Category: لمعۃ الانوار فی عقائد الابرار
-
اثبات و جود باری سبحانہ
ہ وہ حقیقت ہے جو تمام حقیقتوں سےواضح تر ہے اور ایسا مسئلہ ہے جوتما م مسائل سے بد یہی تر ہے اس کی وضاحت ہی اس کی رخفا کی موجب ہےاور اس کا ظہور ہی اس کی غیبت کا باعث ہےاوریہی مسئلہ عقول سلیمہ کی فطرت اولیہ کا محسوس اولی ہے لیکن زمانہ کی…
-
لوگوں کی تحصیل معرفت خالق اقسام
جب فطرت کے تقاضوں نے عالم اکوان کے نت نئے تغیرات اوراس میں ظاہر ہونے والے حیرت انگیز مشاہدات کی بنا پر ان کے علل و اسباب کی جستجو کی طرف نظر و فکر کی تحریک کی تو لوگوں کی اس مقام پر تین قسمیں ہو گئیں ایک قسم ایسے عقل و بصیرت کے اندھے…
-
لوگوں کی تحصیل معرفت خالق اقسام
جب فطرت کے تقاضوں نے عالم اکوان کے نت نئے تغیرات اوراس میں ظاہر ہونے والے حیرت انگیز مشاہدات کی بنا پر ان کے علل و اسباب کی جستجو کی طرف نظر و فکر کی تحریک کی تو لوگوں کی اس مقام پر تین قسمیں ہو گئیں ایک قسم ایسے عقل و بصیرت کے اندھے…
-
پہلا باب – مبدا اول حضرت حق سبحانہ کے وجود کی تلاش- فطری تحریک
پہلا باب مبدا اول حضرت حق سبحانہ کے وجود کی تلاش فطری تحریک جب یہ بات پایہ ثبوت کوپہنچ گئی کہ فطرت کے تقاضے غورو فکر پر مجبور کرتے ہیں تو دیکھنا یہ ہے کہ سب سے پہلے ہمارا مطح بحث اورمورو فحص کیا ہوناچاہیئے اورہماری عقول و افکار پر سب سے پہلےکس شئیی کی…
-
مبداءاول کی تلاش میں نظرو فکر کی دوڑ دھوپ
انقلابات زمانہ اور تطورات کونیہ سے محفوظ فطرت انسانیہ کے تقاضوں میں سے یہ ایک بدیہی اورناقابل انکار حقیقت ہے کہ کہ زندہ دل اور حساس انسان بچپنے کی فارغ البالی سادہ خیالی اورپراز عیش و آرام زندگی کے بعد جب ابتدائی حیوانی طور سے انسانی عرفانی دورکی طر ف مستقل ہوتا ہے تو اس…
-
معرفت خداوندی کیلئے وجوب نظرو فکر پرعقلی ستدلال
وجوب نظر و فکر پر جو علمائے اعلام نے استدلال کیاہے اس کی آسان لفظوں میں توضیح و تنقیح یہ ہے کہ ہر قوت شعور رکھنے والا انسان جب اپنے اوپر نعمات ظاہر یہ وبا طنیہ کے غیر متناہی سلسلہ پر نگاہ کرتاہے تو قہرا اس کا ذہن ان نعمات کا سبب تلاش کرنے کی…
-
عقل کے فرائض و خدمات
قوت عقل ہی وہ قوت ہے جس کی بدولت انسان علوم نظریہ اورمعارف واقعیہ کی طرف اقدام کر سکتا ہے اور تدریجا قوت سے فعل کی طرف بڑھتا ہے پس طایر عقل کے پرو بال جس قدر مضبوط و طاقت ورہوں گے اس کی پرواز میں اتنی ہی بلندی ہو گی اور علم و عقل…
-
یقین و معرفت کے مراتب
جس طرح عقل فطری منازل ارتقا ءطے کرنے کے بعد عقل مستفاد کا درجہ حاصل کرتی ہے یا عقل مسموع طے منازل کے بعد عقل مطبوع کی حد تک پہنچتی ہے اسی طرح یقین و معرفت بھی مسموع سے مطبوع تک یا فطری سے کسبی یا مستفاد کے مدارج تک پہنچنے ہیں چنانچہ اس کے…
-
علم و عمل کا توافق و تعاون
اس سے پہلے میں کہہ چکا ہوں کہ عمل وعلم و یقین کے بغیر ایک ناپائیدار اساس پر تعمیر شدہ محل کے مثل ہے اور علم و عمل کےسوا اس بنیا د کی مثل ہے جس پر مکان نہ بنایا جائے اور اس کا مالک ہمیشہ زیر آسمان گزر اوقات کرتاہو اس کے ساتھ ساتھ…
-
عقل کا مراتب
یار رہے کہ عقل فطری اور عقل کسبی الگ الگ دو مفہوم نہیں ہیں بلکہ وہی عقل فطری بار ہا کےتجربہ کے بعد ترقی کرکے عقل کسبی بن جاتاہے یا اس کی وضاحت یوں سمجھئے کہ عقل کے لئے چار مراتب ہیں عقل بالقوہ عقل با لفعل عقل بالملکہ عقل مستفاد کسبی عقل اپنے پہلے…