anwarulnajaf.com

آیاتِ بیّنات

 آیاتِ بیّنات

مقام ابراہیم : بعض روایات
میں ہے کہ اس سے مراد وہ پتھر ہے جس پر حضرت اسمٰعیل کی زوجہ نے آپ کو نہلایا تھا،
جب کہ آپ شام سے بغرض ملاقات تشریف لائے تھے، پس اس پتھر میں آپ کے قدموں کے نشان
باقہ رہ گیا اور قصہ کی تفصیل ہماری تفسیر کی دوسری جلد صفحہ ۲۰۷ تا ۲۰۹ میں مذکور
ہوچکی ہے اور بعض روایات میں ہے کہ اس سے مراد وہ پتھر ہے جس پر کھڑے ہوکر آپ نے
بیت اللہ کی تعمیر فرمائی تھی۔ صافی میں بروایت کافی امام محمد باقر علیہ السلام
سے مروی ہے کہ مقامِ ابراہیم پہلے دیوارِ کعبہ کے ساتھ متصل تھا، پھر زمانِ جاہلیت
میں اس کو اپنی جگہ سے منتقل کرکے دوسری جگہ رکھا گیا، جہاں وہ اب موجود ہے اور جب
جناب رسالت مآبﷺ نے مکہ فتح کیا تو اس کو پھر اپنے اصلی مقام پر نقل کردیا اور
پہلی خلافت اور دوسری خلافت کے کچھ زمانہ تک وہاں رہا، لیکن پھر دوسری خلافت کے
آخری دور میں اسے پھر وہاں سے اٹھوا کر پہلی جگہ پر منتقل کردیا گیا۔ آیات بیّنات
میں سے اس کا خصوصیات کے ساتھ ذکر کرنا اس لیے ہے کہ وہ تاحال ایک زندہ معجزہ ہے،
ورنہ ان واضح نشانیوں میں اور مقامات بھی ہیں جیسا کہ حضرت امام جعفر صادق علیہ
السلام سے بروایت کافی و عیاشی مذکور ہے۔


Posted

in

by

Tags:

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *