نہ ہوگے۔

مسئلہ:۔ دور حاضر میں ترویج علوم دینیہ کے پیش نظر مدارس دینیہ میں پڑھنے والے
طلبہ اس سلسلہ میں زیادہ مستحق ہیں بلقہ مستحقین کی باقی اصناف سے ان کو سبقت حاصل
ہے لہذازکواۃ کی ادائگی کے وقت طالبان علوم دینیہ کو ہی  ترجیح دینا ذیادہ مناسب ہے۔

مسئلہ:۔ اگر ایک شخص  مستحق ذکواۃ ہو
لیکن وہ ذکواۃ لینے سے اپنی خفت محسوس کرتا ہو تو اس کو ذکواۃ بعنوان مدیہ یا
اعائت دی جائے تو جائز ہے۔

مسئلہ:۔ ذکواۃ کی ادائگی کے وقت خیال کرنا چاہیئے کہ ہر مستحق ذکواۃ کو شایان
شان حصہ دیا جائے مشلاً صاحبان مروت اور ارباب علم کے شایان ِ شان حصہ دے اور
مستحق غیر سائل کو پیشہ ور گداگر پر ترجیح دے ۔ وعلیٰ ہذالقیاس ۔

مسئلہ:۔ عالمین سے مراد وہ لوگ ہیں جو لوگ جو ذکواۃ کی وصول پر حاکم شرع کی
جانب سے متمین ہوتے ہیں پس ان کو حاکم شرع اسی ذکواۃ کی مدسے گذارا لاؤنس
عطافرماتا ہے۔

مسئلہ:۔ سونقہ القلوب سے مراد وہ لوگ ہیں جن کو اسلام طرف راغب کرنے یا اسلام
پر ان کو ثابت قدم کرنے کے لئے المال سے کچھ دیا جاتا ہے۔

مسئلہ :۔ وہ کنیز وغلام جو سختی وشدت میں ہوں۔ ان کو آزاد کرانے کے لئے بھی
ایک حصہ ذکواۃ سے متمین تھا جس کی اب ضرورت ہی نہیں ہے۔

مسئلہ:۔ مستحق ذکواۃ کی چھٹی قسم مقروض لوگ ہیں ۔یعنی جنہوں نے اپنے جائز
ضروری اضراجات کے لئے قرضہ اٹھایا ہوا  اور
اس کی ادائگی سے قاصرہوں تو ایسے لوگوں کی ذکواۃ کے فنڈ سے مدد کی جا سکتی ہے۔

مسئلہ:۔ اگر ایک شخص کا کسی پر قرض ہوا اور جانتا ہو کہ مقروض کے ادائگی کی
طاقت نہیں رکھتا اور مستحق ذکواۃ بھی ہے تو قرضہ ذکواۃ سے حساب کرسکتا ہے۔

مسئلہ:۔ ذکواۃ کے مستحقین کی ساتویں قسم سبیل اللہ ہے یعنی ہر وہ کام جو خوشنودئی
خدا کا باعث ہوتو اس میں ذکواۃ  لگ سکتی ہے
پس مساجد ۔ امام باڑے ومسافر خانے بلکہ رفاہ عامہ کے لئے جملہ اموراس ضمن میں
آسکتے ان سب میں زیادہ اہم اور ضروری ہے اس دور پر آشوب میں مدارس دینیہ کی ترقی
وتو سیع اور یہ وہبنیادی ادارے ہیں جن کی بدولت دین اور  دین والے دنیا میں سانس لے رہے ہیں اور انہی کی
بدولت زمین خدا کلمہء حق سے معمورہے اور یہ وہ مراکز ہیں جن کا وجود ہر دشمن دین
کی آنکھوں کا خارہے پس خیرات وصدقات کی جملہ رقوم زیادہ سے زیادہ   انہیں اداروں کے حوالہ کی جائے تاکہ حفاظت مذہب
کی یہ حصاریں ذیادہ سے ذیادہ وہ مضبوط ہوکر ہر قسم کے مخالف وشیدید  طوفان کا منہ موڑ سکنے میں کامیاب ہوں۔

مسئلہ:۔ مستحقین ذکواۃ کی آٹھویں قسم ابن سبیل (مسافر) ہے اور بعضوں نے اسے
مہمان سے تعبیر کیا ہے اور اس سے مراد وہ شخص ہے جو سفر میں اپنا زاوراہ ختم کر
چکا ہوا اور اعانت کا مختاج ہوپس اس کوذکواۃ کے فنڈ سے دیا جاسکتا ہے خواہ وُہ
اپنے وطن میں ہی کیوں نہ ہو۔

مسئلہ:۔ ذکواۃ کو مستحقین کی ان مذکورہ آٹھوں قسموں پر برابر تقسیم کرنا ضروری
نہیں بلکہ حسب مصلحت کم وبیش دیا جاسکتا ہے نیزیہ ضروری نہیں کہ ذکواۃ پوری آٹھ
قسموں کودی جائے بلکہ بعض قسموں کو بھی دی جا سکتی ہے حئی کہ ایک قسم اور اس میں
سے ایک فرد کو بھی دی جاسکتی ہے۔


by

Tags:

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *