anwarulnajaf.com

یتیموں کی اصلاح کا حکم — یتیموں کے مال کی حفاظت کا حکم

فِی
الدُّنْیَا وَالْاٰخِرَةِ وَیَسْئَلُوْنَکَ
عَنِ الْیَتٰمٰی قُلْ اِصْلاح لَّھُمْ
خَیْر وَ اِنْ تُخَالِطُوْھُمْ
فَاِخْوَانُکُمْ وَاللّٰہُ یَعْلَمُ
الْمُفْسِدَ مِنَ الْمُصْلِحِ وَلَوْشَائَ
اللّٰہُ لَاَعْنَتَکُمْ اِنَّ اللّٰہَ
عَزِیْز حَکِیْم
220)
ترجمہ:
دنیا
وآخرت کے متعلق اورآپ سے دریافت کرتے ہیں
یتیم بچوں کے متعلق فرمادیجئے کہ اصلاح
ان کے مال کی اچھی ہے اوراگر تم ان کو اپنے
ساتھ ملالو تو تمہارے بھائی ہیں اورخداجانتاہے
فساد کرنے والے کو اصلاح کرنیوالے سے
اوراگر چاہتا خدا تو تم کو مشقت میں ڈال
دیتا تحقیق اللہ غالب ودانا ہے
o

یتیموں
کے مال کی حفاظت کا بیان
وَ
یَسْئَلُوْنَکَ عَنِ الْیَتٰمٰی
:
یتیم
کے مال کی حفاظت واجب ہے اوراسکے مال
میںخیانت کرنا گناہِ کبیرہ ہے
اس
آیت کی تفسیر میں امام جعفر صادقؑ سے مروی
ہے کہ اگر ایک شخص یتیموں کے اموال کی دیکھ
بھال کے لئے اس قدر مصروف ہوکہ اس کو اپنے
لئے کسب معاش کی فراغت ہی نہ مل سکتی ہو
تو اس کےلئے جائز ہے کہ یتیموں کے مال سے
ضرورت کے مطابق کھا پی لے لیکن اگر یتیموںکا
مال تھوڑا ہو تو پھر اس کو ان کے مال سے
کچھ بھی نہیں کھانا چاہیے۔
ابوصباح
کنانی راوی حدیث نے عرض کیا کہ حضور
خدافرماتاہے
:
وَاِنْ
تُخَالِطُوْھُمْ فَاِخْوَانُکُم یعنی
اگر تم یتیموں کا مال اپنے مال سے ملادو
تو وہ تمہارے بھائی ہیں یعنی اس میں حرج
نہیں، تو آپ نے فرمایا اس کا مطلب یہ ہے
کہ کھانے پینے کےلئے نسبت لگا کر ان کا
اوراپناسامان خورد ونوش ملالو اورپھر
کھانا اکٹھا تیار کرکے اکٹھا کھا پی لو،
راوی نے عر ض کیا حضور اگر یتیموں میں بعض
چھوٹے اوربعض بڑے ہوں؟ بعض کے لباس کا خرچ
زیادہ اوربعض کاکم؟ اسی طرح بعض کم کھاتے
ہوں اوربعض زیادہ تو پھر کس طرح نسبت قائم
ہوگی؟ آپ نے فرمایاکہ لباس کےلئے سب کاحساب
جداجداہونا چاہیے لیکن کھانے میں سب
کویکساںنسبت سے رکھا جائے کیونکہ ممکن
ہے کہ چھوٹا بڑے سے زیادہ کھا جائے
(یااس
کے برابر کھائے
)
عبداللہ
بن یحییٰ کاہلی سے مروی ہے کہ حضرت امام
جعفر صادقؑ سے درےافت کےاگےاکہ بعض اوقات
ہم اپنے ایک بھائی کے ملنے کے لئے جاتے
ہیں اور ان کے پاس یتیم ہوا کرتے ہیں ہم
ان کے بستروں پربیٹھتے ہیں اوربعض اوقات
وہ ہم کو کھانا بھی کھلاتے ہیں حالانکہ
اس میں یتیموں کا مال ملا ہوا ہوتاہے تو
ایسی صورت میں ہمیں کیاکرنا چاہیے؟ آپ ؑ
نے فرمایا کہ اگر تمہارا جانا ان کی مصلحت
ومنفعت کےلئے ہے تو اس میں کوئی حرج نہیں
لیکن اگر تمہارے جانے میں ان کی کوئی مصلحت
وفائدہ نہیں تو پھر تمہارے لئے ایساکرنا
جائز نہیں اوراس چیز کو ہر انسان خود سمجھ
سکتا ہے۔
وَ
لَوْشَآئَ اللّٰہُ لَاَعْنَتَکُمْ
:
اس
فقرہ سے مجبرہ کا قول باطل ہوتا ہے جو کہتے
ہیں کہ انسان اپنے افعال میں مجبور ہے
کیونکہ اس صورت میں کسی فعل بدکے مرتکب
کو نیکی کا حکم دینا مشقت میں ڈالنا تو
بجائے خود ایک ناشدنی امر کی تکلیف دینا
ہے اورخداجب بندے کو مشقت میں ڈالنا پسند
نہیں فرماتا تو اس کو امر محال کی تکلیف
کیسے دے سکتا ہے؟

x

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *