anwarulnajaf.com

نمازِ قصر کا بیان

 نمازِ قصر کا بیان

 

سفر کی نماز قصر ہوا کرتی ہے اور ہر چار رکعتی نماز دو دو
رکعت پڑھی جاتی ہے لیکن نماز صبح اور نماز مغرب میں قصر نہیں ہے۔

شرائطِ نمازِ قصر

۱۔       قصد مسافت
آٹھ فرسخ یا اس سے زیادہ مسافت کے سفر کا ارادہ ہو خواہ یہ مسافت یک طرفی ہو آمد
ورفت کو ملا کر اس قدر ہوجائے جبکہ اس کی واپسی دس دن کے اندر ہو اور اگر تین یا
چار دفعہ کے دور سے مقدار پوری ہوتی ہو تو قصر نہ ہوگی۔

 

وضاحت

فرسخ تین میل کا ہوتا ہے اور میل ۲ ہزار ذراع کا اور ہر
ذراع ۲۴ انگلیوں کا جو آپس میں ملی ہوئی ہوں اور ہر انگلی سات جو کے ملے ہوئے
دانوں کے برابر جبکہ انہیں پہلو کے بل کھڑا کرکے ملایا جائے اور ہر جو خچر کے سات
بالوں کی چوڑائی کے برابر ہو۔

مسئلہ:  اگر ایک مقصد کی
طرف دو یا زیادہ راستے جا رہے ہوں جن میں سے بعض مسافتِ شرعی سے کم فاصلہ رکھتے
ہوں اور بعض کا فاصلہ زیادہ ہو تو جس راستہ سے سفر کرے گا اسی کے حکم کے ماتحت قصر
و اتمام میں عمل کرے گا اور اگر صرف نماز و روزہ کی قصر کی خاطر ہی اس نے طولانی
راہ کو اختیار کیا تب بھی اس کے لئے قصر کا حکم ہوگا۔

مسئلہ:  اگر اپنے شہر سے
لے کر تیس یا چالیس میل تک ایک سیر گاہ اور باغ بنا ہوا ہے اور اس نے اس سیرگاہ
میں تفریحی طور پر پھرنے کا پروگرام بنا لیا اور پھر چلنا شروع کردیا، یہاں تک کہ
سیرگاہ کے آخری سرے تک پہنچ گیا اور پھر واپس اسی طرح سیر و تفریح کرتا ہوا چلا
آیا اور گھر پہنچ گیا و چونکہ اس پر مسافر کا اطلاق نہیں ہوتا بلکہ کہا جاتا ہے کہ
فلاں سیر و تفریح کے لئے پھر رہا ہے لہذا اس کے لئے قصر بھی نہ ہوگی۔

مسئلہ:  اگر مسافت سے کم
کی نیت سے نکلا اور پھر بڑھتے بڑھتے مسافتِ شرعی یا اس سے زیادہ تک پہنچ گیا تو
جاتے ہوئے قصر نہ ہوگی کیونکہ بیک وقت قصد مسافت نہیں ہوا۔ ہاں جب واپس ہوگا تو
چونکہ مسافت پوری ہوچکی ہے لہذا اس پر قصر ہوگی۔

مسئلہ:  چونکہ قصد مسافت
بنیت سفر ضروری ہے لہذا اگر دو شخص ایک دوسرے کے مقابلہ میں دوڑیں اور ان کا
مقابلہ چار فرسخ کے سرے تک جانا اور واپس آنا ہو تو چونکہ ان پر عنوان مسافر صادق
نہیں آتا لہذا ان کے لئے قصر نہ ہوگی۔

۲۔      مسافر اثنائے
سفر میں کسی ایک جگہ سے دس دن قیام نہ کرے ورنہ اگر دس دن کے قیام کی نیت کر لے تو
پھر قصر نہ رہے گی۔

مسئلہ:  اگر دس روزہ قیام
کی نیت کرکے ایک نماز اسی کے ماتحت پوری پڑھ چکے اور پھر ارادہ قیام نہ کرنے کا
ہوجائے تو جس قدر نمازیں وہاں روانگی سے پہلے پڑھے گا پوری پڑھے گا اور بخلاف اس
کے اگر دس دن سے کم قیام کا ارادہ ہو تو قصر پڑھتا رہے اگرچہ یہ قیام بڑھتے بڑھتے
تیس روز تک ہی پہنچ جائے مثلاً ایک جگہ پانچ روز کے قیام کی نیت تھی جب پانچ پورے
ہوئے تو پھر پانچ دن قیام کی اور نیت کرلی۔ وعلیٰ ہذا القیاس اور اتفاقاً ایسی
صورت پیدا ہوتی گئی۔ یہاں تک کہ ایک ماہ ہوگیا تو اس دوران میں نماز قصر پڑھے گا
لیکن جب تیس دن پورے ہوجائیں گے تو اس کے بعد خواہ ایک گھنٹہ بھی رہے گا تو اس وقت
میں حاضر نماز کو پورا پڑھے گا کیونکہ تیس دن متردد کی نماز قصر کی آخری حد ہے۔

مسئلہ:  اگر قصد مسافت کرے
لیکن اثنائے راہ میں اس کا وطن آجائے تو اگر ابتدائے مسافت سے اس وطن تک اور یہاں
سے مقصد تک علیحدہ علیحدہ بھی فاصلہ مسافت شرعی ہے تو سفر کے ہر دو حصوں میں قصر
ہوگی اور وطن اور مقصود میں قصر نہ ہوگی، ورنہ سفر کے جس حصہ کا فاصلہ مسافت شرعی
ہوگا، اسی میں ہی قصر ہوگی۔

مسئلہ:  وطن کے صدق کے
متعلق متعدد اقوال ہیں، بعض کہتے ہیں ملکیت بھی ہو اور قصد توطن بھی ہو اور بعض
صرف توطن کو کافی سمجھتے ہیں لیکن اس مقام پر وہ قاعدہ جس پر قصر کی بنیادوں کو
استوار کیا گیا ہے وہ ہے عنوانِ مسافرت پس جس پر لفظ مسافر صادق آئے اس پر قصر
واجب ہے اور جس پر مسافر کا عنوان صادق نہیں اس پر قصر واجب نہیں، خواہ اس مقام پر
اس کے توطن کی شرائط پوری ہوں یا نہ ہوں۔ پس جب اپنے گھر کو چھوڑ کر سفر میں جائے
گا تو نماز قصر پڑھے گا اور اثنائے سفر میں پھر اگر اس کا اپنا ذاتی گھر آجائے گا
تو پھر بجائے مسافر کے گھر والا ہوجائے گا لہذا قصر نہ رہے گی خواہ یہ گھر اس کا
خرید کردہ ہو یا پرانا اور اس میں چھ ماہ یا کم و بیش متواتر قیام رہا ہو یا نہ ہو
اور خواہ اس کی ملکیت بھی ہو یا نہ ہو لیکن اس جگہ پر یہ صادق آتا ہو کہ یہ فلاں
کا گھر ہے اور اس جگہ پر عرفاً اس کو مسافر نہ کہا جاتا ہے۔

مسئلہ:  اگر ایک شخص نے
متعدد منزلیں بنائی ہوں تو ضروری نہیں کہ وہ سب اس کے گھر شمار ہوں، بعض لوگ متعدد
شہروں میں مکانات بنوا لیتے ہیں یا خرید 
کر لیتے ہیں تاکہ دورانِ سفر میں یہاں آ کر آسودگی حاصل ہو اور کرایہ پر
جگہ تلاش کرنے کی ضرورت نہ ہو پس کبھی دو دن اور کبھی چار دن اور اس سے کم  یا بیش ٹھہر کر چلے جاتے ہیں تو ان پر عرفاً
گھر اور وطن کا عنوان صادق نہیں آسکتا اور بعض مکانات ایسے بھی ہوتے ہیں جنہیں
رہائش کے لئے خریدا یا بنوایا جاتا ہے اور اس طرح بعض لوگوں کے دو  دو یا تین تین گھر بھی ہوتے ہیں پس اگر منزل
پہلی قسم کی ہو تو دورانِ سفر میں وہاں پہنچنے سے سفر نہیں منقطع ہوتا اور اگر
منزل دوسری قسم کی ہو تو وہاں پہنچتے ہی سفر منقطع ہوجائے گا۔

مسئلہ:  اگر ایک شخص نے
ایک منزل کو ایک خاص موسم کے لئے بطور گھر و وطن بنایا یا خریدا۔ مثلاً موسم گرما
کے لئے کسی پہاڑی علاقہ میں گھر بنایا ہو تو اس منزل پر اس کی وطنیت کا صدق صرف
موسم گرما میں ہی ہوگا۔ لہذا اگر یہی شخص دورانِ سفر میں موسم سرما میں اتفاقاً یا
عمداً وہاں پہنچے گا تو قصر کے توڑنے کے لئے صرف وہاں پہنچنا کافی نہ ہوگا کیونکہ
وہ جگہ اس کی ذاتی ملکیت کے لحاظ سے اس کی گزرگاہ ہے اور اس کی اس موسم میں وہ وہ
قیام گاہ نہیں ہے تاکہ کہا جائے کہ وہ اپنے گھر میں پہنچ گیا۔ پس اس سورت میں اس
کی قصر تب ختم ہوگی جب وہ دس روزہ قیام کرے گا۔

علی بن یقطین سے مروی ہے کہ میں نے امام موسیٰ کاظم علیہ
السلام سے دریافت کیا کہ بستی بستی میں فرسخ دو فرسخ کے فاصلہ پر میری جائیدار اور
مکانات موجود ہیں تو آپ نے فرمایا ہر وہ مکان جس کو تو نے گھر و وطن بنایا ہو اس
کے علاوہ ہر مکان میں نمازِ قصر پڑھ۔

۳۔      سفر جائز ہو
خواہ واجب ہو یا مستحب یا مباح پس اگر سفر حرام ہوگا جیسے ظالم کی ہمراہی کے لئے
یا لہو و لعب کے شکار و تماشہ کے لئے تو نمازِ قصر نہ ہوگی۔ یعنی ہر وہ کام جس میں
اللہ کی معصیت ہو اس کے لئے سفر کرنا حرام ہے اور اس سفر میں نماز قصر نہ ہوگی۔

مسئلہ:  ناجائز سفر پر
جاتے ہوئے جس طرح قصر نہ ہوگی اسی طرح اس سفر سے واپسی بھی قصر کی موجب نہ ہوگی،
کیونکہ واپسی بھی سفر معصیت کا ہی حصہ ہے، ہاں اگر سفر معصیت میں جاتے ہوئے یا
منزل پر پہنچ کر تائب ہوجائے تو واپسی کا سفر یا کل باقی سفر جائز اور موجب قصر
ہوگا۔

۴۔      سفر پیشہ نہ
ہو اور اس عنوان کو بعض علماء نے کثیر السفر اور خانہ بدوش بھی تعبیر کیا ہے اور
بعض عبارتوں میں ہے سفر حضر سے زیادہ نہ ہو لیکن اس باب کی احادیث سے جہاں تک
استفادہ کا تعلق ہے تو صرف دو قسم کے عنوان مستفاد ہوتے ہیں، ایک پیشۂ سفر ہونا
اور دوسرا اپنا گھر اپنے ہمراہ ہونا یعنی خانہ بدوش ہو۔ ان کے علاوہ کثیر السفر یا
سفر کے حضر سے زیادہ ہونے کے عنوان احادیث سے مستفاد نہیں ہوتے پس اگر پیشہ کے
بغیر اتفاقی طور پر متعدد اسفار پے در پے کرنے پڑ جائیں اور کثیر السفر کا عنوان
صادق آجائے تب بھی قصر ہوگی اور بخلاف اس کے اگر پیشہ کا سفر ہو تو خواہ کثرت نہ
بھی ہو تب بھی قصر نہ ہوگی اور پیشہ سفر اگر مخصوص موسم میں ہو تو صرف اسی موسم
میں اس کا سفر موجب قصر نہ ہوگا۔ جو اسی پیشہ کے ماتحت ہو اور باقی موسموں میں اس
کے اسفار موجب قصر ہوں گے اور اسی طرح خانہ بدوشوں کے لئے قصر نہیں ہے اور ان کا
خانہ بدوش ہونا بھی اگر کسی موسم سے مختص ہے تو یہ حکم صرف اسی موسم کے لئے ہوگا
اور اگر سارا سال خانہ بدوش ہوں گے تو حکم بھی سارے سال کے لئے ہوگا لیکن اگر یہ
لوگ کسی اور سفر کے لئے جائیں جس کا تعلق ان کے پیشے سے نہ ہو مثلاً حج یا زیارت
وغیرہ تو ان کے لئے باقی شرائط کے ماتحت قصر ہوگی۔

مسئلہ:  چونکہ پیشہ سفر
میں کثرتِ سفر کا عنوان تو معتبر ہے نہیں لہذا اس میں پہلے اور دوسرے یا تیسرے سفر
کا لحاظ نہیں ہونا چاہیے لیکن روایت میں ہے کہ دس دن کے قیام کے بعد کا سفر موجبِ
قصر ہوگا۔ بنا بریں پیشہ ور مسافر کا پہلا سفر قصر کا موجب ہوگا اور اس کے بعد
بلحاظ پیشہ اس کی قصر نہ ہوگی لیکن پھر جب دس دن کہیں قیام ہوگ اس کے بعد پہلا سفر
موجب قصر ہوگا وعلی ہذا القیاس۔

۵۔      حد ترخص سے
باہر ہو اور حد ترخص اس مکان کو کہتے ہیں جہاں سے اس کے شہر کے مکانات نظر نہ
آسکتے ہوں یا اذان نہ سنائی دیتی ہو۔ لہذا جب تک مسافر حد ترخص کے اندر ہوگا اس پر
قصر نہ ہوگی جب اس سے باہر پہنچے گا تو قصر ہوگی اور نماز و روزہ کا حکم اس بارے
میں ایک جیسا ہے اور جب سفر سے واپس آئے گا تب بھی قصر کی آخری حد یہی مقام ہوگا۔

مسئلہ:  مسافت شرعی شہر یا
محلہ کی آخری حدوں سے شروع ہوکر آٹھ فرسخ یک طرفی یا دو طرفی ہوگی لیکن قصر کا عمل
حد ترخص سے شروع ہوگا اور حد ترخص پر ختم ہوگا۔

مسئلہ:  مسافر کا جس جگہ
دن قیام کرنے کا ارادہ ہو اور اسی دوران قیام میں وہ مسافت شرعی کے اندر اندر تک
ضروری کاروبار کے لئے جاکر اسی روز واپس آجائے تو عرف کے لحاظ سے اس کی یہ آمد و
رفت دس دن کے قیام میں مخل نہیں لیکن بعض علماء اس کو منافیٔ قیاس سمجھتے ہیں۔ بنا
بریں احتیاط اسی میں ہے کہ اگر ایک جگہ دس دن کے قیام کا ارادہ ہو اور دو چار دن
رہنے کے بعد کسی کام کے لئے باہر چلا جائے بشرطیکہ مسافت شرعی کے فاصلہ سے کم تک
ہو اور اسی دن واپس آجائے تو باقی ماندہ مدت میں قصر اور اتمام کے درمیان جمع کرے
اور اگر واپسی کے بعد دوبارہ مستقل دس روز کی علیحدہ نیت کہہ دے تو پھر اتمام ہوگی
اور پہلی صورت میں بھی اتمام خالی از قوت نہیں۔

مسئلہ:  اگر ایک جگہ پندرہ
روزہ قیام کی نیت کر لی ہے۔ دس دن ٹھہرنے کے بعد ایک یا دو دن کے لئے مسافتِ شرعی
سے کم فاصلہ پر کہیں جانا ہے اور پھر واپس آنا ہے اور باقی ماندہ دن قیام کرکے چلا
جانا ہے یعنی بعد میں دس روزہ قیام کا ارادہ نہیں ہے تو اس صور ت میں جانے اور
وہاں ٹھہرنے اور واپس آنے اور باقی ماندہ دس دن سے کم قیام کرنے کے زمانہ میں نماز
قصر ہی پڑھی جائے گی اور پہلے مسئلہ میں بھی اگر دس روزہ قیام کے دوران میں کہیں
شب باشی کے لئے جائے گا تو دس دن کے تسلسل میں چونکہ خلل آجائے گا لہذا باقی ایام
میں قصر ہوجائے گی اور چونکہ اسی دن کی واپسی عرفاً قیام میں محل نہیں ہوتی۔ لہذا
اس مسئلہ میں بھی اگر یہی صورت ہو تو آمدو رفت میں اور باقی ایام میں قصر نہ ہوگی
اور حسبِ سابق قصر و اتمام دونوں پڑھنے میں احتیاط ہے۔

مسئلہ:  حماد بن عیسیٰ سے
مروی ہے کہ امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا مسافر کے لئے چار مقامات پر نماز
کا پورا پڑھنا۔ اللہ کے مخزون علم میں سے ہے اور وہ مقامات یہ ہیں حرم ِ خدا، حرمِ
رسول، حرم  امیر المؤمنین اور حرم حسین
علیہ السلام (کیونکہ ان مقامات میں نمازِ قصر اور تمام میں مسافر کو اختیار ہے)
ایک اور روایت میں مکہ، مدینہ، مسجد کوفہ اور حائر حسینی کے الفاظ ہیں۔

مسئلہ:  جو شخص قصر کو نہ
جانتے ہوئے نماز پوری پڑھے تو اگرچہ وقت باقی بھی ہو۔ تاہم اس پر قضا نہیں ہے لیکن
اگر بھول کر نماز قصر کی بجائے پوری پڑھ بیٹھے تو اگر وقت باقی ہے اعادہ لازم ہے
ورنہ قضا ضروری نہیں۔

مسئلہ:  نماز کا وقت داخل
ہوا تو ایک شخص گھر موجود تھا اور پھر سفر کو روانہ ہوا تو اب اس پر نماز قصر واجب
ہوگی اور بخلاف اس کے اگر سفر سے واپس آئے اور گھر پہنچنے پر ابھی وقت نماز باقی
ہو اور پڑھ نہ چکا ہو تو پوری پڑھے گا یعنی وقتِ ادا کا لحاظ رکھے نہ کہ وقتِ وجوب
کا اگر یہی نماز قضا ہوجائے تو اس کی حالتِ قضا کا لحاظ رکھ کر قضا پڑھے یعنی سفر
میں قضا ہوئی تو قضا اور گھر میں اور قضا ہوئی تو نماز پوری پڑھنی ہوگی۔


by

Tags:

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *