Category: لمعۃ الانوار فی عقائد الابرار
-
تقوی کی حقیقت
جب اللہ کو اپنا حقیقی مولا تسلیم کرلیا جائے توتقوی کی حقیقت خو د بخود واضح ہو جاتی ہے کہ ذات و نفس عقل و حس آنکھ اور کان منہ اور زبان بلکہ سرتاپا جمیع اعضا ءو قوی اقوال خواہشات و خیالات غصہ و رضا غرضیکہ جمیع احوا ل ملکیت کاملہ او ر سلطنت نامہ…
-
شرک جلی اور شرک خفی
شرک جلی کا معاملہ توبہت واضح ہے کہ امور تکوینیہ خلق و رزق و موت و حیات اور تدبیر و تقدیر و غیرہ معاملات میں کوئی بھی اللہ کاشریک نہیں نہ پہلے سے اور نہ خدا نے کسی کو ان امور کی انجام دہی سپرد فرمائی ہے بلکہ سب کے سب اختیارات اس کے قبضہ…
-
حقوق اللہ میں عدل کامیزان
مصر کی گورنری سونپنے کے بعد مالک اشتر کو بطوردستور العمل کے ایک عہد نامہ میں ارشاد فرمایا اللہ سے تقوی اختیار کرو اس کی اطاعت کو ہر امر پر ترجیح دو او ران فرائض و سنن کی اتباع کرو جو اس نے اپنی کتاب میں ذکر فرمائے کیونکہ اس کے بغیر سعادت ناممکن ہے…
-
حقوق نفسیہ میں عدل کا میزان
ایک خطبہ میں آپ ایک عبد کی صفت بیان کررہے ہیں جس کو خُدا نے اپنی نفسی اصلاح کی توفیق دی وہ شخص جواپنے نفس پر عدل کو ضروری قرار دے پس اسکا پہلا عدل یہ ہے کہ اپنے نفس سے خواہشات کو دور رکھے ھق کو بیان کرے اور خود اس پر عمل کرے…
-
اصول عدل
عدل وانصاف سے وابستگی اوراس کے میزان کو قائم کرنایا اسکے اصول کا اجراء حقوق کی معرفت پر موقوف ہے اورچونکہ حقوق بہت کچھ ہیں ان کا شمار چنداں آسان بھی نہیں مثلا حقوق اعتقاد دیا اور حقوق عملیہ دو ہیں پھر حقوق اعتقادیہ بہت سی اقسام پر ہیں اور حقوق حمہلیہ کی بھی متعد…
-
عدل عملی
عدل کا معنی ہے ہر شءکو اپنے موزوں مقام پر رکھنا اور حق دار کو حق دینا عدل مخلوق کے درمیان اللہ کا میزان ہے ۔عدل ہی کی بدولت آسمان وزمین کو بقاء حاصل ہے اور عقل کے جملہ احکام میں سے وجوب عدل سے واضح تر کوئی دوسرا حکم نہیں ۔گویا وجوب عدل وحسن…
-
چوتھا با ب – عدل کا بیان
عقیدہ عدل کے دو پہلوہیں اور اس اصل کے دو رخ ہیں ۔ایک یہ کہ اللہ کے عدل کا اعتقاد ہو اور دوسرے یہ کہ اللہ کے دین میں اور مقام عمل میں عدل کو میزان قراردیے دیا جائے پس پہلا عدل اعتقاد ہے ۔اور دوسرا عدل عملی ہے ہم اس جگہ بیان میں پہلے…
-
خدا کاجسم ہونا باطل ہے
خدا کے تجسم کا بطلان خداوجب یہ ثابت ہواکہ وہ مبدا المبادی اور علت اللعل ہے تو اسمیں تمام کمال کی صفات کا ہونا اوراس سے تمام صفات نقص کا دور ہونا خودبخود واضح ہوجا تاہے بنا بریں خدا کا جسم ہونا یا نہ ہونا یاکسی جسم کا عرض ہونا محال ہے ۔کیونکہ یہ دونو …
-
توحید صفات – اللہ کی کنہ ذات کا علم ناممکن ہے
توحید صفات یعنی وہ تمام صفات کمال کا جامع ہے اور تمام صفات اس کی عین ذات ہیں اگر صفات کو اس کی ذات سے الگ مانا جائے تو تعدد احتیاج لازم آئے گا اوراس کی تمام صفات میں بھی اتحاد موجود ہے پس وہ ایک ذات ہے جو جمیع صفات کمال کی مظہر ہے…
-
توحید ذات
یعنی خداوندی قدوس جو مبداء جمیع خلائق ہے وہ واحد اور ہر لحاظ سے بسیط ہے اس کی کوئی جُز نہیں نہ تحلیلی نہ ترکیبی ۔نہ خارجی نہ ذہنی تمام موجودات کو اس نے اپنی قدرت کاملہ سے پیدا فرمایا ہے اس میں اسکا کوئی شریک وحصہ دار نہیں ہے اس کی نہ ابتدا ء…