نفاس کا بیان
یہ عورت کا وہ خون
ہے جو بچے کی ولادت کے ساتھ یا س کے بعد آیا کرتا ہے۔
اس کے لئے کم از کم
کی کوئی حد مقرر نہیں ہے اور زیادہ سے زیادہ حیض کی عادت کے برابر ہوا کرتا ہے اور
اگر عورت صاحب عادت نہ ہو تو خون کی آخری
حد دس دن تک ہے۔
مسئلہ:۔ چالیس دن تک نفاس سجھنا اور عورت کا غسل نہ کرنا ابو حنیفہ
کا قول ہے نہ کہ حضرت امام جعفر صادق علیہ السّلا م کا اس لئے شیعہ عورت پر واجب
ہے کہ جب اس کا خون نفاس ختم ہو تو غسل نفاس کر کے اعمال واجبہ کی بجا آوری میں
کوتاہی نہ کرے۔
مسئلہ:۔ غسل نفاس کا طریقہ مثل غسل حیض کے ہے۔
مسئلہ:۔ غسل جنابت کے علاوہ جس قدر غسل ہیں وہ نماز کے لئے کافی
نہیں ہیں بلکہ نماز کے لئے غسل سے پہلے یا بعد وضو کرنا ضروری ہوا کرتا ہے اور
پہلے کرلینا بہتر ہے۔
مسئلہ:۔ نفاس والی عورت پر بھی وہی چیزیں حرام ہوتی ہیں جو حیض
والی عورت پر حرام ہیں۔
مسئلہ:۔ اگر کسی عورت کو بچے کی پیدائش کے ساتھ یا بعد میں خون نہ
آئے تو اس عورت کے لئے نفاس نہ ہوگا اور اُس پر غسل نفاس واجب ہوگا۔
Leave a Reply