وجوب ِ تقلید | wajoob taqleed
چونکہ انسان اشرف المخلوقات ہونے کی
حیثیّت سے اپنی مخصوص ذمہ داریوں سے عہدہ
بر آہونے کا مکلّف ہے اللہ کے وجود اور اس
کی توحید کا عقیدہ رکھنے کے بعد اس محسن ِ حقیقی کا منشاء کے مطابق اپنی زندگی کو
گذارنا اس کے فرائض میں سے اہم ترین فریضہ ہے اور خود چونکہ تمام مسائل زندگی کے
مثبت و منفی پہلوؤں پر کامل عبور حاصل نہیں کر سکتا ۔ لہٰذا اسے ایسے نمائندگان کی
ہدایات کی ضرورت ہے جو اللہ کی جانب سےادا مر نواہی کی فصیلات سے آگاہ کریں ۔
لہٰذا عقیدہ نبوت امامت بھی عقیدہ توحید کے تمتہ کے طور پر اپنا ضروری ہے کہ نبی و
امام کی رہبری میں انسانیّت کی حقیقی منزل پر پہنچ کر رضائے خداوندی حاصل کی جا
سکے۔
اس دور میں جبکہ پیغمبر اسلام کے
بارہویں جانشین کی غیبت کبریٰ کا زمانہ ہے نائب امام (مجتہدوقت) کی ہدایات سے ہی
مقصد انسانیت پورا ہوسکتا ہے اور آئمہ طاہرین علیہم السّلام کی اس بارے میں
فرمائشات موجود ہیں کہ ہمارے راویانِ حدیث کی طرف یا فقہاء متدینین کی طرف رجوع
کیا جائے چنانچہ کتاب “معیار شرافت” میں تفصیلاً بیان کیا جا چکا ہے اور
فروع مذہب کی جزئیات میں مجتہد وقت کی ہدایات حاصل کرنے کا نام تقلید ہے اور ہر
شیعہ بالغ و عاقل پر جو خود مجتہد یا محتاط نہ ہو تقلید واجب ہے۔
مسئلہ:۔ جس
مجتہد کی تقلید کی جائے اس میں مندرجہ ذیل شرائط کا پایا جانا ضروری ہے۔
(1) مرد ہو (2)عاقل ہو (3) بالغ ہو (4) عادل ہو (5) حلال
زادہ ہو
(6)زندہ
ہو (7)عقائد
صحیحہ رکھتا ہو نہ غالی ہو اور نہ مقصر ہو (8) بامروت
ہو (9) شیعہ اثنا عشری ہو (10) مدراک صحیحہ سے مسائل شرعیہ کا
استنباط کر سکتا ہے
مسئلہ:۔ مجتہد
اعلم کی تشخیص دور حاضر میں بلکہ سابقہ ادوار میں بھی ناممکن
نہیں تو مشکل ضرور ہے۔
اور بصورت امکان اس پر عمل کرنا مشکل
تر ہے اور ثالثاً تقلید اعلم کا وجوب معصومین ؑ کے فرمان سے کہیں بھی ثابت نہیں
ہے ـــــــــــــــــــــــــــــ ہر اس مجتہد کی تقلید کی
جا سکتی ہے س میں سابقہ شرائطہ موجود ہوں اور اس سے مسائل دریافت کرنا آسان
ہو۔
مسئلہ:۔ مقلد اپنی آسانی و سہولت کےپیش نظر ایک مجتہد سے دوسرے کی
طرف رجوع کر سکتا ہے البتہ زندہ مجتہد سے میت کی طرف رجوع ناجائز ہے۔
مسئلہ:۔اگر مقلد کے قریب ترین بسنے والے مجتہد زیادہ ہوں اور ان
میں سے ہر ایک کی طرف رجوع کرنا اس کے لئے بھی ہو تو ایسی صورت میں ایسے مجتہد کا
نتخاب کرے جو ان سب میں سے اعلم ہیں۔
ہم نے تقلید اعلم کے وجوب یا عدم وجوب
کی مفصّل بحث اپنی تفسیر انوار النجف کے مقدمہ میں ذکر کی ہے۔


Leave a Reply