تفسیر رکوع ۱۴ — بنی اسرائیل کی بد عنوانیاں
النَّصَارىٰ عَلیٰ شَیْءٍ وَّقَالَتِ النَّصَارىٰ لَيْسَتِ الْيَهُوْدُ عَلٰى
شَیْءٍ وَّهُمْ يَتْلُوْنَ الْكِتَابَ كَذٰلِكَ قَالَ الَّذِيْنَ لَاْ
يَعْلَمُوْنَ مِثْلَ قَوْلِهِمْ فَاللّٰهُ يَحْكُمُ بَيْنَهُمْ يَوْمَ
الْقِيَامَةِ فِيمَا كَانُواْ فِيْهِ يَخْتَلِفُوْنَ (113) وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنْ مَّنَعَ مَسَاجِدَ اللّٰهِ أَنْ
يُّذْكَرَ فِيْهَا اسْمُهُ وَسَعٰى فِیْ خَرَابِهَا أُوْلَئِكَ مَا كَانَ لَهُمْ
أَنْ يَّدْخُلُوْهَا إِلَّا خَآئِفِيْنَ لَهُمْ فِیْ الدُّنْيَا خِزْیٌ وَّلَهُمْ
فِی الْآخِرَةِ عَذَابٌ عَظِيْمٌ (114) وَلِلّٰهِ الْمَشْرِقُ وَالْمَغْرِبُ فَأَيْنَمَا تُوَلُّوْا فَثَمَّ
وَجْهُ اللّٰهِ إِنَّ اللّٰهَ وَاسِعٌ عَلِيْمٌ (115)
اوپر دین حق کے اورکہا نصاریٰ نے کہ نہیں ہیں یہودی اوپر دین حق کے حالانکہ تلاوت
کتاب بھی کرتے ہیں اسی طرح کہا ان لوگوں نے جو بالکل بے علم ہیں انہی جیسا قول پس
اللہ ان کے درمیان حکم کرے گا بروز قیامت اس کے متعلق جس میں وہ اختلاف کرتے تھے(113) اور کون زیادہ ظالم ہے اس شخص سے جو روکے اللہ
کی مساجد سے ان میں ذکر کرنے سے اور کوشش کرے ان کی بربادی میں ایسے لوگ ناجائز ہے
کہ داخل ہوں ان )مساجد( میں مگر ڈرتے ہوئے ان کے لئے دنیا میں ذلت ہے اور آخرت
میں بھی ان کے لئے بڑا عذاب ہے (114) اور اللہ کے لئے مشرق و مغرب ہے پس جس طرف منہ کر لو
اسی طرف اللہ کی ذات ہے تحقیق اللہ وسیع حکومت والا ہے اور ہر چیز کے جاننے والا
ہے(115)
رکوع ۱۴ — بنی اسرائیل کی بد عنوانیاں
عسکری سے اس کی تفسیر اس طرح منقول ہے کہ یہودی نصرانیوں کے متعلق کہتے تھے کہ ان کا
دین باطل وکفر ہے اورنصرانی یہودیوں کے دین کو باطل وکفر کہتے تھے، کتاب خداکو
پڑھتے تھےلیکن دونوں فریق اس میں غور نہیں کرتے تھے ورنہ گمراہی سے بچ جاتے اورجو
لوگ بے علم تھے (اہل کتاب کے علاوہ) وہ بھی یہودونصاریٰ کی طرح ایک دوسرے کو باطل
وکفر کہتے تھے )ترجمہ ملخص (
متعلق حضرت امام حسن سے مروی ہے کہ یہودونصاریٰ کے گروہ حضرت رسول خداﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے کہ آپ ہم میں فیصلہ فرمائیں، پس یہودیوں نے اپنے تئیں
مومن بتایا اورنصاریٰ کے دین کو باطل کیا اورنصاریٰ نے اپنے آپ کو مومن بتایا
اوریہودیوں کے دین کو غلط کہا تو حضورﷺ نے فرمایاکہ تم ہر دو غلطی پر ہو اوراگر تم کتاب اللہ پر عمل نہ کرو گے تو تم
پروہ بروزِمحشر باعث ِوبال ہو گی (حدیث طویل ہے)
مساجدجن میں نماز پڑھا کرتےتھے مشرکین نے منہدم کردیں[1] اورحضرت امام حسن سے ایک روایت میں ہے کہ حضورﷺجب مدینہ میں تشریف فرما ہوئے تو مسجد الحرام وبیت اللہ سے جدائی آپ کو بہت
گراں معلوم ہوئی اوربہت غمزدہ ہوئے، پس خداوند کریم کی جانب سے وحی ہوئی کہ آپ غم
نہ کریں ہم تجھے فاتحانہ انداز سے اسی شہر کی طرف پلٹا دیں گے تو حضورﷺنے یہ بشارت صحابہ کو سنائی اور رفتہ رفتہ یہ خبر اہل مکہ تک پہنچ گئی، پس
جناب رسالتمآبﷺ کو وحی ہو ئی کہ تجھے مکہ پر خدا فتح دے گا اور پھر وہاں تیرا حکم نافذہو گا
اورپھر مکہ کا داخلہ مشرکین پر ممنوع کیا جائے گا اوروہ مکہ میں خوفزدہ ہو کر داخل
ہوں گے کیونکہ انہیں بصورتِ کفر اسلام کی تلوار کا ڈر ہو گا اوردنیا میں ان کے لئے
رسوائی ہو گی کہ وہ حرمِ خداسے نکال دئیے جائیں گے اورآخرت کا عذاب عظیم بھی ان
کےلئے ہو گا، چنانچہ جب مکہ فتح ہو ا تو مروی ہےکہ حضورﷺ نے حکم دے دیا کہ اس سال کے بعد کوئی مشرک حج نہ کرے اورکوئی برہنہ طواف کرنے
نہ آئے کیونکہ اس سے پہلے وہ لوگ بیت اللہ کا طواف برہنہ ہوکر کیا کرتے تھے –
ابن عباس سے مروی ہے کہ جب تحویل قبلہ کا حکم ہوااوربیت المقدس کی بجائے کعبہ
مسلمانوں کا قبلہ قرار پایا تو یہودیو ں نے اعتراضات شروع کئے تب یہ آیت نازل ہوئی
کہ مشرق ومغرب سب اللہ کیلئے ہیں انسان جس طرف منہ کرے اس کی ذا ت ہر طرف موجود
ہے، آئمہ اہل بیت سے مروی ہے کہ یہ آیت نوافل کے
متعلق ہے کیونکہ نوافل سفر کی حالت میں جس طرف انسان جارہاہو اسی طرف منہ کرکے
اداکرسکتا ہےجب کہ سواری پر ہو اورجناب رسالتمآبﷺ نےخیبرکو جاتے ہوئے اورمکہ سے واپس مدینہ آتے ہوئے سواری پر نوافل ادا کئے
حالانکہ ہر دوسفروں میں جناب رسالتمآبﷺ کی پشت قبلہ کی طرف تھی-
رسول خداﷺنے کسی طرف لشکر بھیجا اورمیں بھی اس میں موجود تھا ایک جگہ
ہم پر ایسی تاریکی چھائی کہ قبلہ کی سمت معلوم نہ ہوسکتی تھی پس ایک گروہ نے ایک
طرف اپنے اندازے سے قبلہ کا یقین کرکے نماز پڑھی اور اس جانب کا نشان لگادیا اور
دوسرے گروہ نے دوسری طرف قبلہ کا اندازہ کر کے نماز ادا کی اور اس جانب کا نشان
بھی محفوظ کر لیا جب صبح ہوئی اور سورج نکلا تو وہ سب نشان خلافِ قبلہ تھے پس جب
سفر سے واپس پلٹے تو جناب رسول خداﷺ سے یہ مسئلہ دریافت کیا پس یہ آیت اتری-
اتَّخَذَ اللّٰهُ وَلَدًا سُبْحَانَهُ بَلْ لَّهُ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَالْأَرْضِ
كُلٌّ لَّهُ قَانِتُوْنَ (116) بَدِيْعُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَإِذَا قَضٰى أَمْراً
فَإِنَّمَا يَقُوْلُ لَهُ كُنْ فَيَكُوْنُ (117) وَقَالَ الَّذِيْنَ لاَ يَعْلَمُوْنَ لَوْلَاْ يُكَلِّمُنَا
اللّٰهُ أَوْ تَأْتِيْنَا آيَةٌ كَذَلِكَ قَالَ الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ
مِّثْلَ قَوْلِهِمْ تَشَابَهَتْ قُلُوبُهُمْ قَدْ بَيَّنَّا الْآيَاتِ لِقَوْمٍ
يُوقِنُوْنَ (118) إِنَّا أَرْسَلْنَاكَ بِالْحَقِّ بَشِيْرًا وَّ نَذِيْرًا وَّلَاْ
تُسْأَلُ عَنْ أَصْحٰبِ الْجَحِيمِ (119) وَلَنْ تَرْضٰى عَنْكَ الْيَهُوْدُ وَلَا النَّصَارىٰ حَتّٰى
تَتَّبِعَ مِلَّتَهُمْ قُلْ إِنَّ هُدَى اللّٰهِ هُوَ الْهُدىٰ وَلَئِنِ
اتَّبَعْتَ أَهْوَآءَهُمْ بَعْدَ الَّذِیْ جَآءَكَ مِنَ الْعِلْمِ مَا لَكَ مِنَ
اللّٰهِ مِن وَّلِیٍّ وَّلَاْ نَصِيْرٍ (120) الَّذِيْنَ آتَيْنَاهُمُ الْكِتٰبَ يَتْلُوْنَهُ حَقَّ
تِلَاْوَتِهِ أُوْلَئِكَ يُؤْمِنُوْنَ بِهِ وَمَنْ يَّكْفُرْ بِهِ فَأُوْلَئِكَ
هُمُ الْخٰسِرُوْنَ(121)
خدا اولاد اس کی ذات اس سےمنزہ اورپاک
ہے بلکہ اس کی ملکیت میں ہے جوکچھ آسمانوں اور زمینوں میں ہے سب اس کے مطیع ہیں(116) ایجاد کرنے
والاہے آسمانوں اورزمینوں کا اور جب ایجاد کرے کوئی شئے تو سوا اس کے نہیں کہ
فرماتا ہے ہوجاپس وہ شئے ہوجاتی ہے(117) اورکہا بے علم
لوگوں نےکیوں نہیں ہمارے ساتھ بولتا خدایاکیوں نہیں آتی ہمارے پاس نشانی اسی طرح
کی ان لوگوں نے جو ان سے پہلے گزر گئے ان جیسی بات ایک دوسرے کے مشابہ ہیں ان کے
دل تحقیق ہم نے واضح کردی ہیں نشانیاں اس قوم کے لئے جو صاحب یقین ہیں(118)
تحقیق ہم نے بھیجا ہے آپ کو برحق بشیر ونذیر بنا
کر اورآپ سے باز پرس نہ ہو گی دوزخ جانے والوں کی(119) اورہر گز نہ راضی ہوں گے آپ سے یہود
ونصاریٰ مگر اس صورت میں کہ آپ پیروی کریں ان کے دین کی فرمادیجئے تحقیق اللہ کی
ہدایت ہی صحیح ہدایت ہے اوراگرآپ پیروی کریں ان کی خواہشات کی بعد اس کے کہ آپ کو
علم ہو چکا ہے تو نہ ہوگا آپ کے لئے اللہ سے بچانے والاکوئی دوست ومددگا ر(120) وہ لوگ جن
کو ہم نے دی ہے کتاب وہ اس کی تلاوت کرتے ہیں جس طرح تلاوت کا حق ہے وہ اس پر
ایمان رکھتے ہیں اور جو انکار کریں پس وہی خسارہ پانے والے ہیں(121)
