anwarulnajaf.com

حدیث ثقلین

 یہ حدیث 
کتب صحاح  میں موجود ہے اور حد
تواتر تک پہنچی ہوئی ہے
  اس حدیث کے موضوع
پر بڑی بڑی ضخیم کتابیں لکھی جاچکی ہیں چنانچہ مولانا سید حامد حسین قبلہ لکھنوی
اعلیٰ اللہ مقامہ نے عبقات الانوار کی ایک ضخیم جلد میں صرف حدیث ثقلین ہی کو
موضوع بحث قرار دیا مسند احمد تفسیر ثعلبی
 
صحیح مسلم وغیرہ  سب کتب میں یہ
حدیث موجود ہے اگر چہ روایات کے الفاظ مختلف ہیں لیکن اس مفہوم میں سب شریق ہیں کہ
حضور نےفرمایا تھا
      انی تارک فیکم
الثقلین کتاب اللہ وعتراتی اھلبیتی ماان تمسکتم بھما لن تضلوابعدی
   میں تم میں دوگرانقدر چیزیں چھوڑے جارہا ہوں ایک
اللہ کی کتاب اور دوسری میری عترت جب تک
  تم
ان دونو سے تمسک کئے رہو گے ہرگز ھرگز
 
میرے بعد گمراہ نہ ہوگے یہ حدیث تمام صحابہ  کرام کو حضرت علیؑ اور باقی اہل بیتؑ سے
تمسک
  کرنے کی وصیت ہے اور ہم ثابت کرچکے
ہیں کہ اہل بیت سے مراد حضرت علیؑ وفاطمہؑ وحسنؑ وحسینؑ ہی ہیں
  جیسے آیت تطہیر  کے بیان میں مختصرا گزر چکاہے  پس انکو قرآن  کا قرین بنانا ان کی خلات پر نص ہے ایک حیث میں
علی مع القرآن والقرآن مع علی فرمایا
 
چنانچہ یہ حیث پہلے گزر چکی ہے پس حدیث کی دلالت خلافت پر عیاں راچہ بیان
کی مصداق ہے

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *