anwarulnajaf.com

Category: جلد سوئم (3) تفسیر انوار النجف فی اسرارمصحف | tafseer anwar ul najaf jild 3

  • ازدواجی زندگی کاحقیقی مفاد

    ازدواجی زندگی کاحقیقی مفاد نِسَآوکُمْ حَرْث لَّکُمْ فَاْتُوْا حَرْثَکُمْ اَنّٰی شِئْتُمْ وَ قَدِّمُوْا لِاَنْفُسِکُمْ وَاتَّقُواللّٰہَ وَاعْلَمُوْآ اَنَّکُمْ مُلقُوْہُ وَبَشِّرِالْمُوْمِنِیْنَ (223) وَلا تَجْعَلُوا اللّٰہَ عُرْضَةً لِّاَیْمَانِکُمْ اَنْ تَبَرُّوْا وَ تَتَّقُوْا وَ تُصْلِحُوْا بَیْنَ النَّاسِ وَاللّٰہُ سَمِیْع عَلِیمْ( 224) لا یُوَاخِذُکُمُ اللّٰہُ بِا اللَّغْوِ فِیٓ اَیْمَانِکُمْ وَلکِنْ یُّوَاخِذُکُمْ بِمَا کَسَبَتْ قُلُوْبُکُمْ وَاللّٰہُ غَفُوْرحَلِیم ( 225) ترجمہ:  تمہاری…

  • حیض کابیان

    وَ یَسْئَلُوْنَکَ عَنِ الْمَحِیْضِ قُلْ ھُوَ اَذًیلا فَاعْتَزِلُوا النِّسَآئَ فِی الْمَحِیْضِ وَ لا تَقْرَبُوْھُنَّ حَتّٰی یَطْھُرْن فَاِذَا تَطَھَّرْنَ فَاْتُوْھُنَّ مِنْ حَیْثُ اَمَرَکُمُ اللّٰہُ اِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ التَّوَّابِیْنَ وَ یُحِبُّ الْمُتَطَھِّرِیْنَ (222) ترجمہ: آپ سے پوچھتے ہیں حیض کے متعلق فرما دیجئے کہ وہ نجس ہے پس علیحدہ رہو عورتوں سے اثنائے حیض اور نہ نزدیک…

  • مومن کاکافر سے رشتہ ناجائز ہے

    مومن کاکافر سے رشتہ ناجائز ہے وَ لا تَنْکِحُوا الْمُشْرِکٰتِ حَتّٰی یُومِنَّ وَلَاَمَة مُوْمِنَة خَیْر مِّن مُّشْرِکَةٍ وَّ لَوْ اَعْجَبَتْکُمْوَلا تُنْکِحُوا الْمُشْرِکِیْنَ حَتّٰی یُومِنُوا وَلَعَبْد مُّوْمِن خَیْر مِّن مُّشْرِکٍ وَّلَوْ اَعْجَبَکُمْ اُوْلٰٓئِکَ یَدْعُوْنَ اِلٰی النَّارِصلے وَاللّٰہُ یَدْعُوْآ اِلٰی الْجَنَّةِ وَالْمَغْفِرَةِ بِاِذْنِہ وَ یُبَیِّنُ اٰیٰتِہ لِلنَّاسِ لَعَلَّھُمْ یَتَذَکَّرُوْنَ (221) ع ترجمہ: اورنہ نکاح کرو مشرکہ عورتوں…

  • یتیموں کی اصلاح کا حکم — یتیموں کے مال کی حفاظت کا حکم

    فِی الدُّنْیَا وَالْاٰخِرَةِ وَیَسْئَلُوْنَکَ عَنِ الْیَتٰمٰی قُلْ اِصْلاح لَّھُمْ خَیْر وَ اِنْ تُخَالِطُوْھُمْ فَاِخْوَانُکُمْ وَاللّٰہُ یَعْلَمُ الْمُفْسِدَ مِنَ الْمُصْلِحِ وَلَوْشَائَ اللّٰہُ لَاَعْنَتَکُمْ اِنَّ اللّٰہَ عَزِیْز حَکِیْم 220) ترجمہ:دنیا وآخرت کے متعلق اورآپ سے دریافت کرتے ہیں یتیم بچوں کے متعلق فرمادیجئے کہ اصلاح ان کے مال کی اچھی ہے اوراگر تم ان کو اپنے ساتھ…

  • شراب وجوئے کی حرمت کابیان

    اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَالَّذِیْنَ ھَاجَرُوْا وَجٰھَدُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ اُولٰٓئِکَ یَرْجُوْنَ رَحْمَتَ اللّٰہِ وَاللّٰہُ غَفُوْررَّحِیْم ( 218) یَسْئَلُوْنَکَ عَنِ الْخَمْرِ وَالْمَیْسِرِ قُلْ فِیْھِمَآ اِثْم کَبِیْر وَّمَنَافِعُ لِلنَّاسِز وَاِثْمُھُمَا اَکْبَرُ مِنْ نَّفْعِھِمَا وَیَسْئَلُونَکَ ماَ ذَا یُنْفِقُوْنَ۵ قُلِ الْعَفْوَ کَذٰلِکَ یُبَیِّنُ اللّٰہُ لَکُمُ الْاٰیٰتِ لَعَلَّکُمْ تَتَفَکَّرُوْنَ (219) ترجمہ: تحقیق وہ لوگ جو ایمان لائے اوروہ لوگ جنہوں…

  • رکوع 11 — مرتد کی فسمیں اور احکام

    رکوع نمبر11 شانِ نزول یَسْئَلُوْنَکَ: اس کاشان نزول یہ بیان کیا گیا ہے کہ جب جناب رسولِ خداہجرت کرکے مدینہ میں تشریف لائے تو انہوں نے اطراف ونواح میں سریے (چھوٹے لشکر) روانہ فرمائے چنانچہ ایک سر یہ جواسی (80) آدمیوں پر مشتمل تھا عبداللہ بن حجش (جوکہ) آپ کا پھوپھی زاد تھا کی زیر…

  • سوال وجواب

    سوال وجواب  یہ آیت بتلاتی ہے کہ مومنین پر حکم جہاد گراں تھا اوروہ دل سے اس کو نہ چاہتے تھے حالانکہ دوسرے مقا م پر مومنین کی جو مدح و ثنا کی گئی ہے اس کا تقاضا تو یہ ہے کہ مومنین راہ خدامیں جان ومال بلکہ ہر قسم کی قربانی سے دریغ نہ…

  • شانِ نزول — اَمْ حَسِبْتُمْ– آزمائش کی پیش کش — دعوت جہاد

    اَمْ حَسِبْتُمْ اَنْ تَدْخُلُوْا الْجَنَّةَ وَ لَمَّا یَاتِکُمْ مَّثَلُ الَّذِیْنَ خَلَوْا مِنْ قَبْلِکُمْ مَسَّتْھُمُ الْبَاْسَآئُ وَالضَّرَّآئُ وَ زُلْزِلُوْا حَتّٰی یَقُوْلَ الرَّسُوْلُ وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَعَہمَتٰی نَصْرُاللّٰہِ اَلآ اِنَّ نَصْرَ اللّٰہِ قَرِیْب (214)یَسْئَلُوْنَکَ مَاذَا یُنْفِقُوْنَ۵ط قَلْ مَآ اَنْفَقْتُمْ مِّنْ خَیْرٍ فَلِلْوَالِدَیْنِ وَالْاَقْرَبِیْنَ وَالْیَتٰمٰی وَالْمَسٰکِیْنِ وَابْنِ السَّبِیْلِ وَ مَا تَفْعَلُوْا مِنْ خَیْرٍ فَاِنَّ اللّٰہَ بِہ عَلِیْم  ( 215…

  • ضرورتِ نبی

    ضرورتِ نبی گزشتہ بیان سے واضح کردیا جاچکا ہے کہ انسان طبعی وفطری طورپر استخدام وتسخیرِ موجودات کاحق رکھتا ہے اوراس کی بدولت انسان کی معاشی زندگی میں اختلاف وفساد کی بنیاد پڑتی ہے لہذا اجتماعی زندگی اورتمدنی بقا کےلئے قوانین کی ضرورت ہے جن کی پابندی انسان کو اپنے کمال وسعادت پر فائزکرسکے، پس…

  • دینی اختلاف

    دینی اختلاف  کَانَ النَّاسُ اُمَّةً وَّاحِدَةً: مقصد یہ تھا کہ لوگ فطری تمدن اورصلح وآشتی کی زندگی کے پیش نظر یگا نگت کی دولت کے مالک تھے لیکن استخدام وتسخیر موجودات کے فطری حق کی بنا پر ذاتیاتی کش مکش ان کو تفرق وتشتت کی وادی میں ڈال کر آپس میں دست وگریباں کررہی تھی…