ق: سورہء ق کے فضائل (ج۳۱ص ۰۱۱)
قاف: کوہ قاف (ص ۱۱۱)
قاب قوسین: (ج۳۱ص۹۴۱)
قادیانی: قادیانیوں کی رو مسئلہ حیات مسیح
(ج۳ س۲۴۲ تا ۶۴۲)
قبض روح: قبض روح حضرت نوح ؑ (ج۶ص ۴۴)
٭ قابض الارواح کی آمد (ج۱۱ص ۵۴۱، ۴۰۲-ج۴۱ص
۷۶۱)
قائم آل محمد ؑ: قائم آل محمد (ج۱ص ۹۹)
٭ دعائے ظہور (ج۱ ص ۴۰۱)
٭ یُوْمِنُوْنَ بِالْغَیْب میں غیب کی تاویل
قائم آل محمد سے کی گئی ہے (ج۲ص ۲۵)
٭ قائم آل محمد زکوٰة ادا نہ کرنے والوں کو
سزائے موت دیں گے (ج۲ ص ۲۰۱-ج۵ ص ۹۱۲)
٭ قاتلان امام حسین ؑ سے بدلہ لیں گے (ج۲ص
۸۳۱، ۹۶۱ – ج ۴ص ۱۹ – ج۵ ص ۲۷۲)
٭ ظہور قائم آل محمد (ج۲ ص۲۹۱ – ج۹ ص ۱۱،۹۵۲)
٭ زمانہ غیبت میں امام کا انتظام کرنے والے
خوف و حزن سے محفوط ہونگے (ج۵ص۹۶۲)
٭ شیطان کو قائم آل محمد کی آمد تک مہلت دی
گئی ہے (ج۶ص۴۱-ج۸ص۱۸۱)
٭ حسرت برائے ظہور قائم ؑ (ج۸ص۳۸)
٭ عصائے موسیٰؑ حضرت قائم آل محمد کے پاس
محفوظ ہے (ج۱ص۹۶،۷۰۱)
٭ اصحاب کہف حضرت یوشعؑ بن نون مومن آ ل فرعون
جناب سلمان ؑ ابو دجانہ انصار ی مالک اشتر حضرت قائم آل محمد کے ہمراہ ہونگے
(ج۶ص۷۰۱-ج۹ص۴۹)
٭ جزیرہ خضراؑ کا واقعہ (ج۶ص۶۹۱)
٭ عیسیٰؑ قائم آل محمد کی اقتداء میں نماز
پڑھیں گے(ج۷ص۳۴-ج۹ص۹۸۱-ج۲۱ ص۶۴۱)
٭ قائم آل محمد کے زندہ موجود ہونے پر حدیث
تقلین متواتر ناقابل تردید دلیل ہے (ج۸ص۲۱۱)
٭ قمیص حضرت یوسف ؑ بھی حضرت قائم آل محمد کے
پاس محفوظ ہے (ج۸ص۹۷)
٭ زمانہ حجت ِ خدا سے خالی نہیں ہوا(ج۸ص۰۱۱)
٭ اَیَّامُ اللّٰہ سے مراد زمانہ قائم ہے
(ج۸ص۶۴۱)
٭ اَتٰی اَمْرُاللّٰہِ سے مراد حضرت قائم آل
محمد ؑ کا زمانہ ہے (ج۸ص۷۹۱-ج۹ص۹۱۲)
٭ حضرت قائم آل محمد کی آمد پر مومن لوگ
دوبارہ زندہ ہو کر آپ ؑ کے ہمراہ ہوں گے (ج۸ص۹۰۱-ج۹ص۸۵۲، ۹۵۲)
٭ مردی ہے جوشخص سورہ بنی اسرائیل کی تلاوت
متواتر کرتا رہے وہ قائم کے ہمراہ اٹھے گا (ج۸ ص۳۵۲)
٭ شب معراج حضور کو قائم آل محمد کی بشارت
سنائی گئی (ج۸ص۴۶۲)
٭ حضرت حضر ؑ حضرت قائم آل محمد کے ہمراہ اور
ان کے مونس ہیں (ج۹ص۲۲۱)
٭ آمد مہدیؑ کی پیشین گوئی
(ج۰۱ص۲۵۱،۱۹۱،۴۶۲-ج۴۱ص۱۸-ج۸ص۴۶۲)
٭ ولادت حضرت قائم آل محمد (ج۱۱ص۲۱،۳۵۱) دعائے
ظہور (ج۲ص۴۹۱)
٭ حضرت قائم آل محمد کے زمانہ میں داودی فیصلے
ہوں گے (ج۲۱ص۸۸)
٭ شب معراج حضرت پیغمبر نے شبیہ قائم آل محمد
کو دیکھا (ج۲۱ص۷۳۲)
قارون: (ج۱۱ص۱۵)
٭ قارون کا ذریعہ آمدنی (ج۱۱ص۳۵)
٭ قارون کا ایک بد کارعورت کو حضرت موسیٰؑ کے
خلاف تیار کرنا (ج۱۱ص۸۱۲)
٭ قارون کا معذّب ہونا اور حضرت یونس ؑ سے اس
کی گفتگو (ج۲۱ص۳۷)
٭ قارون سلطنت فرعونی میں وزیر خزانہ کے عہدہ
پر مامور تھا (ج۲۱ص۷۴۱)
قابیل: قائل و ہابیل(ج۴۔ص۲۰۱-ج۵ص۰۹،۵۹)
٭ قابیل کی اولاد (ج۲ص۳۴-ج۱۱ص۲۷)
٭ جنوں میں پہلا گمراہ کن ابلیس اور انسانوں
میں پہلا گمراہ کن قابیل ہے (ج۲۱ص۶۸۱)
قانون: قرآن مجید ایک ایسا قانون ہے جو
انسان کی زندگی کو باوقار بنانے کے لئے اپنی مثال آپ ہے اس لئے کہ یہ اللہ کا
بنایا ہو اہے (مقدمہ تفسیر ص۲۶)
قبطی: فرعون قطبی قبیلہ سے تھا، بنی اسرائیل
قبطیوں کے مظالم کا شکار تھے (ج۲ص۵۰۱ -ج۱۱ص۷)
٭ قبطیوں پر عذاب (ج۶ص۸۷)
٭ قبطیوں کے زیوارت بنی اسرائیل کے پاس تھے
اور قبطیوں کے غرق ہونے کےلئے بعد سامری نے ان زیورات کو پگھلا کر گو سالہ بنایا
تھا (ج۹ص۷۹۱)
٭ حضرت موسیٰؑ کا قبطی کو قتل کرنا
(ج۹ص۳۲-ج۱۱ص۳۲)
٭ حضرت موسیٰؑ کاقبطی کو قتل کر کے اپنی طرف
ظلم کو نسبت دینا اور اس کی توجیہ (ج۱۱ص۵۲)
قبر: عبادت میں شب بیداری قبر کو روشن کرتی
ہے (ج۴ص۳۳)
٭ قبر کن کا واقعہ (ج۴ص۲۵)
٭ قبرمیں ولائے علی ؑ کا سوال(ج۶ص۴۷۱)
٭ قبر و برزخ کا حال (ج۸ص۵۵۱-ج۹ص۷۰۲،۷۵۲)
٭ بروز جمعہ طلوع آفتاب سے پہلے قبرستان جانا
مستحب ہے اہل قبور کا عذاب ہلکا ہو جاتا ہے اور مومن روحیں خوش ہوتی ہیں اور اس کی
واپسی پر غمزدہ ہوتی ہیں (ج۴۱ص۳۲)
قبائل: قوم سبا کے چھ قبائل تھے (ج۰۱ص۷۳۲)
٭ چھ قبیلوں کی علاقائی تقسیم (ج۱۱ ص۲۴۲)
قبلہ: تحویل قبلہ پر یہودیوں کے اعتراض کا
جواب(ج۲ص۷۵۱)
٭ تحویل قبلہ (ج۲ص۷۸۱،۵۹۱)
٭ صابیوں کا قبلہ سمت جنوب ہے (ج۲ص۲۲۱)
٭ برادران یوسف کا سجدہ تعظیمی تھا یعنی جس
طرح کعبہ کو قبلہ قرار دیکر اللہ کو سجدہ کیا جاتا ہے اسی طرح یوسف کو تعظیمی طور
پر قبلہ قرار دیکر اولاد یعقوب نے اللہ کا شکر کرتے ہوئے اللہ کا ہی سجدہ کیا تھا
(ج۸ص۲۸)
٭ تحقیق قبلہ (ج۹ص۳۵)
قتل : بنی اسرائیل کا فرعون کے ہاتھوں قتل
عام (ج۲ص ۵۰۱)
٭ گوسالہ پرستی کی سزا میں بنی اسرائیل کا ایک
دوسرے کو قتل کرنا (ج۲ص ۹۰۱)
٭ بنی اسرائیل کا انبیا ء کے قتل کے در پے
ہونا (ج۲ص ۶۱۱،۷۱۱-ج۳ص ۷۰۲-ج۴ص ۱۳)
٭ بنی اسرائیل کے ایک مالدار شخص کا قتل اور
گائے کے ذبح کرنے کا حکم (ج۲ص ۳۲۱)
٭ جو شخص کسی کے قتل پر راضی ہو تو وہ بھی
قاتلوں میں شمار ہوگا (ج۴ص ۳۹)
٭ امام حسین ؑ کے قتل پر راضی ہونے والے امام
کے قاتل شمار ہوں گے (ج۴ص ۱۹)
٭ حضرت ہابیل کا قتل (ج۵ص ۱۹)
٭ قتل کا گناہ (ج۵ص ۲۹ تا ۵۹ -ج۱۱ص ۰۱۱،۰۲۱)
٭ عربوں میں لڑکیوں کے قتل کرنے کی بد عادت
(ج۵ص ۶۵۲)
٭ قتل اولاد گناہ کبیرہ ہے (ج۵ص ۶۶۲)
٭ قتل نفس گناہ کبیرہ ہے (ج۶ص ۴۶۱-ج۹ص
۷۲-ج۳۱ص ۸۵۱)
٭ ناقہ صالحؑ کا قتل (ج۶ص ۰۵)
٭ حضرت موسیٰؑ کا بچے کو قتل کرنا (ج۹ ص ۳۱۱)
٭ حضرت موسیٰؑ کا فرعونی قتل سے بچ جانا اللہ
کا احسان تھا (ج۹ ص ۳۸۱)
٭ قتل ناحق سے بچ کر رہنا مومن کی شان ہے
(ج۰۱ص ۶۸۱)
٭ ایک قبطی کا قتل (ج۱۱ص ۳۲ تا ۷۲)
٭ حضرت موسیٰؑ نے عرض کی تھی اے پروردگار میں
نے فرعونیوں کا آدمی قتل کیا ہوا ہے اب بسلسلہ تبلیغ اس کے پاس کیسے جا سکتا ہو
(ج۱ص ۲۹۱) کیا کہنا حضرت علی ؑ کا کہ قریشیوں کے نامی افراد کو قتل کرنے کے باوجود
سورہ براءت کی تبلیغ کےلئے نہ گھبرائے (ج۱۱ص ۷۳)
٭ قتل کے ڈر سے تقیہ جائز ہے (ج۱۱ص ۹۶)
٭ حضرت موسیٰؑ پر حضرت ہارونؑ کے قتل کا
الزام (ج۴۱ص ۸)
قدر و قضا : (ج۲ص ۴۵ تا ۸۵- ج۸ ص ۴۱۱-جج۹ ص
۸۱۱)
قدریہ: (ج۲ص ۵۵- ج۴ص ۲۹)
قذف کی سزا: (کسی عورت پر زنا کی تہمت
لگانا) (ج۰۱ص ۶۱۱،۷۱۱)
قرآن: قرآن میں تفکر و تدبر (ج۳ص ۶۹- ج۴ص ۴۹
