آگیا دامن مرتضی ہا تھ میں بادشاہی خزانے کی پرواہ نہیں
دشمنِ مُرتضی کا گلہِ جُرم ہے تو ہمیں جیل جانے کی پرواہ نہیں
قوم شیعہ کی بے لوث آوازہے آلِ احمدپہ ہم کو بجا ناز ہے
فقہِ جعفریہ جو چھینی گئی پھر ہمیں سر کٹا نے کی پرواہ نہیں
آیت اللہ خمینی کا فرمان ہے کفر سے لڑنا ایمان کی شان ہے
دین اسلام کی بر تری کیلئے موت کے منہ میں جانے کی پرواہ نہیں
موت کے دام میںمسکراکے کہا ہم نے اِسلام آباد جا کے کہا
حُکمرانو !نہ چھو ڑیںگے ہم اپنا حق سینے پرگولی کھانے کی پرواہ نہیں
دین حق کو بچایاہے شبیر نے مر کے جینا سِکھایا ہے شبیر نے
ہم نے دُنیا میں فرعون دیکھے بہت ان کے پھر لَو
ٹ آنے کی پرواہ نہیں
ٹ آنے کی پرواہ نہیں
مُلاجی اپنے فتوے نہ ہم پہ لگا فقہ نعمان سے ہم کو کیا واسطہ
ہم شراباً طہورا کی لہرو ںپہ ہیں اب ہمیں ڈوب جانے کی پرواہ نہیں
بچے کچلے گئے مر د مارے گئے زندگی کے ختم ہو ستارے گئے
حوصلے تھے بلند دین حق کیلئے اب بھی چادر لٹانے کی پرواہ نہیں
Leave a Reply