حلال جو حرام
سے مل جائے:
اس کا خمس ادا کرنا واجب ہے یعنی اگر
ایک شخص کے مال میں کسی دوسرے کا مال مل گیا ہواور مالک بھی معلوم نہ ہو۔ نیز حرام
کے متعلق یہ بھی معلوم نہ ہو کہ کس قدر ہے تو اس صورت میں اس سے خمس کی ادائیگی اس
مال کو حلال کر دے گی۔
اگر غیر شخص جس کا
مال اس کے مال میں مِل گیا ہے معلوم ہو جائے یا اس کے ورثہ کا سراغ مل جائے تو پس
اگر ان کے مال کی مقدار معلوم ہے تو وہ واپس کرے اور اگر معلوم نہ ہو تو ان سے
مصالحت کرے اس صورت میں خمس کا ادا کرنا کافی نہ ہوگا۔
جس شخص کا مال اس کے
مال میں مل چکا ہے اگر نہ وہ معلوم ہو اور نہ اس کے ورثہ کا پتہ ہو تو دریں صورت
اگر مال کی مقدار معلوم ہو تو اسی قدر اصل مالک کی طرف سے تصدق کر دے لیکن بعد میں
اگر مالک مل گیا اور اس تصدق پر راضی ہوا تو ٹھیک ورنہ اس کی راضی کرنا ضروری ہوگا
اور اگر مال کی مقدار معلوم نہ ہو یا اس قدر معلوم ہو کہ وہ پانچویں حصہ سے کم ہو
گی یا پانچواں حصہ ہو گی تو ان صورتوں میں خمس کا ادا کرنا کافی ہے لیکن اگر جانتا
ہو کہ پانچویں حصہ سے بہر صورت مال مخلوط کی مقدار زیادہ تھی اگرچہ صحیح نسبت
معلوم نہیں تو اس صورت میں پانچواں حصہ خمس نکالنے اور باقی زائد مقدار کااصل مالک
کی طرف سے صدقہ کر دے۔
Leave a Reply