نماز طواف:
طواف کے بعد دو رکعت نماز طواف پڑھنی چاہئے ۔ طواف ِ ۔۔کے لئے نماز طواف واجب اور
طواف مستحب کےلئے ۔۔طواف کے فواً بعد مقام ابراہیم پر جاکر دو رکعت
نماز طواف ادا کرے مقام ابراہیم سے
وہ مقام ہے جہاں حضر ت ابراہیم کے پاؤں مباک کا نشان باقی ہے اگر لوگوں کی بھیڑ کی
، سے وہاں جگہ نہ مل سکے تو اس کے قریب دائیں یا بائیں جانب دو رکعت نماز طواف ادا
کرے۔
مسئلہ:۔ دورکعت نما ز طواف میں مستحب ہے کہ پہلی رکعت میں حمد کے بعد سورہ قل ہو اللہ احداور دوسری
رکعت ہیں بعد قل یا ایہا الکافرون پڑھے اور اس کے بعد اپنے گناہوں سے توبہ کر کے
اللہ سے معافی طلب کرے۔
سعی صفا اور مروہ کے درمیاں : دو رکعت نماز طواف سے فارغ ہوکر صفا کے درمیاں سعی کرنا واجب ہے
سعی کو ۔۔ سے شروع کرے اور کوہ مروہ پر ختم کرے ۔ شروع کرتے وقت کوہ صاف کے کچھ
حصہ کے ہوا اور ختم کرتے وقت کوہ مروہ کے کچھ حصہ کے اوپر ثڑح جائے۔ سعی کے بھی
اتھ چکر ۔۔ہیں لیکن صفا سے مروہ تک جانا ایک چکر اور واپس صفا تک آنا دوسرا چکر
شمار ہوتا ہے ساتواں چکر کوہ مروہ پر ہی ختم ہوگا۔ سعی کو شروع کرنے سے پہلے نیت
کر لینا ضروری لیکن طہارت بدن و لبا س اس میں شرط نہیں ہے سعی کرنا حج کا رکن ہے۔
تفصیر: صفا اور مروہ کے درمیاں سعی کرلینے کے بعد تقصیر کی
نیت کر کے سر کے بال تھوڑے سے کٹوالے اور اسی کا نام تقصیر ہے لیکن سر منڈوانا اس
مقام پر حرام ہے اب احرام میں جتنی چیزیں اس پر حرام تھیں ۔ وہ سب حلال ہوگئیں ۔
یہ تھا عمرہ جس کے اعمال کی بجا آوری ہوگئی۔ اس کے بعد مکہ میں ٹھیر ا رہے پھر جب
حج جائے اور وہاں کے اعمال بجا لائے۔
مسئلہ:۔ تفصیر کے وقت چونکہ خود احرام میں ہے لہٰذا اپنے
بال خود نہ کاٹے بلکہ کسی ایسے شخص سے کٹوائے جو احرام یں نہ ہو جب اس کے کچھ بال
کاٹ دیئے جائیں پھر یہ دوسروں ۔۔کر سکتا ہے اور تقصیر بال کٹوانے سے بھی ہوتی ہے
خواہ سر کے ہوں یا داڑھی کے اور ناخن اتر وانے سے بھی ہوتی ہے خواہ ہاتھ کے ہوں یا
پاؤں کے۔
حج کے واجب افعال چودہ ہیں۔
Leave a Reply