anwarulnajaf.com

نماز نذر و عہد

 نماز نذر و عہد

اگرکسی جائز کام کے لئے نذر مانے یا اللہ سےعہد و اقرار کرے
تو مراد ملنے پر اس نماز کو نماز صبح کی طرف دو رکعت ادا کرنا  واجب ہوتا ہے بشرطیکہ صیغۂ نذر اور صیغۂ عہد
پڑھا ہو، صیغۂ نذر اس طرح پڑھے مثلاً کہے:
اِنْ شَفَانِیَ
اللّٰہُ فَلِلّٰہُ عَلَیَّ اَنْ اُصَلِّیْ رَکْعَتَیٌنِ  
(اگر
اللہ نے مجھے شفا دی تو اللہ کے لئے ہے مجھ پر کہ دو رکعت نماز پڑھوں) تو یہ نذر
منعقد ہوگی۔ شفا پانے کے بعد دو رکعت نماز پڑھنی واجب ہوگی۔

صیغۂ عہد یوں کہے ، مثلاً عَاھَدْتُ
اللّٰہِ مَتٰی اَعْطاَ نِیَ اللّٰہُ مَالًا فَعَلِّیَ اَنْ اُصَلِّیَ رَکْعَتَیْنِ
(میں خدا سے اقرار کرتا ہوں کہ جب اللہ مجھے مال دے گا
تومیں دو رکعت نماز پڑھوں گا)پس مال ملنے پر دو رکعتیں نماز عہد کی واجب ہوں گی۔
بہر حال نذر اور عہد کے لئے یہ ضروری شرط ہے کہ صیغہ کا تلفظ کیا جائے۔ نذر رکھنے
والا شخص بالغ عاقل اور خود مختار ہو اور جس چیز کے لئے منت مانی جائے یا اقرار
کیا جائے وہ شرع میں جائز ہو اور وہ ہو بھی سکتی ہو اگر عربی زبان کے علاوہ کسی
اور زبان (اردو فارسی وغیرہ) میں کہہ دے تو منعقد ہوجائے گی۔


by

Tags:

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *