anwarulnajaf.com

عدل کی تقسیم

عدل کی تقسیم

یہ ملحوظ  رہے کہ
عدل وانصاف کے تین مقامات ہیں  اپنے نفس کے
ساتھ عدل اپنے اللہ کےساتھ عدل  اور اللہ
کی مخلوق کے ساتھ عدل  اپنے نفس کےساتھ عدل
یہ  ہے کہ اس کو عادات بد سے محفوظ
کرے  اور عادات حسنہ کا عادی بنائے  اور اللہ کےساتھ عدل یہ ہے  کہ اس کا شریک 
کسی کو نہ بنائے اور اس کے اوامر 
کی اطاعت  کرے اور اس کی نواہی سے
اپنے آپ  کو روکے اور باقی  مخلوق کےساتھ 
عدل یہ ہے کہ ان کے حقوو کی بجاآورای 
میں کوتاہی نہ کرے

بہت مناسب  ہے  کہ ہر سہ مقامات  کی مزید تو ضیع  وتشریح 
کے لئے  اس عالم ربانی کی ہدایت کو
پیش  کیا جائے جس کےسامنے معلم اول
ثانی  ذرہ بے مقدار کی حیثیت رکھتے
ہیں  یعنی حضرت امیرالمونین  علیہ السلام 
کے کلام  بلاغت  مظالم 
سے کچھ اقتباس  پیش کیاجائے  چنانچہ 
نفس کےساتھ عمل کے متعلق ایک خطبہ 
میں بیان فرماتے ہیں

“وہ شخص  جو
اپنے نفس پر عدل کو ضروری قرار دے  اس کا
پہلا عدل  یہ  ہے کہ اپنے نفس سے خواہشات کو دور کرے حق  کو بیان کرے اور اس پر عمل  بھی کرے خیر کی کسی غایت کوترک  نہکرے 
اور اس کی کسی جائے تو قع  سے چشم
پوشی نہ کرے  پس ایسا شخص  ہی تاریکیوں 
میں چراغ دھند لکوں میں بینا امور شاقہ 
ومعضلہ کا فاتح  اور طرق مشکہ میں
فائد ہوسکتا ہے بوے تو سچ ورہ  خاموشی  میں 
اپنی بھلائی  سمجھے  پس اس نے 
اللہ کے لئے اخلاص  کیا تو اللہ نے
اس کو اپنے لئے خاص کرلیا ایس اشخص اللہ کے دین 
کی کان اور اس کی زمین میں ایک ٹھوس 
چٹان ہے”

اقول 

آپ نے نفسی 
خواہش  کے کنڑول کو نفس میں عدل کا
پہلا  زینہ اس لئے قرار دیا ہے  کہ انسان تحصیل کمال اوررئیل سعادت کے لئے اس
کے بغیر قدم بڑھا ہی نہیں سکتا کیونکہ جب تک 
خواہش وشہوت  کا بھوت سر پر سوار
رہے گا تو وہ دلکش لباس اور اعلی  بود وباش
کا متوالا  رہتے ہوئے  سگ نماحرص آمیز  چاپلوسی 
اور لومڑی کی سی مکاری وعیاری  کی
بدولت عیاشی وفحاشی  کی ارزائی  کے اسباب کی تحصیل  میں وقت ضائع کرتا پھرے گا  پس انسانی روپ میں خصائل حیوانگی  اور رزائل درندگی  سے ہمکنار 
ہوکر طعام  وآرام  کی سہولتوں 
کو مطمح نگاہ قرار دے گا  اوریہ
واضح حقیقت  ہے کہ انسان اپنی وضح انسانیت
سے لاکھ دور بھاگے  اور حیوانوں  کی سی اوارگی کو اپنی فطری آزادی  کا نام دیکر ہزار عیاشی وفحاشی  کے طریقہ کو اپنائے  وہجسمانی لذات میں  پھر بھی گدھے 
کے اور بھیڑئیے  کی سی آزادانہ لذت
کا مقابلہ نہیں کرسکتا البتہ  یہ بات
ضروری  ہے 
کہ انسان  اس قدر اس قسم کی آوارگیوں  میں آزادانہ طور پر آگے بڑھتا جائے گا  اس قسم کے حیوانا ت سے زیادہ سے زیادہ مشابہت
حاصل کرتا جائے گا جن کی نقالی  میں اس نے
اپنی فطری آزادی کا راز مضمر سمجھ کر شرافت انسانیہ  کے خلاف علم بغاوت اٹھایا ہے کیونکہ
درندگی  میں انسان بھیڑئیے  کی سی قسادت قلبی  اپنے اندر نہیں لاسکتا اورجنسی  لذات میں گدھے کا مقابلہ نہیں کرسکتا 