کے متعلق علامہ طبرسیv نے ذکر فرمایا ہے کہ چونکہ نصرانی
حضرت عیسٰی کو خدا کا بیٹا کہتے تھے لہذا خدانے
ان کے قول کی تردید فرمائی ہے اوربعض نے کہا ہے کہ مشرکین فرشتوں کو خدا کی بیٹیاں
کہتے تھے لہذایہ آیت ہردو فریق کے مقولہ کی تردید کرنے کے لئے اُتری-
یعنی اللہ اس نسبت سے بلند وبالااورپاک ومنزہ ہے، پھر اس کی چند وجوہ بھی ذکر
فرمادیں:
زمینوں کی تمام چیزیں خواہ ملائکہ ہوں یا حضرت عیسٰی ہوں یا جملہ انبیاہوں یہ سب اس کی
ملکیت میں ہیں اوربیٹا باپ کا مملوک نہیں ہوا کرتا لہذا ان کو اس کا بیٹا کہنا ناجائز ہے-
یعنی آسمانوں اورزمینوں اوراُن میں آباد ہونے والی مخلوق کا موجد ہے یعنی اسباب
ظاہریہ کے بغیر پیدا کرنے والاہے اوربیٹا باپ سے بغیر سبب ظاہری کے تولد نہیں پاتا
–
سے ہوا کرتا ہے لہذا وہ باپ کی ایجاد نہیں کہا جاسکتا اوریہ سب مخلوق چونکہ اللہ
کی ایجاد ہے لہذا ان کو اس کی اولاد کہنا غلط ہے –
“سے پیدا ہوئی ہے اوراولاد کی پیدائش اس طرح نہیں ہوتی-
کی ایجاد فرماتا ہے اوربعد میں مخلوق پیدا ہوتی ہے بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ خدا پیدا کرنے میں چونکہ آلات واسباب کا محتاج
نہیں لہذا وہ جب کسی چیز کے خلق کرنے کا ارادہ کرتا ہے تو فورًا وہ چیز ہو جایا
کرتی ہے جس طرح کہ کہا جائے”کُنْ“
یعنی ہو جا پس وہ چیز ہو جائے یعنی پیدا
کرنے میں اس کو دیر نہیں لگتی-
پر بعض جہلا یہ کہا کرتے ہیں کہ تمام مخلوق سوائے محمد و آل محمد کے ان ہی کی پیدا کردہ ہے اور یہ اللہ کے پیدا کردہ ہیں کیونکہ خدا فرماتا ہے
کہ جب میں پیدا کرتا ہوں تو ”کُنْ“
کہتا ہوں اور شئے ہو جاتی ہے اور خدا چونکہ جسم و جسمانیت سے پاک ہے لہذا اُس کی
زبان نہیں پس اس لئے ”کُنْ“
کہنا ناجائز ہے تو گویا ثابت ہوا پہلے ایسی ذواتِ مقدسہ موجود تھیں جنہوں نے ”کُنْ“
کہا اور مخلوق پیدا ہوئی-
صَنَائِعُ اللّٰہِ وَ النَّاسُ بَعْدُ صَنَائِعُ لَنَا اس کا ترجمہ یوں کرتے ہیں کہ ہم اللہ
کی مخلوق ہیں اورپھر باقی لوگ ہماری مخلوق ہیں –[1]
ہے، خداوند جس طرح حضرات محمد وآل محمد کا خالق ہے اسی
طرح وہ تمام کائنات کے ذرّہ ذرّہ کا خالق ہے، اوّل تو ”کُنْ“
کہنے میں وہ جسم کا محتاج نہیں جس طرح وہ تمام موجودات جواہر واعراض کو پیدا کرنے
پر قادر ہے اسی طرح اس آواز کو بغیر کسی
محل کے ایجاد کرنے پر قدرت رکھتا ہے اوروہ کلام کے پیدا کرنے میں زبان کا محتاج نہیں
اورحضرت موسیٰ سے کلام کرنے میں وہ درخت کا بھی
محتاج نہیں تھا اورزبان کو کلام کرنے کی طاقت بھی اس کی عطا کردہ ہے اوردرخت سے
آواز کا پیدا ہونا بھی اس کی قدرت شاملہ کا کرشمہ تھا اسی طرح معراج پر جناب
رسالتمآبﷺ سے کلام کرنے کیلئے نہ زبان تھی نہ کوئی درخت تھا البتہ کلام کا لہجہ حضرت امیرالمومنین کا سا تھا
اوروہ بھی صرف حضرت رسالتمآبﷺ کی محبت ومانوسیت کی وجہ سے اورحضرت علی کی شان کو بلند کرنے کی خاطر تھا
ورنہ لہجہ کا خالق بھی وہی ہے جو آواز کا خالق تھا، پس مقصد یہ ہے کہ اس کو پیدا
کرنے میں دیر نہیں لگتی بس ایسا ہے کہ جس
طرح ”کُنْ“ کہا جائے اورشئے ہو جائے-
سوائے اس کی ذات کے کسی کا احسان نہیں لیکن لو گ ہماری وجہ سے پیدا ہوئے ہیں کہ
اگر ہم نے ہوتے توباقی مخلوق پیدانہ کی جاتی پس تمام لوگوں کا خالق بھی وہی ہے لیکن ہماری بدولت، جس طرح
فرمان ہے لَوْلَاْ
کَ لَمَا خَلَقْتُ الْاَفْلَاکَ [2]
بنی اسرائیل کی بدعنوانیوں کی فہرست
اسرائیل کے متعلق گزرے ہیں، جن میں بنی اسرائیل کی بدعنوانیاں اور اُن پر خداوند
کریم کے احسانات اورحسن تجاوز اوربعض ان کی سرکشیوں کی سزاوٴں کا ذکر ہوا ہے تاکہ
دَور حاضر کے بنی اسرئیل نصیحت حاصل کریں اورتاقیامت مسلمانوں کےلئے بھی درسِ عبرت
ہو، خلاصہ کے طور پر بنی اسرائیل کی مذکورہ بدعنوانیوں کی فہرست بیان کرتے ہیں تاکہ اچھی طرح وضاحت
ہوسکے:
خداوندکو دیکھیں گے تب مانیں گے –
بے شکری کرتےہوئے منہ پھیر لیا اورمحنت ومشقت کرکے زمین کی پیداواروں میں سے غذا حاصل کرنے کی خواہش کی-
کی خلاف ورزی کی –
کہنا شروع کردیا –
سامری کی اطاعت کرتےہوئے گوسالہ پرست ہو گئے –
–
بعدانکار کردیا –
مرتد ہوگئے –
مچھلی کا شکار ممنوع تھا لیکن باز نہ آئے –
بعد گائے کی تعیین میں بھی پس وپیش کرتے رہے –
کو دھوکا دیتے تھے –
کہ مسلمانوں سے ان کو پوشیدہ رکھا جائے تاکہ وہ ہمارے اُوپر میدانِ محشر میں حجت
نہ پکڑیں –
نبی کی نبوت کا اعتراف کرکے علیحد گی میں اس کی مخالفت پر آمادہ رہتے تھے –
–
پرستی کے ایام ہیں –
نماز، زکوة وغیرہ کا عہد لیا گیا تھا لیکن اُنہوں نے عمل نہ کیا-
کرنے کا عہد لیا گیا تھا لیکن بازنہ آئے –
لیکن انہوں نے اس پر بھی عمل نہ کیا –
حجاب میں ہیں –
لیکن جب آپ تشریف لائے تو دشمن ہوگئے-
کہ ہم نے نصیحت سنی لیکن دل میں اس کا انکار محکم رکھتے تھے-
رسالتمآبﷺ کی نبوت کا صرف یہی حسد تھا کہ حضرت اسماعیل کی اولاد میں نبی کیوں ہوا ؟
تھا اوراب حضرت محمد مصطفیﷺ کی نبوت سے سرتابی کی جس کی بدولت غضب درغضب میں مبتلاہوئے-
پر ایمان لانے کی دعوت دی گئی توکہا جو ہم پر اُتری ہے اس کو مانیں گے اس کے علاوہ
کسی کتاب کو ہم ماننے کے لئے تیار نہیں –
کا گھر صرف ہمارے لئے ہی ہے-
سمجھتے تھے کہ آخرت میں ہمارے لئے جہنم ہے لہذا لمبی عمروں کی خواہش کرتے تھے –
لایا ہوا ہوتا تو ہم ضرور مانتے –
نضیر نے جناب رسالتمآبﷺ سے ابتدا ئےہجرت میں عہد کیا تھا جسے بعد میں توڑدیا –
کی لفظ سے ندادیتے تھے جس سے مراد اُنکی اپنی اصطلاح میں گالی دینا تھا –
کرتے تھے جس کا اللہ نے جواب دیا –
میں شبہات ڈالتے تھے-
فرقہ اپنے آپ کو جنت کا ٹھیکیدار سمجھتا تھا اوردوسرے کے دین کو باطل کہتا تھا –
سے مسلمانوں پر اعتراضات کئے جن کا خداوند کریم نے ازالہ فرمایا –
فرمائی –
مانیں گے جب تک خداہمارے ساتھ خود کلام نہ کرے-
قدر صراحت سے گزشتہ آیات میں ذکر ہوچکا ہے –
نصرانی بھی شریک ہیں، بعض حضرت موسیٰ کے زمانے کے بنی اسرئیل سے متعلق
اوربعض اُن کے بعد سے لے کرجناب رسالتمآبﷺ کے دَور تک کے بنی اسرائیل سے متعلق ہیں لیکن موجودہ دَور والے چونکہ اپنے
اکابر کے افعال پر بھی راضی تھے اس لئے تمام بدعنوانیوں کی سرزنش ان کو کی گئی
اوران کے علاوہ بھی بنی اسرائیل کی غلطیاں ہیں جو گزشتہ آیات میں ضمناً مندرج ہیں
اورآئندہ اپنے اپنے مقام پر وضاحت سے ذکر ہوں گی-
بنی اسرائیل پر اُن کی سرکشیوں اوربداعتدلیوں کے باوجود احسانات وانعامات بھی اس
قدر ہیں کہ شاید کسی دوسری قوم کو یہ صورت نصیب نہ ہوئی ہو مثلاً قبطیوں کی غلامی
سے آزادی ان کے دشمن فرعون اوراس کے ساتھیوں کا غرق ہونا وغیرہ وغیرہ اورپھر ان کی
باربار کی غلطیوں اوربدعنوانیوں کی بدولت متعدد مرتبہ ان پر عذاب بھی نازل ہوا
مثلاً گوسالہ پرستی کی سزامیں ستر ہزار کا قتل، صاعقہ سے ستر آدمیوں کی موت، طاعون
سے ہزاروں کی موت، مچھلی کے شکار سے ستر ہزار آدمیوں کا بندر کی شکل میں مسخ
ہوناوغیرہ اوران کی کافی غلطیوں سے درگزر بھی کیا گیا جن کا گزشتہ آیات میں ذکر ہوچکا
ہے-
اس سے بھی زائد صراحتاًو ضمناً بداعتدالیوں اورسرکشیوں کا ذکر فرمایا اوربعض
مقامات پر اُن کے معذّب ہونے کا ذکر بھی کیا یہ سب تفصیل ایک طرف تو موجودہ بنی
اسرائیل کےلئے سرزنش اورنصیحت کا باعث تھی اوردوسری طرف تمام مسلمانوں کے لئے مقام
عبرت تھا کہ وہ اپنے نبی کے متعلق ایسے اقدامات سے بازآئیں اورنیز جناب رسالتمآبﷺ کے لیے تسلی وحوضلہ افزائی کا موجب بھی ہے کہ جس قوم کی ابتدا سے یہ حالت ہے
کہ باوجود اس قدر احسانات واکرامات کے انہوں نے اپنے قومی نبیوں کے ساتھ وفانہ کی
اُن کو قتل کیا، اُن کی تکذیب کی، اُن کے عہدوپیمان کو توڑا، نعماتِ خدا کی بےقدری
کی، حتی کہ عذابِ خدا چکھنے کے بعد بھی اپنے کرتوتوں سے باز نہ آئے آپ ایسی قوم سے
ایمان کی ہرگز توقع نہ رکھیں نہ اس کا عہد وپیمان قابل وثوق ہے اورنہ اُن کا اقرار
و ایمان قابل تسلی ہے کیونکہ عہدوپیمان کرکے اس کو توڑنے سے وہ گزیز نہیں کرتے
اوراقرار وایمان کے بعد اس سے پلٹ جانے کو وہ عار نہیں سمجھتے جس طرح کہ ابتداسے
اُن کا رویّہ یہی رہاہے پس جب وہ گزشتہ انبیاسے کسی بات پر راضی نہیں رہے تو آپ
پر کیوں کرراضی ہوں گے ؟ ہاں البتہ ایک بات پر وہ راضی ہوں گے اوروہ یہ کہ آپ
(معاذاللہ) خوشنودی خدا کو ترک کرکے ان کی ملت کی پیروی کریں گے تو نصرانی راضی
ہوں گے، بہر کیف یہ صورت تو پھر بھی نہ ہوگی کہ ہر دوفریقین اکٹھے راضی ہوجائیں
کیونکہ وہ اپنے مقام پر ایک دوسرے کو کافروباطل پر ست کہتے ہیں-
کہ یہ آیت حضرت جعفر طیار اوراُن کے چالیس ساتھیوں کے حق میں
اُتری ہے جو حبشہ سے واپس آئے تھے-
لاکر ثابت قدم رہے مثلاًعبداللہ بن سلام اورابن صوریا وغیرہ یہ آیت اُن کے حق میں
اُتری ہے-
رسالتمآبﷺ کے صحابہ جو
ثابتُ الایمان ہیں اُن کے حق میں اُتری ہے-
جنت آجائے تو ٹھہر کر جنت کی دعامانگے اورذکر نار ہو تو اس سے پناہ مانگے، جیسا کہ
علامہ طبرسیv نے حضرت امام جعفر صادق سے روایت کی
ہے اورتفسیر برہان میں بھی آپ سے منقول ہے کہ تلاوت کا مقصد یہ ہے کہ آیات کو ترتیل
سے پڑھیں، اُن کو سمجھیں، اُن کے احکام پر عمل کریں، وعدہ کی اُمیدرکھیں، وعید سے
خوف کریں، اس کے قصوں سے عبرت حاصل کریں، اس کے اَوامر پر کا ربند ہوجائیں اوراس
کے نواہی سے بچیں، اس کا مطلب یہ نہیں کہ آیات کو یادکرلیں اورحروف کو رَٹ لیں
اوراس کی سورتوں کو پڑھیں اوراس کے بعض حصوں کو دُہراتے رہیں اور لوگوں نے تو اس
کے حروف یاد کرلئے اوراس کی حدیں بھلادیں-
کہ اس کی آیات میں تدبّر کیا جائے اوراس کے احکام پر عمل کیا جائے، چنانچہ فرماتا
ہے کِتَابٌ
اَنْزَلْنَاہُ اِلَیْکَ مُبَارَکٌ
لِیَدَّبَّرُوْا اٰیَاتِہِ [3]
بحار الانوار ج ۵۲ ص ۱۹۸،الانوار ابو الحسن بکری ص ۵،تفسير الآلوسی ج ۳۰ ص ۱۹،
ينابيع المودة
ج ۱ص ۲۴،
تفسير الميزان
ج ۱۰ص ۱۵۲،شرح اصول كافی ج ۹ ص ۶۱،کفاية الاثر ص ۷۰، عوالم العلوم ص ۲۶،مستدرک سفینۃ البحار ج ۳ ص ۳۳۴
