استحاضہ کا بیان
یہ خون عورتوں کو رحم سے آتا ہے اور یہ بیماری
کی وجہ سے ہوتا ہے اس کےلئے کم وبیش کی کوئی حد مقرر نہیں ہے یعنی تین دن سےکم
ہوتا ہے اور دس دن سے زیادہ بھی ہوا کرتا ہے۔
اس کی تین قسمیں ہیں ۔ قلیلہ ، متوسطہ
اور کثیرہ
مسئلہ:۔ استحاضہ والی عورت کو چاہئے کہ باقی کپڑوں کو نجاست سے
بچانے کیلئے مقام شرم پر کپاس رکھ کر اوپر پٹی باندہ دے۔
اگر خون کپاس کے اندحصہ کو لگا ہو۔ او
ر ساری روئی کو اس نے ترنہ کیا ہو تو وہ استحاضہ قلیلہ ہوگا۔ اس کا حکم یہ ہے کہ
ہر نماز کےلئے عورت کو روئی بھی بدلنے چاہیئے اور وضو بھی کر نا چاہئے (جسمانی
طہارت کے علاوہ)
اگر خون ساری روئی کو تر کردے لیکن
پٹی تک رُک جائے اور جاری نہ ہو تو وہ اسحاضہ متوسطہ ہوگا اور اس کا حکم یہ ہے کہ
ازالہ نجاست کے بعد ہر نماز کےلئے روئی اور پٹی کو تبدیل کرنا پڑیگا اور ہر نماز
کے لئے وضو بھی کرنا ہوگا اور صبح کی نماز کے لئے ان کے علاہ غسل استحاضہ بھی کرنا
ہوگا اگر خون روئی کو ترکرکے جاری ہوجائے
تو وہ استحاضہ کثیرہ ہوگا اور اس کا حکم
یہ ہے کہ ازالہ نجاست کے بعد ہر نماز کیلئے روئی اور پٹی کی تبدیلی اور وضو کے
علاوہ صبح کی نماز کیلئے غسل ظہر و عصر کی نماز کے لئے ایک غسل ظہر سے پہلے اور
دونوں نمازوں کو اکٹھا کرکے پڑھے اور مغرب وعشاء کی نماز کے لئے ایک غسل نماز مغرب
سے پہلے جبکہ دونوں نمازوں کو اکٹھا کرکے پڑھے ۔
مسئلہ:۔ غسل استحاضہ کا طریقہ وہی ہے جو غسل حیض کا ہے۔
Leave a Reply