– ج۸ ص ۵۶۱ – ج۰۱ ص ۷۸۱ -ج۱۱ ص۵۹)
٭ فضائل قرآن (ج۱ص ۵۲)
٭ حاملین قرآن اوصاف (ج۱ص ۸۲)
٭ قاری کے آداب (ج۱ص ۰۳-ج۸ ص ۲۴۲)
٭ قرآن و عمل تسخیر (ج۸ص ۱۳-ج۲ص ۲۵۱)
٭ تلاوت قرآن (ج۲ص ۶۳)
٭ تلاوت قرآن کا سننا (ج۶ س۲۵۱)
٭ قرآن خوانی و قل خوانی (ج۶ ۴۴)
٭ ترتیل قرآن (۶ص ۷۴)
٭ قرآن کی سات قرائتیں (ج۲ص ۵۵)
٭ قرآن کا اعجاز (ج۸ص۱۳۱،۷۵-ج۹ص ۰۷-ج۵ص۱۸۱-ج۱۱
ص ۵۹)
٭ قرآن و اہل بیت (ج۱۱
ص۹۶،۵۴۱،۱۱،۳۶۲-ج۲ص۱۳-ج۸ص ۵۳۲)
٭ قرآن کی تفسیر و تاویل (۴۷-ج۲۱ص ۶۸۱)
٭ قرآن عترت (ص ۵۸-ج۴۱ص۰۲۱-ج۶ص ۶۷-ج۹ص ۴۹۱)
٭ قرآن و ختم نبوت (۵۹)
٭ قرآن و وجود مہدی (ص۹۹)
٭ قرآن کا ظاہر و باطن (ص۴۰۱-ج۳ص ۰۰۲،۲۷۲)
٭ قرآن سے شیعہ کا تمسک (۲۱۱)
٭ تاویل قرآن وعبادات (ص۹۱۱)
٭ جامع قرآن (ج۳۲۱-ج۸ ص ۹۸۱- ج۵ص ۷۲)
٭ جمع قرآن میں اختلاف (ص ۰۳۱)
٭ نزول قرآن (ص۵۳۱-ج۲ص ۰۳۲-ج۲۱ص ۹۵۲) احراق
قرآن (۱۴۱)
٭ صحابہ میں علم قرآن (۰۵۱)
٭ قرآن و مسئلہ تقلید (۷۰۲)
٭ قرآن شفا ہے (ج۴ص ۱۱۱-ج۹ص ۵۶-ج۷ص ۸۶۱)
٭ قرآن تا قیامت زندہ ہے (ج۲س ۴۶۱-ج۷ص ۷-ج۸ص
۲۱۱،۰۳۱)
٭ قرآن و سبع مثانی (ج۲ص ۸-ج۸ص ۰۹۱)
٭ قرآن میںحروف مقطعات (ج۲ص ۸۴)
٭ قرآن میں ربط (ج۲ص ۳۷۱-ج۵ص ۵۱۱)
٭ قرآن آخری کتاب (ج۶س ۸۸)
٭ قرآن میں محکمات و متشابہات (ج۳ص ۱۹۱)
٭ قرآنی سجدے (ج۶ ص ۴۵۱)
٭ تحریف قرآن کی نفی (ج۸ ص ۹۶۱-ج۱۱ص ۵۵۱)
٭ قرآن (ج۸ ص ۹۳۲-ج۹ص ۵۳-ج۰۱ص ۵۶۱،۳۲۲،۱۶۲،
۳۶۲-ج۱۱ص ۵۱، ۴۴۱- ج۲۱ ص۳۲۲، ۹۶۱، ۸۳۲- ج۴۱ ص ۵۰۱، ۵۱۱، ۶۲۱)
قربانی : یہودیوں کے قتل کا معمہ حل کرنے
کےلئے گائے کی قربانی کا حکم (ج۲ص ۳۲۱)
٭ منیٰ میں قربانی کا حکم (ج۳ص ۱۲، ۴۲)
٭ یہودیوں میں کسی قربانی کی مقبولیت کی
علامت یہ تھی کہ آسمان سے آگ اترتی تھی اور اس کو جلا دیتی تھی (ج۴ص ۲۹)
٭ حج قران والے کی قربانی (ج۵ ص ۵۱)
٭ ہابیل و قابیل کی قربانی کا واقعہ (ج۵ ص ۱۹)
٭ قربانی کے دن کا تعین (ج۷ ص ۶۱)
٭ قربانی کا محل و مقام (ج۰۱ ص ۲۳)
٭ قربانی کا حکم (ج۰۱ص ۳۳)
٭ حضرت ابراہیم ؑ کو فرزند کی قربانی کرنے کا
حکم (ج۲۱ص ۷۵)
قرض: (ج۳ص ۷۷۱-ج۴ص ۷۷)
٭ قرضہ ادا نہ کر کے مرنے والے کا عذاب (ج۸ ص
۳۶۲)
٭ سورہ کہف لکھ کر گھر میںرکھنے والا قرضہ سے
محفوظ رہے گا (ج۹ ص ۹۷)
٭ امام زین العابدین ؑ نے فرمایا کہ وہ گنا ہ
جو انسان کے وقار کو ختم کرتے ہیں ان میں سے ایک یہ ہے کہ قرضہ لے کر ادا کرنے کی
نیت نہ کرنا (ج۱۱ص ۰۲۱)
٭ قرض کے شرائط اور روایات میں ہے کہ صدقہ کا
ثواب دس گنا اور قرض کا ثواب ۸۱ گنا ہوتا ہے (ج۳۱ص ۶۱۲)
٭ قرضہ کی ادائیگی کا عمل (ج۳۱ص ۸۵۴۱۱-ج۲ص
۵۱۲)
قحط : حضرت ہود ؑ کی امت کو اللہ نے حضرت
ہودؑ کی نافرمانی کی سزا میں قحط کی سزا کا عذاب دیا یہ لوگ قوم عادکہلاتے تھے آخر
کار ان پر بارش کا عذاب آیا جس میں ان پر آسمان سے پتھر برسائے گئے اور وہ لوگ
تباہ ہو گئے (ج۶ص ۶۴)
٭ قوم مضر پر نبی اکرم کی بد دعا سے قحط کا
عذاب آیا پھر آپ کے معاف کرنے سے وہ عذاب ٹل گیا جس طرح حضرت موسیٰؑ کی بد دعا سے
فرعونیوں پر قحط کا عذاب نازل ہوا تھا (ج۶ ص ۳۸)
٭ مروی ہے کہ مکہ والوں پر سات برس تک قحط کا
عذاب رہا حتیٰ کہ چمڑے اور خون آلود اون بھی کھا گئے اور مروی ہے کہ ایک امت نے
نعمت پرودگار کا کفران کیا اور روٹی کو استنجا کے طور پر استعمال کرنے لگ گئے پس
اللہ نے ان کو قحط کی سزا دی پس وہ گندگی میں لتھڑے ہوئے ٹکڑے کھانے پر مجبور
ہوگئے (ج۸ ص ۸۴۲، ۶۴۲-ج۰۱ص ۸۷،۱۸- ج۱۱ص ۲۵۱)
٭ ایک دفعہ حضرت سلیمان ؑ کے زمانہ میں قحط
پڑا تو آپ اپنی رعایا کو ہمراہ لے کر دعا کےلئے نکلے دیکھا کہ ایک چیونٹی مناجات
کر رہی تھی پس آپ نے اپنی قوم سے فرمایا اب واپس چلے جاﺅ کیونکہ یہ عاجز مخلوق محو
دعا ہے اور خدا اس کمزور مخلوق کی دعا کو مستجاب فر ما کر باران رحمت نازل فرمائے
گا (ج۰۱ص ۵۳۲)
٭ حضرت صالحؑ کی قوم پر بھی قحط کا عذاب نازل
کیا گیا (ج۰۱ص ۳۵۲)
٭ جنگ خندق کے زمانہ میں سخت قحط تھا (ج۱۱ص
۹۷۱)
قرابت رسول: ابن عباس سے مروی ہے کہ قیامت
کے روز ہر نسب و قرابت منقطع ہوگی سوائے قرابت پیغمبر کے (ج۴ص ۸۰۱)
٭ حضور نے فرمایا بروز محشر میری قرابت فائدہ
دے گی (ج۵ص ۴۷۱-ج۰۱ص ۹۸)
٭ ذی القربیٰ سے مراد آل محمد ہیں (ج۸ ص ۸۳۲)
قرعہ: حضرت مریم ؑ کی تربیت کےلئے قرعہ
اندازی کی گئی اور حضرت ذکریاؑ کے نام کا قرعہ نکلا پس آپ نے تربیت کے فرائض انجام
دئیے اور حضرت ذکریاؑ کی زوجہ حضرت مریم ؑ کی خالہ تھیں (ج۳ص ۱۲۲)
٭ حضرت یوسف ؑ نے ایک بھائی کو قرعہ اندازی کے
ذریعہ اپنے پاس رکھا تھا (ج۸ص ۷۵)
٭ حضرت یونس ؑ کے نام کا قرعہ کے ذریعہ نکالا
گیا تھا پس آپ دریا میں کود کر مچھلی کے شکم میں چلے گئے (ج۲۱ص۲۷) یہی وجہ ہے کہ
مشتبہ امور میں قرعہ اندازی کے ذریعہ سے ایک کی تعین شرعی حیثیت سے درست ہے چنانچہ
وارد ہے: اَلْقُرْعَةُ لِکُلِّ اَمْرٍ مُشْکِلٍ
قرن: اَسی (۰۸) برس کے عرصہ کو قرن کہا جاتا
ہے (ج۵ص ۲۹۱) ۰۲۱، ۰۰۱، ۰۸، ۰۴ کے اقوال بھی ہیں (ج۹ ص۹۱)
٭ قرن سے مجازاً اہل قرن مرادلئے جاتے ہیں
(ج۱۱ص ۱۴)
قریش: قریش کو شیطان کا بہکانا (ج۶ص
۱۴۲-ج۱۱ص ۴۲۱ -ج۴۱ص۲۱۱-ج۴۱ص۶۶۲)
قسم: قسم کھانے سے منع (ج۳ص ۷۵)
٭ عورت سے ہمبستری نہ کرنے کی قسم کو ایلا ء
کہتے ہیں (ج۳ص ۹۵)
٭ قسم کا کفارہ (جص ۲۶۱)
٭ قسم کے احکام (ج۵ص ۹۷۱)
قسیم: قَسِیْمُ الْجَنَّةِ وَالنَّارِ آل
محمد قسیم جنت و نار ہوں گے (ج۶ص ۴۳)
٭ حضرت علی ؑ قَسِیْمُ الْجَنَّةِوَالنَّار
ہو نگے(ج۸ ص ۸۶۲- ج۲ص ۳۴۱-ج۱۱ص۴۱۲ -ج۳۱ص۷۱۱- ج۱ص۹۳۲)
قصر: (ج۲ص ۸۲۲)
٭ نماز قصر کا بیان (ج۴ص ۹۲۲ تا ۹۳۲)
قصص: سورہ قصص(ج۱۱ص۶)
قصاص: (ج۲ص ۱۱۲ تا ۳۱۲ -ج۵ص ۵۹،۹۰۱-ج۹ص ۸۶)
٭ قیامت میں قصاص (ج۴۱ص ۷۶۱)
قضا : باپ کی قضا نماز و روزہ بڑے بیٹے پر
واجب ہوتی ہیں (ج۲ص ۵۱۲)
٭ قضا روزوں کے احکام (ج۲ص ۱۳۲)
٭ حضرت سلیمانؑ کو قضا کا علم دیا گیا (ج۰۱ص
۷۲۲)
٭ غلط فیصلہ کرنے ولاے قاضی مجسٹریٹ بروز
محشر اندھے محشور ہوںگے (ج۴۱ص ۴۶۱)
٭ قاضیوں کی ناانصافی باران رحمت کو روکتی ہے
(ج۱۱ص ۱۲۱،۸۶۱)
قطع رحمی: قطع رحمی و صلہ رحمی (ج۲ص ۵۷،
۳۳۱، ۰۲۲-ج۴ ص ۸۰۱)
٭ صلہ رحمی مومن کا کام ہے (ج۶ص ۱۷۱)
٭ آل محمد سے صلہ رحمی ضروری ہے (ج۸ ص ۶۲۱،
۹۲۱،۰۳۱، ۳۳۱، ۷۳۲ – ج۹۳۳۱)
٭ امام زین العابدین ؑ نے فرمایا وہ گناہ جو
ندامت کا باعث بنتے ہیں ان میں سے ایک صلہ رحمی کو ترک کرنا ہے اور فرمایا وہ گناہ
جو عمر اور صلہ رحمی گھٹاتا ہے قطع رحمی ہے (ج۱۱ص ۰۶۲)(ج۱۱ص ۰۶۲)
٭ قطع رحمی کرنے والے سے دوستی نہ کرو کیونکہ
قرآن مجید میں اس پر تین مقامات پر لعنت بھیجی گئی ہے (ج۲۱ص ۰۵)
٭ قطع رحمی گناہان کبیرہ میں سے ہے (ج۳۱ص
۸۵۱)
٭ قطع رحمی کرنے والا جنت کی بو نہ سونگھے گا
(ج۳۱ص ۲۰۲)
قلم: سورہ قلم (ج۴۱ص ۲۸، ۳۸)
قمر: سورہ قمر کے خواص (ج۳۱ص ۴۶۱)
٭ شقُّ القمر (ج۳۱ص ۵۶۱)
٭ چاند کا دورہ ایک ماہ میں پورا ہوتا ہے
(ج۳۱ص ۸۷۱)
٭ سورہ الشمس میں شمس سے باطنی طور پر حضرت
پیغمبر اور قمر سے باطنی طور پر حضرت علی ؑ مراد ہیں (ج۴۱ص ۶۲۲)
قنوت : نماز وتر میں قنوت (ج۹ ص ۲۵)
قیامت: (ج۲ص ۳۴۱، ۷۰۲-ج۵ص ۹۷۱)
٭ قیامت کا منظر (ج۵ص ۹۹۱)
٭ قیامت کے روز سوال ہوگا کہ تو فلاں مسئلہ
کو جانتا تھا یا نہیں؟ اگر کہے کہ جانتا تھا تو فرمائے گا پھر تو نے عمل میں
کوتاہی کیوں کی؟ اور اگر کہے گا نہیں تو سرزنش ہو گی کہ پھر تو نے سیکھا کیوں
نہیں؟ (ج۵ص ۶۶۲)
٭ علم قیامت (ج۶ص ۴۴۱)
٭ مواقف قیامت (ج۷ ص ۶۳۲، ۷۳۲)
٭ قیامت کے دن گواہی (ج۸ ص ۳۳۲)
٭ قیامت کے دن چار سوالات (ج۹ ص ۲۳-ج۲۱ص ۷۳)
٭ وقوع قیامت (ج۹ص ۲۰۲-ج۱۱ ص ۵۱۲، ج ۴۱ص ۳۲۲)
٭ قیامت پر کفار کے اعتراضات (ج۲۱ص ۵۳)
٭ بروز قیامت ولائے علی ؑ کا سوال (ج۲۱ص ۶۲)
٭ اثبات قیامت (ج۲۱ص ۸۸)
٭ قیامت صغریٰ (ج۲۱ص ۵۳۱ تا ۰۴۱)
٭ بروز قیامت حامل لوا ءُ الحمد حضرت علی ؑ
ہوں گے (ج۲۱ص ۸۴۲)
٭ قیامت کے دن سوال و جواب (ج۲۱ص ۸۴۲ تا ۱۵۲)
پیشیء قیامت (ج۳۱ص۵۱،۶۱)
٭ علامات قیامت(ج۴۱ ص ۵۴)
٭ حجة الوداع کے موقعہ پر قرب قیامت کی
علامات اور حضور کا ایک طویل اور جامع خطبہ اور حضرت سلیمانؑ کا گریہ (ج۴۱ص ۶۴ تا
۸۴)
٭ آمد قیامت (ج۴۱ص ۳۹۱ تا ۸۹۱-ج۴۱ص
۰۰۱،۱۰۱،۸۲۱، ۷۶۱-ج۴۱ص ۸۸۱،۹۸۱)
٭ قیامت کے دن زندہ درگور کی جانے والی لڑکیوں
کے متعلق سوال ہوگا (ج۴۱ص۰۸۱ تا ۲۸۱)
قیاس: امام جعفر صادقؑ کا ابوحنیفہ کو قیاس
سے روکنا (ج۱ص ۵۷ تا ۷۷)
٭ امام جعفر صادقؑ نے فرمایا سب سے پہلے قیاس
کرنے والا ابلیس ہے (ج۲ص ۷۸)
٭ قیاس ابلیس (ج۶ص ۱۱) قیاس کی مذمت (ج۶ص ۳۱،
۴۱)
قید : دنیا مومن کےلئے قید اور کافر کےلئے
جنت ہے (ج۴ص ۰۰۱-ج۱۱ص۸۴)
٭ دربار ہشام میں حضرت امام محمد باقرؑ کا
داخلہ اور پھر قید کا حکم لیکن قید خانہ میں بھی لوگ آپ کے ہمنوا ہو گئے تو اس نے
آزاد کردیا (ج۶ص۸۵) جب جادوگروں کو ایمان لانے کی سزا فرعون کی طرف سے دی گئی تو
ہامان نے حضرت موسیٰؑ کو دین قبول کرنے والوں یعنی بنی اسرائیل کو قید کرنے کا
مشورہ دیا چنانچہ بنی اسرائیل کی گرفتاریاں شروع ہو گئیں پس اللہ نے یکے بعد دیگرے
فرعونیوں پر عذاب نازل کئے پس حضرت موسیٰؑ کے کہنے پر وہ بنی اسرائیل کے آزاد کرنے
کا وعدہ کرتا تھا لیکن جب عذاب ٹل جاتا تھا تو قارون کے مشورہ کے مطابق وعدہ پورا
نہ کرتا تھا پہلے قحط کا عذاب پھر پیداوار کی کمی کا عذاب پھر سیلاب کا عذاب، پھر
مکڑی کا عذاب، پھر جوئیں، پھر مینڈکوں کا عذاب اور بعد میں خون کا عذاب اور سات
عذابوں کے بعد آخر غرقابی کا عذاب آیا جو ٹل نہ سکا اور بنی اسرائیل فرعون کی قید
سے مستقل طور پر آزاد ہوگئے (ج۲ص ۷۷ تا ۰۸)
٭ حضرت یوسف ؑ کنویں کی قید میں (ج۸ ص۷۱)
٭ حضرت یوسف ؑ زندان مصر میں (ج۸ص۴۳) قید سے
رہائی کی دعا (ج۸ص۰۸)
٭ حضرت یوسف ؑ کا زندان مصر میں گریہ (ج۸ ص
۰۴) زندان سے رہائی کےلئے دعا (ج۸ص ۴۹)
٭ قید خانہ کے متعلق حضرت یوسف ؑ کا نظریہ
(ج۸ص ۶۴)
٭ کلمہ حق کی پاداش میں نبی قید ہوتے رہے (ج۹
ص ۱۱)
٭ حضرت یونس ؑ مچھلی کے شکم میں ۳ یا ۷ یا ۰۲
یا ۰۴ دن قید رہے (ج۲۱ص ۳۷)
قیصر: روم کے بادشاہوں کو قیصر کہا جاتا ہے
(ج۲ص۵۰۱)
٭ قیصر و کسریٰ یعنی شاہ روم اور شاہ ایران کی
باہمی جنگ (ج۱۱ص ۲۰۱)
٭ قیصر کی فتح کی خوشخبری (ج۱۱ص ۵۶۱)
Leave a Reply