بہر کیف نفس کو خواہشات 
میں جس قدرازادی  دی جائے  اور جس قدر ہی بے مہار چھوڑا جائے  اس کی اصلاح 
اتنی ہی مشکل سے مشکل تر ہوتا جائے گی 
ہم نے ابتداء بیان کیا ہے کہ انسان کتم عدم سےعرصہ وجود میں قدم رکھتے  ہی خواہشات نفس کا قیدی  ہوتا ہے کیونکہ  اس کے قوائے عاقلہ میں ان پر تنقید کرنے  کی صلاحیت ہی نہیں ہوتی  اب عقل 
کی آنکھ کھلنے کے بعد خواہش نفس کی قوت 
کا جوش  تب  ہی ٹوٹ 
سکتا ہے جب اس کی مخالفت میں ریاضت کی جائے  ہم پہلے بھی کہہ چکے ہیں  کہ یہ ایک کھیتی  کی مثال 
ہے کہ زمین اگر چہ بذات خود قابل کاشت اور زرخیز ہو تاہمکافی عرصہ  تک بھنجر رہنے 
کے بعد  اس میں ہل چلانا ضروری ہوا
کرتا ہے  پس اسی طرح زمین پر جب  تک حرص وہوس 
کے خلاف عقل  کی قلبہ رانی  نہ ہو آلات 
عدل وانصاف سے اس کو ہموار نہ کیاجائے 
وہ حکمت وعلم کی تخم ریزی  کے
قابل  قطعا نہیں  ہوسکتی 
نہ آسمان رحمت سے اترنے والا پانی 
اسکو فائدہ دے سکتا ہے  اور نہ
انسان منازل سعادت پر پہنچ  سکتا ہے  پس جوبھی مخالفت  نفس پر قادر ہو گیا  وہ سعادت 
کی بازی جیت گیا

حقوق اللہ  میں عدل
کے متعلق آ نے مالک اشتر کے عہد نامہ  میں
ارشاد فرمایا  اللہ سے تقویٰ  کرو اس کی اطاعت کو ہرامر  پر ترجیح 
دو اور اس فرائض  وسنن کو ادا
کرو  جو اللہ  نے 
اپنی کتاب میں ذکر فرمائے 
کیونکہ  اس کے بغیر سعادت ناممکن ہے
اور انکے نکار اور مخالفت میں بدبختی 
ہے  اور دین خدا کی ہاتھ دل اور
زبان سے نفرت  کرو آپ  نے اپنے فرزند حضرت امام حسن علیہ السلام  کے وصیت 
نامے  میں  تحریر 
فرمایا  اے فرزند میں تجھے  اللہ کے تقویٰ اس کے امر کی اطاعت  اس کے ذکر سے دل کی تعمیر  اور اس کی توفیق سے تمسک کی وصیت کرتا ہوں  کیونکہ تیرے 
اور اللہ کے درمیان کے باہمی رشتہ سے اور کوئی رشتہ زیادہ پائیدار  نہیں ہے اگر اس کو تھامے رہو

آپ نے حقوق  الناس
میں عدل کے کلئے  کو حجرت امام حسن علیہ
السلام  کے وصیت نانے  میں تحریر فرمایا

“بیٹا
اپنے اور غیر کے درمیان اپنے نفس کو ہی میزان قرار دو پس غیر کے لئے وہی چیز پسند
کرو جو تمہیں پسند ہو اور غیر کے لئے ایسی چیز ہر گز پسند نہ کرو جو خود تمہیں
پسند نہ ہو جس طرح تمہیں اپنی ذات پر غیر کا ظلم پسند نہیں اسی طرح تم بھی غیر پر
اپنا ظلم روا نہ رکھو جس طرح تم کو غیر سے احسان پسند ہے اسی طرح تم بھی غیر پر
احسان کیا کرو اور جو چیز غیروں سے تمہیں بری لگتی ہے اس کو اپنے نفس سے دور رکھو”

ایک اور مقام پر ارشاد فرمایا ۔

صاحبان خبر یعنی نیک لوگوں سے قرب اختیار کرو تا کہ تمہارا
شمار بھی انہیں میں سے ہو اپنی مقبضہ چیز کی حفاظت غیر کی مقبوضہ چیز کی طلب سے
بہتر ہے ۔ یاس و ناامیدی کی تلخی لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلانے سے بہتر ہے پاکدامنی
کے ساتھ کما کھانا اس دولت مندی سے بہتر ہے جو فجور کے ساتھ حاصل ہو کمزور پر ظلم
کرنا بد ترین ظلم ہے؟  


Posted

in

by

Tags:

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *