Dive into the depths of Alam Nashrah (Surah), seeking spiritual enlightenment through its profound meanings and Tafseer. This chapter, also known as “The Opening Forth,” holds significant insights and blessings. In this comprehensive guide, unravel the layers of its verses and understand the context that makes Surah Alam Nashrah a source of solace and guidance. Read online to embark on a journey of spiritual discovery.
کیا ہم نے نہیں کھولا تیرے لئے تیرے سینے کو (1) اور ہم نے اتار دیا تجھ سے تیرا بوجھ (2) جس نے تیری پشت بھاری کر دی تھی (3) اور ہم نے تیرا ذکر بلند کیا (4) پس تحقیق مشکل کے ساتھ آسانی بھی ہوتی ہے (5) بے شک مشکل کے ساتھ آسانی ہوتی ہے (6) پس جب فارغ ہو تو مشقت اٹھا (7) اور اپنے پردگار کی طرف رغبت کر (8)
· یہ سورہ مکیہ ہے· اور اس کی آیات کی تعداد بسم اللہ کو ملا کر نو ہے ۔· حدیث نبوی میں ہے کہ جو شخص اس کی تلاوت کرے اس کو اللہ یقین اور عافیت عطا فرمائے گا۔· اور جو شخص اس سورہ کو سینے درد پر پڑھے یا لکھ کر پاس رکھے تو سینے کے درد سے شفا پائے گا۔· حضرت رسول کریمؐ نے فرمایا اگر کسی شخص کا پیشاب بند ہو تو کسی برتن پر اس سورہ کو لکھ کر اس کا پانی پئیے تو پیشاب کی بندش ختم ہو جائے گی اور اللہ اس کا اخراج آسان کر دے گا ۔· اگر دل اور سینے کی تکلیف پر اس کو پڑھا جائے تو شفا ہو گی اور جو سردی زیادہ لگی ہو اس سورہ کو دھو کر پلانے سے اس کی سردی دور ہو گی (باذن اللہ ) (برہان)
روایات اہلبیتؑ سے ثابت ہے کہ جس طرح یتیم ہونے کی کمی حضرت ابو طالب کی کفالت سے پوری ہوئی اور تنگدستی کی کمی حضرت خدیجہ کی دولت سے پوری ہوئی اسی طرح سینہ کی کشادگی حضرت علی ولایت و محبت سے ہوئی اور دشمنوں کی مخالفانہ سرگرمیوں کی وجہ سے پشت کے بوجھ کی تکلیف حضرت علیہ السلام کی تائید و نصرت سے دور ہوئی۔
رفعنا لک ۔ حضور کے ذکر کی بلند یہ ے کہ جہاں جہاں توحید کا نعرہ بلند ہو تا ہے وہاں حضور کا نام نامی بھی ساتھ ہو تا ہے چنانچہ مسلمانوں کے قریۃ قریۃ میں تا قیامت اذان میں اور اتشہد نماز میں شہادت توحید کے ساتھ حضور کی نبوت کی شہادت بھی دی جاتی ہے ۔
فَانصَبْ ۔ یعنی نماز سے فارغ ہو کر دعا و دیگر تعقیبات کی مشقت اٹھایا کرو اور روایات اہلبیت میں تواتر سے منقول ہے کہ یہ حکم حضور کو حجتہ الوداع کے موقعہ پر ملا کہ جب حج کے اعمال سے فراغت حاصل کرو تو اعلانیہ اپنے بھائی علیؑ کو لوگوں کے لئے خلیفہ نامزد کر لو چنانچہ آپ نے خم غدیر کے بھر مجمع میں فرمایا۔ من کنت مولاہ فعلی مولاہ۔


Leave a Reply